84

ہندوؤں میں مورتیوں کی پوجا کا رواج

آریائوں میں گو مورتی پوجا یا مندر بنانے کا رواج نہیں تھا ۔ لیکن رگ وید کے متعدد اشکوں سے مورتیوں کا ذکر ملتا ہے ۔ مثلاً ایک اشلوک میں ایک شخص کہتا ہے کہ میرا ٹھاکر کون خریدے گا ۔ جب بدھ مذہب کا عروج برصغیر میں ہوتا تو بھی بدھ کی مورتی نہیں بنتی تھی بلکہ بدھ کی علامات بنائی جاتی تھیں ۔ مثلاً بدھ کی جگہ کنول کا پھول یا پیروں کے نشان بنائے جاتے تھے ۔ مگر غالباً یونانیوں کے زیر اثر رفتہ رفتہ بدھ کی مورتیاں بنے لگی تھیں اور جب ہندو مت کو طاقت حاصل ہوئی تو انہوں نے بدھ کی تقلید میں دیوتائوں کی مورتیوں کا رواج ہو ۔ ورنہ اس سے پہلے ہندوؤں میں پہلے مورتیوں کی پوجا نہیں ہوتی تھی اور اس سے پہلے مندروں کا بھی رواج نہیں تھا ۔ سب سے پرانی شہادت وہ ۲۰۰ ق م میں نگری کے کتبہ میں کرشن اور باسو دیو کی پوجا کے لیے مندر بنانے کا ذکر کیا گیا ہے ۔ مگر کہا نہیں جاسکتا ہے کہ اس مندر میں مورتی پوجا بھی ہوتی تھی یا نہیں ۔ تاہم یہ مندر کی سب سے پرانی اور مستند شہادت ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رواج اس وقت تک پڑھ چکا تھا ۔ رفتہ رفتہ اس میں بہت سے نئے اور پرانے فرقوں میں مورتی پوجا کا رواج ہوگیا ۔ کتبوں ، تانبے کی منقوش تختیوں اور قدیم کتب میں وشنو کی مورتیوں کی پوجا کا ذکر سب سے پہلے ملا ہے ۔ 

رام جو کہ وشنو کا اہم اتار ہے اور اس کی پوجا کا ہندوؤں میں اب بہت زیادہ رواج ہے ۔ مگر دسویں صدی عیسویں تک رام کے نہ مندر تھے نہ مورتیاں تھیں ۔ بہت بعد میں رام کی پوجا اور رام دسرہ کے تہوار منائے جانے لگے ۔ ان کی پوجا پر سب سے پہلے رامانج نے بارویں صدی سیتا کی پرستش پر زور دیا اور ان کی مورتیوں کی پوجا کی جانے لگیں ۔ 

چوتھی ق م میں میگاس تھینیز نے متھرا کے شور سینی جادوؤں کے متعلق لکھا کہ وہ ہیرکلوس (جادو ناتھ) کی پوجا کرتے ہیں ۔ پاننی نے بھی اپنے سوتروں میں باسو دیو کے نام کا تذکرہ کیا ہے ۔ غالباً پاننی کے زمانے میں باسو دیو کی پوجا شروع چکی تھی ۔ اس لیے بھاگوت (ویشنو) فرقہ کی مورتی پوجا اس سے بھی قدیم ہوگی ۔ ویشنوئی پنچ گانہ مراسم کے پیرو تھے ۔ جس میں مندروں میں جانا ، پوجا کے لوازم جمع کرنا ، پوجا منتروں کا پڑھنا اور یوگ سے ایشور کا درشن ہونا مانتے تھے ۔  دکن میں بھگوت فرقے کا آغاز نویں صدی میں ہوا تھا ۔ وہاں کے راجے کرشن کے بھگت تھے ۔

وشنو کی اوتاروں کا عقیدہ بہت بعد کی ہے ۔ یہ ابتدا میں وشنو کے چوبیس اوتارو یعنی (۱) برہما (۲) نر (۳) ناراین (۴) کپل (۵) دناتریہ (۶) یگیہ (۷) ریشبھہ دیو (۸) پرتھو (۹) نارد (۱۰) متسیہ (۱۱) کورم (۱۲) دھنوتری (۱۳) موہنی (۱۴) نرسنگھ (۱۵) وامن (۱۶) پرشورام (۱۷) دیدویاس (۱۸) رام (۱۹) بلرام (۲۰) کرشن (۲۱) بدھ (۲۲) کلکی (۲۳) ہنس ہے (۲۴) گریو تھے ۔ بعد میں یہ ان اوتاروں کو دس تک محدود کردیا گیا ۔ (۱) متسیہ (۲) کورم (۳) براہ (۴) نرسنگھ (۵) وامن (۶) پرشورام (۷) رام (۸) کرشن (۹) بدھ (۱۰) کلکی ۔ بدھ اور ریشبھہ کو ان اوتاروں میں شامل کرنے سے ظاہر ہوتا کہ بدھ اور جین دھر م کا اثر ہندو دھرم پر پڑا تھا ۔ اس لیے ان کے بانیوں کو وشنو کے اوتاروں کے اوتاروں شامل کیا گیا ۔ مگر اس سے پہلے چوبیس اوتاروں کا تصور بھی بودھوں کے چوبیس بدھ اور جینیوں کے چوبیس تیر تھنکروں کی تقلید کی گئی تھی ۔ 

وشنو کی مورتی بھی پانچویں صدی سے قبل کی کوئی مورتی نہیں ملی ہے ۔ اس نہیں کہا جاسکتا ہے اس کے دو ہاتھ تھے یا چار ہاتھ ۔ تاہم بدھ اور سورج کی جو مورتیاں ملیں ہیں وہ دو ہاتھوں والی ہیں ۔ البتہ کشان فرمانروا کڈفسس کے سکوں پر پہلی صدی میں شیو کی مورتی بنی ہوئی ہے ۔ دلجسپ بات یہ ہے جو آج ہندو دیوتاؤں کی مورتیوں میں دو سے زیادہ سے زیادہ ہاتھ دیکھائے جاتے ہیں پہلے اس کا رواج نہیں ۔ پہلے پہل بدھ کی مورتی میں چتر بھیج (چار ہاتھوں والی) بنائی گئی تھی ۔ بعد میں وشنو اور شیو کی مورتیاں کو بھی چتر بھیج بنانے لگے ۔ یہاں تک وشنو کی مورتیوں ۱۴ اور ۲۴ ہاتھوں والی بھی مورتیاں بھی بنائی جانے لگیں اور ان ہاتھوں میں مختلف طرح کے اسلحے تھما دیئے گئے ۔ وشنو کی تین منہ والی موتیاں بھی ملی ہیں ۔ ان میں مکھٹ (تاج) کے ساتھ تین چہرے بنائے گئے ہیں یا بیچ میں وشنو کا تاجدار سر ہے اور دونوں طرف براہ اور نرسنگھ کی موتیاں بنی ہوئی ہیں ۔ غالباً یہ مورتیاں بھی شیو کی تثلیث کی نقل ہیں ۔

شیو فرقے کے لوگ شیو کی مختلف شکلوں میں مورتیاں بناتے اور پوجنے لگے ۔ عموماً یہ ایک چھوتے گول ستوں کی صورت کی ہوتی تھیں یا اوپر کے حصہ گول کر کے چاروں طرف چار منہ بنا دیئے جاتے تھے ۔

بدھ مت والے کثرت سے چھوٹے چھوٹے اسٹوپے بناتے تھے ۔ جن کے چاروں طرف اور بعض پر اوپر بدھ کی مورت بناتے تھے ۔ بدھ کے ذوال کے بعد بہت سے ان اسٹوپوں کے بارے میں دعویٰ کیا کہ اوپر کے گول حصے برہمانڈ (کائناتٌ) اور چاروں منہ میں پورپ والے سورج ، پچھم والے سے وشنو ، اتر والے سے برہما اور دکھن والے سے رودر مراد ہوتے تھے ۔ کچھ مورتیں ایسی ملی ہیں جن کے چاروں طرف منہ ہیں ۔ بعد میں ان مورتیوں نے شیو کے لنگ کا قرار دیا گیا ۔ مگر شیو لنگ ہمیشہ یونی میں ہوتا ہے ۔ بہرحال ہندو ایسی مورتیاں بنانے گے تھے ۔ ان چاروں دیوتاؤں کی مورتیاں ہی بنی ہیں ۔ ان چاروں کو دیکھنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا بنانے کا منشا یہ تھا کہ کونین کا خالق شیو ہے اور چاروں طرف دیوتا اس کی صفات کی مختلف صورتیں ہیں ۔ شیو کی عظیم الجثہ تری مورتی (تثلیث) کہیں کہیں پائی گئی ہیں ۔ اس کے چھ ہاتھ تین منہ بڑی بڑی چٹاؤں سے مزیں تین سر ہوتے ہیں ۔ ایک منہ روتا ہوا جو شیو کو رودر کہلانے کی دیلیل ہے ۔ اس کے وسط کے دو ہاتھوں میں ایک میں بجورا اور دوسرے میں مالا ہے ۔ داہنی طرف کے دو ہاتھوں میں ایک میں سانپ اور دوسرے میں پیالہ ۔ بائیں طرف کے دو ہاتھوں میں ایک میں پتلی چھڑی اور دوسرے میں ڈھال یا آئینہ کی شکل کی کوئی گول چیز ہوتی ہے ۔ تثلیث مورتی جپوترے کے اوپر اس میں صرف جسم کا بالائی دیوار سے ملا ہوتا ہے ۔ اس کے سامنے زمین پر اکثر شیو لنگ ہوتا ہے ۔ ایسی تری مورتیاں بمبئی سے چھ میل دور ایلنٹٹا ، چتور کے قلعے ، سررہی راج وغیرہ کئی مقامات پر دیکھنے میں آئی ہیں ۔ جن میں سب سے پرانی ایلفنٹا والی ۔ شیو کی رقص کرتی موریتان دھات یا پتھر کی کئی سے جگہ ملی ہیں ۔

اس طرح لکولیش یا نکولیش فرقہ کی مورتیاں راجپوتانہ ، گجرات ، کاٹھیاوار ، دکھن ، بنگال اور اڑیسہ ملی ہیں ۔ ام مورتیوں میں شیوں کے سر پر اکثر لمبے بال ہوتے تھے ۔ دو پاتھ ہوتے تھے جس میں دائین ہاتھ میں ہیجورا اور بائیں ہاتھ میں ڈنڈا یعنی لکولیش ہوتا تھا ۔ اس کی نشست پدماسن ہوتی تھی ۔

برہما کی یگیوں (قربانی) کا بانی اور وشنو کا اوتار مانا جاتا ہے ۔ برہما کی جو مورتی دیوار سے ملی ہوتی تھی اس کے تین منہ ہوتے اور جس مورتی کے چاروں طرف طواف کیا تھا اس کے چار منہ دیکھائے جاتے ہیں ۔ ایسی چومکھی مورتیاں بہت کم ہیں ۔ برہما کے ایک ہاتھ میں سرود ہوتا ہے جو یگیہ کرانے کی علامت ہے ۔ شیو اور پارپتی ک مشترک مورتیوں میں جو کئی جگہ ملی ہیں ان میں برہما پروہت بنایا گیا ہے ۔ مورتیوں کے تخیل میں برہما ، وشنو اور شیو تینوں ایک پرماتما کی مختلف صورتیں مانی گئی ہیں ۔ برہما کی کئی مورتیں ایسی ملی ہیں جن کے کنارے پر وشنو اور دوسرے پر شیو کی چھوٹی چھوٹی مورتیاں ہیں ۔ اس طرح وشنو کی مورتیوں پر شیو اور برہما کی مورتیں اور شیو کی مورتیون پر وشنو اور برہما کی مورتیاں ہوتی ہیں ۔ بعد میں ان تینوں دیوتاؤں کی الگ الگ مورتیاں بنبے لگیں ۔ شیو اور پاربتیوں کی بعض مورتیوں میں آدھا جسم شیو کا اور آدھا پاربتی کا ۔ ایسی تینوں کی مجموعی مورتی بھی ملتی ہیں ۔ شیو اور وشنو کی مشترک مورتی کی ہر ہر اور تینوں کی مشترک مورتی کو ہری پتامہ کہتے ہیں ۔

ابتدا میں   پرتما کے دیوتاؤں کی الگ الگ پوجا نہیں ہوتی تھی ۔ الگ الگ پوجا بعد کی پیداوار ہیں ۔ بلکہ ایشور کی مختلف شکتیوں اور دیوتاؤں کی بیویوں کی بھی مورتیاں بنادی گئیں اور ان کی بھی پوجا ہونے لگی ۔ قدیم ادبیات میں ایسی کتنی دیویوں کے نام ملتے ہیں ۔ ان میں براہمی ، ماہیشوری ، کوماری ، ویشنوی ، باراہی ، نارسنگھی اور ایندری کی ان سات شکتیوں کو ماترکا کہتے ہیں ۔ کچھ خوفناک اور غضبناک شکتیاں بھی ایجاد کی گئیں ۔ ان میں کالی ، کرالی ، کاپانی ، چامنڈٓ اور چنڈی ، بھوانی زیادہ مشہور ہیں اور ان کا تعلق کاپالکوں اور کالامکھوں سے ہے ۔ کچھ ایسی شکتیوں کی بھی ایجاد ہوئیں جو نفس پروری کی طرف لے جانے والی ہیں ۔ ان دیویوں میں انند بھیروی ، تری پور سندری اور للتا وغیرہ زیادہ مشہور ہیں ۔ ان کے ماننے والوں کے خیال میں شیو اور تری پور سندری کے اختلات سے دنیا وجود میں آئی ہے ۔ ان کے مطابق ناگری رسم الخط کے پہلے حرووف سے شیو اور آخری حروف سے تری پور سندری مراد ہیں ۔ اس طرح دو حروفوں مل کر اختلات کا اشارہ کرتے ہیں ۔

  گنیش اور اس کی ماں امیکا کی پوجا کا تذکرہ ملتا ہے مگر چوتھی صدی سے پہلے کی گنیش کی کوئی مورتی ملی ہے اور نہ ہی کوئی کتبہ ملا ہے ۔ ایلورا کے غاروں میں دوسرے دیوتاؤں کے ساتھ گنیش کی مورتیاں ملیں وہ بعد کی ہیں ۔ نویں صدی کے گھٹیالا کے ستون میں گنیش کی چار مورتیاں ملی ہیں ۔ گنیش کے منہ پر سونڈ کب لگائی گئی اس بارے معلومات نہیں ہیں ۔ مگر ایلورا اور گھتیالے کی کی موتیوں پر سونڈ بنی ملی ہے ۔ مالتی مادھو ناٹک میں گنیش کی سونڈ کا ذکر ہے ۔ 

اسکند یا کارتکیہ کی پوجا بھی قدیم زمانے سے پوجا جاری ہے ۔ رامائن میں اسے کنگا کا بیٹا کہا گیا ہے اور بعد میں یہ شیو اور پاربتی کا بیٹا مشہور ہوگیا ۔ یہ دیوتاؤں کی فوج کا سپہ سالار ہے ۔ پتنجای نے مہابھاشیہ میں شو اور اسکندر کی مورتیوں کا زکر کیا ہے ۔ کنشک کے سکوں پر اسکند ، مہاسین آدی کمار کے نام ملتے ۔ ہیمادری کے ورت کھنڈ میں اسکند کی پوجا کا حال ملتا ہے اور یہ پوجا آج بھی جاری ہے ۔ 

برصغیر میں سورج کی پوجا کا رواج بھی رہا ہے ۔ سورج کو ایشور کا روپ مانا جاتا تھا اور اس کا درجہ بہت اونچا ہے ۔ سورج کی مورتی دو ہاتھوں والی اور دونوں ہاتھوں میں کنول ، سر پر تاج ، سینہ پر زرہ اور پیروں میں گھٹنے سے کچھ نیچے لمبے بوٹ ہوتے ہیں ۔ ہندوؤں کی پوجنے والی مورتیوں میں صرف سورج کی مورتی کے بوٹ ہوتے ہیں ۔ شاید یہ ایران سے آئی ہو ، جہاں بوٹوں کا رواج تھا اور اس کے پجاری مگ ایرانی ہوتے ہیں ۔ پھوشیہ پران میں لکھا ہے کہ سورج کے پیر کھلے نہیں ہونے چاہیے ۔ اس پران میں ہے کہ راجہ سانب جو کرشن اور جامونتی کا بیٹا تھا سورج کی وجہ سے بیماری سے شفا پائی ۔ اس نے سورج کا مندر بنانا چاہا مگر برہمنوں نے نہیں مانا ۔ اس نے ایران سے مگ قوم کے برہمنوں بلوایا ۔ یہ لوگ اپنی پیدائش برہمن کنیا اور سورج سے مانتے تھے اور سورج کی پوجا کرتے تھے ۔ سورج پوجا برصغیر مین کب سے رائج ہے یہ کہنا مشکل ہے ۔ براہ مہر نے لکھا ہے سورج کی مورتیوں کی پوجا مگ قوم کے لوگوں نے رائج کی ہے ۔ البیرونی لکھتا ہے ہندوستان کے تمام سورج مندروں کے پجاری ایرانی مگ ہوتے ہیں ۔ راجپوتانہ میں سورج کے ہزاروں مندر بنے ہوئے ہیں اور ان کے پجاریوں کو سیوک اور بھوجک کہتے ہیں ۔ شیو مندر میں بیل ، وشنو مندر میں گروڑ ان کی سواری ہوتے ہیں ۔ اس طرح سورج مندر میں سرکے سامنے چوکور کھمبے کے اوپر ایک کنول کی شکل کا پیہہ ہوتا ہے ، یہی سورج کی سواری ۔ سورج کے رتھ کو ساتھ گھوڑے گھنچتے ہیں ۔ اسے سپتاشو (سات گھوڑون کا سوار) کہتے ہیں اور کئی مندروں میں سورج کے نیچے سات گھوڑے بھی بنے ہوتے ہیں ۔ ایک مندر میں نیچے سورج بوٹ پہنے ہوئے ہے اور اوپر برہما ، وشنو اور شیو بنے ہوئے ہیں ۔ سورج کا سب سے پرانا مندر منڈسور میں پانچویں صدی کا بنا ہوا ہے ۔ ملتان کا سورج کا مندر مشہور ہے ۔ اسے مہر کلا نے بنوایا تھا اور ہن سورج کی پوجا کرتے ۔ ہرش کے بزرگ بھی سورج کی پوجا کرتے تھے ۔ سورج کے بیٹے ریونٹ کی بھی گھوڑے پر بیٹھی موتیاں ملتی ہیں اور وہ گھوڑوں کا دیوتا ماتا جاتا اور اس کے پیروں میں بھی لمبے لمبے بوٹ ہوتے ہیں ۔

آٹھ دگپالیں اندر ، اگنی ، یم نیرت ، برن ، مرت ، کبیر اور ایش (شیو) کی بھی مورتیں ملتی ہیں ۔ یہ آٹھ سمتوں کے نام ہیں ۔ یہ مندروں میں پوجی جاتی ہیں اور اکثر مندر میں اپنی ترتیب سے لگی ہوئیں ہیں ان سمتوں کی پوجا قدیم ہے ۔ پتنجلی نے اپنے مہابھاشہ میں دھن پتی (کبیر) کے مندر میں مردنگ ، سنکھ اور بانسری بجانے کا زکر کیا ہے ۔ 

اس کے دیوتاؤں کے بعد گرہ ، نچھتر ، صبح ، دوپہر ، شام ، ہتھیارو ، کلی ، یوگوں کی ، راگوں کی بھی موتیاں بنائی گئیں ہیں ۔ آخر میں ہندوؤں کے پانچ پوجنے والے دیوتا سورج ، وشنو ، دیبی ، رودر اور شیو رہ گئے اور ان کی مشترک مورتیاں پنچائتن کہلاتی ہیں ۔ ایسے پنچاتین مندروں میں بھی ملتے ہیں اور گھروں میں بھی ان کی پوجا ہوتی ہے ۔ جس دیوتا کا مندر ہوتا ہے اس کی مورتی وسط میں اور باقی چاروں کی مورتیاں کونوں پر بنی ہوتی ہیں ۔ یہ بھی بدھوں کا رواج ہے اور پہلے بدھ کی پنچائین مورت بنائی گئیں تھیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں