50

ہنومان

رامائن کا ایک اہم کردار اور سری رام کا مدد گار ساتھی اور رامائن میں اس کا کردار رام کے بعد اہم ہے ۔ سری رام نے اسی کی مدد سے سیتا کو لنکا کے راجہ راون کے پنجے سے چھڑایا تھا ۔ رام کے مندر میں ہنومان کی مورتی ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے مندر بھی بنائے جاتے ہیں ۔ وہاں ہنومان جی کی بطور دیوتا کے کی جاتی ہے ۔ ہندوؤں کے نذدیک یہ شخصیت بڑی سحر انگیز ہے ، اس کا بڑا احترام کرتے ہیں اور اسے مہابلی ہنومان جی پکارتے ہیں ۔ رام کے ماننے والے اس تصویریں اپنے گھر اور دوسرے مقامات پر آویزاں کرتے ۔
ہنومان ہنومت بھی کہلاتا ہے ۔ یہ انجنی رانی کے بطن سے پیدا ہوا اس کا باپ بندروں کا راجہ تھا ۔ اس نے دوسرے بندروں کے ساتھ مل کر سری رام کی مدد کی تھی اور احسن طریقے سے ویئتوں (راکش) کو نست و نابود کیا تھا ۔ رامائن میں اس کا قد مینار کی مانند بلند ، رنگ اس کا زرد و سرخ اور سونے کی مانند روشن تھا ۔ چہرہ لعل کی طرح سرخ ، دم جس میں نے شمار بل پڑے ہوئے لمبی اور جس کو چاہتا تھا دم سے گرفت میں لے لیتا ہے ۔ یہ پہاڑ کی طرح کھڑا ہوکر بادلوں کی طرح گرجتا تھا ۔ اس کے اوصاف اور خدمات دیوتاؤں کے مثل ہیں اور انسانی طاقت سے باہر خیال کئے جاتے ہیں اور اس کا مقابلہ راون سے کیا جاتا ہے ۔ اس کے کارناموں میں ایک چھلانگ میں بھارت سے سمندر پار کرکے لنکا پہنچنا ، کوہ ہمالیہ کو اٹھا کر لے آنا ، اڑتے بادلوں کو پکڑنا ، بڑے بڑے درختوں کو جڑ سمیت اکھاڑنا ، یہ آسمان پر بادلوں کے درمیان نہایت تیزی سیر اڑتا تھا ۔ اس کے کارناموں میں اس نے ان دیئتوں کو قتل کیا جو کہ دیوتاؤں تنگ کرتے تھے ۔ اس نے کال نیمی اور دوسرے بہت سے گندرھروں کو اس نے ہلاک کیا ۔ مہراؤں راکش پاتال کے راجہ کو ہلاک کیا اور اس کے بیٹے دہوج کو وہاں کا راجہ بنایا ۔ اس کے علاوہ اور بھی بڑے عجیب و غریب کارنامے اس سے منسوب کئے جاتے ہیں ۔ اس لیے اسے بھی اوتار مانا جاتا ہے ۔
سری رام جی کے لیے اس کی بڑی خدمات ہیں ۔ راون جب سیتا کو اٹھا کر لے گیا تو سری رام کو سیتا جی کے بارے معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں ۔ رام جی اور لکشمن جی سیتا کی تلاش میں جنگل میں مارے مارے پھر رہے تھے کہ راستہ میں کنفڈرا راکش سے ٹکراؤ ہوگیا اور کنفڈرا مارا گیا اور اس نے مرنے سے پہلے رام جی کو مشورہ دیا کہ سیتا کی تلاش کے لیے بندروں کے راجہ سگریو سے مدد حاصل کریں ۔ رام جی کو آگے راستہ میں سگریو اور ہنومان ملے ۔ ہنومان سگریو کا وزیز اور فوج سپہ سلاار تھا ۔ اس نے ہی لنکا جاکر سیتا کا پتہ لگایا اور لنکا کو جلا کر سری رام کو اطلاع دی ۔
ہنومان جی نے سیتا جی کو دھونڈا اور سری رام جی کا خط ان تک پہنچایا ۔ پھر اس نے راون کے باغ کو تباہ و برباد کر دیا ۔ وہاں اسے دیکھ لیا گیا تو اس نے خاموشی سے اپنی گرفتاری دے دی ۔ راون اور دوسرے ویئتوں نے ہنومان جی کی دم پر روئی باندھ کر تیل میں چمڑ کر آگ لگادی کہ ہنومان جی جل مریں ۔ مگر یہ الٹا ان کے گلے پڑھ گیا اور ہنومان جی نے دم میں لگی آگ سے تمام شہر کو جلا کر خاک کر دیا اس لیے لنکا کا نام لنکا پڑا ۔
سری رام جی نے ہنومان کی بندورں کی فوج کے ساتھ لنکا تک سمندر میں پل باندھا اور جنگ برپا ہوئی ۔ ہنومان جی نے اس جنگ میں زخمی ہونے والے اپنے ساتھی بندروں کے لیے کوہ ہمالیہ سے جڑی بوٹیاں لے کر آیا تھا ۔ جن کے لگانے سے زخمی بندروں کے زخم ایک دم صحیح ہوگئے اور جس سے وہ دوبارہ لڑنے کے قابل ہوگئے ۔ لکشمن جی لڑائی میں صدمہ پہنچنے سے بہوش ہوگئے تھے اور ہوش میں نہیں آرہا تھا تو ہنومان جی کوہ ہمالیہ سے جیون بوٹی لائے جس سے لچھمن جی ہوش میں آئے ۔ جنگ کے نتیجہ میں راون مع اپنے بیٹوں کے مارا گیا اور لنکا پر رام جی کا قبصہ ہوگیا اور سیتا جی آزاد ہوئیں ۔ ہنومان سری رام جی کے ساتھ اجودھیا آیا تھا اور سری رام کی اس نے جس طرح مدد کی تھی اس کا اسے صلہ یہ ملا کہ یہ غیر فانی ہو کر دیوتا بن گیا ۔ ہندوئوں کا عقیدہ ہے یہ اب بھی زندہ ہے ۔
اس کے ناموں مرت پتر یعنی ہوا کا بیٹا ، یدری ، ماروتی ، مادری اور آنج نیہ ہیں ۔ یہ طاقت اور جادو یا سحر میں کامل تھا ، اس لیے اس کا نام یوگ چر کہلاتا ہے نیز رجن دیولی بھی اسے کہا جاتا ہے ۔
ہنومان دیا کرن یعنی صرف ونحو کا ماہر اور بڑا عالم تھا ۔ دیا کرن کے عالموں میں اس کا نمبر نواں ہے ۔ رامائن میں اس کے علم و فضل کی پڑی تعریف کی گئی ہے ۔

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں