39

گشتاسپ کا زرتشت پر ایمان لانا

زرتشت گشتاسپ کے حکم کے مطابق مکان میں ٹہرے تھے اور جب وہ کہیں جاتے تھے تو تالا لگا کر چابی چوکیدار کو دے کر جاتے تھے ۔ ان کے دشمنوں کی سازشیں جاری تھیں اور انہوں نے چوکیدار سے ساز باز کرکے زرتشت کی غیر موجودگی میں ان  کے بستر اور تکیہ میں کچھ ناپاک چیزیں یعنی کتے اور بلی کا خون اور بال ، سر اور ناخن اور مردوں کی ہڈیاں رکھوا دیں اور بادشاہ کو باور کرایا کہ زرتشت جادوگر ہے اور ثبوت میں وہ چیزیں دیکھائیں ۔ بادشاہ نے ان چیزوں کو دیکھ کر زرتشت کو قید کردیا اور اوستا پھینک دی ۔ اتفاق سے گشتاب کا عزیز گھوڑا بہزاد کے پیر بیکار ہوگئے اور اس کا ہلنا سرکنا بھی مشکل ہوگیا ۔ تمام طبیب اس کے علاج سے عاجز ہوگئے اور ساری تذابیز ناکام ہوگئیں ۔ گشتاسپ کو اس کے بیمار ہونے کا سخت قلق تھا ۔

زرتشت کو جب اس گھوڑے کی بیماری کی خبر ملی تو انہوں نے گشتاسپ کو اپنی رہائی اور کچھ شرائط پر اس گھوڑے کو تندروست کرنے کی حامی بھری ۔ گشاسپ یہ سن کر خوش ہوگیا اور اس نے فوراً زرتشت کو رہا کردیا اور گھوڑے کے تندرست کرنے کے بدلے منہ مانگا انعام دینے کا وعدہ کرلیا ۔

زرتشت فوراً بادشاہ کے حضور پہنچائے گئے اور بادشاہ اور گشتاسپ دونوں اصطبل گئے ۔ اصطبل میں زرتشت نے بادشاہ سے کہا اگر بادشاہ عہد کرلے کہ اگر اس کا ایک پیر صحیح ہوجائے گا تو وہ ان پر ایمان لے آئے گا ۔ بادشاہ کے اثبات پر زرتشت نے دعا کی اور اپنا داہنا ہاتھ گھوڑے کے اگلے پیروں پر پھیرا تو گھوڑے نے اپنا وہ پیر پھیلا دیا ۔ پھر زرتشت نے شاہزادہ اسفندیار سے وہ وعدہ کرے کہ وہ میرے مذہب پر ایمان لائے گا ، اسفندیار نے عہد کیا ۔ زرتشت نے پچھلی داہنی ٹانگ پر ہاتھ پھیرا تو وہ اچھی ہوگئی ۔ تیسری شرط تھی کہ بانوے بانوان (ملکہ) کا ایمان لانا ۔ اس کے حامی بھرنے پر زرتشت نے تیسری ٹانگ پر ہاتھ پھیر کر درست کردی ۔

چوتھی شرط زرتشت نے یہ رکھی کہ چوکیدار کو بلا کر اس سے پوچھا جائے کہ یہ پلید چیزیں کس نے رکھوائیں ہیں ۔ بادشاہ نے چوکیدار کو بلا کر ڈرایا ڈھمکایا تو اس نے اگل دیا کہ یہ چار آدمیوں کی سازش ہے ۔ بادشاہ نے جیسے ہی ان آدمیوں کو قتل کر وایا تو گھوڑا فوراً تندرست ہوگیا ۔ بادشاہ فوراً زرتشت کے قدموں پر گر پڑا اور ان پر ایمان لے آیا ۔ دبستان مذہب میں آیا ہے کہ گشتاسپ کا باپ جو لاعلاج مرض میں مبتلا تھا تندرست کیا تھا ۔

گشتاسپ کے مذہب قبول کرنے کے بعد زرتشت اطمنعان سے اپنے مذہب کی تبلیغ شروع کردی اور لوگوں کو مرنے کے بعد آئندہ زندگی کا وعدہ کرتا تھا ۔ بقول پہلوی کتابوں کے جانور بھی خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے اور اہرمن کو ظلمات میں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملتی تھی ۔ 

بعض پہلوی کتابوں میں لکھا ہے کہ گشتاسپ نے زرتشت سے چار خواہش کی تھیں ۔ (۱) اس کو بہشت کا وہ مقام دیکھایا جائے جہاں اس کو مرنے کے بعد رکھا جائے گا (۲) اس کے بدن پر کسی ہتھیار کا اثر نہ ہو (۳) اس کو دنیا کا علم ابتدا سے آخر کا (غیب) علم دیا جائے ۔ (۴) اسے تا قیامت موت نہیں آئے ۔

مگر زرتشت نے کہا کسی ایک شخص کے لیے ممکن نہیں ہے کہ ان چاروں چیزوں حاصل کرے ۔ بہتر ہے بادشاہ ان چاروں میں سے کسی ایک چیز کو اپنے لیے منتخب کرے ۔ ناچار بادشاہ نے خواہش ظاہر کی کہ اسے وہ مقام دیکھایا جائے ۔ جس میں وہ مرنے کے بعد رہے گا ۔

زرتشت وعدہ کرکے اپنی قیام گاہ پر چلے آئے اور تمام رات عبادت میں گزاری ۔ صبح دربار شاہی میں گئے اور وہ بیٹھے ہی تھے کہ دربان ہانپتا کانپتا گھبرا یا ہوا آیا اور اطلاع دی کہ تین نہایت مہیب گھڑ سوار اندر آنا چاہتے ہیں اور وہ روکنے سے رک نہیں رہے ہیں ۔ شہنشاہ نے زرتشت سے پوچھا یہ لوگ کون ہیں ؟ زرتشت نے جواب دیا بہمن ، اروی بہشت اور آذر تینوں فرشتگان مقرب ہیں ۔

دین کرت میں لکھا ہے کہ اہورا ہرمزدا نے بہمن ، اروی بہشت اور آذر سے کہا کہ تم گشتاسب کے پاس جاؤ تاکہ اس کو زرتشت پر یقین کامل ہوجائے ۔ ان تینوں کے آنے سے بادشاہ ، درباری اور سپہ سالار کی آنکھیں چوندھیا رہی تھیں اور سب کانپ رہے تھے ۔ ان میں سب سے بڑے فرشتے کی ہیئت کذائی گاڑی بانوں سی تھی ۔ آذر نے بادشاہ سے ہم تم کو ڈرانے یا دھمکانے نہیں آئے ہیں اور صرف یہ کہنے آئے ہیں تو دین زرتشت پر سختی سے قائم رہ ۔ اگر تو اس پر چلا تو تیرا ایک بیٹا پشوتن ہوگا اور تیری سلطنت ڈیڑھ سو برس تک قائم رہے گے ۔ ورنہ دوسری صورت میں تیرا آخری وقت آپہنچا ہے اور پھر فرشتے چلے گئے ۔

دبستان مذہب کے مطابق امشاسپند فرد شکوہ کے ساتھ دربار شاہی میں پہنچے اور بادشاہ سے کہا ۔ ہم تینوں فرشتہ و فرستہ یزدان ہیں اور اہورا ہرمزدا کی طرف سے پیغام لائیں ہیں کہ زرتشت ہمارا پیغمبر ہے اور دنیا بھر کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ تجھ پر اس کی باتیں ماننا فرض ہے ، اگر اس کی اطاعت کرے گا تو ذوزخ سے بچے گا ۔ خبردار زرتشت کو تکلیف نہ ہونے پائے ۔ تو اسی کے ذریعے اپنی مراد تک پہنچے تو بھی اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا ۔   

گشاسپ پر فرشتوں کا ایسا رب چھایا کہ وہ گرکر بہوش ہوگیا اور کچھ دیر کے اسے کچھ ہوش آیا تو پیغمبر یزدان نے گشتاسب کو مبارک باد دی اور کہا رات بھر میں نے تمہارے لیے دعا کی تھی ۔ جو منظور ہوئی ، چلو تنہائی چلیں تاکہ اس کی تکمیل ہوجائے ۔ چنانچہ تنہائی میں شراب ، دودھ ، پھول اور انار منگوائے گئے اور زرتشت نے کچھ دعائیں پڑھ کر ان چیزوں پر دم کرکے بادشاہ کو شراب پلائی گئی ۔ بادشاہ شراب پیتے ہی بہوش ہوگیا اور تین دن تک بہوش رہا ۔ اس حالت میں اس کی روح بہشت میں گھومتی رہی ۔ وہاں اس نے باغات ، محلات کی سیر کی اور نیکوکاروں کے رہنے کے لیے مختلف مقامات کو دیکھا ۔ گشتاسپ نے وہ مقام بھی دیکھا جہاں وہ مرنے کے بعد رکھا جائے گا ۔

زرتشت نے پشوتن (بادشاہ کا بیٹا) کو دودھ پلایا ۔ جس کے اثر سے اس نے زندگی جاویداں پائی ۔ جاماسپ کو پھول سنگھائے کہ اس پر علم اولین و آخرن (غییب کا علم) کھل گئے اور انار اسفندیار کو کھلایا کہ اس کا بدن کانسی کا بن گیا اور اس پر کسی ہتھیار کا اثر نہیں ہوتا تھا ۔

عجیب بات اس بیان میں پشوتن کے بارے میں بھی تضادات ہیں ۔ امشاسپند نے کہا تھا تیرا ایک بیٹا پشوتن ہوگا ۔ مگر دوسری طرف پشوتن اس وقت موجود ہوتا ہے ۔ جب کہ گشتاسپ کے مرنے کے بعد اسفندیار کا بیٹا بہمن بادشاہ ہوا ۔ دین کرت میں صرف یہ لکھا ہے خسرو خسرروان (بادشاہ) کو اردی بہشت کے ہاتھ سے زرتشت نے چشمہ حیات کا پانی پلایا اور بانو بانوان (ملکہ) اسی فرشتہ کے کہنے سے زرتشت پر ایمان لے آئی ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں