36

گستاسب کا دارالسلطنت

زرتشت نامہ میں پہلی بازیابی کا بلخ میں ہونا بیان کیا ۔ مسعودی صاحب زرتشت نامہ سے تین سو سال پہلے گزرا ہے وہ بھی بلخ بیان کرتا ہے ۔ دین کرت میں مختلف مقامات پر مکان ، محل ، قصر بلند اور درالسطنت کا ذکر آتا ہے لیکن یہ کہیں لکھا صاف طور پر معلوم نہیں ہوتا ہے کہ یہ شہر کون سا تھا ؟ اوستا یا کوئی پہلوی کتاب میں اس کی کوئی وضاحت نہیں آئی ہے کہ یہ کہاں واقع تھا ؟ البتہ فارسی اور عربی مورخین اسے بلخ قرار دیتے ہیں جو باختر کا دالحکومت بلخ تھا ۔

لیکن تاریخ میں بلخ کا سب سے پہلا تزکرہ یونانی نوآبادی کی حثیت سے یونانی سردار ڈیوٹس کی بغاوت کے دوران بختاپا کی شکل میں ملتا ہے اور سکندر کی مہموں میں بھی اس کا تذکرہ نہیں ملتا ہے ۔ اگرچہ یہ ہوسکتا ہے کہ قدیم شہر باختر کے نام سے موسوم ہو اور رفتہ رفتہ یہ بلخ یا بلق کے نام سے موسوم ہوگیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے شہر کا قدیم نام باختر اور یہ علاقے کا نام بھی ہو ۔ دادا کے باپ گستاسب باختر کا حکمران تھا ۔ مگر اس کا دارلسطنت کون ساتھا اس کی وضاحت نہیں ملتی ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں