29

گشتاسپ

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے زرتشت کا مربی گشتاسپ یا شتاسب کون تھا ؟ گشتاسپ کیا افسانوی شخصیت ہے اور اس کی کوئی تاریخی حثیت بھی ہے ؟ اس کے لیے بھی ایک تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔

قدیم زمانے تاریخی حوالے سے واحد گشتاسپ (تقریباًً 600 ق م تا 500 ق م) ہخامنشی خاندان میں دارا اول کے باپ کا نام تھا اور یہ گشتاسپ ہخامنشیوں کے دوسری شاخ سے تعلق رکھتا تھا جو کہ باختر کا حکمران تھا ، مگر اس کی حثیت کوئی آزاد حکمران کی نہیں تھی بلکہ اس کی حثیت علاقائی حکمران یا امیر کی تھی ۔ اگرچہ اس نے میدی فرمانروا استاگیس اور خورس کی کشمکش سے فائدہ اٹھایا اور ہخامنشی بالادستی کے خلاف آزادی کا اعلان کردیا ۔ مگر خورس نے میدیوں پر فتح حاصل کرنے کے بعد اسے پھر دوبارہ اپنی بالادستی قبول کرنے پر مجبور کردیا اور اسے دوبارہ زیر دست ہونے کا درجہ دیا گیا ۔ اس پر دارا کے کتبہ سے روشنی پڑتی ہے جیسا کہ دارا نے باختر میں بغاوت ہونے کی رودائد میں درج کیا ۔ اگر اس گشاسپ کو زرتشت کا مربی تسلیم کریں تو اسے بادشاہوں کی صف میں جگہ نہیں دی جاسکتی ہے ۔ گو اس نے وقتی طور پر آزادی حاصل کرلی تھی مگر اسے بادشاہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے ۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے میڈی حکومت کے قیام سے پہلے باختر میں ایک آزاد حکومت قائم تھی اور کیانی خاندان کی اکثر داستانیں اس کے متعلق ہیں ۔ اس قیاس کی تائید میں آشور بادشاہ ٹقلید بلاسر اول (1114 تا 1076 ق م) کا اٰٰیک کتبہ ملتا ہے جس میں آریائی فرمانرواؤں کے نام لکھے ہوئے ہیں ۔ ان میں ایک نام گستاسپ بھی ہے ۔ ایسی صورت میں زرتشت کا زمانہ 1200 ق م کے لگ بھگ ماننا پڑے گا اور غالباً یہی درست ہے اور اشپیگل کا کہنا یہی ہے کہ زرتشت کا دور آشوری دور تھا یعنی ۱۰۰۰ ق م تھا ۔ اگر اس نام کا کوئی شخص تھا میں تو اس کا زمانہ سائرس سے پہلے کا تھا ۔ تاہم اس کو دارا کے باپ ہستاس پیز سے جدا رکھناچاہیے اور اس کا عہد ایک ہزار سے اور بعض کا خیال چودہ سو برس قبل مسیح سمجھنا چاہیے ۔

ٍ گاتھا میں گشتاب کی بہت تعریف آئی ہے کہ اے زرتشت تیرا صادق دوست کون ہے ؟ یا وہ شخص کون ہے جو اپنے نیک خصائل کی وجہ سے مشہور ہونا چاہتا ہے ؟ یہ مرد میدان گشتاسپ ہے ۔ میں اس کے لیے اور ان لوگوں کے لیے جو اس کے گھر میں رہتے ہیں اور جنہوں اس کی سعی سے مذاہب قبول کیا ہے بہمن سے وہ دعا مانگتا ہے ۔
اے ہستاسپ کے بیٹوں ، اسپنتمان پوتوں میں تم سے کہوں گا کہ تم نے حق و باطل میں فرق سمجھا ہے اہورا مزد کی شریعت (اولیٰ) کے اتباع سے اشا (نیکی) حاصل کرلی ہے ۔
اے فرشوستر تو ان لوگوں کو لے کر اس مقام پر جا جہاں بے حد خوشی اور بے انتہا راحت ہے ۔ وہاں جہاں آرمتی (روح ارض) اشا میں شامل ہوگئی ے اور جہاں بہمن کی سلطنت ہے اور جہاں ہرمزد رہتا ہے اور جہاں اے جاماسپ میں وہ رسوم (شرع) اور صرف وہ رسوم جاری کروں گا جو آج تم لوگوں کی ہیں ۔
گشتاسپ کی زرتشتی مذہب میں وہی حثیت ہے جو کہ قسطنطین کی مسیح مذہب میں ۔ ژند و پہلوی کتابیں اس کے حالات و توصیف سے بھری ہوئی ہیں ۔ اسے صادق زرتشتی اور ایماندار حامی مذہب اور اسے حسن عقیدت سے ایک فرشتہ کی شکل میں دیکھایا گیا ہے ۔ لیکن اوستا اور پہلوی کتابوں اس کی مختلف تصویر پیش کی گئیں ہیں ۔ ان کے مطابق یہ فہم و فراست سے عاری ، موڈی ، موقع اور وقت کی نذاکت اور نہایت لاپرواہ شخص تھا ۔ یہ دوسروں کی باتوں میں بآسانی آجانے والا ، جسے تحقیق یا تنقید سے کوئی واسطہ نہیں ۔ فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے عاری جس کی اپنی کوئی رائے نہیں اور اراکین سلطنت کی رائے پر چلنے والا اور جلد باز جس کی وجہ سے اسے اکثر پچھتانا پڑتا تھا ۔ جوشیلا اور جذباتی جس کی وجہ سے اکثر پشیمان ہوتا پڑا تھا ۔ جیسا کہ اس کی افسانیوی سوانع سے اس کا کردار واضع ہوتا ہے ۔
ایک دفعہ لہراسپ نے ایک جشن ترتیب دیا جس میں جس میں اراکین سلطنت اور دوسرے شہزادے بھی شریک تھے ۔ اس موقع پر گشتاسپ نے اپنے باپ تخت سے دست بردار ہوکر اپنے کو بادشاہ بنانے کا مطالبہ کیا ۔ لہراسب نے موقع کی مناسبت سے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر گشتاپ ناراض ہوکر ہندوستان چلا گیا ۔ لہراسپ بیٹے کی حرکت سے پریشان ہوا اور اس نے دوسرے بیٹے زریر کو ہندوستان بھیجا کہ بھائی کو مناکر لائے ۔ کچھ دنوں بعد گشتاسپ پھر ناراض ہوکر روم چلا گیا اور کسی کو بتاکر نہیں گیا کہ وہ کہاں جا رہا ہے ۔ اسے تلاش کرنے کی کوشش کی گئی مگر ان کا پتہ نہیں چلا ۔
روم میں اس کے پاس جو کچھ مال و زر تھا وہ جلد ہی ختم ہوگیا اور تنگی و ترشی اور فاقوں سے اس کے دن گزرنے لگے ۔ گشتاسپ نے تنگی ترشی اور فاقوں سے پریشان ہوکر ایک لوہار کے پاس مزدوری کرنے لگا ۔ وہاں گشتاسپ نے لوہار کا کچھ سامان توڑ دیا تو اس نے نکال دیا ۔ جس کی وجہ سے اس پر دوبارہ فاقوں کی نوبت آگئی اور یہ سخت پریشان تھے کہ ایک شخص جو خود بھی فریدوں کی نسل میں سے تھا اسے گشتاسپ پر رحم آیا اور وہ انہیں اپنے گھر لے گیا اور ان کے کھانے پینے کا بندوست کیا ۔
اتفاق سے قیصر روم کی بیٹی کتابوں (ناہید) نے انہیں کہیں دیکھا اور وہ ان پر عاشق ہوگئی ۔ قیصر روم کو یہ کنگلا شخص پسند نہیں آیا مگر ناہید کے سخت اصرار پر سخت غصے میں کتابوں کی شادی گشاسپ سے کرکے اسے گھر سے نکال دیا ۔ گشتاسپ کچھ کام کرتا تھا اور نہ ہی اسے کوئی کام آتا تھا اس لیے ناہید نے اپنا ایک یاقوت بیچ کر گھرداری کا سامان کیا ۔
سلم (فریدوں کا بیٹا) کی نسل کے ایک ایرانی پر قیصر کی دوسری بیٹی میرین عاشق ہوگئی ۔ ایرانی نے قیصر سے میرین کا رشتہ مانگا ۔ قیصر نے اس رشتہ کے لیے شرط لگادی کہ وہ اس خونی بھیڑیے جس نے فاسقون کا راستہ بند کر رکھا ہے مار کر لادے تو وہ اپنی بیٹی کی شادی اس سے کر دے گا ۔ وہ شخص سخت پریشان ہوا کہ اس خونی بھیڑیے کو کس طرح ہلاک کرے ۔ کسی نے اسے گستاسپ مدد لینے کا مشورہ دیا ۔ یہ شخص گشتاسپ کے پاس پہنچا اور اس کے مربی سے بھی سفارش کروائی ۔ گشتاسپ جو شکاری تھا اس لیے اس نے حامی بھری اور گشتاسپ نے بآسانی اس خونی بھیڑیے کو مار کر اسے اس شخص کے حوالے کر دیا ۔ مگر اس بھیڑیے کے سامنے کے دانت اکھاڑ کر اپنے پاس رکھ لیے ۔
چند روز بعد ایک اور شخص اہرن کو قیصر نے ایک اژدھے کو مارنے کا کام سونپا ۔ مگر اہرن کے لیے اس اژدھے کو مارنا ایک مشکل اور بڑا کام تھا اور یہ اس کے بس کا روگ نہیں تھا ۔ اس لیے اس نے بھی اژدھے کو مارنے کے لیے گشاسپ کی خدمات حاصل کیں ۔ زرتشت نے اس اژدھے کو مار کر اہرن کے حوالے کرنے سے پہلے اس کے دانت نکال کر رکھ لیے ۔
کچھ دنوں کے گشتاسپ کی اپنی بیوی کتابوں سے کھٹ پٹ ہوگئی تو یہ غصہ میں گھر سے نکلا اور اس میدان میں پہنچا جہاں چوگان کھیلا جاتا تھا ۔ وہاں اس وقت قیصر چوگان کھیل رہا تھا ۔ گشتاسپ کو بھی کھیل میں شامل ہونے کا موقع مل گیا ۔ گشتاسپ نے بڑا عمدہ کھیل پیش کیا جسے لوگوں نے بہت پسند کیا ۔ کھیل دیکھ کر قیصر بھی ان کی طرف متوجہ ہوا ۔ گشتاسپ نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور کچھ سپہ گری کے کرتب پیش کیا ۔ جسے دیکھ کر قیصر کو سخت تعجب ہوا تو گشتاسپ نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور بھیڑیے اور اژدھے کو مارنے کا قصہ سنایا اور ثبوت میں ان کے دانت نکال کر پیش کیے تو قیسر ان سے بہت خوش ہوا اور بیٹی اور داماد کو اپنے محل لے گیا ۔ کچھ عرصہ بعد مہتر الیاس والی خزر نے بغاوت کردی تو قیصر نے اس کی سرزش کے لیے گشتاسپ کو بھیجا ۔ گشتاسپ نے نہ صرف اس کو شکست دی بلکہ اسے گرفتار بھی کرلیا ۔ قیصر گشتاسپ کی بہادری سے بہت ہی خوش ہوا اور انہیں اپنے ساتھ تخت پر بیٹھانے لگا ۔ کچھ دنوں بعد قیصر نے گشتاسپ کے بل بوتے پر ایران سے خراج کا مطالبہ کیا ۔ لہراسپ کو جب قیصر کے خراج کے مطالبہ کا پیغام ملا تو اسے سخت حیرت ہوئی کہ قیصر کی اتنی ہمت کیسے ہوئی ؟ مگر اس نے ایلچی سے معلوم کروا لیا کہ یہ خراج کا مطالبہ ان کے بیٹے گشتاسپ کے بل بوتے کررہا ہے ۔ اس پر لہراسپ نے اپنے دوسرے بیٹے زریر اور دوسرے بہت سے شہزادوں کے ساتھ اپنا تاج دے کر روم میں گشاسپ کے پاس بھیجا ۔ زریر روم گیا اور گشتاسپ کو تاج پیش کیا اور اسے بادشاہ بنا کر واپس باختر لے آئے ۔
شاہنامہ میں ہے کہ گشتاسپ کی شادی شہنشاہ مغرب کی لڑکی کتابوں سے ہوئی تھی ۔ شاید مغرب سے مراد ایشائے کوچک ہے ۔ ایک یونانی سیتھنس نے اس قصہ کو بیان کیا ہے مگر یہ اس قصہ سے بہت مختلف ہے ۔ شہزادی کا نام بھی زڈویٹس اور بادشاہ کا نام زریاڈرس بتایا ہے ۔ یہ ہوسکتا ہے کہ یہ قصہ اس یونانی قصہ سے اخذ کیا گیا ہو ۔ کیوں کہ یہ سب کہانیاں تاریخ سے ماخذ نہیں ہے ۔
گشتاسپ لہراسپ کا بیٹا تھا اور بانو بانوان (ملکہ) گشتاسپ کی بیوی لہراسپ کی بیٹی اور بہن تھی ۔ زریر بادشاہ کا جانثار بھائی اور وفادار بھائی تھا ۔ اس کی ثابت قدمی اور انٹھک محنت سے گشتاسپ کی سلطنت اور زرتشتی مذہب کو بہت تقویت پہنچی تھی ۔
گشتاسپ کی اٹھارہ بیٹے تھے ۔ جسٹن نے اٹھارہ بیٹے ، یادگار زایران ایران میں تیس اور فردوسی نے اڑتیس بیٹے بتائے ہیں ۔ دو بیٹیاں ہما اور بہ آفرید بتائی گئیں ہیں ۔ ہما بہت خوبصورت تھی اور ایران میں اس کی خوبصورتی کا شہرہ تھا ۔ اس کی شادی اس کے بھائی اسفندیار سے ہوئی تھی ۔ ان دونوں بہنوں کو شاہ توران نے باختر کے حملے وقت قید کرلیا تھا ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں