38

ہریش چندر

ہریش چندر نامی ایک زبردست راجہ تھا ۔ اس کی ایک سو بیویاں تھیں مگر بیٹا ایک بھی نہیں تھا ۔ ایک عقل مند آدمی کے مشورے سے جو اس کے مکان میں رہتا تھا بادشاہ نے مہابلی وارن سے دعا کی اور کہا ’’اگر میرے لڑکا پیدا ہو تو میں اس کی قربانی تجھ پر چڑھاؤں گا’’۔ وارن نے کہا بہتر ہے ۔ بادشاہ کے محل میں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام اس نے روہت رکھا ۔ وارن کچھ دن کے بعد لڑکے کا طالب رہا مگر بادشاہ اسے ٹالتا رہا ۔ یہاں تک روہت جوان ہوگیا اور زرہ پہنے لگا ۔ مگر اب وارن نے کہا میں انتظار نہیں کرسکتا ہوں اور بادشاہ بھی کوئی عذر نہ کرسکتا تھا ۔ اس لیے اس نے بیٹے سے کہ ’’لڑکے اس نے تجھے مجھ کو دیا تھا ، اب میں تیری اس پر قربانی کرتا ہوں’’۔ بیٹے نے کہا یہ نہیں ہو سکتا اور اپنا تیر کمان لے کر جنگل چلا گیا اور وہاں ایک سال تک رہا ۔ 
تب وارن نے راجہ پر اپنا غضب نازل کیا اور اس کو مرض استقا میں مبتلا کردیا ۔ روہت کو سفر کے دوران ایک برہمن ملا جو انسانی شکل میں اندر دیوتا تھا ۔ دیوتا نے روہت سے کہا سفر کرو ۔ جو شخص گھر میں بیٹھا رہتا ہے اس کی قسمت بھی اس کے ساتھ گھر بیٹھی رہتی ہے ، جب وہ جاگتا ہے تو اس کی قسمت بھی جاگتی ہے ۔ جب وہ سوتا ہے وہ بھی سوتی ہے ۔ جب وہ چلتا ہے تو وہ متحرک ہوتی ہے ، سفر کرو ، مسافر کو شہد ملتا ہے ، میٹھی انجیریں ملتی ہیں ۔ دیکھ آفتاب جو ہمیشہ سفر کرتا رہتا ہے کس قدر خوش رہتا ہے ، سفر کرو’’۔ 
روہت چھ سال تک سفر کرتا رہا اور بالآخر اس نے جنگل میں ایک فاقہ کش رشی کو دیکھا جس کے تین بیٹے تھے اور وہ انگیراؤں کے مقدس قبیلے سے تھا ۔ روہت نے اس سے کہا میں تمہیں ایک سو گائیں دوں گا اگر تم اپنا ایک بیٹا مجھے قربانی کے لیے دیدو ۔ رشی نے بڑے بیٹے کو گلے سے لگا کر کہا یہ نہیں ۔ اس بیوی نے چھوٹے بیٹے کو گلے سے لگا کر کہا یہ نہیں ۔ بالآخر وہ منجلے بیٹے شونا شیپھ کو بیچنے پر راضی ہوگیا اور پروہت اسے اپنے باپ کے پاس لے گیا ، جس نے اسے بجائے بیٹے کے وارن کو پیش کیا ۔ وارن نے اس پسند کیا اور کہا ’’ہاں برہمن چھتری سے بہتر ہے ۔ اب ایک عظیم انشان شاہانہ قربانی کی تیاری کرو’’۔ 
شوناشیپتھ اس روز بھینٹ چڑھایا جانے کو تھا جب کہ دیوتاؤں کو سوما پیش کیا جاتا ہے ۔ وشو متر اس موقع پر پجاری نہ تھا ۔ مگر جب شونا پیپتھ قربانی کے لیے تیار ہوگیا تو اس کو قربانی کے ستون سے باندھنے کے لیے آدمی نہیں ملتا تھا ۔ اس کا باپ جو وہاں موجود تھا اس نے سو گائیں اور لے کر اسے باندھ دیا ۔ اس کے بعد اس کو قتل کرنے کے لیے بھی کوئی نہ ملتا تھا ۔ اس کا باپ اس کے کام کو کرنے کے لیے سو گائیں لے کر تیار ہوگیا اور چھری کو تیز کرکے بیٹے کے پاس پہنچا ۔ 
شوناشیپتھ نے دل میں خیال کیا کہ اب یہ ضرور مجھے مار ڈالیں گے گویا میں انسان نہیں ہوں ۔ اب میں دیوتاؤں سے دعا کرتا ہوں ۔ اس نے ہر ایک دیوتا سے یکے بعد دیگر دعا کی ، مگر سب ٹالتے رہے ۔ سب سے آخر میں اس نے اس نے اُشاس سے دعا کی اور دعا کرتے ہی اس کی بیڑیاں گرگئیں اور راجہ نے مرض استسقا سے صحت پائی ۔ شونا شیپھ بجائے اس کے بھینٹ چڑھایا جاتا اسی نے قربانی کی ۔ رشی نے اب اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ لے جانا چاہا ، مگر اس نے جانے سے انکار کردیا اور وشومتر کا دامن پکڑ لیا ۔ 
وشومتر نے پوچھا ’’کس قدر ہیبت ناک وہ نظر آتا تھا جب کہ وہ تجھ قتل کرنے کے تیار تھا ۔ تم میرے بیٹے بن جاؤ اور اس سے کوئی تعلق نہ رکھو شیوناشیپھ نے کہا تمہی بتاؤ بادشاہوں کے بیٹے ! میں انگیراس ہوکر تمہار بیٹا کیسے بن سکتا ہوں ۔ وشو متر نے جواب دیا تو میرے بیٹوں میں سب سے بڑا ہوگا ، تیری اولاد سب پر فضلیت رکھ گی ، تو وارث ہوگا اس ورثہ کا جو مجھے دیوتاؤں سے ملا ہے’’۔ اس شرط پر تبنیت ہوئی ۔ وشو متر کے ایک سو بیٹے تھے ۔ جن میں سے پہلے پچاس بیٹے ایک اجنبی کو اپنے اوپر فضیلت دیئے جانے کی وجہ سے خفا ہوگئے ۔ ان کے باپ نے انہیں بدعا دی ۔ جس کی وجہ سے وہ ذات سے خارج ہوگئے اور ان کے اخلاف داسیو سے بھی بدتر ہوگئے ۔ دوسرے پچاس بیٹوں نے باپ کے فیصلے کو بخوشی مان لیا ۔ ان کے باپ نے انہیں دعا دی اور وہ خوشی سے زندگی بسر کرنے لگے ۔ 
 بیان کیا جاتا ہے ایسے موقعوں پر دستور تھا کہ انسان اور بڑے جانوروں کے ارد گر طہارت کے لیے آگ پھرا کر چھوڑ دیا جائے اور بھیڑ اور بکریاں ذبیح کی جائیں ۔ اس طرح سے قربانی تقدس میں مبتدل ہوگئی ۔
وش متر برہمنوں اور رشیوں کا درجہ رکھتے رکھے تھے ، مگر اصل میں وہ کشتری تھے ۔
برہمنوں کی اصلاحوں اور اضافوں کے باوجود نفس قصہ کو علحیدہ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی ۔ اس قصے کی ہر سطر سے انسانی قربانی سے نفرت ظاہر ہوتی ہے اور ہم اس سے قیاس کر سکتے ہیں کہ قدیم زمانے میں بھی اس ہولناک رسم کی صرف نقل اتاری جاتی تھی ۔ مگر یہ نفرت کسی ایسی رسم سے جو کسی نہ کسی زمانہ میں ضرور جاری رہی ہوگی اور ہم آریوں کے نامہ اعمال سے اس شرمناک دھبے کو دور نہیں کرسکتے کہ کسی زمانہ میں مثل دیگر اقوام کے انہوں نے بھی انسانی قربانیاں کی ہیں ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں