70

ہخامنشی یا اکا میش خاندان

آریوں کی شاخ پارس جنوبی ایران میں آباد ہوئی تھی ، جس کی طرف سے یہ علاقہ منسوب ہوکر فارس کہلایا ۔ یہ لوگ ابتدا میں قبائیلی زندگی بسر کرتے تھے اور میدیوںکی طرح آشوریوں کے محکوم رہے ۔ تقریباََ ۷۰۰ ق م میں پارس میں ایک شخص ہخامنش Hakhamaniess نے ایک ایرانی خاندان کی بنیاد رکھی ۔ یہ خاندان بانی کے نام سے ہخامنش Hakhamaniess مشہور ہوا ۔
ہخامنش (۷۰۰۔ ۶۷۵ ق م) Hakhamaniess
اس فرمانروا کا دور ۷۰۰َ۔ ۶۷۵ ق م خیال کیا جاتا ہے ۶۸۱ ق م میں آشوری بادشاہ سناخریب کے خلاف بغاوت ہوئی تھی ، خیال کیا جاتا ہے ہلو لینا Halulina کے مقام ہر جن دستوں نے اس کا مقابلہ کیا تھا ، ان میں سے پرسومش کا ایک دستہ ہوگا ۔ اس کا سپہ سالار ہخامنش ہوگا ۔
چائش پش یا تس یس (۶۷۵۔۶۵۵ ق م) Chishpish or Teispis
ہخامنش کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا چائش پش حکمران ہوا ، اس نے اپنی سلطنت اپنے دو بیٹوں خورس اور اریارامن میں تقسیم کردی تھی ۔ خورس کو پرموش ملا ، وہ باپ کی موت کے بعد خورس اول کے لقب سے جانشین ہوا ۔
خورس یا کورش یا قورش یا سائرس (۶۵۵ ۔ ۶۰۰ ق م) Khurus or Kurush or Cyrus 

ٍ اس نے علامیوں کے ساتھ مل کر آشور بنی پال کے خلاف اس کے بھائی شمش شمو کین Shamsh Shumukin کی مدد کی تھی۔ مگر شمش شمو کین کی شکست کے بعد خورس نے آشور بنی پال کی اطاعت قبول کر لی ۔
قبیز یا کمیس یا کموجا (۶۰۰ ۔ ۵۵۹) Cambyses or Kambjiya
اس کے دور میں علامیوں اور آشوریوں کا ذوال شروع ہوگیا تھا ۔ چنانچہ کمبوجا نے علام کے دارلحکومت انشان ، قدیم سوسہ یا سوشن پر قبضہ کرلیا ، یہی وجہ ہے تحریروں میں کمبوجا شاہ پرموش و انشان کا لقب ملتا ہے ۔ مگر پھر بھی یہ ریاست آزاد نہیں ہوسکی ۔ آشوریوں کے بعد میدی بادشاہ ہو خشترنے اس کو محکوم بنالیا اور استاغیس کے زمانے تک یہی صورت رہی ۔ لیکن کمبوجا اول کے بعد اس ریاست نے بڑی تیزی سے ترقی کی اور تھوڑے عرصہ کے بعد ایک محکوم ریاست کے مقام سے بلند ہوکر شہنشاہیت کے مرتبہ کو پہنچی ۔ اس غیر معمولی عروج کا سہرا خورس دوم کے سر رہا ۔ جو اس کا بیٹا اور اسٹیاغیس نواسہ تھا ۔ کمبوجیاکی شادی اسٹیاغیس کی ایک بیٹی مندین سے ہوئی تھی ۔ جس سے یہ نامور فرمانروا پیدا ہوا ۔
خورس یا کورش یا قورش یا سائرس دوم (۵۵۹۔ ۵۲۹ ق م) Khurus or Kurush or Cyrus 3ed
خورس یا سائرس کا شمار دنیا کے بڑے فاتحین میں ہوتا ہے ۔ اس نے اپنی غیر معمولی شجاعت ، قوت اور تدبر کے باعث ایک مقامی امیر سے ترقی کرکے اپنے لئے شہنشا ہوں کی صف میں جگہ پیدا کرلی ۔ تین بڑی سلطنتیں میدیا ، لیڈیا اور بابل کو زیر و زبر کردیا اور فارس کی چھوٹی سی ریاست کو ایک عظیم انشان سلطنت میں تبدیل کردیا ۔
خورس نے تخت نشین ہونے بعد سب سے پہلے پرساگرد کی متوازی حکومت کو ختم کیا اور پورے فارس اور عیلام پر اپنی ڈھاک بیٹھائی ۔ اس کے بعد بابل کے بادشاہ بنو نید یا نیو نیدس Nabu Naibs or Nebu Nidus کے ساتھ ساز باز کرکے میدیا کے خلاف بغاوت کردی ۔ اس واقع سے پہلے بابل اور میدیاکی ریاستیں ہمیشہ ایک دوسرے کی حلیف رہی تھیں ۔ آشوریوں کے ذوال کے بعد صورت حال بدل گئی تھی ۔ دونوں کے درمیان کشمکش شروع ہوگئی ۔ خورس نے اس فائدہ اٹھاتے ہوئے بنو یندس کی حمایت حاصل کی اور استاغیس کے سالاروں کو ساتھ ملا لیا ۔ چنانچہ استاغیس کی فوج نے اسے گرفتار کرکے خورس کے حوالے کردیا ۔ استاغیس کی گرفتاری کے بعد میدیامع توا بع فارس کی ریاست میں ضم کردی گئی ۔ اس فتح کے بعد اس نے ایک متحدہ ایرانی سلطنت کی بنیاد رکھ دی ۔ جس کی سرحد مغرب میں لیڈیااور بابل تک وسیع ہوگئی ۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی تعلقات میں تبدیلی واقع ہوئی ۔ لیڈیا، بابل اور مصر نے ساز باز کرکے خورس کی بڑھتی ہوئی طاقت کو ٹورنے کی کوشش کی ۔ اس سے پہلے یہ اتحاد مستحکم ہوتا خورس نے لیڈیاپر حملہ کردیا ۔ کیوں کہ لیڈیاکی فوج معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے ہیلس Halys کے دوسرے کنارے تک بڑھ آئی تھی ۔ جنگ میں لیڈیاکی فوج کو شکست ہوئی ، خورس نے دارلحکومت سارڈیس Sardis پر قبضہ کرلیا ۔ اس کا حکمران کروئس Crocsusگرفتار ہوگیا ۔ اس کامیابی نے ایران کی سلطنت کو بحیرہ ایجین Aegean تک کردیا ۔ لیڈیاکی سلطنت کے ساتھ ایشائے کوچک اور یونانی مقبوضات خورس کے قبضہ میں آگئے ۔
اس کامیابی سے فراغت پانے کے بعد اس نے مغرب کی طرف توجہ دی اور ہرایو Harava موجودہ ہرات کو فتح کیا ۔ پھر دریائے سیحوںOxus اور جیہوں Jaxartes کے وسط علاقے سغدیہ Sagdiaکو فتح کیا ۔ اس طرح اس کی سلطنت ماورالنہر اور کوہ ہندو کش تک پھیل گئیں ۔ چند سال کے بعد اس نے (۵۳۹ ق م) بابل پر حملہ کر کے بابل کو فتح کرکے نبو یندس کو گرفتار کرلیا اور مغرب کی فتوحات نے ایرانی سرحدوں کو مصر سے ملا دیا ۔
خورس کا دوسرا بڑا کارنامہ مذہبی رواداری ہے ۔ فتح بابل کے بعد اس نے اسرائیلیوں کو جو بخت نصرکے عہدسے اسیری کی زندگی بسر کررہے تھے ۔ فلسطین جانے کی اجازت دے دی اور بیت المقدس کی تعمیر ثانی کا حکم صادر کیا اور اس سلسلے میں ہر طرح کی مدد دی ۔ نیز وہ طلائی اور نفری ظروف جو مذہبی طور پر مقدس سمجھے جاتے تھے اسرائیلیوں کے حوالے کردیئے ۔ بابل کے دیوتا مردوخ کی قدر منزلت کی اور تمام بتوں کو جو دوسرے مقامات سے اٹھا کر لائے گئے تھے ان کی جگہ پہنچایا ۔ یہ اس کے کارنامے ہیں جن کی بدولت اس کو ’نجات دہندہ‘ اور قوم کا باپ کا خطاب دیا ۔ نیز تاریخ میں اس کو اعظم کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔
خورس اعظم Cyrus The Gart نے پرساگرکو اپنا دارلحکومت قرار دیا اور وہاں ایک بڑا محل تعمیر کیا ۔ اس کی موت اچانک واقع ہوئی ۔ ۵۲۹ ق م میں ماورالنہر کے ایک قبیلہ سک نے بغاوت کردی ، وہ وہاں گیا اور ان کے خلاف جنگ کرتے ہوئے مارا گیا ۔
کمبوجا یا قنبوجا دوم (۵۲۹ ۔ ۵۲۲) Cambyses 2ed
خورس کی موت کے بعد اس کی وصیت کے مطابق اس کا بیٹا کمبوجا تخت و تاج کا وارث ہوا ۔ اس نے خورس اعظم کے منصوبوں کو پایا تکمیل پہنچا نے کی کوشش کی اور ۵۲۵ ق م میں ایک بڑی فوج لے کر مصر پر حملہ کیا ۔ پلوسم Pelusium کی جنگ میں فرعون مصر سامتیق سوم کو شکست دی اور مصر کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا ۔ تخسیر مصر کے دوران اس نے سوڈان اور قرطاجنہ فتح کرنے کے لئے فوجیں بھیجیں مگر وہ تباہ ہوگئیں ، اس سے اس کا ذہنی توازن بگر گیا ۔ اس نے بارہ پارسی امراء کو زندہ دفن کرادیا ، مزید اس نے مصر کے مقدس بیل Apis مار دیا ۔ تقریباََ تین سال مصر میں قیام کے بعد اس نے مصر کا حاکم ایک شخص اریاندس Aryabdesکو مقرر کیا اور ایران واپس ہوا تھا کہ شام میں ایک عظیم بغاوت کی اطلاع ملی ۔ جس کا قائد ایک شخص گئومات Goumata نامی تھی ۔ اس نے اپنے کو بردیا Bardiya ظاہر کر کے ایران کے تخت پر قبضہ کرلیا تھا ۔ اس وحشت ناک خبر نے کمبوجاکے دماغ کو مختل کیا کہ راستے ہی میں اس نے خود کشی کرلی ۔ اس کی موت کے بعد دارا اول نے گئومات کو قتل کرکے اپنی بادشاہت کا اعلان کردیا ۔
دارا یا داریوش اول (۵۲۲ ۔ ۴۸۶ ق م) Daruess 1th
دار کا تعلق ہخامنشی خاندان کی دوسری شاخ سے تھا ۔ اس لئے وہ تخت کا جائز حقدار نہیں تھا ۔ دوسرا اس نے ایک ایسے شخص کو قتل کر کے تخت حاصل کیا تھا ، جس کو لوگ بردیا سمجھتے تھے ۔ یہی وجہ ہے اس کے تخت نشین ہوتے ہی ملک میں بغاوت کی آگ بھرک اٹھی ۔
کموجا کی موت کی خبر پاتے ہی بردیا نے اپنی بادشاہت کا اعلان کردیا ۔ چوں کہ وہ ہردل عزیز تھا ،اس لئے لوگوں بخوشی اسے اپنا بادشاہ مان لیا ۔ ایسی حالت میں دارانے اس کو فرضی بردیا قرار دے کر اس کے خلاف پروپنگنڈہ شروع کیا اور اس کے فرضی قتل کی داستان پھیلا کر اس کے حامیوں کے درمیان پھوٹ ڈلوانے کی کوشش کی اور کسی طرح قلعہ میں گھس کر پوشیدہ طور پر اسے قتل کردیا ۔ اس کے قتل کے بعد سارے ملک میں بغاوتوں کی آگ بھڑک اٹھی ۔ جس کا سلسلہ داراکے آخری عہد تک جاری رہا ۔
دارانے غیر معمولی شجاعت اور استقلال سے کام لے کر تمام شورشوں کو چند سال میں فرد کیا ۔ باوجود شورشوں اور بغاوت کے دارانے فتوحات کی طرف توجہ دی ۔ ۵۱۴ ۔ ۵۱۲ ق م کے درمیان اس نے بحیرہ اسود Caspian Sea کے علاقوں پر بری اور بحری دونوں راستوں سے حملہ کیا اور سھتیوںکو مغلوب کرکے وادی ڈینوب Danube کے ایک وسیع علاقے پر تسلط قائم کیا ۔ سھتیوںکی حمایت میںیونانیوں نے شورشیں برپا کردیں ۔ چنانچہ واپسی پر اس نے دریائے ڈینوب غبور کرکے ایشائے کوچک کو مسخر کیا اور یونانی جزائر کو اپنی مملکت میں شامل کرنے کے علاوہ مقدونیہ Macdoniaکی ریاست کو بھی اطاعت پر مجبور کیا ۔
اس کے بعد اس نے مشرق کی طرف فوج کشی کی اور افغانستان اور مکران کو زیر نگیں کرکے سندھ اور پنجاب کے ایک بڑے حصے کو اپنی سلطنت میں شامل کرلیا ۔ ہیروڈوٹس کے بیان کے مطابق وہ سندھ سے بحری بیڑے کے ذریعے مکران اور عرب ہوتا ہوا اپنے دارلحکومت واپس آیا ۔ الغرض ۵۰۰ ق م کے اختتام تک مغرب سے لے کر مشرق کی سرزمین دارکے زیر نگیں ہوگئی تھی ۔
داراکے عہد میں بغاوتیں تو بہت ہوئیں ، مگر یونانی بغاوتیں زیادہ دیر پا ثابت ہوئیں اور دارکے بعد تک جاری رہیں اور اس نے چھتیس سال حکومت کی اور اس عرصہ میں معتدد جنگیں لڑیں ۔ انیس جنگوں میں خود بھی شریک ہوا اور نہ حوادث نے اس کے قدم ڈگمگائے اور نہ شورشیں اس کے عزم کو متزل کرسکیں ۔ اس نے چٹان کی ماند ہر ایک کا دیوانہ وار مقابلہ کیا ۔ اس عہد میں ایرانی سلطنت ماورالنہر و سندھ سے لے کر وادی ڈینوب و مصر تک وسیع ہوگئی ۔ اس کے یہ کارنامے اس کو دنیا کے فاتحین کی جگہ دینے کے لئے کافی ہیں ۔
خشیارشا یا کیخسرو یا کزرک رس اول (۴۸۶ ۔ ۴۶۵ ق م) Khshayasha or Xeraces
دارانے اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے خشیارشا کو جو آتوسہ دختر خورس اعظم کے بطن سے تھا ولی عہد بنایا ۔ چنانچہ داراکی موت کے بعد ایران کے تخت پر بیٹھا ۔ یہ خوب رو قوی ہیکل اور خوش طبع حکمران تھا ۔ مگر ساتھ ہی عیش و عشرت کی طرف مائل ، جاہ و جلال کا دلدادہ تھا ۔ اس کے تخت نشین ہوتے ہی درباریوں میں اختلاف پیدا ہوگیا ۔ ایک گروہ یونان میں فوج کشی کا مخالف تھا اور دوسرا موئید ۔ خشیارشانے دوسرے گروہ سے اتفاق کیا ، مگر یونان پر حملے سے پہلے مصر کی بغاوت فرد کرنے کے لئے ۴۸۴ ق م میں فوج کشی کی اور باغیوں کو سزا دے کر وہاں اپنے بھائی ہخامنش Hakhamaniess کو وہاں کا حاکم مقرر کیا ، اس اثناء میں بابل میں شورش برپا ہوئی ۔ ایک شخص شما شریب Shamashrib نے اپنی بادشاہت کا اعلان کردیا ۔ کیوں کہ خشیارشانے شاہ بابل کا خطاب ترک کرکے بابل کو ایک صوبے کی حثیت دے دی ، اہل بابل توہین برداشت نہیں کرسکے اور بغاوت کر دی ۔ خشیارشا نے بابل پر قبضہ کرکے بابل کو بے دردی سے لوٹا ۔
ان کاروائیوں سے فارغ ہو کر اس نے یونانی جزائر پر حملے کا انتظام کیا اور ۴۸۱ ق م میں ایک عظیم فوج لے کر ایشیائے کوچک کی طرف بڑھا ۔ اس موقع پر سلطنت کی مختلف گوشوں سے فوجیں طلب کی گئیں ، جو کاپاڈوشیہ میں اکھٹا ہوئیں ، پھر وہاں سے لیڈیاآئیں ۔ ہیروڈوٹس کے مطابق چھیالیس قوموں کے سپاہی اس فوج میں شامل تھے ۔ جو سلطنت کے مختلف گوشوں سے طلب کئے گئے تھے ۔ یونانیوں نے اس فوج کی تعداد اٹھارہ لاکھ بری افواج کے علاوہ بارہ سو جنگی اور تین ہزار برداری کشتیوں اور پانچ لاکھ دس ہزار فوج بحری بتائی ہے ۔ اس طرح تیئس لاکھ دس ہزار فوج ہوئی ، جو مبالغہ آمیز ہے ۔ بہر کیف اس عظیم انشان فوج کا سالار مردونیہ Mardonia تھا ، دوسری طرف یونانی بحری فوج کا سالار لیونداس Leonidas اور بحری فوج کا سالار یوری بیاد Euribyades تھا ۔
بہر کیف اس عظیم انشان فوج نے ہیلی پونت Hellespont یعنی درہ دانیال غبور کرتے ہوئے تھرما پلی Thermopylas کے مقام پر یونانیوں کو شکست دی ۔ پھر ایتھنز کے مقام پر یونانیوں کو شکست دے کر ایتھنزپر قبضہ کرلیا اور وہاں معبدوں کو جلا دیا ۔ اس اثناء میں ایرانی بحری بیڑاہ بھی آگیا ، جس نے آرٹی منیریم Artomisium کے مقام پر یونانیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا ۔ مگر سلا مس Salamisکی جنگ میں ایرانی بیڑے نے سخت ہذمیت اٹھائی اور اس کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا ۔ اس واقع کے بعد خشیارشانے یہ مہم مردونیہ کے سپرد کی اور خود سارڈس لا گیا ۔ مردونیہ نے یونانی جزائر فتح کرنے کی کوشش کی ، مگر آپس کے اختلافات کی بدولت کامیاب نہ ہوسکا اور پلاتہ Plataea کے مقام پر زبردست شکست کھائی خود سالار فوج مردونیہ بھی قتل ہوگیا ۔ اس کے مرتے ہی انتہائی ابتری کی حالت میں فوج بھاگ کھڑی ہوئی ۔ یونانیوں نے دور تک ایرانیوں کا تعاقب کیا اور بڑی بے دردی سے انہیں قتل کیا ۔ بقول ہیروڈوٹس کے صرف تین ہزار ایرانی جانیں بچاسکے ۔ اس فتح کے بعد یونانی بیڑے نے ایرانی بیڑے کو راس میکال Cap of mycal کے نزدیک شکست دی ۔ اس کے ساتھ ہی یونانی مقبوضات ایرانی حکومت کی گرفت سے نکل گئے اور درہ دانیال پر بھی یونانیوں کا قبضہ ہوگیا ۔
اس شرمناک شکست سے ایرانی حکومت کے وقار کو سخت نقصان پہنچا اور خشیارشانے تلافی کی کوئی کوشش نہیں کی ۔ آخر حرم میں شازش ہوئی اور خشیارشا اور اس کے بیٹے دارا کو قتل کر دیا گیا ۔
ارتاکزرسس یا ارتخشتر یا ارد شیر اول (دراز دست) Artaxerxes or Ardsher11th ( Longimanus) (۴۶۵ ۔ ۴۲۴ ق م)
خشیارشاکے قتل کے بعد ارتخشتر اول یا اردشیر دراز دست تخت نشین ہوا ۔ اس بات کا قوی مکان ہے کہ وہ اپنے باپ کے قتل کی سازش میں اردوان Artbarus کے ساتھ شریک تھا ۔ یہ ایک سال تک آزادنہ حکومت نہ کرسکا ۔ کیوں کے باپ کا قاتل اس پر حاوی تھا ۔ آخر بادشاہ کے معتمد مغابیز ی بالغابش Megabyrus نے اسے قتل کرکے رہائی ڈلائی ۔ اس واقع کے بعد کے اردشیرکے بھائی ھستاسب Hystaspes نے باخترمیں بغاوت کردی ۔ اردشیرخود گیا اور دو جنگوں میں اسے مغلوب کر کے ملک کے اندر امن قائم کیا ۔
خشیارشاکے دور میں مصر پر ایرانی گرفت ڈھیلی ہوگئی تھی ۔ ۴۶۱ ق م میں لیبیا کے سابق شاہی خاندان کے ایک فرد ایناروس Inarus بن سامتق دوم نے یونانیوں کی مدد سے بغاوت کردی ۔ یونانی بیڑوں نے کئی مقامات پر ایرانیوں پر حملے کیئے اور انہیں شکست دی ۔ پپریمہ Paprimis کی جنگ میں مصر کا ایرانی حاکم ہخامنش قتل ہوا ۔ اس کے بعد باغیوں نے ممفیہ کا محاصرہ کر لیا ، اردشیرنے بغابیش Bagabish کو تین ہزار فوج دے کر اس فتنے سے نمٹنے کے لئے مصر بھیجا ۔ اس نے آتے ہی باغیوں کو شکست فاش دی اور ایناروس کو گرفتار کرکے سوسہ بھجوادیا ۔
اس کامیابی کے بعد ایرانیوں نے یونانیوں کے خلاف کروائی شروع کی ، اس وقت یونانیوں کے اتحاد کا شیرازہ بکھر رہا تھا ۔ یونان کی دو بڑی طاقتیں ایتھنزاور اسپارٹاایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار تھیں ۔ ایسی حالت میںیونانیوں نے مصالحت کرنی بہتر سمجھی ۔ چنانچہ ایک شخص کالیاس Callias کو ایرانی دربار بھیجا ۔ بحث وتمحیض کے بعد بلاآخر دونوں حکومتوں کے درمیان صلح ہوگئی ۔ جس کے تحت اتحاد دلس کے میمبروں کی آزادی تسلیم کرلی گئی ۔ نیز قبرض پر ایران کا قبضہ تسلیم
کرلیا گیا ۔
اس صلح نامے کے بعد شام میں لغابیش نے بغاوت کردی ۔ اس بارے میں محقیقین کی رائے ہے کہ کالیاس کے صلح نامے جو لغابیش کے توسط سے ہوا تھا ، اردشیرنے تسلیم نہیںکیا تھا ۔ نیز یہ بھی بتادیا گیا تھا کہ ایناروس کو اس کے ساتھیوں سمیت امان کا وعدہ کیا تھا ۔ مگر اردشیرنے اسے قتل کرا دیا ۔ چونکہ لغابیش با اثر امیر تھا اس لئے اردشیر کو سخت تشویش ہوئی ، اور اس نے شاہی لشکر کو دوبار شکست دی ۔ بالاآخر دونوں میں مصالحت ہوگئی ۔
اردشیرنے ۴۲۴ ق م میں وفات پائی ، وہ بہت حسین ، باوقار اور رحمدل بادشاہ تھا ۔ وہ ہیودیوں پر بہت مہربان تھا اور انہیں ہر طرح کی مذہبی آزادی دے رکھی تھی ۔ اردشیرکی موت کے بعد اس کا بیٹا خشیارشا تخت پر بیٹھا ، مگر کل پنتالیس دن ہی حکومت کرنے پایا ، کہ اس کے سوتیلے بھائی سغدیان Secudianus نے قتل کرکے تخت پر قبضہ کرلیا ۔ مگر وہ بھی چھ ماہ سے زیادہ حکومت نہیں کرسکا ، خشیارشاکا دوسرا سوتیلا بھائی اوخوس جو باخترکا حکمران تھا اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا اور امیروں کی حمایت حاصل کرکے اس کو گرفتار کر لینے میں کامیاب ہو گیا ۔ اس نے دار ادوم کے لقب سے اپنی بادشاہت کا اعلان کردیا ۔
دارا دوم ( ۴۲۴ ۔ ۴۰۴ ق م ) Daruess 2d
اس کی تخت نشینی کے ساتھ ہی حکومت پر خواجہ سراؤں اور عورتوں کا قبضہ ہوگیا ۔ اس کی بیوی پریزاد Perysats اور تین خواجہ سرا اس کے مشیر خاص تھے ۔ اس لئے اس کے خلاف بغاوتوں کا اٹھنا تعجب خیز نہیں ہے ۔ پہلی بغاوت اس کے بھائی آرشیت Arsites نے کی دارانے اس کے حمایتوں کو ٹوڑ لیا ، آرشیت نے اطاعت قبول کرلی ۔ مگر دارا نے اس کو قتل کروادیا ۔ اس کے بعد لیڈیا کے حاکم پس سسنہ Pissuthnes نے بغاوت کی مگر اس کا حشر آرشیت کی طرح ہوا ۔ اس مرتبہ دارانے لیڈیاکا حاکم ایک چالاک اور مدبر امیر تسیافرن Tissaphernes کو مقرر کیا ۔ اس نے ایتھنز اور اسپارٹاکی باہمی عدادتوں سے فائدہ اٹھایا ، ۴۱۳ ق م میں ایتھنز کے بیڑے نے صقیلہ Sicily میں شکست فاش کھائی ۔ تسیافرن نے اسپارٹاسے ایک محاہدہ کرلیا ، جس کے تحت دونوں نے ایتھنزسے جنگ کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ مگر تسیافرن نے اس پر سختی سے عمل نہیں کیا ، بلکہ ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ دونوں ریاستیں لڑتی رہیں اور ان کو ایرانیوں کے خلاف جنگ کے بجائے ان سے مدد لینی پڑے ۔ اس طرح تسیافرن نے یونان کی سیاست میں بہت کامیاب کردار ادا کیا ۔ یونانی طاقت کے توازن کو اس نے برہم کرکے اس نے ایرانی مفاد محفوظ کرلیا اور رفتہ رفتہ ایشائے کوچک پر قبضہ کرکے ایران کی سلطنت میں شامل کرلیا ۔
اسپارتی تسیافرن کی اس حکمت عملی کو سمجھ گئے ۔ بدقسمتی سے بادشاہ کا دربار سازشوں کا اکھاڑا بنا ہوا تھا اور کم فہم لوگوں کا اثر و رسوخ بادشاہ پر تھا ۔ چنانچہ انہوں نے تسیافرن کے خلاف جوڑ توڑ کر کے اس کے اختیارات صوبہ کاریہ Caria تک محدود کردیئے گئے اور ایشائے کوچک کے بقیہ علاقوں کے لئے دارا کے بیٹے خورس صغیر کی سٹراپی میںدے دیئے گئے ۔ خورس نے اختیارات ہاتھ میںلیتے ہی یونانی اجیروں کی ایک فوج بھرتی کی اور راست پالیسی اختیار کرتے ہوئے اسپارٹاسے دوستانہ تعلقات استوار کئے ۔ مزید اسپارٹاکے سردار لیزنڈر Lynsander کی مالی مدد کی ۔ ایرانی معاونت حاصل کرنے کے بعد اسپارٹا نے ایتھنز کو اگس پوتامس Acgos Potmos کی بحری جنگ میں فیصلہ کن شکست دی اور ایتھنز پر قبضہ کرلیا ۔ اس اثناء میں حرم کے اندر خورس کے خلاف سازش ہوئی، اس کے علاوہ تسیافرن نے بھی بادشاہ سے اس کی حکمت عملی کے خلاف شکایت کی ۔ آخر اس کو وضاحت کے لیے سوسہ طلب کرلیا گیا ۔ مگر اس کے پہنچنے کے بعد داراکا انتقال ہوگیا ۔
ارتخشتر یا اردشیر دوم ( ۴۰۴ ۔ ۳۵۹ ق م ) 2ed Artaxerxes or Ardsher
درا دوم کے بعد اس کا بڑا بیٹا ارشک اردشیر دوم کے لقب سے بادشاہ بنا ۔ خورس بھائی کو قتل کرنے کی فکر میں تھا کہ تسیافرن نے یہ راز افشا کردیا ۔ ارد شیر نے اس کو قتل کرنے کا حکم دے دیا ، مگر اس کی ماں نے بیٹے کو راضی کر لیا کہ وہ چھوٹے بھائی کو معاف کردے اور اس کو اسے اپنے عہدے پر برقرار رکھتے ہوئے ایشائے کوچک بھیج دے ۔ حالانکہ یہ دوربینی کے خلاف تھا ۔ خورس نے ایشائے کوچک پہنچتے ہی یونانی اجیروں کی ایک فوج بھرتی کرنی شروع کی جس کا سالار کلارخ Clarchus تھا ۔ ان تیاریوں کے ساتھ وہ تقریباََ دو لاکھ فوج لے کر بابل میں بھائی کے خلاف جنگ کے لئے بڑھا ۔ کوناکسا Cunaxa جو بابل کے قریب تھا جنگ ہوئی ، یونانی فوج نے شاہی فوج کو گویا شکست دے دی تھی کہ پانسہ پلٹ گیا خورس اردشیر کو سامنے دیکھ کر اس پر ٹوٹ پڑا اور اسے زخمی کردیا ، مگر اس کے ساتھ ہی شاہی دستے نے اس کا کام تمام کردیا ۔ خورس کی موت کے بعد یونانی فوج کو اسلحہ رکھ دینے کا حکم دیا گیا مگر اس نے انکار کردیا ۔ شاہی فوج ان سے مقابلے کی ہمت نہیں کرسکی ، بادشاہ کو انہیں واپس جانے کی اجازت دینی پڑی ۔ راستے میں تسیافرن نے کلارخ اور دوسرے سالاروں کو دھوکہ دے کر گرفتار بھی کرلیا ، مگر پھر بھی انہوں نے ہتھیار نہیں ڈالے اور زنوفن Xenophon اور دوسرے سرداروں کی قیادت میں واپس لوٹ گئے ۔ اس جنگ نے یونانیوں کو دلیر بنا دیا ، انہوں نے ایرانی فوج کی کمزوریوں اور داخلی ضعف کا پوری طرح اندازہ کرلیا اور آئندہ سکندر اعظم نے اس تجربہ سے پوری طرح فائدہ اٹھایا ۔
اس واقعہ کے بعد قدرتاََ ایران اور اسپارٹا کے حلیفانہ تعلقات ختم ہوگئے ۔ اہل اسپارٹانے ایشائے کوچک کے ایرانی مقبوضات ختم کرانے کی کوشش کی ، مگر وہ ایتھنز کی کشمکش کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکے ۔ دوسری طرف ایتھنزنے ایران سے دوستانہ تعلقات قائم کرلئے ۔ ایرانی حکومت نے بھی ایتھنزکی حمایت شروع کردی ، اس طرح اس نے اپنے وقار کو گرنے سے بچالیا ۔ اردشیرنے ایک فرمان کے ذریعے اعلان کردیا کہ ایشائے کوچک اور قبرص ایرانی سلطنت میں شامل ہے ۔ اس طرح کالیاس کے صلح کو ختم کردیا ۔
۴۵۴ ق م میں لغابیش نے یونانیوں اور ایناروس کو شکست دے کر مصر پر دوبارہ تسلط قائم کرلیا تھا ۔ اس شورش کے بعد گو شورش ڈب گئی مگر کلیتاََ ختم نہیں ہوئی اور مصریوں نے ایک دوسرے سردار عمر طیو س Ameytaeus کی سردگی میں گوریلا جنگ جاری رکھی ۔ جس کا سلسلہ دارا دوم کے عہد میں جاری رکھا ، دارا دوم کے عہد میں ۴۰۵ ق م میں عمر طیوس کے پوتے جس کا نام بھی عمر طیوس تھا ، باضابطہ اپنی بادشاہت کا اعلان کردیا ۔ گویا وہ پورے مصر میں اپنا سکہ نہیں بیٹھا سکا ، کوناکسا Cunaxaکی لڑائی میں مصری فوجیں موجود تھیں ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کا کچھ حصہ ایران کے قبضے میں تھا ۔
مصر کے انتیسویں خاندان کے پہلے بادشاہ نیفاؤروت یا نیفاؤرود Naifoairut نے مصر کو کلیتہً ایران کے تسلط سے آزاد کرالیا ۔ اس نے ہر اس سازش اور بغاوت کی ہمت افزائی کی جو ایرانی حکومت کو الجھن میں ڈال سکے ۔ اس کے جانشینوں نے اس پالیسی پر عمل کیا ۔ مصر کی خوش قسمتی تھی کہ کوناکساکی جنگ کے بعد ایشائے کوچک میں مختلف قبائل نے شورشیں پرپا کررکھیں تھیں ۔ دوسری طرف قبرص میں اواگورس Evagoras نے یونانیوں اور مصر کی حمایت حاصل کرکے بغاوت کردی اور ایرانی حکومت کے لیے مستقل خطرہ بن گیا ۔ ایرانی حکومت نے ایسی حالت میں ایک طرف ایتھنزسے تعلقات استوار کیا اور دوسری طرف اوارگوس کو رعایت دے کر مصحالت پر راضی کولیا ۔ سلامس Slamasa پر اور گورس کا قبضہ شاہ کے لقب کے ساتھ تسلیم کرلیا گیا ۔
ان تمام الجھنوں سے نجات پانے کے بعد ۳۷۴ ق م ارد شیر نے ایک بڑی فوج مصر پر چڑھائی کے لئے بھیجی ۔ اس فوج کا سالار فرناباز Pharnabazus تھا اور اس فوج میں یونانی دستہ مشہور اتھنی جنرل افکراٹس Iphicratisکی سردگی میں تھا ۔ مصریوں نے شکست کے آثار دیکھ کر ممفیہ کے بند کو توڑ کر ارد گرد کی زمین کو زیر آب کردیا ۔ اس کے علاوہ ایرانی اور یونانی سالاروں میں اختلاف ہوگیا تھا ، اس لئے ایرانیوں کو واپس آنا پڑا ۔ اسی زمانے میں کے کادوسیان Cadassians نے بغاوت کردی ، ان کی قزاقانہ جنگ سے شاہی فوج سخت تنگ آگئی ، آخر ان کے دو سرداروں کو آپس میں لڑا کر انہیں اطاعت قبول کرنے پر راضی کرلیا ۔
ارد شیر دوم کی آخر عمر حرم کی سازشوں کی وجہ سے نہایت تلخ گزری ۔ اس چھالیس سال حکومت کرنے کے بعد اس کا انتقال ۳۵۹ ق م میں ہو ۔ اس کے بعد اس کا بیٹا اوخوس ارد شیر سوم کے لقب سے تخت پر بیٹھا ۔
ارتخشتر یا ارد شیر سوم (۳۵۹ ۔ ۳۳۸ ق م) 3ed Artaxerxes or Ardsher
اردشیرسوم بہت ہی باہمت اور دلیر بادشاہ تھا ، مگر اس کے ساتھ تند خو اور سنگدل بھی ۔ اس نے تخت نشینی کے بعد تمام شہزادوں کو قتل کرا دیا تھا ، تاکہ کوئی دعوے دار باقی نہ رہے ۔ مگر ایک سال کے اندر شام ، ایشائے کوچک ، قبرض و فنیقہ میں بغاوتیں پھوٹ پڑھیں ۔ ان بغاوتوں کی سب سے بڑی وجہ مصر میں ایرانی حکومت کی شکست تھی ۔ اردشیر نے محسوس کیا کہ جب تک مصر میں تسلط قائم نہیں ہوگا بغاوت کی آگ نہیں بجھ سکے گی ۔ مگر مصر پر قبضہ کرنے سے پہلے شام کی شورشوں کو فرد کرنا ضروری تھا ، کیوں کہ یہ بیچ میں حائل تھا ۔ چنانچہ اس نے سب سے پہلے فنیقی علاقے صیدا یا سدروم Sidon کا محاصرہ کرلیا ۔ شہریوں نے مایوس ہوکر خود شہر کو آگ لگادی یا خود کشی کرلی ، صیداکا بادشاہ طینس Tennes قتل ہوا ۔ اس کے بعد اردشیرنے مصر کی طرف پیس قدمی کیاور جنگ کا سلسلہ دوسال تک جاری رہا ۔ آخر مصر کے تیسویں خاندان کا آخری بادشاہ نخت نیب Nachtta Nep شکست کھا کر حبشہ کی طرف بھاگ گیا اور مصر دوسری بار ۳۴۲ ق م میں ایرانی سلطنت میں شامل ہوگیا ۔
ایرانی فوجوں نے اس موقع پر بری بیدردی سے مصر کو غارت کیا ۔ شہروں کو لوٹا اور ہزاروں مصریوں کو موٹ کے گھاٹ اتارا ۔ ارشیر نے مصر کے مقدس بیل آپسAips ذبیح کو کرا دیا ، جس کی وجہ سے مصریوں کے اندر بڑی بیچینی پھیلی ۔ یہی وجہ ہے چند سال کے بعد سکند اعظم کا انہوں نے پر جوش خیر مقدم کیا اور ایرانی حکومت سے آزاد ہونے کی خوشیاں منائیں ۔ اردشیرنے فرندات Pharendates کو مصر کا حاکم بنا کر واپس ہوا ۔
اس کامیابی اور تشدد سے مغربی صوبوں کی شورشیں خود بخود فرد ہوگئیں ۔ مگر اس اثنا میں وسط ایشاء اور سندھ میں بغاوتیں پھوٹ پڑھیں اور سندھ کا علاقہ ایرانی حکومت کے قبضہ سے نکل گیا ۔ ۳۳۸ق م میں اس کے ایک خواجہ سرا باگوس Bagoas نے اسے زہر دے کر ہلاک کردیا اور اس کے بیٹوں میں سے چھوتے بیٹے ارشک Arsacesکو تخت پر بیٹھا کر باقی سب کو قتل کردیا ۔
ارشک یا اورسی (۳۳۸ ۔ ۳۳۶ ق م) Arsaces or Orses
ارشک نے تخت نشینی کے بعد باگواس سے رہائی کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا ۔ باگواس نے اس خطرے کو محسوس کرتے ہوئے اس کو اس کے بیٹوں سمیت قتل کرا دیا ۔ اس کے بعد ہخامنشی خاندان کے ایک شہزادے کو جو غالباََ دارا دوم کا پوتا تھا دارا سوم کے لقب سے تخت پر بیٹھا دیا ۔
دارا سوم (۳۳۶ ۔ ۳۳۰ ق م) Daruess 3ed
حکومت کی باگ دوڑ سمھالنے کے بعد دارا نے سب سے پہلے مگر ابھی سانس لینے ہی نہیں پایا تھا کہ ایرانی مملکت پر سکندر اعظم کا طوفانی خیز حملہ ہوا ، اس نے ہخامنشی حکومت کا شیرازہ بکھیر دیا ۔
سکندرنے درہ دانیال کو غبور کیا اور دریائے گرانیک کے کنارے ایرانی فوج کو پہلی شکست دی ۔ اس ہزمیت نے ایرنی طاقت کو مفلوج کردیا ۔ ایک سال کے اندر سارڈیس کاریہ فریجیا اور ایشیاء کوچک کے دوسرے علاقوں پر اس نے قبضہ کرلیا ۔ اس کے بعد اس نے سوریا یا شام کی طرف پیش قدمی کی ۔ ایسس Issus کے مقام پردوسری بڑی جنگ ہوئی جس میں داراکو شکست فاش ہوئی اور داراکی ماں ، بیوی اور دو بیٹیاں گرفتار ہوئیں اور ایرانی فوج کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا ۔ دارا نے مصالحت کی کوشش کی مگر سکندرنے ٹھکرادی ۔ مجبوراََ دارانے آخری جنگ کی تیاری کی ۔ دوسری طرف سکندر فنیقی علاقے چڑھائی کی ۔ سدوم کو تسخیر کرنے کے بعد وہ ٹائر Tyre آیا اور اس کو ساتھ ماہ کے محاصرے کے بعد فتح کرنے میں کامیاب ہوا ۔ ٹائر کی تباہی کے بعد فلسطین کے بقیہ حصے سکندر کے زیر نگیں آگئے ۔ یہاں سے اس نے مصر کی طرف اقدام کیا اور اور اسے بآسانی فتح کرلیا ۔
تسخیر مصر کے بعد وہ پھر ٹائر آیا ۔ یہاں ایک لشکر جرار کے ساتھ سرزمین ایران کی طرف بڑھا ۔ نینوا کے قریب اربیلا Arbela سے تیس میل مغرب کو گوگامیل Gaugamela کے مقام پر دارا اور سکندرکے درمیان فیصلہ کن جنگ ہوئی ، جس میں داراکو شکست ہوئی ۔ اس شکست کے ساتھ ہی ایران داراکے قبضے سے نکل گیا اور ہکتمان (ہمدان) سے رے اور رے سے شمال مشرق کی سمت بھاگا ، راستے میں اس کے دو امرا بس سوس اور بربسانت نے اس کا کام تمام کردیا ۔ دارا سوم کی موت کے ساتھ ہی ہخامنشی خاندان کی حکومت ۳۳۰ ق م میں ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی ۔
ہخامنشی سلطنت جس کی ابتدا ۷۰۰ ق م میں ہوئی تھی ، لیکن حقیقت میں اس کی ابتدا خورس دوم ۵۵۹ ق م میں ہوئی تھی ۔ جس نے تین بڑی سلطنتوں میدیا ، بابل اور لیڈیا کو زیر دست کرکے فارس کی ایک چھوٹی سی ریاست کو ایک عظیم بادشاہی میں تبدیل کر دیا تھا اور اس کی انتہائی وسعت دارا کے عہد میں ہوئی تھی ۔ نقس رستم پر دارا خود اپنی سلطنت کی حدود کو بتایا تھا ۔ اس کتبہ کے مطابق بحیرہ ایڈریاٹک و قرطاجنہ اور مشرق میں دریائے سندھ تک پھیلی ہوئی تھی ۔ اس طرح شمال میں ماورالنہر و جنوب میں حبشہ اس کی حد بندی کرتا تھا ۔ حقیقت میں اس پہلے اتنی بڑی سلطنت کا تاریخ میں کوئی نشان نہیں ملتا ہے ۔
تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں