64

ہمارا رنگین چشمہ اور حکومتی اقدامات

میں میٹرک میں پڑھتا تھا ۔ میرا ایک دوست جو میرے محلے میں ہی رہتا تھا ۔ ایک دن مجھے اپنے ایک نئے دوست سے ملانے لے گیا ۔ واپسی پر وہ اس کی بڑی تعریفیں کر رہا تھا ۔ اگرچہ میں نے اس کی کچھ کمزوریوں کی طرف سرسری طور پر توجہ دلائی مگر اس نے اس کی وضاحت پیش کرنے لگا اور میری بات کو رد کردی تو میں خاموش ہوگیا ۔ کچھ عرصہ کے بعد اس کے اس نئے دوست سے اختلافات ہوگئے اور جب مجھے ملا تو اس کی برائیاں کرنے لگا ۔ میں یہ باتیں سن کر کچھ حیران ہوا کہ وہ پہلے جن باتوں کی تعریف کر رہا تھا اب وہ ان باتوں کو غلط کہہ رہا تھا ۔ 
بہت بعد میں مجھے آشکار ہوا کہ یہ برائی صرف میرے دوست میں نہیں ہے بلکہ یہ ہماری پوری قوم میں ہے ۔ جس سے ہمارا مفاد وابستہ ہوتا ہے یا اس سے عقیدت ہوتی ہے اس میں ہمیں کسی قسم کر برائیاں نظر نہیں آتی ہے اور اس کے مفاد کے پیش نظر ہم اس کی غلط باتوں کو نظر انداز بلکہ ان کی تاویل کرتے ہیں ۔ جب اس کے برعکس ہوتا ہے تو ہمیں ان کی اچھائیاں بھی برائیانں نظر آتی ہیں اور ہم الزامات لگا دیتے ہیں ۔        
میں مختلف ٹی وی شو دیکھتا ہوں اس میں کچھ ایسے دانشور صحافیوں کو سنتا ہوں کہ وہ بغیر کسی ثبوت کے بڑی بے باکی سے گزشتہ حکومت پر الزام لگاتے ہیں ۔ مگر اس کے لیے کسی ثبوت کو پیش نہیں کرتے ہیں ۔ مجھے گزشتہ حکومت سے ہمدری یا اس کی صفائی پیش نہیں کر رہا ہوں ۔ مجھے ان سے بہت اختلاف تھے کہ وہ بہت سی حقیقتوں کو نظر انداز کرتے رہے ہیں اور بہت سے چیزوں پر ان نگاہ ہی نہیں جاتی تھی ۔ مگر اس کا مطلب نہیں ہے کہ میں ان پر کرپشن کا الزام بغیر کسی ثبوت کے لگادوں ۔ مثلاً ایک صاحب کا گزشتہ حکومت کے گرفتار شدہ اراکین جب ضمانت پر رہا ہونے تو ان کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ اصل میں وائٹ کالر جرائم کو ثابت کرنا بہت مشکل ہے ۔ مگر ان صاحب کی نظر نیپ کے گرفتاری بغیر کسی ثبوت اور جواز کے بارے میں عدالت عالیہ کے ریمارک پر نہیں پڑی تھی ۔ 
یہ دانشور یہ ماننے کے باوجود کہ موجودہ حکومت نے کو کارکردگی نہیں دیکھائی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس طرح اپنا اعتماد کھودے گی اس لیے حکومت کو کارکردگی دیکھانی پڑے ۔ ان کا موجودہ حکومت کی حمایت کا سب سے بڑا جواز یہی ہے کہ یہ حکومت اگرچہ ناہل ہے مگر عمران خان کرپٹ نہیں ہے ۔ 
مگر ان دانشوروں کو شاید یہ نہیں معلوم ہے کہ ناہلی تو کرپشن سے زیادہ خطرناک ہے ۔ خیر یہ بات شاید بہت سے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئے گی ۔ مگر وہ یہ مت بھولیں موجودہ حکومت میں کس طرح آٹا اور شکر میں کرپشن کی گئی اور ان کی قیمت میں زیادتی باجود اس اعلان کے کروایا گیا کہ عوام کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا ۔ اس کرپشن کو کرنے والے کرتا دھرتاؤں کو حکومت کے علاوہ خود عمران خان نے جس طرح صفائی پیش کرکے پچایا گیا ہے کیا وہ کرپشن کے زمرے میں نہیں آتا ہے ۔ 
ان دانشوروں کا کہنا ہے کہ اصل میں ان کو مافیا کام کرنے نہیں دے رہی ہے ۔ عجیب بکواس ہے اگر ایسا ہے عمران خان میں کچھ غیرت ہے تو حکومت کو چھوڑ دیں یا الیکشن کرانے کا اعلان کیوں نہیں کرتے ہیں ؟ اس طرح آج کل ان دانشوروں نے لاک ڈاؤن کی حمایت کر رہے ۔ مگر یہ نہیں سوچا اس سے جو افراد روزانہ کوئی کام کرتے ہیں اس کے لیے ّگزشتہ شب کچھ دانشوروں نے ڈبے لفظوں میں کہا ہے کہ اس کے لیے سوچا جائے ۔ مگر حکومت ایسی کوئی صلاحیت نہیں رکھتی ہے ۔ شاید عمران حکومت کرونا کے آنے پر خوش ہے ۔ کیوں کہ پہلے وہ ساری خرابیوں کا الزام گزشتہ حکومت پر لگاتے رہے اور اب باقی ماندہ مدت کرونا کا جواز دے کر پورا کرلیں گے ۔ 
کرونا پر حکومت کتنا سنجیدہ ہے اس کا اندازہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کرونا کہ روک تھام کے لیے سندھ حکومت کے علاوہ جس نے تین ارب کے فنڈ کا اعلان کیا ہے اس کے علاوہ وفاقی حکومت کے اور کسی دوسری صوبائی حکومت نے کوئی پیسے ریلیز نہیں کیا ہے ۔ جب کہ پنجاب میں دعوے بہت کیے جارہے مگر کوئی پیسہ ریلز نہیں کیا ہے ۔ اگرچہ ان ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے احتجاج کیا ہے کہ انہیں حفاظتی سامان دیا جائے ۔ جب یہ جواز ینگ ڈاکٹر نے پیش کیا تو پی ٹی آئی کے لیڈر میاں رشید نہایت بدکلامی سے اس کا جواب دیا جو کہ پی ٹی آئی کے لیڈروں اور کارکنوں کا وطیرہ ہے ۔ شاید اسی خطرے کے پیش نظر وزیر اعظم کو اس لیے لکھی اور ریکاڈ شدہ تقریر نشر کی گئی ۔ کیوں کہ بیورو کریسی کو اندیشہ ہوگا عمراں خان اپنی تقریر میں اس کا ملبہ بھی گزشتہ حکومت پر ڈال کہیں گے میں انہیں چھوڑوں گا نہیں ۔  
مگر اس تقریر میں وزیر اعظم نے صرف صدر کی طرح لوگوں کو نصحیتیں کیا اور کہا گھبرانا نہیں ہے کہ علاوہ اور کچھ نہیں تھا ۔ شاید یہ کلمات جو عمران خان نے کہے وہ تو آج کل ہر دوسرا آدمی یہی کہہ رہا ہے ۔ اس تقریر میں کون سی خاص بات تھی یا کوئی اقدامات کرنے کا کسی قسم کا اعلان ۔ اب اس میں کوئی شک نہیں رہا ہے کہ یہ حکومت چیلج سے نہیں نپٹ سکتی ہے ۔ یہ صرف حزب اختلاف اور مخالفوں پر الزام اور انہیں گرفتار کرسکتی ہے ۔ اس پر حکومت کی سنجیدیگی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی شرح سود میں خطیر رقم کی کمی کے بعد دوسرے ہی دن بہت سی یوٹلیٹی کی اشیاء میں اضافہ کر دیا ۔ وپ پاکستانی جو وبا کے پیش نظر پاکستان آنا چاہتے تھے ان کے لیے پی آئی اے کے ٹکٹوں میں ساتھ آٹھ گنا اضافہ کر دیا جائے ۔ یعنی حکومت کا مقصد عوام کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ لالچی اور موقعہ پرست تاجروں کی طرح بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتی ہے ۔    

تہذیب و تر تیب
(عبدالمعین انصاری)

کیٹاگری میں : فکر

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں