68

گلگت

گلگت ایک قدیم علاقہ ہے مگر ہم اس کی تاریخ سے بہت کم واقف ہیں ۔ یہاں بدھ کے کچھ مجسمے اور کچھ قدیم مقبرے بھی ہیں ۔ یہاں مٹی کے چوکور گھر جن کی ہموار چھتیں سردیوں میں برف سے دھک جاتی ہیں اور گرمیوں ان پر مویشیوں کا چارا سوکھ رہا ہوتا ہے ۔ یہاں کے لوگ شلوار قمیضوں اور شالوں میں ملبوس ویسے ہی نظر آتے ہیں جیسے کہ صدیوں پہلے تھے ۔ عیسیٰ کی پیدائش سے سو سال پہلے یہاں بدھ مت پھیلا ۔ اس سے پہلے یہاں مظاہر قدرت کی پوجا ، آتشی پرستی اور ہندو ازم کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے ۔ یہاں ایک انگریز نے ایک قربان گاہ دیکھی تھی جسے شاخوں سے ڈھانکا ہوا تھا اور اسے بتایا گیا کہ یہ یہاں کے دیوتا کا مقبرہ ہے اور خواتین یہاں پوجا کے لیے آتی تھیں ۔ اس کا خیال تھا یہ خواتین یہاں دریاؤں اور پہاڑوں کے دیوتاؤں کے حضور قربانی پیش کرنے آتی تھیں ۔ چین سے آنے والے بدھ زائرین جو کہ پشاور ، کشمیر ، ٹیکسلا اور دوسری جگہوں پر زیارتوں پر جاتے تھے وہ پہاڑوں کے درمیان اسی مقام سے گزرتے تھے ۔ یہاں سکندر اعظم اور اس کی فوج کی داستانیں مشہور ہیں اور ایک اصطبل کی کھنڈرات کے بارے میں یہاں مشہور ہے اسے یونانیوں نے تعمیر کرایا تھا ۔ یہاں تیرویں صدی میں اسلام پھیلا تھا ۔    

ڈوگرہ فوج کی آمد سے پہلے یہ علاقہ درستان کہلاتا تھا اور اس علاقہ میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں گلگت ، سی ، حصورا ، پونیال ، نگر ، ہنزا ، بوانجی ، اشکومن ، گویچال ، بدخشاں ، دلیل ، تنخیر ، گور ، تہیلجا ، سپالس اور استور تھیں ۔ جو کہ آپس میں لڑ لڑ کر اپنی طاقت کھو بیٹھیں تھیں ۔ مہارا کشمیر نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور انہیں ایک ایک کرکے باج گزار بنا لیا یا ان پر قبضہ کرلیا ۔ 

ڈوگرا راج سے پہلے گلگت کے راجہ ترکی کہلاتے تھے ۔ اسے مہاراجہ گلاب سنگھ نے1851ء؁ میں ایک فوج بھیج کر فتح کرلیا تھا ۔ مگر غلامی کو انہوں نے قبول نہیں کیا اور غلامی کا جوا ان کے لیے سخت بھاری تھا اس لیے یہ علاقہ مستقل شورش زدہ رہا ۔ یہاں پر مستقل فوج رکھنی پڑتی تھی ۔ مگر یہاں کے عوام پر زیادہ سختیاں کی گئیں تو برطانیہ نے 1877ء؁ میں ایک ایجنسی قائم کی ۔ وقت کے ساتھ یہاں انہوں نے نیم فوجی دستے بھرتی کئے جسے گلگت اسکاوٹ کا نام دیا گیا ۔ اس کا کام امن و امان قائم کرنا اور ارد گرد کے ہمسایوں سے علاقہ کا دفاع کرنا تھا ۔

تقسیم کے وقت یہاں کے ہندو گورنر اور دو برطانوی جونیر آفیسر نے گلگت کے مسلمانوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور یہاں کے لوگ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے تھے ۔ مگر انہیں حفاظتی حراست میں لے کر نظر بند کر دیا گیا ۔ یہاں انڈین ایر فورس نے ہوائی جہازوں سے بمباری بھی کی تھی مگر وہ ہدف پر لگنے میں ناکام رہتے تھے ۔ یہاں کے زندہ دل اسکاوٹ جب ان جہازوں کو آتا دیکھتے تو بینڈ پر دھنیں بجایا کرتے تھے ۔ اس سے بھارتی پائلٹ سخت برہم ہوئے اور انہوں نے غوطہ لگا کر مشن گن سے گولیوں کی پوچھاڑ کی تو ان کے حملوں کو روکنے کے لیے چند گنیں لگائی گئیں تو پھر بھارتی طیارے دوبارہ نہیں آئے ۔  

گلگت گلگت بلتستان کا دارلحکومت ہے اور یہ ایک مصروف شہر ہے ۔ کیوں کہ یہ شاہرہ رشم پر واقع ہے اور چینی تجارت اسی راستہ سے ہونے کی وجہ سے یہاں کے بہت سے شہری اسی میں مصروف رہتے ہیں ۔ چینی سامان کی خرید و فرخت کے لیے چین کے شہروں سے ان کا رابطہ اور آمد و رفت رہتی ہے ۔ یہاں کے بازار مختلف چینی سامان سے بھرے ہوئے ہیں اور یہ شہر سیاحوں کا بھی خصوصی مرکز ہے ۔ اس لیے یہاں بہت سے ہوٹل ہیں جن میں دنیا بھر سے آئے ہوئے غیر ملکی کثرت سے نظر آتے ہیں ۔ ان غیر ملکیوں کی ٹیمیں کوہ پیما ، ٹریکنگ اور مختلف مہم کے لیے یہاں سے روانہ ہوتی ہیں ۔ اس سے یہاں کے لوگوں کو روزگار کے زرائع بھی میسر ہیں ۔ 

یہاں کا مشہور کھیل پولو ہے اور اسے ایجاد کرنے کے دعویدار افغانستان ، ایران اور وسط ایشاء کے بہت سے علاقے ہیں ۔ مگر یہاں پولو کا اپنا رنگ ہے ۔ جس میں چھوٹے چھوٹے ٹٹو دیوانہ وار بھاگ رہے ہوتے ہیں اور ان پر سوار کھلاڑیوں کا ان پر کوئی اختیار نہیں ہوتا ہے ۔ اس کھیل میں ہر ایک شامل ہوسکتا ہے ۔ سیٹیاں اور شینائیاں بج رہی ہوتی ہیں اور لوگ وہاں کسی دیوار پر بیٹھ کر داد دے رہے ہوتے ہیں ۔ ہم اس کھیل کو یہیں چھوڑ دریائے سندھ کے کنارے آگے چلتے ہیں ایک تو ایک اور بڑا دریا دریائے سندھ میں اپنا پانی شامل کر رہا ہوتا ہے ۔ یہ دریائے استور ہے جس کا مٹیالہ پانی دور تک نمایاں تک دریائے سندھ میں نمایاں رہتا ہے اور بلآخر یک جان ہوجاتا ہے ۔

گلگت سے دریا کی طرف جاتے ہوئے کہیں کہیں سے ننگاہپربت دیکھائی دیتا ہے ۔ اس مختصر سے میدان میں جو دریائے سندھ اور گلگت ا پنے سنگم پر بناتا ہے جو حسین منظر نظر آتا ہے وہ برفانی پہاڑوں کا سلسلہ ہے ۔ ابھرتے ہوئے سورج میں دریائے سندھ اور گلگت کے سنگم سے ننگاہپربت کو دیکھنے والوں کو ریت اور چٹانوں کے صحرا سے غافل کردیتا ہے ۔ یہاں جیسے جیسے سہہ پہر کا وقت ڈھلنا شروع ہوتا ہے ننگاہپربت کا نظارہ حسین سے حسین تر ہوتا جلا جاتا ہے ۔ یہ ایک ایسا پرشکوہ منظر ہوتا ہے کہ کسی نے اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا ۔ بادلوں سے اوپر ایک ان چھوئی برف کی دنیا روشن سے روشن تر نظر آتی ہے کہ بس سکوت کے عالم میں آنکھیں پھاڑے اسے دیکھے جاؤ ۔ جس کے نیچے بادلوں کے گہرے سائے منظر کو اپنی دوش میں لے رہے ہوتے ہیں ۔ یہ دیکھنے والوں کو اس ناممکنات کا احساس پیدا کرتا ہے کہ کوئی وہاں موجود ہے تو اس کی اس کے آگے کوئی اہمیت نہیں ہے ۔

دریائے گلگت سندھ میں شامل ہونے سے بیس میل پہلے اس ڈھلوان سایہ دار وادی میں سیب ، اخروٹ ، شہتوت ، خوبانی اور چنار کے درخت کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔ خاص کر خوبانی بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ گرمیوں میں اس کے تازہ پھل کو سردیوں میں اس کے خشک پھل اور اس کے مغز کو بادام کی طرح بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے یا پھر اسے پیس کر آٹا بنا کر اس کی روٹیاں بنائی جاتی ہیں ۔ اس کا تیل بھی نکالا جاتا ہے ۔ پھلوں کے باغات کے درمیان وادی کی بلند دیواروں کے اوپر ڈھلوان میدانوں میں گندم ، جو اور باجرہ پیدا ہوتا ہے اور نچلے علاقوں میں مکئی ، آلو ، شلجم ، انگور ، چیریاں اور خربوزے پیدا ہوتے ہیں ۔ ان کھیتوں کے پشتوں کو بڑی احتیاط سے مظبوط بنایا جاتا ہے ۔

یہ علاقے برف اور مٹی کے پھسلتے ہوئے تودے اور خطرناک سیلابوں کی زرد ہوتے تھے ۔ جہاں دریائے گلگت اور اسطور سندھ میں ملتے ہیں ۔ یہاں پہلے بہت آبادی تھی اور زراعت پھل پھول رہی تھی ۔ 1840؁ء میں ننگاہ پربت کے دامن میں پہاڑی کا ایک تودہ دریائے سندھ کی گھاٹی میں گر کر دریا پر بند باندھ دیا اور ایک بڑی تیس میل لمبی جھیل وجود میں آگئی جو گلگت شہر تک پہنچ رہی تھی ۔ پھر اچانک اس جھیل کا بند ٹوٹ گیا اور میلوں تک زراعت مٹ گئی اور درجنوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ۔ یہاں اگرچہ جانی نقصان کم ہوا کیوں کہ لوگوں نے پہلے ہی احتیاطی تذابیز اختیار کرلیں تھیں ۔ یہ تو محض ایک مثال پیش کی گئی ہے ورنہ گلشیر اور مٹی کے تودے پھسلنے سے سیلاب اور اپنے ساتھ سب کچھ بہانے والی خوفناک لہریں یہاں کا معمول ہیں ۔ مثلاً 1885؁ء میں ایک مٹی کے تودے نے بند باندھ دیا تھا ۔ جب پانی نے اسے توڑا تو تین سو میل نیچے اٹک کے مقام پر ایک دن میں ہی پانی کی سطح ۹۰ فٹ بلند ہوگئی تھی ۔ حال ہی میں عطا آباد میں ایک ایسی جھیل دریا میں چٹانوں نے بند باندھا تو وجود میں آگئی ۔ یہاں کے دیہات میں رہنے والے مسلسل خطرے میں زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں ۔ برطانیہ نے ان پر نظر رکھنے کا ایک انتظام قائم کیا تھا ۔ جسے پاکستان نے قائم رکھا بلکہ اس میں ترقی بھی دی ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں