80

ہندوئوں ذاتوں کی ابتدا

 ہندوؤں میں ذاتوں کا جو مقام ہے وہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مختصر یہ ہے ہر ذات کا ایک مقام ہے جو باالتریب برہمن ، چھتری ، ویش اور شودر اعلیٰ اور پست ہیں اور یہ ایک دوسرے کے تعلقات میں ایک ایسی دیوار رہی ہے جس غبور کرنا مشکل بلکہ ناممکن رہا ہے اور اس کی مثال دنیا میں کہیں پیش نہیں کی جاسکتی ہے ۔ آج ان ذاتوں کی شاخیں ہزاروں ہوچکی ہیں اور ان کا سلسلہ اس قدر مکمل ہے کہ کوئی شخص کسی اونچی ذات میں شامل نہیں ہوسکتا ہے ۔ پست ذات کا کوئی شخص کتنی ہی ترقی کرلے مگر وہ اعلیٰ ذات میں شامل نہیں ہوسکتا ہے ۔ دوسری طرف برہمنوں کو نہایت اعلیٰ اور دوسری ذاتوں کو اتنا حقیر جانتے ہیں کہ وہ چھتریوں میں بھی شادی کریں تو ذات سے باہر ہوجاتا ہے ۔ حالانکہ چھتری بادشاہ اور حکمران ذات ہے ۔ 
منو نے چاروں ذاتوں کے فرائض اور باہمی تعلقات بیان کردیے ہیں ۔ 
’’برہمنوں کے اس (برہما) نے یہ فرائض قرار دیے ہیں کہ ویدوں کا پڑھنا اور پڑھانا ، اپنوں اور دوسروں کے لیے قربانی کرنا ، خیرات لینا اور دینا’’۔
’’چھتریوں کو اس نے حکم دیا ہے کہ لوگوں کی حفاظت کریں ، انعام و اکرام دیں ، قربانی کریں ، وید پڑھیں اور شہوت پرستی سے پرہیز کریں’’۔
’’ویش ذات کا کام ہے مویشوں کی پروش کرنا ، انعام دینا ، قربانی کرنا ، وید پڑھنا ، تجارت کرنا ۔ قرض دینا اور کاشتکاری کرنا’’۔ 
’’شودروں کے لیے برہما نے صرف ایک فریضہ مقرر کیا ہے ۔ یعنی دوسری تینوں ذاتوں کی بلاچون و چرا خدمت گزری کرنا’’۔
برہمنوں کو عبارت منقولہ بالا میں جو اعزاز عطا کیا ہے اس میں خود پسندی یا مبالغہ نہیں ہے اور منو نے اس کی مزید وضاحت کی ہے کہ ’’دنیا میں جو کچھ ہے وہ برہمن کی ملکیت ہے ۔ اپنے حسب ونسب کی عمدگی کے لیے برہمن ہر چیز کا مستحق ہے’’۔ 
’’برہمن اپنا کھاتا ہے ، پہنتا ہے ، اپنا پہنتا ہے اپنی خیرات دیتا ہے ، دوسرے لوگ اس کی سخاوت سے جیتے ہیں’’۔
’’سن لو اگر برہمن دس سال کا ہوا اور چھتری سو سال کا تو صد سالہ چھتری دس سالہ برہمن کا بیٹا خیال کی جائے گا’’۔
ویدک عہد میں ذات کا اثر پوری طرح قائم نہیں ہوا تھا ، اس میں صرف ایک مقام پر یعنی (رگ وید ۱۰۔۹۰) میں جسے پُرُش کا بھجن کہتے ہیں ۔ مگر یہ بھجن نہایت مبہم اور غیر واضح ہے ۔ اس بھجن میں تخلیق عالم کو ایک قربانی کی شکل میں بیان کیا ہے اور اس پر ایک شخص پرش کو بھینٹ چڑھایا گیا تھا ۔ واضح رہے پرش انسانی نام ہے اور اس کے جسم کے حصوں کو کاٹ کر بنایا گیا تھا ۔ بیان کیا گیا کہ ’’پرش تمام دنیا ہے ۔ جو کچھ موجود ہے اور جو کچھ وجود میں آئے گا’’۔ غالباً حالت عدم میں کیوں کہ دیوتاؤں نے اس کے جسم سے تمام عالم اور انسان بنائے گئے ۔
’’جب کہ دیوتاؤں نے پرش کے جسم کو تقسیم کیا ۔ کتنے ٹکڑے اس کے جسم کے انہوں نے کیے ۔ اس کے منہ سے کیا بنا ؟ اس کے بازوؤں سے کیا بنا ؟ اس کے رانوں سے کیا بنا اور پاؤں سے کیا بنا ؟
برہمن اس کے منہ سے پیدا ہوئے ۔ راجنیا (چھتری) اس کے بازوؤں سے ۔ ویش اس کے زانوں سے ۔ شودر اس کے پاؤں سے ۔  
رگ وید کی پہلی اور دسویں جلد دوسری جلدوں سے بعد کی ہیں ۔ جس میں وہ اہم بھجن شامل ہیں جو کسی وجہ سے کسی اور جلد میں شامل نہیں کیے جاسکے ۔ جو کسی خاص پجاری شاعر یا شاعروں کے خاندان سے منسوب ہیں ۔ ان کی تصدیق زبان ، بلند خیالی اور رجحان کے اختلاف سے بھی ہوتی ہے ۔ پرش کا بھجن بھی اسی قبیل کا ہے اور چونکہ اس سے ذات کی رسم کا ویدک زمانے میں پتہ چلتا ہے کہ عہد برہمنی یا قدیم عہد کے تمدن میں زیادہ فرق نہ تھا ۔ برہمنوں کی جملہ تصانیف سے پرش کے افسانے کی تصدیق ہوتی ہے ۔ البتہ فرق صرف یہ ہے کہ بجائے پرش کے برہما (خالق) مذکور ہے جو ویدک کے بعد کا اعلی ترین دیوتا ہے اور قربانی کا ذکر نہیں ہے ۔ اس لیے برہمنوں کو اپنے حسب و نسب پر ناز ہے ۔ وہ اس افسانہ تعبیر کرتے ہیں کہ منہ چونکہ جملہ اعضا پر فوقیت رکھتا ہے اس لیے جو لوگ منہ سے پیدا ہوئے ان کا کام فرمان روائی اور تعلیم ہے اور وہ گویا خالق کا دماغ ہیں ۔ جو لوگ بازو سے پیدا ہوئے ان کا کام لڑنا بھرنا اور حفاظت کرنا ہے ۔ جو لوگ رانوں سے پیدا ہوئے ان کا کام نظام تمدن کو برقرار رکھنا اور جو پاؤں سے پیدا ہوئے ان کا کام خدمت گزاری ہے ۔
لڈوگ کا خیال ہے کہ ذات کی ابتدا اُشاس کے اس بھجن (رگ وید دوم ، ۳۶) میں بھی پتہ چلتا ہے ۔ جس میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ دیوی جگا کر کسی کو بادشاہ کرتی ہے اور کسی کو حصول شہرت کی طرف مائل کرتی ہے ۔ 
رگ وید کے بہت سے بھجنوں میں جن کو بہت سے رشیوں نے لکھا ہے اور اسں میں پنجاب اور بعد کے زمانہ میں مشرقی ہندوستان کے باشندوں کو دو طبقوں آریا اور داسیو میں تقسیم کیا گیا تھا اور ان میں سے ہر ایک متعد اقوام قبائل میں منقسم تھے ۔ ان کے نام بھی رگ وید میں موجود ہیں ۔ آریا کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے یہ صاف رنگ کے فاتحین تھے ۔ جنہوں نے عرصہ دراز کی جنگ و جدل کے بعد مقامی باشندے یعنی داسیوں کم و بیش محکوم کرلیا تھا ۔ یہاں داسیوں سے مراد وہ دیسی اور غیر آریا اقوام ہیں جن کو آریاؤں نے ہندوستان میں پایا اور بلاشک و شبہ یہی ذات کا آغاز تھا ۔ یہ تقسیم بھی بعد کے زمانے کی تقسیم یعنی دو جنم والوں اور شودروں سے مشابہ ہے ۔ سنسکرت میں ذات کے لیے ورن یعنی رنگ کا کلمہ آیا ہے ۔ سفید رنگ کے فاتحین اور سیاہ فام دیسیوں میں رنگ کا جو فرق تھا اس کا ذکر وید کے شعرا نے بار بار کیا ہے ۔
کلمہ داسیو کے معافی میں جو تغیرات ہوئے ہیں وہ بھی قصہ طلب ہیں ۔ آریاؤں کو اپنے نئے وطن میں دو جماعتوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ رگ وید میں ان کا نام داسو Dasyua اور داسا Dasa ملتا ہے اور دونوں کو نشاد Nishad کا لقب دیا گیا ہے ۔ لفظ داسا ایران میں بھی ملتا ہے ۔ دارا کے کتبہ بہستون میں ایک قوم بنام داہا Daha کا ذکر ہے جو کہ بحیرہ خزر کے ارد گرد آباد تھے ۔ قدیم ایرانی میں داہا کے معنی دیہاتی کے ہیں اور اس کلمہ سے بنا ہے جس کے معنی دیہات کے ہیں ۔ کیوں کہ قدیم ایرانی کا ’ہ ‘ سنسکرت کے ’س‘ سے بدل جاتا ہے ۔ مثلاََ سنسکرت میں سورہ قدیم ایرانی میں اہورہ آیا ہے ۔ اس طرح سنسکرت کا داسا ایرانی میں داہا بن گیا ۔ گو یہ اشارہ خفیف سا ہے مگر اس سے نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ آریاؤں کو ایک ایسی جماعت سے جنگ کرنی پڑی جو دیہات میں آباد تھی ۔ یہ دیہات کے معنوں میں شاید حملہ آور تھے اور بعد میں اپنے معنی کھو کر ڈاکوں اور غلاموں کے لئے استعمال ہونے لگا ۔    
رفتہ رفتہ وید کے افسانوں میں یہ کلمہ بھوتوں اور خبیث شیاطین یعنی تاریکی کی قوتوں اور خشک سالی کا مرادف ہوگیا ۔ جس کو اندر ماروتوں ، انگیراؤں اور دیگر ہستیوں کی مدد سے زیر کرتا ہے ۔ اس لفظ کے معنوں میں جو تغیر ہوا ہے بالکل قدرتی ہے ۔ مگر اس سے ویدوں کی تعبیر میں دقتیں پیدا ہوتی ہیں ۔ کیوں کہ اندر یا اگنی سے داسیوں کو نکال دینے یا ان کو نیست و نابود کرنے کی درخواست کی جاتی ہے یا یہ بیان کیا جاتا ہے ان دیوتاؤں نے داسیوں کے قلعے تباہ کر دیئے تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کن دشمنوں سے مراد ہے آسمانی یا دنیاوی ۔ اس لفظ کے معنوں میں جو تغیر ہوا قابل لحاظ ہے ۔ یعنی بعد میں اس کے معنی صرف خادم یا غلام (داس) کے ہوگئے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نوبت پر پہنچ کر آریاؤں کی فتوحات مکمل ہوگئیں تھیں اور داسیوں مغلوب ہوکر ذلیل کرنے کے لیے شودروں بنا دیا گیا ۔ جیسا کہ منو کے دھرم شاستر کی ایک عبارت میں موجود ہے ۔ جس بتایا گیا ہے کہ دو جنم والوں کو کسی شودر سے اخلاص نہ رکھنا چاہیے خواہ وہ راجہ ہی ہو ۔ شودر راجہ سے مراد یقینا دیسی راجہ مراد ہے ۔
پہلا فرق رنگ اور خط و خال کا تھا جس سے ذاتوں کی ابتدائی ہوئی ۔ ایک شاعر کہتا ہے کہ ’’داسیوں کو ہلاک کرکے اندر نے آریاؤں کے رنگ کو محفوظ رکھا’’۔ دوسرا کہتا ہے کہ ’’اندر نے اپنے آریائی پرستش کرنے والوں کو جنگ میں محفوظ رکھا ۔ اس نے منو کے لیے قانون نہ ماننے والوں کو مغلوب کیا ۔ اس نے کالے چمڑے والوں پر فتح حاصل کی ۔۔۔ اندر نے حسب عادت داسیو کو مارا ۔۔۔ اور اپنے سفید دوستوں کے ساتھ ملک فتح کیا’’۔ آریاؤں نے مفتوحین کو ’بکری کی ناک والے’ اور اَنَا سو (بے ناک والے یعنی چپٹی ناک والے) کے خطاب دیئے گئے تھے اور آریاؤں کی خوبصورت ناکوں کی تعریف کی گئی ہے’’۔
داسیوں پر الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ مقدس آگ کی نہیں دیوانے دیوتاؤں کی پرستش کرتے ہیں ۔ وہ کچا گوشت کھاتے اور خطرناک ساحر ہیں ۔ چنانچہ ایک شاعر کہتا ہے ’’تو (اندر) نے داسیوں کے سحر رشی کے مقابلے میں باطل کر دیا ہے’’۔ زبانیں بھی دونوں کی علحیدہ تھیں اور فاتحین نے زمانہ مابعد میں مفتوحین کے لیے اپنی زبان کا بولنا ناممکن کر دیا ۔ 
آریا اور داسیوں میں یا دو جنموں اور شودروں میں جو فرق ہے وہ بالکل واضح ہے ۔ مگر داسیو یا شودر کسی خاص قوم کا نام نہیں تھا بلکہ تمام غیر آریائی اقوام کے لیے مستعمل تھا ۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ داسیو ممکن کسی ایسی قوم کا نام ہو جس سے ہندی اور ایرانی آریا پنجاب میں داخل ہونے سے قبل پرسر پیکار رہے ہوں ۔ جیسا کہ دارا کتبہ میں داہا کا ذکر ملتا ہے مگر رفتہ رفتہ اس کا اطلاق دشمنوں اور مفتوح اقوام پر ہونے لگا اور آریا اس کے اصل معنی بھول گئے ۔ حقیقت میں جب آریا ہندوستان میں داخل ہوئے تو دو قومیں دراوڑ اور کولاری اس ملک پر قابض تھیں ۔ یہ دونوں اقوام قبائل میں منقسم تھیں ۔ جن کے نام اور بادشاہ مختلف تھے اور خود آریاؤں کا بھی یہی حال تھا ۔ رگ وید میں اس قدر نام آئے ہیں کہ پڑھنے والا پریشان ہوجاتا ہے ۔ مگر محقیقن کی انتھک کوششوں سے یہ پریشان کن ابتری جاتی رہی اور کچھ تاریخی واقعات معلوم ہونے لگے ۔ اگرچہ اس زمانے کے کوئی آثار بھی باقی نہیں ہیں جن سے مدد مل سکے ۔ البتہ صرف ہندوستان کی موجود مخلوط آبادی پر غور کرنے کچھ حالات معلوم ہوسکتے ہیں ۔ 
آریائی فاتحین نے داسیوں سے ان کا ملک چھین کر انہیں جس حقارت و نفرت سے دیکھتے تھے اس کا احساس دشوار ہے ۔ اس کا اظہار ویدوں کئی عبارتوں میں ہوتا ہے ۔ جن کو یکجا کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دیسی باشندوں کی تمدنی حالت کیا تھی اور فاتحین میں اور ان میں کیا فرق تھا ۔ 
اس عینی فلسفہ کے مخالف رجحانات خود ویدوں میں مل جاتے ہیں ۔ مثلاً تاریک دنیا لوگ جو ذات پات کو ٹھکرا کر جنگلوں میں چلے جاتے ہیں اور تپسیا کرتے ہیں وہ نظام کا حصہ نہیں بلکہ اس کی ضد ہیں ۔ یہ رجحانات ۷۰۰ ق م سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ آریائوں کی چھوٹے چھوٹے قبائل اور گروہ منظم ہوکر ریاستوں اور سامراج میں ڈھل رہے تھے ۔ ظاہر ہے یہ کام جنگ اور جبر کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ لہذا وہ لوگ جو ایک طرف ذات پات کے نظام کے مخالف تھے اور دوسری طرف ان اقتدار کی جنگوں کے ان کے ان کے لیے ایسے سماج سے کنارہ کشی کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا ۔ ۷۰۰ ق م کا سیاسی فلسفہ متسی نیائے کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ متسی کا مطلب ہے مچھلی اور نیائے کا مطلب ہے تنقیدہ تجزیہ یا اصول یا انصاف ۔ اس نظریہ کا مفہوم یہ ہے کہ بڑی مچھلی چھوٹی کو کھا جاتی ہے ۔ اس فلسفہ کے خلاف بار بار اکا دکا بن باسی جنگلوں اور پہاڑوں سے پلٹ کر شہروں اور دیہاتوں میں آتے اور لوگوں کو ذات پات کے خلاف مچھلی انصاف کے خلاف حوصلہ دیتے تھے 
برہمنوں کا کہنا ہے کہ وہ فلسفی ، مفکر اور قانون ساز ہیں اور کبھی اپنے کو حکمران بتایا ۔ کشتری شروع میں کوئی فوجی یا جنگ جو پیشہ ذات یا طبقہ نہ تھا ۔ بلکہ یہ اشرافیہ تھی جس کا کام انتظامی معاملات کو سنبھالنا تھا ۔ جب ویدوئوں کا زمانہ ختم ہوگیا تو کئی کشتری خاندانوں سے حکومت چھین ویشوں یا شودروں نے چھین لی تو کشتری بطور سپاہی بھرتی ہوگئے اور کشتری بطور سپاہی قرار پائے ۔ یہ زمانہ ۵۰۰ ق م کے بعد کا ہے ۔ اس سے پہلے کشتری محض اشرافیہ تھے ۔ دوسرے لفظوں میں برہمن مقنہ تو کشتریہ انتظامیہ ۔ رگ وید کے زمانے میں جنگجو الگ نہیں ہوتے تھے ۔ بلکہ تمام قبائل کاشت کار ، گلہ بانی ساتھ ساتھ کرتے تھے ۔ موخر ویدی زمانے میں ذات پات کے منعظم ہونے کے باوجود اس نظام میں سخت گیری نہ تھی ۔ نیچ ترین ذات کے لوگ بھی برہمن کا کام کرسکتے تھے اور برہمن شودروں کا کام کرلیتے تھے ۔ تمام ذاتوں میں آزادانہ آمد رفت تھی ۔ شادی بھی آسانی  سے تمام ذاتوں میں ہوسکتی تھی ۔ 
شودروں کے ماخذ کے بارے میں عموماً یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ داس داسیو جنہیں آریاؤں نے فتح کرکے اپنا غلام بنالیا تھا اور نسلی طور پر یہ دراوڑ اور پروٹو آسٹر پلائیڈ تھے ۔ 
ایک کہاوت بعد از وید ہے کہ ہر شخص شودر پیدا ہوتا ہے لیکن سمسار سے دو یجہ بن جاتا ہے ۔ دو یجہ کا مطلب ہے دو مرتبہ پیدا ہونے والا ، یعنی اونچی ذات کا شخص ۔ ویدوں کے زمانے میں نسلی تفاوت یا نسلی تعصب نظر نہیں آیا ہے ۔ حتیٰ کہ آریہ اور غیر آریہ کے درمیان فرق نسلی نہیں ثقافتی تھا ۔ جے سی پانڈے کا خیال ہے کہ شودر غلام نہیں بلکہ قدیم سماج کے پس ماندہ قبائل تھے ۔ جو شکار ، ماہی گیر وغیرہ اور دوسرے پیشوں سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان سے نفرت کا سبب ان کا گھٹیا طرز زندگی تھے ، اس لیے ان کو ویدوں کی تعلیمات سننے سے منع کیا گیا ہے ۔ ان کی ثقافی اور پسماندگی کے باعث انہیں بعد میں اچھوت قرار دیا گیا اور یہ ویدی زمانے کے بعد ہوا ۔ پہلے یہ لوگ قبائل آوارہ گرد خانہ بدوش اور پکھی داس قسم کے لوگ تھے ۔ بعد میں یہ نیم آباد ہوگئے اور جب پوری طرح آباد ہوکر سماج کا حصہ بنے تو سب سے نچلی ذات ان کے حصہ میں آئی ۔ ویدوں کے زمانے میں کسی کے اچھوت ہونے کا کوئی تصور نہیں تھا ۔ بلکہ ویدوں کے زمانے میں شودر سماجی نظام کا حصہ اور پرش کا ایک عضو تھے ۔ یعنی پاؤں لیکن ویدوں میں ان کا ذکر تحقیر کے ساتھ آیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اونچی ذات کا کوئی شخص جب چاہے ان کی پٹائی کرسکتا ہے ۔ 
آر ایس شرما کا خیال ہے کہ داس اور داسیو ہم معنی الفاظ نہیں ہیں ۔ داس آریہ تھے اور داسیو مقامی ۔ 
یحییٰ امجد کا کہنا ہے کہ وادی سندھ میں جو حکمران طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے جو غلام تھے ان کی پرانی حالت جوں توں برقرار رہی ۔ ان میں سے بہت سے لوگ حکمران طبقہ کا حصہ بننے میں کامیاب ہوگئے اور بہت سے لوگ نیچے چلے گئے ، اس طرح پرانے غلاموں (داسیو) سارے لوگ جو متحرک تھے نئے حکمران طبقہ میں شامل ہونے میں کامیاب ہوگئے باقی غلام رہے ، 
آریوں میں پیشے موروثی نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی مختلف پیشوں کے درمیان کوئی رشتوں ، شادی بیاہ پر کوئی پابندی تھی ۔ سماجی طور پر آریہ تین حصوں میں منقسم تھے ۔ لیکن کسی طبقہ کے ساتھ کراہت ، نفرت یا حقارت کا تصور وابستہ نہ تھا ۔ جب ان کا ٹکراؤ مقامی لوگوں سے ہوا تو غالباً مقامی لوگوں کے قبائل میں ضم ہونے کے ڈر سے شادی بیاہ کے قانون بنائے ۔ پھر اقتدار کی کشمکش بھی تھی ۔ لہذا آریاؤں نے اپنے کو سماج کے بلند مقامات برہمن ، کشتری اور ویش پر رکھا اور مقامی لوگوں کو شودر ، اچھوت اور ذات سے باہر کر دیا ۔ خود دویجا تھے یعنی دو مرتبہ پیدا ہونے والے ۔ ایک مرتبہ جب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور دوسری مرتبہ اس وقت جب اس کا سمسکار ہوا اور وہ اونچی ذات پر فائز ہوا ۔ 
رومیلا تھاپر خیال ہے کہ چار ذاتوں کے اس ڈھانچہ کا حقیقی مقصد سماج کو چار حصوں میں تقسیم کرنا نہیں تھا ۔ بلکہ اصل حصے دو ہی تھے ، آزاد شہری اور غلام اور پہلی تین ذاتیں صرف برہمنوں کی کاروائی تھی ۔ اصل مقصد شودروں اور ذات سے باہر اچھوتوں سے دور کرنا تھا ۔ مزید ان کا کہنا ہے کہ پہلی تین ذاتوں میں پیشوں کی سہولت کی خاطر تھیں اور چوتھی ذات میں پیشہ میں ایک جبر ناقابل تبدیل ۔ یہ لوگ حقیر اور اتنے حقیر اور نچ تھے کہ اونچی ذات والوں کے بدن یا لباس اگر ان  کو چھو جائے تو ان کا  لباس اور بدن نجس ہوجاتا تھا ۔ جس کی فوری صفائی ضروری تھی اور اچھوت کو کوئی سزا دینی بھی ضروری تھی ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں