66

ہندوستان سے باہر ستی

پورڈینون Pordenone چودویں صدی عیسوی کی ابتدا جنوب/وسطی ویتنام میں زیمپا Zampa (چمپا) کے سفر میں اس نے بیویوں کو جلانے کا ذکر کیا ہے ۔ اننت الٹیکر Anant Altekar کا کہنا ہے کہ ستی جنوب مشرقی ایشیائی جزیروں مثلاً جاوا میں ہندو تارکین وطن کی آمد کے ساتھ پھیل گئی تھی ۔ سوماترا اور بالی میں ڈچوں کے ریکارڈوں کے مطابق وہاں کے شاہی گھرانوں میں ستی کا رواج تھا ۔
فریڈرک ڈی ہوٹ مین Frederik de Houtman's کے 1597 وریل وانڈے ریس Verhael vande Reyse کمبوڈیا میں پندرویں اور سولہویں صدی میں مردہ بادشاہ کی بیویوں نے اپنی مرضی سے ستی کی تھی ۔ یورپی سیاحوں کے مطابق پندرویں صدی میں میرگوئی Mergui یعنی موجودہ میانمار میں بیوہ جلانے کی کوشش کی گئی تھی ۔ پندوویں صدی کے ایک چینی حاجی ما-تنگ-ما-آ Ma-i-tung and Ma-i  بیلٹنگ Belitung (سماترا سے باہر اور شمالی فلپائن) نامی جزیروں میں بیوائوں کی ستی کی تصدیق کرتا ہے ۔
سری لنکا میں سلیمان تاجر جیسے مسلمان سیاحوں نے بتایا تھا کہ یہاں اگر بیوہ خواہش کرے تو ستی ہوسکتی ہے ۔ ایک مشہور قصہ دسویں صدی عیسوی میں بحری جہاز میں تدفین ابن فدالان نے بیان کیا تھا ۔ جس میں ایک لونڈی نے اپنے آقا کے ساتھ ستی ہونے کی خواہش کی تھی جسے اس کے آقا کے ساتھ جلا دیا گیا تھا ۔ 
پرتگالیوں نے گوا کی فتح کے بعد گوا میں ستی پر پابندی عائد کردی ۔ تاہم یہ سلسلہ اس خطہ میں جاری رہا ۔ ڈچ اور فرانسیسیوں نے اپنی متعلقہ نوآبادیات ، چنسورہ اور پانڈیچری میں اس پر پابندی عائد کردی ۔ ڈینش جن کا ٹرانکوبار اور سیرام پور کے علاقوں پر قبضہ تھا انیسویں صدی تک ستی کی اجازت تھی اس کے بعد اسے سختی سے روک دیا ۔ 
بیوہ کی قربانی/بیوہ جلانے جیسی رسوم کی جڑیں غالباً پراگیتہاسک prehistoric میں تھیں ۔ مثال کے طور پر بیسویں صدی کے ابتدا میں ماہر بشریات جیمس جی فریزر کا خیال ہے کہ کیپنیئس Capaneus کی افسانوی یونانی کہانی میں اس کی بیوی ایواڈین Evadne نے اس کی چتا میں خود کو پھینک دیا تھا ۔ شاید بیوہ جلانے کے رواج کا اس کی وجہ تھی ۔ کوینٹس سمرنیئس پوسٹ ہومریکا Quintus Smyrnaeus Posthomerica کی دسویں کتاب میں ہے کہ اوونون Oenone نے اپنے پہلے شوہر پیرس یا سکندر کو نذر آتش کیا تھا ۔ بیویوں کے شوہروں کی موت کے بعد گلا گھونٹنے کی تصدیق مختلف تمدنوں میں ہوتی ہے ۔
بالی
انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں 1903 کے آخر تک اشرافیہ نے مساتیا (ستی) پر عمل پیرا تھے ۔ یہاں تک کہ ڈچ آقاؤں نے مقامی بالی شہزادوں کو ستی پر پابندی کے معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کردیا ۔ ابتدائی ڈچ مبصرین نے سترویں صدی میں بالی میں ستی کی اجازت صرف شاہی خاندان کی بیواؤں کو ستی کی اجازت تھی ۔ کونکوبائنز Concubines اور جو دوسرے افراد اپنے آقا کے ساتھ مرنا چاہتے تھے وہ چھری کے ذریعے خودکشی کرتے تھے ۔
ٹراوان کور Travancore جیسی کچھ ریاستوں میں ستی کا رواج عام کبھی نہیں ہوا ۔ حالانکہ عام لوگوں نے ستی کی جرم کرتے تھے ۔ مثال کے طور پر 1818 برطانوی ہوم ریجنٹ سے گووری پارتی بائی Gowri Parvati Bayi نے پوچھا کیا وہ کسی کو ستی ہونے کی اجازت دے گا اور ریجنٹ نے زور دے کر کہا وہ اجازت نہ دے ۔ کیونکہ اس علاقہ میں ستی کا رواج کبھی نہ رہا ہے ۔ ایک اور ریاست ساونت ویریSawunt Waree  (ساونت وادی Sawantvadi) کے راجہ کھیم ساونت سوم Khem Sawant III 1755–1803)) نے اگرچہ ستی پر پابندی عائد کردی تھی ۔ لیکن اس پابندی کو اٹھارہویں صدی میں موثر انداز میں نافذ نہیں کیا یا اسے نظرانداز کیا جاتا رہا ۔ البتہ 1843 میں ساونت واڑی کی حکومت نے ستی پابندی عائد کی ۔

ماخذ ۔ انگش وکی پیڈیا
تہذیب و تدین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں