76

گائتری منتر

رگ وید میں ایک چھوٹا سا منتر ہے جسے گائتری کہتے ہیں ۔ یہ منتر نہایت سادہ اور متبرک خیال کیا جاتا ہے ۔ جس کی خاص برکتیں اور جسے ڈھائی ہزار سال سے زیادہ عرصہ سے ہندو دن میں کم از کم تین دفعہ پڑھتے ہیں ۔ اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے ۔

’’آسمان میں رہنے والے سوتیار دیوتا (کی برکت) سے ہم وہ عظمت حاصل کریں جس کی ہمیں آرزو ہے اور ہماری دعاؤں میں اثر دیــ’’۔ (رگ وید سوم ۶۲،ا۔۱)

گائتری منتری ہندوؤں کا کلمہ سمجھنا چاہیے اور ہندوؤں میں اس کی بہت عظمت اور اہمیت ہے اور اس کا ادب اس درجہ کیا جاتا ہے کہ اسے ادنی اور پست ذاتوں کو پڑھنے کی اجازت نہیں ہے ۔ بلکہ اس کو کوئی پست ذات کا فرد پڑھے تو اس کی سزا یہ ہے کہ سونا گرم کرکے اس کے حلق میں ڈالا جائے ۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ گائتری منتر صرف برہمنوں کو پڑھنے کا حق ہے اور دوسری زاتیں اس کو پڑھ نہیں سکتی ہیں ۔ بعض کا خیال ہے اسے صرف شودر نہیں پڑھ سکتے ہیں ۔

گائتری منتر وید کے اس مجموعہ میں شامل ہے جو کہ رشی وشِو متر سے منسوب ہے اور ہم اس اختلاف سے بھی واقف ہیں جو کہ برہمنوں کی دو بڑی جماعتوں میں تھا اور انہیں دو ویدک رشیوں وسشٹھا اور وشوامتر سے منسوب ہیں ۔

منتر سوتیار دیوتا سے منسوب ہے اور اب یہ دیوتا غیر معروف ہے ۔ مگر اس شمار چھوٹے دیوتاؤں میں نہیں ہوسکتا ہے جس سے گاتری منتر جو رگ وید کا مقدس ترین حصہ ہے اور اب بھی لاکھوں ہندو اسے ہر روز پڑھتے ہیں ۔ اس دیوتا کو بعض اوقات اس کو سوریا کے ساتھ متحدہ بیان کیا جاتا ہے اور بعض اوقات اسے سنہرا دیوتا کہا گیا ہے ۔ اس کی آنکھیں ، ہاتھ اور بازو سنہرے ہیں اور وہ ایک سنہری گاڑی پر بیٹھ کر قدیم اور بے گرد والی سڑکوں پر گشت کرتا ہے جو فضا میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ بنائے گئے ہیں ۔ بعض عبارتوں میں دونوں نام سوتیار اور سوریا بلا کسی تفریق یا امتیاز کے استعمال کیے گئے ہیں ۔ مثلا سوتیار دیوتا نے اپنا علم بلند کیا ہے ، تمام دنیا کو منور کرتا ہے ۔ سوریا نے آسمان زمین اور کرہ وسطیٰ کو اپنی کرنوں سے منور کر دیتا ہے’’۔ بعض اوقات دونوں میں امتیاز بھی کیا گیا ہے ۔ مثلاً سوریا سوتیار کی خوبصورت چڑیا ہے یا سوتیار سوریا کی کرنوں سے معمور کیا جاتا یا سوریا کو لاتا ہے ۔ ایسی صورت میں سوریا سے مراد آفتاب مادی سے ہے اور سوتیار ایک ہستی اعلیٰ و ارفع ہے جو اس کی حرکت کی نگرانی کرتی ہے اور اس کی روشنی کی تقسیم کا انتظام کرتی ہے ۔

یہ منتر بہ ظاہر بالکل معمولی معلوم ہوتا ہے اور تعجب ہوتا ہے کہ اس قدر متبرک کیوں ہے ۔ لیکن اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ کہ یہ منتر ان لوگوں سے پڑھایا جاتا تھا جو آریائی مذہب میں داخل ہوتی تھے تو یہ شبہ رفع ہوجاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ ہزار سال سے یہ کیوں مقدس خیال کیا جاتا ہے ۔ البتہ اس امر کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ منتر اس خاص غرض سے استعمال کیا جاتا ہے تھا ۔ لیکن قرین قیاس ہے کیوں کہ آسمان اور سوریا کی پرستش جو آتش پرستی کی ترقی یافتہ شکل تھی آریائی فطرت پرستی کی نشانی تھی ۔ جب کہ غیر آریا زمین کی پرستش کی نشانی سانپ تھی ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں