65

گائے

ہندو گائے تعظیم حد سے زیادہ کرتے ہیں اور ان کا ہر فرقہ گائے کی عطمت اور حفاظت میں متحد ہے ۔ اگرچہ بعض ذاتیں مثلا! چمار اور حلال خور گائے کا گوشت کھالیتے ہیں ۔ لیکن جب کوئی اور گائے کی حفاظت و عزت نہیں کرتا ہے تو وہ بھی دوسرے ہندووَں کو بلالیتے ہیں تو ہندو ایکٹھا ہوجاتے ہیں ۔ خواہ وہ کسی بھی عقیدے کا کیوں نہ ہو ۔

ہندو گائے کی محبت میں اس قدر محو ہیں کہ وہ اس کا پیشاب پیتے ہیں ، اس کا گوبر مقدس جانتے ہیں اور اس کی جان بچانے کے لیے انسانی جان لیتے ہیں ۔ اس کو کوئی غیر ہندو نہیں سمجھ نہیں سکتا ہے اور نہ ہی ہندو سمجھا سکتے ہیں ۔ حلانکہ اس کی حفاظت کے لیے اب تک لاکھوں مضامین شاءع ہوچکے ہیں اور سیکڑوں ان کی جماعتیں گائے کی حفاظت و حمایت میں متحد ہیں ۔ مگر گائے کی حفاظت کی مذہبی وجہ کوئی بتا نہیں سکا ۔ یہاں تک گاندھی جی بھی اس کی مذہبی تاویل پیش نہیں کرسکے ۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے اپنی بے انتہا عقیدت کا اظہار کیا ہے ۔

صرف یہ کہہ دینا کہ یہ ملک زراعتی ہے اور گائے کے بچھڑے کھیتی و کیاری کے کام آتے ہیں اور گائے کے دودھ اور سے گھی سے پرورش ہوتی ہے ۔ مگر یہ وجوہات اقتصادی اور معاشی ہیں ۔ مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ پارسی بھی گائے کی حرمت کرتے تھے اور بیل کا پیشاب پاکیزگی کے لیے استعمال کرتے تھے ۔ مگر گائے کا گوشت بھی کھاتے تھے ۔

ہزارہا سال سے ہندو گائے کی پوجا کرتے آئے ہیں ۔ ان کی رگ رگ میں گائے کی محبت سماگئی ہے ۔ اگرچہ ان میں سے بہت سے لوگ عقلی دلائل سے گائے کی ضرورت کو ثابت کرتے ہیں ۔ مگر وہ مذہبی حثیت مطلق نہیں رکھتی ہے بلکہ اقتصادی دلیل بھی کچھ زیادہ قوی نہیں ہے ۔ گائے اگر دودھ دیتی ہے تو بھینس اس سے زیاہ دودھ دیتی ہے ۔ اس کے دودھ سے گائے کے دودھ سے زیادہ گھی بنتا ہے ، مگر بھینس کو مذہبی اہمیت نہیں دی جاتی ہے ۔

سوائے گائے کے کوئی اور چیز ہندو مذہب میں نہیں ہے جس نے ہندووَں کے تمام فرقوں کو متحد رکھا ہوا ہے ۔ ایک گائے ہی ہے جو ہندووَں کے تمام فرقوں میں یکسان جوش و جذبات پیدا کرسکتی ہے ۔ گائے ، گیتا ، گنگا اور گاءتری منتر میں گائے کا درجہ زیادہ بلند ہے ۔

گائے ، پاکی اور ناپاکی

ہنددوَں کا عقیدہ ہے کہ گائے کے بدن میں دیوتا جمع ہوتے ہیں اور اس کی پوجا کا طریقہ یہ تھا کہ اس کے سونے کے سینگ بنوا کر اس کو سینگوں پر رکھتے ہیں اور چاندی کے کم بنوا کر اس کے پیروں میں رکھتے تھے ، ایک چاندی کا پترا بنوا کر اس کی پیٹھ پر رکھتے تھے پھر اس پر جھولیں ڈال کر اس کی پوجا کی جاتی ہے اور پھر یہ برہمن کو دان کردی جاتی تھی ۔

ہندو گائے کی بہت تعظیم کرتے ہیں اور اس کے گوبر اور پیشاب کو پاک کرنے والا مانتے ہیں ۔ یہ پنچ گپ یعنی گائے کا گوبر ، پیشاب ، دودھ ، دہی اور گھی کو ملا کر بنائی جاتی ہے اور ان کے نذدیک اس سے زیادہ پاک چیز کوئی نہیں ہے ۔ ان کے بھگت ہر روز پنج گوَ پیتے ہیں ۔ منو دھرم شاستر کے مطابق برہمن اگر ویش کا کھانا کھالے تو اس کے تذارک کے لیے گاتری منتر پڑھتے ہیں اور اس دن سوائے گائے کے پیشاب کے کچھ اور کھاتے پیتے ہیں ۔ برہمن اگر چنڈال کے تالاب کا پانی پی لے یا اس میں غسل کرلے تو کفارے کے لیے گائے کا گوبر کھاتے ہیں اور اس کا موتر پیتے ہیں ۔ اگر کوئی ہندو بھول کر کسی غیر قوم کے برتن میں کچھ کھا پی لے تو اس کو کئی دن برت رکھوا کر پنج گوَ پلاتے ہیں ۔ گائے کے قدموں کی ارتی خاک ان کے نذدیک نہایت پاک ہے اور اسے گودھوی کہتے ۔ یہ کسی ملیچھ کے کھر میں کھانا پینا درست نہیں سمجھتے ہیں ۔ لیکن جس گھر میں گائے ہو وہاں گائے کے پاس کھانا پینا جائز ہے ۔ یہ گائے کی اتنی تعظیم کرتے ہیں ۔ لیکن جب مرنے لگتی ہے تو گھر سے نکال دیتے ہیں ۔ جب مرجاتی ہے تو چوہرے چماروں کے حوالے کر دیتے ہیں جو اسے سر بازار گھسیٹ کر لے جاتے ہیں اور اس کا گوشت کھاتے ہیں ۔ اس کے چمڑے کی جوتیاں بنا کر سب پہنتے ہیں ۔

بھارت میں انگریزوں کے دور میں بہت سے ہندووَں نے ان فضلات سے اجتناب کرنا شروع کر دیا تھا ۔ مگر اب دوبارہ یہ وبا چل نکلا ہے ۔ جب بچے کو گھٹی کے دور پر گائے کے فضلہ چٹائیں گے تو وہ اس کا پیشاب شوق سے کیوں نہیں پیئے گا ۔ آج شہروں میں جہاں گائے کے پیشاب حاصل کرنے کے لیے مشکلات پیش آتی ہیں ۔ وہاں اب گائے کو پیشاب کو بوتلوں میں پیک کرکے عام دوگانوں پر فروخت ہو رہا ۔ خیر ہندووَں صرف گائے کا پیشاب استعمال نہیں کرتے ہیں بلکہ انسانی پیشاب بھی پیتے ہیں ۔ ایک سابق وزیراعظم ڈیسائی جی روزانہ انسانی پیشاب استعمال کرتے تھے اور وہ فخریہ اس کا ذکر کرتے تھے ۔

حاءضہ عورت چالیسویں دن کے بعد پاک ہونے کے لیے غسل کرنے کے بعد اپنے سر کو گائے کے گوبر اور پیشاب سے دھونے کے بعد گوبر کھائے اور پیشاب پیے تو پاک ہوتی ہے ۔ عجیب بات یہ کسی ذات میں کوئی عورت بچہ جنتی ہے تو پوری قوم ناپاک ہوجاتی ہے ۔ اس قوم کے لوگ بھی گائے کا موتر پی کر اور گوبر کھا پاک رہتے ہیں ۔ لیکن ہر ذات کی ناپاکی کی معیاد الگ الگ ہے ۔ مثلاً برہمن گیارویں دن گائے کا موتر پینے اور گوبر کھانے کے علاوہ گنگا جل بھی پیتے ہیں ۔ کھتری تیرھویں دن ، ویش پندرہ دن اور نچلی جاتیاں تیسویں دن پاک ہوتی ہیں ۔ اس طرح کوئی مرجائے تو بھی ساری قوم ناپاک ہوجاتی ہے ۔ اس طرح اگر کسی چمار ، چوہرے ، حاءضہ ، گناہ کبیر کا مرتکب ، مردہ کتا ، گدھا ، بلی ، مرغا اور کھسرا وغیرہ کو چھولیں تو یہ کپڑوں سمیت ناپاک ہوجاتے ہیں اور پاک ہونے کے لیے کپڑوں سمیت نہاتے ہیں ۔ شاشتروں کے مطابق یہ کھانے والی جگہ کو گوبر وغیرہ سے پاک ہونی چاہیے اور کھاتے ہوئے دھوتی کے سوائے تمام کپڑوں کو اتار کے کھانا چاہیے ۔ اگر کھانا کھاتے ہوئے اس کا بھائی بھی کپڑوں سمیت آجائے تو کھانا ناپاک ہوجاتا ہے ۔

پنج گءو

برصغیر کے مسلمانوں میں بچے کی پیدائش خاص کر پہلے بچہ اور لڑکا ہوتو بڑے پیمانے پر خوشیاں مناتے ہیں اور دو رسوم کو بہت اہمیت دی جاتی ہے ان میں ایک خطنہ جسے عرف عام میں مسلمانی کہا جاتا ہے اور دوسری عقیقہ ہے ۔ یہ خوشی منانے کا رواج ہندووَں سے مسلمانوں میں آیا ہے یا اس کا رد عمل ہے ۔ کیوں کہ ہندووَں میں بھی دو رس میں اہم ہیں بچہ اور پہلے بچہ اور لڑکا ہو تو بڑے پیمانے پر ان رسوم کو ادا کیا جاتا ہے ۔ اس میں یہ خوشیاں مناتے ہیں ۔ اس میں دعوتیں اور خیرات بھی کی جاتی ہے ۔ ان میں پہلی رسم میں پنج گوَ کی ہے اور دوسری دوجنا کی جس بچے کو جینو پہنایا جاتا ۔ یعنی ایک موٹا سا رھاگہ اس کو کمر اور دوسرے کندھے کے دوران پہنایا جاتا ہے ۔ یہ ان کا دوسرا جنم کہلاتا ہے ۔ اس لیے یہ دوجنا بھی کہلاتا ہے ۔

پنج گوَ کی رسم بہت اہتمام سے ادا کی جاتی ہے ۔ کہیں یہ رسم کانیتہر اور کہیں کارن کہلاتی ہے ۔ پنج گو کی ترکیب اس طرح ہے کہ گائے کا گھی ، گائے کا دہی ، گائے کا دودھ ، گائے کے پیشاب کے چند قطرے اور گائے کا تھوڑا سا گوبر ۔ ان پانچوں چیزوں کو اچھی طرح مکس کرکے ایک کٹورے میں رکھ کر نومولود کو چٹایا جاتا ہے اور دوسرے افراد خاص کر عورتیں بھی چاٹتی ہیں ۔ پنج گو ہر بچے کی پیدائش پر بعض قو،ہم اس کو زنار بندی اور شادی پر تیار کرکے چاٹتی ہیں ۔ بعض قو میں اس کو تیار کرنا کافی سمجھتی ہیں اور اس کو استعمال نہیں کرتے ہیں ۔

ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس ہیں اس گندگی کے خلاف آوازیں نہیں اٹھیں ۔ اس طرح پنڈت شیو نرائن نے اس کے خلاف آواز بلند کی اور کشمیری پنڈت میں لکھتے ہیں کہ ہندووَں کے بزرگوں نے ہندوستان کی ضروریات کے پیش نظر گائے کو بڑی عظمت دی ہے اور اس کو مذہب کا حصہ بنادیا ہے کہ گائے کی حفاظت ہوسکے اور اس کو کوئی ہندو ضائع نہ کرے ۔ ہادیان مذہب نے گائے کو اس قدر مفید ہونے کی وجہ سے اسے انسان کی ماں کا درجہ دیا اور گو ماتا پکارنے لگے ۔ رفتہ رفتہ اس کی اتنی قدر ہوئی کہ کہ اس کی تقریباًً پرستش ہونے لگی ۔ گووَ دان کو بڑا ثواب گنا گیا ۔ جیسے والدین کی متبابعت اور عزت کی ہدایت ایسے الفاظوں میں کی گئی کہ ان کے پاؤں دھو کر پیوں ، ان کے غلیظ فضالات کو بھی خوردنوش کرنا اپنی سعادت سمجو ۔ ایسے الفاظ گائے لے لیے بھی عام ہوگئے اور کم عقل مقلدوں نے اس عبارت اس استعارہ کو نہ سمجھا ۔ یہاں تک گائے کے فضلات بھی تبرک کی طرح استعمال ہونے لگے اور اس کی بدولت ہندووَں میں کتنی بیماریاں جنم لیتی ہیں ۔ حالانکہ ہندووَں کا خیال ہے کہ اس سے بیماریاں دور ہوتی ہیں ۔

گءو ہتیا

بھارت میں ہم آئے دن مسلمانوں کو گءو ہتھیا کہ الزام میں مارا بیٹا جاتا ہے ۔ بعض اوقات تو انہیں قتل بھی کردیا جاتا ہے ۔ کیوں کہ مسلمان سور نہیں کھاتے ہیں اور گائے کا گوشت کھالیتے ہیں ۔ اس لیے بہت انہیں گءوَ ہتیا کا مرتکب سمجھتے ہیں ۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے اور بعد میں جو فسادات ہوتے رہے ہیں ان میں سے بشتر کا مقصد مسلمانوں کو گءو کشی سے باز رکھنا ہے ۔ گاندھی جی جو ان فسادات کی مخالفت کرتے تھے مگر وہ بھی گائے کے عقیدت مند اور گاوَ کشی کی مکمل ممانعت چاہتے تھے ۔ بھارتی آئین میں گایوں کے حقوق کے بارے میں ایک دفعہ ایسی دفعہ ایسی ہے جس کے ذریعے گءوکشی کو اس طرح روکا گیا کہ اس ممنوع ہونے میں زرا سی کسر رہ گئی ہے ۔ چنانچہ بھارت کے کئی صوبوں میں گءو کشی پر مکمل پابندی ہے ۔

مگر لوگ نہیں جاتنے ہیں کہ بھارت میں گءو ہتیا سب میں زیاد ہندو کرتے ہیں ۔ ایک ثبوت یہ ہے بھارت میں سو بیلوں کے مقابلے میں صرف چالیس گائیں ہیں اور اس مقابلے میں پاکستان میں جہاں گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے سو بیلوں کے مقابلے میں ساٹھ گائیں ہیں ۔

بہت سے ہندو عیسائی اور مسلمانوں سے ہاتھ ملا کر بلکہ صبح اس کی شکل دیکھ کر غسل کرنا ضروری سمجھتے ہیں ، مگر گائے کے ان غلیظ فضلہ سے پرہیز نہیں کرتے ہیں اور یہ اپنے رسویوں میں گوبر کا لیپ کرنا لازمی سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ اس کی وجہ سے کتنی بیماریاں پھوٹ پرتی ہیں ۔ ان کی ضعیف اعتقادی نے غیر مذہب والوں کو خواہ مخواہ ترغیب دی کہ وہ گاوَ کشی سے ان کی دل آزاری نہ کریں ۔ ہندووَں کے لیے گائے ہر اس شے کی علامت ہے جو زندہ ہے اور زندگی کی ماں ہے ۔ ان کے نذدیک گائے کو مارنے پڑا پاپ اور کوئی نہیں ۔ حتیٰ انسانی جان کی لیے کا جرم اس سے کمتر ہے جو گءو ہتیا کے نتیجے میں ہوتا ہے ۔ کسان گایوں کا اپنے کنبہ کی طرح خیال رکھتے ہیں اور انہیں ہاروں اور جھالروں ، پھدندوں سے سجاتے ہیں ۔ جب وہ بیمار ہوتی ہیں تو ان کے لیے دعا کرتے ہیں اور گائے کے بچے کی پیدائیش کے خوشی میں پڑوسیوں اور مندر کے پجاریوں کو بلاتے ہیں ۔

پنسلوینیا یونیورسٹی کے ماہرین معاشیات نے 1971ء میں بتایا کہ ہندووستان میں تین کروڑ بے کا (غیر پیداواری) گائیں موجود ہیں ۔ یہ صورت حال ہندووَں کی غیر منطقی اور لغو نظریات کا نتیجہ ہے کہ دہلی ، کلکتہ ، مدارس ، ممبئی اور دوسرے شہروں میں یہ جانور گلی کوچوں میں کھلے عام کھومتے ہیں پھرتے ، بازاروں ساگ پات چرتے ، پرائیوٹ باغات میں گھس جاتے ، سڑکوں کے بغلی راستوں میں پیدل چلنے والوں کے اوپر گندگی اور غلاظت کے ڈھیر الٹاتے اور جگالی کرنے میں مصروف چوکوں کے بیچ میں بیٹھ کر ٹریفک میں خلل ڈالتے ہیں ۔ جن پر مغربی سیاحوں کو حیرت ہوتی ہے ۔ یہ جانور دیہی علاقوں میں سڑک پر اکھٹا ہوجاتے ہیں اور اپنا بشتر وقت ریل کی پٹری پر آہستہ آہستہ چلنے پھرنے میں گزارتے ہیں ۔ یہ ادھر ادھر گھومتی پھرتی اور ٹریفک میں خلل کا سبب بنتی ہیں ۔ ان کی مارکیٹوں ، میدانوں ، سڑکوں اور ریلوے لائنوں کے آس پاس پھر رہی ہوتی ہیں ۔ اگر وہ مٹھی بھر گھاس کا ہر تنکا ، فضلوں کی کٹائی کے بعد بچ جانے والی جڑیں اور فضل کو کھارہی ہوتیں ہیں ۔ یہی گند کھا کر وہ اسے دودھ اور دوسری مفید اشیا میں تبدیل کرتی ہیں ۔

گاندھی جی یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ گائے کی محبت کے مقاصد امیروں اور غیریبوں کے لیے مختلف ہیں ۔ ان کے نذدیک بھارت میں قومیت کا احساس کو بیدار کرنے کی تگ و دو میں گائے ایک مرگزی نکتہ تھی ۔ غیریب کسانوں کے لیے گائے ایک مقدس بھکاری ہے ۔ جب کہ امیر کسان کے نذدیک ایک چور ۔ کبھی کبھار گائیں کسی چراہوں یا پودوں کے کھیتوں پر حملہ آور ہوتی ہیں ۔ غریب کسان اپنی لاعلمی کا سہارا لیتے ہیں اور گءو رکھیا کہ سہارے اپنے جانور واپس لے لیتے ہیں ۔ شہروں میں بھی گایوں کے ایسے مالک ہیں جو دن کے وقت انہیں گھوم پھر کر چارے وغیرہ کی تلاش میں چھوڑ دیتے ہیں اور رات بلا لیتے ہیں کہ ان کا دودھ نکال سکیں ۔

کئی مغربی ماہرین کے مطابق ہندوستان میں گائے پوجا ہندوستان میں بھوک اور غربت کی ایک بڑی وجہ ہے ۔ ان کے خیال میں گائے کشی کی ممانعت کا مطلب ہے دس کروڑ جانوروں کو زندہ چھوڑنا ہے ۔ اس سے زراعت کی کارکردگی گھٹتی ۔ کیوں کہ ان بے کار جانوروں نہ دودھ حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی گوشت ۔ مغربی مبصرین کے نذدیک گائے کی یہ محبت محض نادانی نہیں بلکہ خودکشی کے مترادف ہے ۔ ان کا خیال ہے ان بے کار جانوروں کو مناسب طور پر ٹھکانے لگا دینا چاہیے ۔

مغربی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی کاشتکار قحط میں اپنی گائے کو کاٹ کھانے کے بجائے فاقوں سے مرنے کو ترجیع دیتے ہیں ۔ ماہرین اقتصادیات کے نذدیک بھارتی زراعت کو تباہی سے بچانے کے لیے ضروریات سے زائد جانوروں کو کاٹ کھانے کے حامی ہیں ۔ اگر گایوں کی تعداد مین تین کروڑ تک کمی کردی جائے ۔ مگر ایسا نہیں ہے کہ بعض اوقات ہندو گائے کا گوشت کھانے گریز نہیں کرتے ہیں ۔ دوسری جنگ عظیم 1944ء میں بنگال میں قحط پڑ تو جانوروں کی کٹائی جن میں گائے بھی شامل تھی اتنی بڑھ گئی حکومت نے پابندی لگادی اور انہیں روکنے کے فوج کا استعمال کرنا پڑا ۔ کیوں کہ ہندو گائے کاٹ کر اس کا گوشت کھارہے تھے ۔ 1967ء میں ایک رپوٹ کے مطابق بہار کے قحط زدہ علاقہ میں ہندو گائے کاٹ کر کھا رہے تھے ۔ اس کے باوجود یہ جانور متبرک و مقدس ہے ۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے بھارت میں اگرچہ گایوں کی بہت افراط نظر آتی ہے لیکن ان کی تعداد بیلوں سے بہت کم ہے ۔ جیسا کہ میں پہلے ذکر کرچکا ہوں کہ پاکستان کے مقابلے بھارت گائے کم کیوں ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے ہندو اگرچہ گائے کی حرمت کرتے ہیں مگر جس جانور جس سے کوئی نفع حاصل نہیں ہوتا ہے جان بھی چھڑانا چاہتے ہیں ۔ گاندھی جی یہ جانتے تھے کہ گائے کی پرستش کے باوجود اس ساتھ دنیا میں سب سے ظالمانہ سلوک رکھا جاتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس کے دودھ کے آخری قطرہ تک نچورنے کے لیے ہم اسے کس طرح اسے خون آلودہ کرتے ہیں ، کس طرح اسے بھوکا مار کر نحیف اور لاغر کردیتے ہیں ، ہم بچھڑوں کے ساتھ کتنا غلط سلوک کرتے ہیں ۔ کس طرح انہیں بھوکا مار کر نحیف اور لاغر کر دیتے ہیں ۔ ہم بیلوں پر کتنا ظلم روا رکھتے ہیں ، انہیں خصی کرکے مارتے ہیں ان پر ان کی برداشت سے زائد بوجھ لادو دیتے ہیں ۔

گاندھی جی درست کہتے تھے ۔ بھارت میں گائے کے جسم سے اس کے دودھ کا آخری خطرہ نچوڑ لیا جاتا ہے ۔ وہ اس کے لیے اس کی نہم اندانی میں ایک خالی پاءپ کے ذریعہ ہوا بھری جاتی ہے ۔ یا دوم دیو یعنی اس کی دم ان کی نہم اندانی کے سوراخ میں گھسیڑ دیتا ہے ۔

بھارت میں مادہ گایوں کی شرح موت نر جانوروں سے زیادہ ہے ۔ کوئی ہندو کسان جان بوجھ کر گائے کی بچھڑی یا بوڑھی اور لاغر گائے کو کسی لٹھ یا چھرے سے نہیں ماتا ہے اور بھارت میں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ اسے مسلمان یا عیسائی قصائیوں کے ہاتھ بیچ دیا جائے ۔ کیوں کہ اس میں بدنامی کا بہت خطرہ ہے ۔ البتہ ہوتا ضرور ہے ۔ لیکن ان سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں ۔ مثلاً بچھڑوں کو مارنے کے لیے ان کی گردنوں میں لکڑیوں کا ایک تکونی طوق ڈال دیا جاتا ہے ۔ جب اس طرح بچھڑا دودھ پینا چاہتا ہے تو گائے کے تھن زخمی ہوجانے کی وجہ سے انہیں لات مار کی ٹھوکر سے ہٹا دیتی ہے ۔ اس طرح وہ بچھڑا بھوک سے مرجاتا ہے ۔ اس طرح گائے سے کچھ دور گھاس رکھ کر رسی جھوٹی باندھی جاتی ہے کہ وہ گھاس کھا نہیں سکے اس طرح وہ بھوکی رہ کر آہستہ آستہ مر جاتی ہے ۔ یہی گائے جب مرجاتی ہے تو چماروں کو بلا کر لاش ان کے حوالے کر دی جاتی ہے ۔ وہ اس مردہ گائے کا گوشت کھاتے ہیں اور اس کے چمڑا کھال اتار کر چمڑا بنایا جاتے ۔ جس کے بنے جوتے اور دوسری اشیاہ ہندو بلا کراہیت استعمال کرتے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں