51

گاٹنگ کی وادی

مغربی تبت جو ناری کے نام سے مشہور ہے اور گاٹنگ اس کا دارلحکومت ہے ۔ ناری کا علاقہ مریم لا یاما یم لا 16900 فٹ کی بلندی پر شروع ہوتا ہے ۔ یہ دررہ متبرک جھیلوں کے مشرق کی جانب واقع ہے ۔ جس کی وسعت مغرب میں لداخ تک جو کاٹکری یا کوہستان کیلاش کے جنوب میں واقع ہے ناری خورسم یا ہنڈیز کہلاتا ہے اور جو شمال کی جانب علاقہ مونیل Monyal ہے ۔ یہ مونیل کے مشرق میں ہے ۔ مغربی تبت کی کانیں شمالی ناری میں واقع واقع ہیں ۔ یہ مقام تھوک چنگ 16200 فٹ پر دنیا کا بلند ترین مقام ہے جہاں سال بھر آبادی ہوتی ہے ۔ اس کے آگے چنگ ٹنگ کا مرتفع میدان ہے جس کی بلندی 17000 فٹ ہے اور یہ کیانگ (جنگلی گھوڑوں) اور ہرنوں کا مسکن ہے ۔ یہاں سردی شدت کی پڑتی ہے اور پانی نایاب ہے اس لیے آبادی بہت تھوڑی تھی ۔ یہ لوگ سردی کے عادی ہیں اور انہیں سردی کی پرواہ نہیں ہوتی تھی ۔ شدید سردی میں مرد کمر تک ننگے کام کرتے تھے ۔ یہ اپنے لباس میں گریبان اور سینہ کا کچھ حصہ ہمیشہ کھلا رکھتے ہیں ۔ یہاں چھوٹے چھوٹے بچے ننگے پھرتے رہتے تھے ۔ یہ لوگ سرد موسم کے ایسے عادی ہیں کہ یہ لوگ 8000 فٹ سے نیچے نہیں آتے ہیں اور تبدیل آب و ہوا کی وجہ سے جلد مرجاتے ہیں ۔ ڈوکپا بھی اپنے جانوروں کو 10000 فٹ سے نیچے نہیں لاتے ہیں ۔ یہاں لوگ زیادہ تر جاہل اور توہمات میں گرفتار رہتے تھے ۔ ہر کوئی حادثات ، بیماریوں اور نگاہ بد سے بچنے کے لیے ہاتھوں میں چھلے ، بازو بند اور مختلف پتھر پہنے کے عادی تھے ۔ ہر جگہ ’او اوم مانے پدم ہینگ’ یعنی جے ہو کنول کے پھولوں کے سرتاج کی جے ہو (جس سے مراد دلائی لاما ہے) اور بدھی مذہب کے فقرے تبتی اور سنسکرت میں سڑکوں ، خانقاہوں کے باہر پتھروں اور چوٹیوں پر کھدے اور لکھے نظر آتے تھے ۔ یہ متبرک الفاظ یہاں کے لوگوں کا وظیفہ تھے اور لوگ دعائیہ چرخے گھمانے کے عادی ہیں ۔ اگرچہ لوگ تعلیم کے فوائد سے بخوبی آگاہ تھے ۔ مگر  کسی قسم کے تعلیم ادارے نہیں ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے طور پر تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ یہاں ہر کام کے لیے رشوت کی ضرورت پڑتی تھی ۔

گارتنگ 15100 فٹ بلند ہے اور یہ جاڑے میں نہایت سرد ہوجاتا ہے اس لیے صدر مقام صرف گرمیوں میں رہتا تھا ۔ یہاں پختہ مکان بہت کم تھے زیادہ سے زیادہ پجاس مکان ہوں گے ۔ زیادہ تر لوگ خیموں میں رہتے ہیں ۔ یہاں دو افراد حکومت کرتے تھے اور انہیں گارفن کہا جاتا تھا اور ان کی معیاد تین سال ہوتی تھی ۔ ان عہدے کے ساتھ ارگوما اور ارگویا Urguma and Urgaya لفظ شامل ہوتا تھا ۔ ارگوما کے اختیارات اور عہدہ بظاہر زیادہ تھے لیکن اس کے احکام کے قابل نفاذ ہونے کے ضروری تھا کہ اس کے ساتھ دوسرا حاکم بھی اس سے متفق ہو ۔ بعد میں ان عہدوں کے نام بدل کر ارگوگونگ اور ارگوہاگ Urgugong and urgahag کہا جانے لگا ۔ جس کے معنی اعلیٰ اور ادنیٰ کے ہیں ۔ اکثر ایسا ہوتا کسی نامزدگی ہوتی تھی تو اکثر وہ اپنی جگہ رشتہ دار یا ملازم کو بھیج دیتا ہے ۔ سردیوں میں گارفن گارگنسا Gargunsa میں رہتا تھا جو کہ دریائے سندھ کے ایک معاون دریا گارٹنگ چو پر واقع ہے ۔

گاٹنگ کا مرتفع کا میدان جس میں متبرک جھیلیں واقع ہیں 15000 فٹ بلند ہے ۔ یہ مسار کے قریب تک مسلسل چلا گیا ہے ۔ وہاں اس کی بلندی بتدریخ کم ہوکر 14300 سو فٹ رہ جاتی ہے ۔ یہاں دریائے ستلج کی ایک معاون شاخ ایک جوف میں واقع ہے ۔ یہاں سے گارٹنگ کی جانب وسیع مرغزاروں کے کنارے کنارے چلیں تو 15000 فٹ بلند مرتفع میدان پھر مل جاتا ہے اور یہ گارٹنگ تک پھیلا ہوا ہے ۔ اس کے درمیان جرکولا درہ 16000 فٹ بلند حائل ہے ۔ یہ بتدیح بلند ہوتا ہے اس لیے اس کی بلندی محسوس نہیں ہوتی ہے ۔ اس درہ سے گزرنے کے بعد دریائے سندھ کا ایک سرچشمہ لنگ بوچی یا ہاتھی کی سونڈ واقع ہے ۔ اس کے کنارے دور تک سر تا سبز چراگاہیں پھیلی ہوئی ہیں اور اس کا نام آگے چل کر دریائے گارٹنگ ہوجاتا ہے ۔ دریائے گارٹنگ گرگنسا سے گزرتا ہوا دمچک کے کس قدر جنوب کی طرف جو لیہ اور لداخ کی تجارت کا ایک زبردست مرکز ہے دریائے سندھ کی شمالی شاخ میں جاملتا ہے ۔ 

تکلا کوٹ سے آگے ہر جگہ بے دم چوہے اور خرگوش نظر آتے تھے ۔ ان خرگوشوں کا گوشت بدذائقہ اور جلد بھی پتلی ہوتی ہے اس لیے ان کا سمور جلد گرجاتا تھا ۔ کیانگ یعنی گورخر ہر جگہ دیکھنے میں آتے ہیں اور اکثر اہل تبت بالخصوص کہام اور نکچیو کے لوگ جو لاہسہ کے قریب رہتے اسے کھاتے ہیں ۔ اگرچہ بعض کے خیال میں ان کھانا مذہباًً ناجائز ہے ۔ ہندو اسے گائے کے زمرے میں خیال کرکے اسے ہاتھ نہیں لگاتے تھا ۔ مینا Mania کے تبتی صحرائی کیانگ (صحرائی گھوڑا) کے شکار کے عادی ہیں اور یہ ان کی خاص غذا ہے ۔ گورخر پر ہلکی سواری کی جاسکتی تھی ۔ لیکن ان کے سم ملائیں اور باربرداری کے لیے ان کی جلد پتلی تھی ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں