66

ہندو مت

ہندمت کسی ایک مذہب کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف و متضاد عقائد و رسوم ، رجحانات ، تصورات اور توہمات کا مجموعہ کا نام ہے ۔ یہ کسی ایک شخص کا قائم کردہ یا لایا ہوا نہیںہے ۔ بلکہ مختلف جماعتوں کے مختلف نظریات کا ایک ایسا مرکب ہے جو صدیوں میں جاکر تیار ہوا ہے ۔ اس کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ الحاد سے لے کر عقیدہ وحدۃ الوجود تک بلا قباحت اس میں ضم کر لئے گئے ہیں ۔ دہریت ، بت پرستی ، شجر پرستی ، حیوان پرستی اور خدا پرستی سب اس میں شامل ہیں ۔ 
مندر میں جانے والا بھی ہندو ہے اور وہ بھی ہندو ہے جس کے جانے سے مندر ناپاک ہوجاتا ہے ۔ وید کا سننے والا بھی ہندو ہے اور وہ بھی ہندو ہے جس کے متعلق حکم ہے کہ اگر وید سن لے تو اس کے کانوں میں پگلاہوا سیسہ ڈالاجائے ۔ غرض ہندو مت ایک مذہب نہیں ہے بلکہ ایک نظام ہے جس کے اندر عقائد ، رسوم و اور تصورات کی بہتات ہے ۔ اسے ویدی مذہب کی ترقی یافتہ ، توسیع یافتہ اور تبدیل شدہ شکل بھی کہا جاسکتا ہے کیوںکہ وہ مقام جہاں سے یہ پھیلا ہے وہ بہر حال ویدی مذہب ہی ہے ۔ 
ہم نے ویدی مذاہب میں بتایا ہے کہ آریا یہاں آنے کے بعد وہ چند صدیوں میں اپنی زبان بھول گئے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی خصوصیات کھوتے چلے گئے ۔ انہوں نے یہاں کی مختلف قوموں کے تمدنی اثرات ، عقائد اور رسوم کو قبول کرلیا اور ان دیوتاؤں کو بھی جن کی پرستش غیر آریا کرتے تھے اپنے دیوتاؤں میں شامل کرلیا ۔ مگر وہ اپنی انفرادیت اور نسلی برتری کو کھو نے کے لئے تیار نہ تھے ۔ چنانچہ انہوں نے ایک طرف ہر اس جماعت اور مذہب سے ٹکر لینے کی ٹھانی جس نے ان کی عظمت سے انکار کردیا اور دوسری طرف اور اپنی ذاتوں کی بندش کو سخت کرکے عقائد و رسوم کا جال ایسا پھیلا دیا کہ لوگوں کے لئے اس میں سے نکلنا ناممکن ہے ۔ انہوں نے ویدی عہد کی مذہبی کتابوں اور دیوتاؤں کو احترام کے دائرے میں محدود کردیا اور نئی کتابوں کی تصنیف اور نئے دیوتاؤں کی شمولیت سے مذہبی نظام قائم کیا گیا اور اس پر اس پر نئی کتابوںمیں اس نظام کی بنیاد رکھی گئی ۔ دھرم شاشتر اور پران puran میں کو سب سے اہمیت حاصل ہوئی ۔ خرافات ، ضمیات ، عقائد اور رسوم کے لئے پران نے ان کو مواد فراہم کیا اور عملی زندگی کے مطالبات کو دھرم شاشتر نے پورا کیا ۔ برھما ، شیو اور وشنو کو تسلیم کرلیا گیا اور الوہیت کی ان تینوں شکلوں کو تری مورتیTri Murti  کے نام سے موسوم کیا گیا ۔ برھما کو پہلے افضل مانا گیا اور سرسوتی کو جس کی سواری مور ہے اس کی بیوی بتایا گیا نیز اسے علم اور دانائی کی دیوی بتایا گیا ۔ پھر برھما کی عظمت کم کرکے اس کی پرستش روک دی گئی اور وشنو اور شیو کو اس پر فوقیت دے کر اس کی کمتری کا اعلان کردیا گیا ۔ 
ہندو دھرم کی کتابیں 
ہم بتا چکے ہیں کہ آریا اس ملک میں آنے کے بعد چند صدیوں میں اپنی زبان بھول گئے ۔ اس وقت انہوں نے ویدوں کی تفسیر لکھنی شروع کیں جو براہمی کے نام سے مشہور ہوئیں ۔ مگر یہ بھی ناقابل فہم ہوتی گئیں اور تشفقی بخش ثابت نہیں ہوئیں تو انہوںنے ایک نیم مذہبی ادب ویدانگ Vedang کی بنیاد رکھی اور کلپہ Kulpa کے زمرہ میں چار رسالے سروثہ سترہ ، سلو سترہ ، گریہہ سترہ اور دھرم سترہ تصنیف کیے ۔
دھرم سترہ Dhrma Satra 
ہندو مت کی بنیاد جن کتابوں پر رکھی گئی ، ان میں پہلا نام دھرم سترہ کا آتا ہے ۔ اس کو ہندو قانون میں ماخذ کی حثیت حاصل ہے ۔ دھرم Dhrma کے معنی مذہب ، فرائض اور اعمال کے ہیں اور سترہ Satra کے معنی دھاگہ کے ۔ مگر اصطلاحی معنوں میں مقدس کتابوں کی طرف رہنمائی کرنے والے کے ہیں ۔ 
اس نوع کے متعدد کتابیں لکھی گئیں ۔ جن میں چار دھرم سترہ Dhrma Satra جو گوتم Gautama ، بودھایں Baudhyana ، دششت Vashishta اور آپس تمب Apastamaba کی طرف منسوب ہیں اور زیادہ اہم سمجھی جاتی ہیں ۔ ان کی تصنیف چھٹی صدی قبل مسیح کے بعد کی ہیں ۔ ہندو دور کے اوائل میں یہی دھرم سترہ Dhrma Satra قانون کا ماخذ رہیں ہیں اور اجتماعی زندگی میں ان عمل درآمد ہوتارہا ہے ۔
دھرم شاسترDhrma Shstras 
کچھ دنوں کے بعد جب ان آریوں نے جو اپنی خصوصیت کھو کر ہندو اور غیر آریائی بن چکے تھے ۔ یہ محسوس کیا کہ ایک طرف بدھ مت ان کی مذہبی عالم گیریت سے متصادم ہے اور دوسری طرف شودر ان کی نسلی برتری سے نبرد آزمائی ۔ انہوں نے اپنی نسلی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے ایک نیا قدم اٹھایا ۔ انہیں پورا یقین تھا کہ دھرم سترہ وقت کے مطالبہ کو پورا نہیں کرسکتے اور ایسے پرخطر موقع پر اگر کوئی شے انہیں فنا ہونے بچاسکتی ہے تو معاشرہ کی نئی تشکیل ہے جو کہ ذاتوں کی تفریق کی بناء پر کی جائے ۔ چنانچہ انہوں نے دھرم شاسترہ لکھیں ۔
دھرم سترہ
دھرم سترہ جو کہ نثر میں تھیں یہ ان کے برعکس نظم میں ہیں ۔ ان میں سب سے اہم منو Munu ہے ۔ اس کے بعد یجن والکی Yajanavalkya ، وشننو Vishnu ورنارو Narada کی طرح غیر الہامی ہیں ۔ اس لیے ان کو سمرتی Smartiکہا جاتا ہے اور اسی نام سے یہ کتابیں زیادہ مشہور ہوئیں ۔ اس لیے عام طور پر سمرتی کہا جاتا ہے ۔ دھرم شاشترہ کی تصنیف غالباً پہلی صدی عیسوی میں ہوئی ہے ۔ 
اس کے بعد یہی کتابیں ہندو قانون کا ماخذ قرار پائیں اور ان کی تعلیم کے تحت پورے معاشرے کا چلانے کی کوشش کی گئی ۔ عملی زندگی میں منو سمرتی کو اولیت اور فوقیت حاصل ہے ۔ عدالتوں کے اندر اس کے تحت فیصلے ہوتے ہیں ۔ دھرم شاشترہ کی بنیاد ذات پر رکھی گئی تھی اور مقدمہ کے طور پر اس اصول کو تسلیم کیا گیا کہ انسانی آبادی چار ذاتوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ برہمنی Brahman ، کشتری Kshatrya ، ویش Vaisya اور شودر Shudra ۔ ان میں اول الذکر تین دوئج یعنی مرنے کے بعد پھر جنم لیتے ہیں ۔ لیکن شودر کا صرف ایک ہی جنم ہے ۔ دوم ذاتوں میں برہمن کی ذات سب سے اعلیٰ ہے ۔ کیوں کہ برہمانے اسے سر سے پیدا کیا ہے ۔ برہمن بحثیت دیوتا کہ ہیں گو وہ انسانی شکل میں ہیں ۔ ان کے حقوق سب سے زیادہ ہیں ، وہ علم و دھرم کے محافظ ہیں ۔ اس کے وسیلہ کے بغیر فلاح نہیں ہے ۔ 
برہموںکے بعد کشتری ہے جو برہماکے بازو سے پیدا ہوئے ہیں ۔ شجاعت ان کا لازمی صفت ہے اس لیے حکومت کرنے کا ان کو پیدائیشی حق حاصل ہے ۔ اس کے بعد ویش کی ذات ہے اور برہما نے ران سے پیدا کیا ہے اور تجارت و صنعت کے لیے انہیں منتخب کیا ہے ۔ شودر کا درجہ سب سے آخر ہے ۔ انہیں تینوں ذاتوں کی خدمت کے لیے پیدا کیا گیا ، کیوں کہ انہیں برہمانے پیر سے پیدا کیا ہے ۔ 
پرانPuran 
 اس کے بعد پران کا درجہ ہے جو تعداد میں اٹھارہ ہیں ۔ ان کے علاوہ دو اور پران ہیں اس طرح یہ تعداد بیس ہو جاتی ہیں ۔ ان کتابوں کے عنوانات یہ ہیں۔  
(۱) تخلیق کائنات یعنی کائنات کس طرح وجود میں آئی ۔ 
(۲) کائنات کی تخلیق نو یعنی یوگ Yuga چکر کے بعد مہایوگ Maha Yuga شروع ہوتا ہے ۔ اس سے پہلے تین یوگ ست یوگ Sata Yuga ، ترتیا یوگ Yhrat Yuga اور دواپر یوگ Dwapar Yuga گزر چکے ہیں ۔ اب آخری یوگ کالی یوگ Kaly Yuga چل رہا ہے ۔ ہر یوگ تنتالیس لاکھ سال کا ہوتا ہے ۔ 
(۳) دیوتاؤں کے نسب نامے جو خترافات پر مبنی ہیں ۔
(۴) دنیا کے ادوار اور ان پر دیوتاؤں کی حکومت ۔
(۵) بادشاہوں کے نسب ناموں کے متعلق ۔ 
ہندو مت کے فرقے
ہندو مت کے چھ اہم فرقے ہیں ۔ 
(۱) وشنوی Vishnavas 
(۲) شیوائی Shivas 
(۳) شکتائیShaktas 
(۴) گناپتیGana Patas 
(۵) سورپتھی Sura Patas 
(۶) سمرتھیSmarthas ۔
وشنویVishnavas  
یہ فرقہ وشنو کو رب اعلیٰ کائنات کا محافظ اور رزاق مانتا ہے ۔ وشنوکو چار بازوؤں کے ساتھ مقدس جوہرات کوس توبھ Kaustubha پہنے تخت پر بیٹھے دیکھایا جاتا ہے ۔ یہ ایک عقاب گروڈ Garuda پر سوار ہے جس کو بھی انسانی شکل میں پیش کیا جاتا ہے ۔ اس کی بیوی لکشمی Lakshmi ہے جو دولت کی دیوی ہے جو مودبانہ اس کی خدمت میں رہتی ہے ۔ لکشمی کی سواری مور ہے ۔ وشنو کے ماننے والے لکشنی ، گروڈ ، مور اور ہنومان کی پرستش بھی کرتے ہیں ۔ وشنو سمندر کی گہرائی میں ہزار سر والے سانپ سیسSesa پر سویا رہتا ہے ۔ جب کوئی کائنات کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے تو پھر جاگتا ہے ۔ چنانچہ کائنات کو بچانے اور برائیوں سے بچانے کے لئے مختلف مواقع پر اس نے نو بار جنم لیا ہے اور ایک بار جنم لینے والا ہے ۔ جوحسب ذیل ہیں ۔ 
(۱) متسیا Marsva : اس نے مچھلی کی شکل اختیار کرکے ایک سادھو مانو Manu کی مدد کی تھی ۔
    (۲) کرُم Kurma : اس نے کچھوے کی شکل اختیار کرکے مندھر Mandhara پہاڑ جو سمندر میں غرق ہو رہا تھا اپنی پیٹھ پر اٹھایا ۔
(۳) ورہ Varaha : اس نے ہیرنیکش Hiranyaksha دیو کو مارنے کے لئے سور کا جنم لیا تھا ۔
(۴) نرسمھNarasimha  : نے نیم انسانی شیر کی شکل میں ہیر نیکسپیو Hiraniakasipou دیو جس نے خدائی کا داعویٰ کر کے وشنو کی پوجا سے روک دی تھی قتل کیا ۔ 
(۵) وامن Vamana : ایک حکمران بالی Bali نے آسمان پر قبضہ کر کے دیوتاؤں کو جلاوطن کردیا تھا ۔ اس نے ایک بونے کی شکل میں جنم لے کر اسے باہر کیا ۔   
(۶) پرسورام Parsurama: جب کشتریوں نے برہمنوںپر ظلم کرنا شروع کردیا تو اس نے پرسورام کا جنم لیا اور ایکس حملوں میں تمام کشتریوں کو قتل کیا ۔ 
(۷) دسرتھ رام Dasrathrama: ساتویں مرتبہ اس نے رام کی صورت میں جنم لیا اور لنکاکے راجہ جس نے سیتا کو اغوا کرلیا تھا قتل کیا ۔ یہ قصہ رامائن میں پیش کیا گیا ہے ۔ 
(۸) کرشنا Krishna : آٹھواں جنم اس نے کرشنا کی صورت میں مہابھارت کی جنگ میں حصہ لیا تھا ۔ 
(۹) بدھ Budha : نواں جنم اس نے بدھ کی شکل میں لیا تھا اور اپنے عقیدت مندوں کو جاچنے کے لئے ایسی تعلیم پیش کی جو وشنوی تعلیم سے مختلف تھی ۔ جو راسخ عقیدہ تھے وہ ثابت قدم رہے اور جن کے دلوں میں کھوٹ تھا وہ گمراہ ہوگئے ۔ 
(۱۰) کالکی Kalki : وشنو کا دسواں اور آخری جنم ہے ۔ جب دنیا برائیوں کے آخری کنارے تک پہنچ جائے گی تو وہ کالکی کی شکل میں ایک گھوڑے پر سوار تباہی کی تلوار لئے آئے گا اور دنیا کو برباد کر کے ایک نئی دنیا آباد کرے گا ۔ 
یہ فرقہ مزید ذیلی فرقوں میں بٹا ہوا ہے اس کی اہم کتابیں ہری ومس Harivamsa اور وشنو پران ہیں اور یہ بھگتی کو مکتی کو اہم ذریعہ سمجھتا ہے ۔ 
 شیوائی
یہ فرقہ شیو کو رب اعلیٰ مانتا ہے اور اسے تخریب و تعمیر کا دیوتا سمجھتا ہے اور اسے مہا یوگ اور مہادیو بھی کہتے ہیں ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ غیر آریائی دیوتا ہے جس کی پوجا وادی سندھ میں ہوتی تھی ۔ اس کی بیوی پاروتی Parvati ہے جو مختلف روپ کی وجہ سے درگا Durga ، کالی Kali اور اُما Uma پاروتی Parvati کے ناموں سے مشہور ہے ۔ پاروتی سے شیو کے دو بیٹے پیدا ہوئے ایک گنیش Ganesh اور دوسرا کارٹیکیا KartiKeya جو جنگ کا دیوتا مانا جاتا ہے اور اس کا نام سکندہ Skanda بھی بتایا جاتا ہے ۔ 
شیو کے پجاری شیو کے علاوہ پاروتی اور اس کے بیٹوں خاص کر گنیش جو ہاتھی کا سر رکھتا ہے ۔ اس کے علاوہ نندی Nandi (شیو کی سواری کا بیل) کی پوجا کرتے ہیں ۔ ہندؤں میں جو لنگ Linga اور یونی Yoni پوجا ہوتی ہے وہ بھی شیو اور کالی Kali کے متعلق ہیں ۔ اس فرقہ کی اہم کتاب وایو پران Vayu puran ہے ۔ یہ فرقہ علم کو نجات کا ذریعہ مانتا ہے ۔ یہ فرقہ بھی بہت سے ذیلی فرقوں میں بٹا ہوا ہے ۔  
 شکتائیShaktas
یہ فرقہ شکتی کی پوجا کرتا ہے ۔ اس کا عقیدہ ہے کہ شکتی Shaktas مونث ہے اور وہ ایک عورت کی حثیت سے تشخیص کی جاسکتی ہے ۔ وہ نسوانی شکل میں رب اعلیٰ ہے اور وہ اسے درگا Durga ، کالی Kali اور بھوانی Bhavani کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور اسے شیو کی بیوی مانتے ہیں ۔ ان کے عقیدے کے مطابق شیو کی بیوی بنے سے کالی یادرگاہ کے قادر مطلق ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ شکتی مزکورہ کی مختلف شکلوں میں کالی بہت مشہور ہے ۔ اس کو سیاہ رو ہاتھی جیسے دانت نکالے اور منہ کو خون سے سرخ کئے دیکھایا جاتا ہے ۔ اس کا دوسرا روپ بھوانی اب ٹھگوں کی دیوی ہے ۔ 
اس کے دو بڑے فرقے ہیں ۔ ’دکشن مرگ Dakshin Margis‘ یعنی دائیں بازو کے پوجنے والے اور ’دام مرگ Vama Margis‘ یعنی بائیں بازو کے پوجنے والے ۔ یہ ایک خفیہ فرقہ ہے جو ان کے نزدیک پانچ ’م‘ نجات کا ذریعہ ہیں ۔ یعنی مادی Madva (شراب) ، متسیا Marsva (مچھلی) ، مانس Mansa (گوشت) ، مدر Mudra (اناج) ، میتھون Maithuna (جنسی اختلاف) ۔ ان لوگوں میں ایک مذہبی رسم ہے جسے یہ چکر پوجا Chakra Puja کہتے ہیں ۔ اس پوجا میں اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری عورت سے اختلاط کرنا کار ثواب سمجھا جاتا ہے اور وہ عورت ہمیشہ کے لئے اس کی رومانی بیوی بن جاتی ہے ۔ اس فرقہ کی اہم کتابیں تنتراTantras  ہے ۔ یہ ہری مس Harivamsa اور مارکنڈیہ پران Markandiva puran کو بھی اہمیت دی جاتی ہے ۔ 
 گناپتی Gana Patas
یہ فرقہ گنیش Ganesh کو رب اعلیٰ مانتا ہے اور اس کو فہم و تدبر کا دیوتا سمجھتا ہے ۔ گنیش کو ہاتھی کے سر کے ساتھ دیکھایا جاتا ہے ۔
 سورپتھیSura Patas
یہ سورج کو دیوتا مانتا ہے اور طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت اس کی پوجا کرتا ہے ۔
  سمرتھیSmarthas
 یہ وسیع النظر فرقہ ہے اور ہر دیوتا پر اعتقاد رکھتا ہے اور اپنی خواہش اور ضرورت کے تحت اس کی پوجا کرتاہے ۔
پرستش کے دیوتا 
پرستش کے لئے ہندو تین دیوتاؤں کے قائل ہیں ۔ پہلا گرام دیوتا Gram Devata ، یعنی بستی کا دیوتا ، دوسرا کولا دیوتا Kula Devata یعنی خاندان کا دیوتا ، تیسرا اشتاد دیوتا Ishta Devata یعنی ذاتی دیوتا ۔ اس طرح ایک ہندو کا گرام دیوتا گنیش ، کولا دیوی لکشمی اور ذاتی دیوتا نندی ہوسکتا ہے ۔ گرام دیوتا مندروں میں خاندانی اور ذاتی دیوتا گھروں میں رکھے جاتے ہیں ۔ ان تین دیوتاؤں کے علاوہ ہر ہندو دوسرے بہت سے دیوتاؤں کو حسب مواقع پر پوجتا ہے ۔ درگاہ پوجا کے موقع پر درگا کو ، گنیش چیرتھی Ganesh Chaturthi کے موقع پر گنیش کو ، کرشن کے جنم اشمٹی Janamashtami کے زمانے میں کرشن Krishna کی ، دیوالی کے موقع پر لکشمی کو اور شیواتری میں شیواکی پرستش کی جاتی ہے ۔
ہند مت کے یہ اہم دیوتا ہیں مگر ان کی فہرست بہت لمی ہے اور ان کی تعداد ۳۳ کروڑ بتائی جاتی ہے ۔ اس لئے ان سب کا جائزہ لینا آسان نہیں ہے ۔ مختصر یہ ہے کہ تمام اہم اور غیر اہم بے شمار دیوتاؤں کے علاوہ بے شمار جانور مثلاً ہاتھی ، سانپ ، گھڑیال ، شیر ، مور ، ہنس ، طوطا اور چوہا وغیرہ مختلف دیوتاؤں کی طرف سے منسوب ہونے کی وجہ سے مقدس سمجھے جاتے ہیں اور ان کی پوجا ہوتی ہے ۔ جانوروں میں سب سے اہم گائے ہے ۔ ان کے علاوہ درختوں میں پیپل ، انجیر ، تلسی اور ببول اور دریاؤں میں گنگا کو خاص اہمیت حاصل ہے اور اسے مقدس اور پوجا کی جاتی ہے ۔
ہندو مت کے عقائد اور رسوم
ہندو مت کا پہلا عقیدہ مخلوق پرستی ہے جس کی تفصیل گزر چکی ہے ۔ اس کے علاہ کرم Karma و تناسخ کا عقیدہ ہے جسے بہت اہمیت حاصل ہے ۔ کرم کے عقیدے کے مطابق ہر عمل چھوٹا بڑا ، اچھا برُا انسانی روح پر اثر انداز ہوتا ہے اور انسان اپنے عمل (کرم) کے لحاظ سے سزا اور جزا کا عمل مستحق ہوتا ہے ۔ یعنی کرم کے مطابق اچھا یا برُا جنم لیتا ہے 
ان کا دوسرا عقیدہ تناسخ (آرواگون یا سمسار Arvagona or Samsara) کے متعلق ہے جو ویدی عہد میں کچھ مبہم تھا ۔ پھر بھاگود گیتا Bhagod Gitta  میں کرشن نے متعدد جنم کی تعلیم دے کر اس کے لئے مواد فراہم کیا ۔ یہاں تک ہندو عہد میں پوری طرح مستحکم ہوگیا ۔ اس عقیدے کے مطابق انسان کو صرف ایک زندگی نہیں ملتی ہے اور اسے مرنے کے بعد اسے کرم کے مطابق دوبارہ جنم لیتا ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور ہر موت کے بعد اس کا اعمال نامہ یامہ Yama یعنی موت کے دیوتا کے سامنے پیش ہوتا ہے ۔ جو اسے جانچتا ہے اور روح کو صفائی پیش کرنے کا حکم دیتا ہے اور پھر روح کو اس کے اعمال کے مطابق نرک یا کمنٹھ Nark or Kuntha میں کچھ دنوں کے لئے بھیج دیتا ہے ۔ جب یہ معیاد ختم ہوجاتی ہے تو اسے دوبارہ جنم لینے کے لئے بھیج دیتا ہے اور یہ چکر اس وقت تک چلتا رہتا ہے ۔ جب تک انسان اچھے اور معقول اعمال کا ذخیرہ کرلیتا ہے تو اس کی مکتی نہیں ہوجاتی ہے ۔ مگر مکتی (نجات) کیا ہے معلوم نہیں ہے ۔ 
ہندو رسوم میں یجنہ یا یگینہ Yajna یعنی قربانی کو بہت اہمیت حاصل تھی ۔ یہ آریاؤں کی رسم تھی جو ہندو عہد تک جاری رہی ۔ مختلف راجاؤں کے عہد میں گھوڑے کی قربانی (اشومید) کا تذکرہ ملتا ہے ۔ اوائل میں آدمی کی قربانی بھی رائج تھی ۔ جانوروں کی قربانی کو اہمیت حاصل ہے اور آج بھی کالی پر سیکڑوں بھینسے چڑھائے جاتے ہیں ۔ ہون (الاؤ) ہر دیگیہ کا ضروری سمجھا جاتا ہے ۔ 
ستی بھی مذہبی رسم تھی اور ہندو عہد میں رائج رہی ۔ اس کے علاوہ روزانہ غسل کرنا ، صبح شام سورج کی پوجا کرنا ، مقدس مقامات کی زیارت کرنا اور دیوتاؤں کے سامنے ناچنا گانا اہم مذہبی رسوم ہیں ۔ 

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں