84

گرگشت

قیس عبدالرشید کے سب سے چھوٹے لڑکے کا نام گرگشت تھا ، جس سے بہت سے قبائیل وجود میں آئے ہیں ۔ غرگشت کی شکل میں بھی یہ کلمہ ملتا ہے اور یہی اس کلمہ کی اصل صورت ہے ،جب کہ غرغشت اس کا پشتو تلفظ ہے ۔ اس کلمہ کا پہلا حصہ غر پشتو میں پہاڑ کو کہتے ہیں ۔ جب کہ فارسی میں گر ، اوستا میں گیری اور سنسکرت میں گیر آیا ہے ۔ عربوں نے اس کلمہ کو غرج اور غرش کی صورت میں بھی لکھا ہے ۔ بارتولید کا کہنا ہے کہ کلمات کہ کلمات غور ، غرچہ ، غرج اور غلج سب ایک ہی سلسلے کے نام ہیں اور وسطہ ایشیا کے بہت سے قبیلے اور نام ان لفظوں سے بنے ہیں ۔ 
قدیم دور میں آریائی قومیں اس کلمہ کو عام استعمال کرتی تھیں ۔ یہ کلمہ عہد قدیم میں شخصیتوں اور علاقوں کے نام میں عام استعمال ہوا ہے ۔ رستم کے اسلاف میں ایک نام گرشتاب تھا ۔ اس طرح شاہنامہ کا آخری بادشاہ کا نام بھی گرشتاب تھا ۔ اس طرح یہ کلمہ علاقوں کے ناموں میں بھی شامل ہے ۔ مثلاً گردیز ، گردران اور گرجستان وغیرہ ۔ برصغیر یہ کلمہ گڑھ اور گڑھی کی شکل میں ملتا ہے ۔ مثلاً جونا گڑھ اور گڑھی حبیب اللہ وغیرہ ۔یہ کلمہ جو ان ناموں کا جزو ہے اور اس کے معنی پہاڑ کے ہیں ۔ 
اس کلمہ کا دوسرا جزو گشت جس کا پشتو تلفظ غشت ہے ۔ اس کے معنی علاقہ کے ہیں ۔ اس طرح کلمہ غرغشت کے معنی پہاڑکے رہنے والے یا پہاڑی لوگ کے ہیں ۔ لیکن کلمہ گرگشت ناموں میں بھی استعمال ہوا ہے ۔ پورو قبیلے کے چار بادشاہوں کا ذکر رگ وید میں آیا ہے ۔ جو یکہ دیگر باشاہ بنے ۔ پہلا بادشاہ درُگا تھا ۔ اس کے بعد گرگشت بادشاہ بنا ۔ راجہ پورس بھی اسی خاندان سے تھا ۔ اس طرح ان کا اقتدار تقریباً ایک ہزار سال تک قائم رہا ۔ پختون اس حقیقت کو یہ بھول گئے کے گرگشت کون تھا ۔ ان کو صرف یہ یاد رہا کہ گرگشت کے اسلاف میں سے تھا جو کہ آریائی تھا اور اسے اپنے شجرہ نسب میں پیش کیا ۔

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری
متی (متو)
افغانوں کے شجرہ نسب میں ہے بٹن بن قیس کی لڑکی جس کا نام متی تھا ، اس کی شادی شاہ حسین غوری سے ہوئی تھی ۔
شاہ حسین غوری تاریخ سے ماخذ نہیں ہے ۔ مگر نعمت اللہ ہراتی اور بعد کی کتب میں پٹھان افغان مورخین نے اپنی کتب میں اس کا ذکر کیا ہے ۔ ظاہر ہے یہ قبائیلی روایات ہیں جو ماضی کے دھندھلکوں میں کچھ سے کچھ ہوگئی ہیں ۔ جب کہ غور کے علاقے میں چوتھی صدی ہجری کے آخر میں اسلام آیا ہے ، لہذا یہ موضوع اور سماع پر موقوف ہیں ۔ (دیکھے غوری) یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ متو کون ہے جسے افغانوں نے اپنے شجرے نسب میں داخل کیا ہے ۔
اب تک ہم نے جو بحث کی ہے اس سے یہ نتیجہ با آسانی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پٹھان یا افغان کوئی واحد نسلی یا لسانی وحدت نہیں ہیں ۔ ان میں آریا سے لے کر ترکی تک شامل ہیں ۔ گو یہ سب وسط ایشیا سے آئے ہیں ، مگر مختلف ادوار میں ان کی نقل مکانی ہوتی رہی ہے اور آنے والی قوم پہلے سے آباد لوگوں کو پیچھے دھکیلتی رہی ہیں اور باقی رہنے والوں کو حملہ آورں میں جذب ہوگئے ۔ اس طرح مختلف روایات مشترک ہوگئیں ۔ مسلمانوں کی آمد سے پہلے اس علاقہ میں ہند آریائی زبانیں بولی جاتی تھیں ۔ اس لئے غالب مکان یہی ہے کہ اس کلمہ کی ابتدائی شکل ہند آریائی کلمہ متر تھی ۔ جس کے معنی دوست ساتھی عزیز کے ہیں ۔ گویا یہ اقوام جو ان کے ساتھ رہتی تھیں اور ان کے دکھ و سکھ کی شریک تھیں اس لئے یہ متر کہلاتی تھیں ۔ جب مسلمانوں کی آمد ہوئی اور اس علاقے میں اسلام پھیلا تو یہ کلمہ امتعدد زمانہ سے متی یا متو ہوگیا اور جب شجرہ نسب کی تشکیل ہوئی تو اسے پٹن کی لڑکی فرض کرلیا گیا اور فرضی شاہ حسین غوری کو اس کا شوہر بتایا گیا ۔ ان کے علم مطابق وہ قبائیل جن سے ان کا نسلی تعلق نہیں تھا وہ اس کی اولاد بنادی گئیں ۔ افغانوں کے بہت سے قبائیل کے ناموں یہ کلمہ آتا ہے جس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ۔
تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں