88

ہن Hunes

پس منظر
ہن یا ہون نیم وحشی قبیلے تھے اور ان کا اصل وطن سائبیریا کا صحرائی علاقہ تھا ۔ جس کو اسٹپس کا میدان Land of Stepe کہتے ہیں ۔ جہاں آبادی میں اضافہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے وطن میں خوراک ملنا مشکل ہوگئی ۔ چنانچہ ان قبیلوں نے دوسرے علاقہ کا رخ کیا ۔ ان کی ایک شاخ سیر دریا یا سیحوںکی طرف بڑھی اور دوسری شاخ دریائے اتل (والگاValga ) کے راستہ یورپ میں داخل ہوگئی جہاں ہنوںنے ایک وسیع حکومت قائم کی تھی ، ان کا مشہور سردار اٹلا Atila تھا ۔ جس نے یورپ میں تباہی مچادی تھی ۔ اٹلاکی موت 453ء میں ہوئی اور اس کی موت سے یورپ میں ہن مملکت کو زبردست صدمہ پہنچا اور ہن مملکت کا ذوال شروع ہوگیا ۔ ہن قوم جو ہیاطلہ Haytals یا سفید ہن With Hun اور رومی ہفالت Ephthalites ، چینی یزاYetha کے علاوہ چیونی اور اپنے حکمران کے نام سے یققلی کہلاتے تھے ۔
انہیں ہیپھتھال اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کے کم از کم تین بادشاہوں کے نام ہیپھتھال تھا ۔ مغربی دنیا میں سب سے پہلے پروکوپس نے توجہ دی ۔ اس کا کہنا ہے کہ ہن خانہ بدوش نہیں تھے وہ اس سے بہت پہلے زرعی اراضی پر آباد تھے اور انہوں نے ایران کے ساتھ مل کر روم پر حملہ کیا ہے ۔ 
بی ایس ڈاہیا کا کہنا ہے کہ ہونگ نو (ہن) منگولی نہیں تھے ان خد و خال آریائی تھے اور یہ بات ان کے سپاہیوں کی تصاویر سے ظاہر ہے جو چینیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے ۔ ان کا رنگ ، لمبی ستواں ناک اور گھنی ڈراھیاں تھیں ۔ چہرے کا زاویہ اور چپٹی ناک جو منگولی نسل کا خاصہ ہے ہنوں کے ہاں نہیں ملتے ہیں ۔ 
افغانستان میں نفوذ
ہن افغانستان میں یوچییوں کی چھوٹی شاخ کے ساتھ آئے تھے ۔ جب یوچی خورد کے بادشاہ نے اپنی فتوحات کا دائرہ کوہستان ہندوکش کے جنوب تک بڑھایا اور کابل ، غزنی ، گندھارا کے علاقے اپنی مملکت میں شامل کئے ، تو ہنوںکا ایک قبیلہ غزنین کے علاقے میں آباد ہوگیا ۔ یہ ہنوں کی اپنی مملکت کی تشکیل کی ابتدائی کوشش تھی ۔ کیدار نے جب آزادی کا حق منوانے کی کوشش کی تو اس کے نتیجے میں شاپور سے ازسرنو تصادم ہوا اور میں کیدار کی مملکت چھن گئی اور خود بھی مارا گیا ۔ اس جنگ میں ہنوں نے شاپور کا ساتھ دیا تھا ۔ اس کے نتیجے میں باختریہ کی مملکت ہنوں کے قبضہ میں آگئی ، جو اپنے حکمران خاندان کے نام پر یققلی کے نام سے معروف ہوئے ۔ 
400ء عیسوی کے قریب کوہ ہندوکش کے شمال و جنوب کی سرزمین ہنوں کے قبضہ میں آچکی تھی ۔ جنہیں ہندوکش کے سلسلہ کوہستان نے دو حصوں میں تقسیم کررکھا تھا ۔ مگر زابلی شاخ شمالی شاخ کی برتری تسلیم کرتی تھی اور دونوں ریاستیں ساسانیوں کی باج گزار تھیں ۔ ساسانی جب تک طاقتور رہے ہن ساسانیوں کے باج گزار رہے ۔ پانچویں صدی عیسوی میں ہنوںنے دیکھا ایران رومیوں کے طویل عرصہ تک رزم و پیکار اور کوہ قاف کے دروں کی وحشی قبائل کے مقابلے میں ان کی حفاظت مشکلات کا باعث ہو رہی ہے ، تو ایرانی اقتدار کا جوا اتارنے کے لئے ہاتھ پیر مارنے لگے اور انہوں نے خراسان پر حملہ کردیا ۔ لیکن بہرام گورنے نہایت مستعدی سے ان کا مقابلہ کیا اور انہیں مرو کے قریب ایسی شکست دی کہ ہن بہرام کی زندگی میں سراٹھانے کی ہمت نہیں کرسکے ۔ 
ایرانیوں پر غلبہ
بہرام گور کی موت کے بعد یزدگرد جانشین ہوا تو ہنوں نے نہ صرف خود مختیاری حاصل کرلی بلکہ ایران پر حملے شروع کردیئے ۔ یزدگرد کی موت کے بعد اس کا بیٹا ہرمزد تخت نشین ہوا ، مگر اس کے دوسرے بیٹے فیروز نے نہیں مانا اور مدد لینے کے لئے ہنوں کے پاس پہنچ گیا اور ان سے مدد حاصل کرکے ایک لڑائی میں ھرمز کو قتل کردیا اور ساسانی تخت حاصل کرلیا ۔ فیروز نے ہنوں کو ایک خظیر رقم دینے کا وعدہ کیا تھا ، مگر فیروزنے تخت حاصل کرنے کے بعد ایفائے عہد سے انکار کردیا ۔ اس پر ہنوںنے ساسانی سلطنت کے مشرقی حصہ کو تاراج کرکے اجاڑ دیا ۔ فیروز نے کوشش کی کہ ہنوں کی اس سرکش کی روک تھام کرے ۔ مگر وہ ناکام رہا اس لئے مجبوراََ ایک خطیر رقم کے بدلے فیروز کو ہنوں سے صلح کرنی پڑی ۔ مگر یہ صلح دیرپا ثابت نہیں ہوئی اور ہنوں کے حملے دوبارہ شروع ہوگئے ۔ فیروز 482ء میں وہ ایک لشکر لے کر گیا اور فیروز اور ہنوںکے درمیان بلخ کے قریب جنگ ہوئی ، اس جنگ میں ساسانیوں کو شکست ہوئی اور فیروز ماراگیا ۔ فیروز کے جانشین بلاش نے خراج کی ادائیگی پر صلح کرلی اور ہنوں کو ایک خظیر رقم سالانہ دینا منظور کرلیا اور اس طرح ہن ساسانیوںکے باج گزار کے بجائے ساسانیوںسے خراج لینے لگے اور ساسانیوں نے نصف صدی سے زائد عرصہ تک ہنوںکو خراج دیا ۔
ترکوں کا ہنوں پر غلبہ
531ء میں نوشیرواں عادل ساسانی خاندان کا سب سے نامور حکمران ہوا ۔560ء میں وسط ایشیاء کی بساط پر ایک نئی قوم نمودار ہوئی ، یعنی ترکوں کی مغربی سلطنت جس کا حکمران ایل خان تھا ۔ نوشیروان نے اس سے دوستانہ تعلقات قائم کرلئے اور ترکوں کی مدد سے ہنوں پر حملے کئے ، جس میں ان کا سردار مارا گیا اور انہیں شکست ہوئی اور ان کی مملکت کا خاتمہ ہوگیا ۔ مگراس علاقے پر ترکوں کا اثر و رسوخ قائم ہو گیا ۔ 
برصغیر پر حملہ
ہنوں کی جنوبی یعنی زابلی سلطنت جو انہوں نے کشن حکمرانوں کو شکست دے کر حاصل کی تھی ۔ وہ کشنوں کو شکست دے کر برصغیر میں داخل ہوگئے اور ۴۵۸ عیسوی میں انہوں نے پہلی مرتبہ گپتا مملکت پر حملہ کیا ۔ شروع میں سکندا گپت نے بڑی حد تک ان کا مقابلہ کیا اور انہیں کامیابی سے روک لیا ۔ لیکن ہنوں کے نئے نئے گروہ برابر آتے رہے اور آخر کار گپتا مملکت میں داخل ہوگئے ۔ ان لڑائیوں کی تفصیلات تو نہیں ملتی ہیں ، لیکن بیان کیا جاتا ہے کہ سکندا گپت خود اپنے علاقے کے وسط میں ان پر حملہ کیا تھا اور اس کے علاوہ گپتا حکومت کے سکوں کی قیمت گرگئی تھی ۔ اس سے یہ نتیجہ نکالاجاسکتا ہے کہ ہن گپتا حکومت کے وسیع علاقے پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔ 
زابلی خاندان
پانچویں صدی عیسویں میں زابلی مملکت پر ایک نیا خاندان حکمران تھا ۔ اس خاندان کے دو بادشاہوں ٹورامن Toramana اور مہرکلا Miheracula نے برصغیر میں وسیع فتوحات کیں ۔ ٹورامن نے شمال مغربی علاقوں کے وسیع حصے پر اپنی حکومت قائم کی ۔ اس کے سکے اور کتبے ہنوں کی تاریخ کا سب سے بڑا ماخذ ہیں ۔ جو کہ مدہیہ پردیش لیکر شمالی علاقوں اور ایران سے ملے ہیں ۔ اس سے اس کی سلطنت کی وسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔
ہیونگ سانگ نے لکھا ہے کہ گپتا خاندان کے بالادیتہ نے ہون سردار ٹورامن کے حملہ کو روکا اور اس کو شکست دے کر اس کے بیٹے مہر گل Miheracula کو قید کرلیا اور بعد میں اس کو قید سے آزاد کردیا ۔ جب اس نے واپس اپنے دالحکومت پہنچا تو اس کے بھائی نے اسے وہاں داخل نہ ہونے دیا ۔ ناچار یہ کشمیر چلا گیا جہاں کے راجہ نے اس کے گزرے کے لیے ایک جاگیر دے دی ۔ جلد اس نے دھوکہ سے راجہ کو قتل کرکے ملک پر قبضہ کرلیا اور اس نے وہاں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ۔
دارلحکومت
وی اے اسمتھ V A Smith کا کہنا ہے کہ ہنوں کے دارلحکومت کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ بامیان تھا کہ ہرات ۔ مہرگل جب برصغیر کا گورنر تھا تو اس کا دارلحکومت سالہ (سیالکوٹ) تھا ۔ مگر ہنوں کی وسیع مملکت کا دارلحکومت بامیان تھا ۔ چینی مصنف سون لونگ Song long ۵۱۹ عیسوی میں ہرات میں مہر کولا کے دربار میں آیا تھا ۔
ہنوں کا ذوال
ٹورامن کا جانشین مہر کولا (مہر گل) (515ء تا 544ء) حکمران بنا ۔ یہ ایک طاقتور حکمران تھا اور چالیس ملکوں سے خراج وصول کرتا تھا ۔ ہندی روایات میں اسے ایک ظالم حکمران بتایا گیا ہے کہ وہ بنی نوح انسان پر ظلم توڑتا تھا ۔ اس نے اپنے ظلم کا مظاہرہ مقامی لوگوں کے قتل عام سے کیا ۔ اس نے امن پسند بدھوں کو تہہ بالا کرڈالا اور نہایت بے رحیمی سے ان کی خانقاہوں اور اسٹوپوں کو تباہ و برباد کرڈالا ۔ اس کے ظلم و ستم نے مقامی راجاؤں کو اس کے خلاف ایک متحدہ وفاق بنانے پر مجبور کردیا اور اسے قومی وفاق نے پہلے اسے بالادیتہ کی سردگی میں شکست دی اور اس کو بعد میں ۵۳۳ء میں منڈسور کے راجہ یسودھرمن نے اسے مکمل شکست دی ۔ اس کے بعد اس کی حکومت افغانستان تک محدود ہو کر رہے گئی ۔ اس شکست کے بعد مہراکولا زیادہ دیر تک زندہ نہ رہا ۔ 
ہنوں نے وسطہ ہند اور ہند پر تقریباََ دوسو سال حکومت کی ان کے دور میں ہندوستان میں دوبارہ ہندو مذہب کا احیاء ہوا اور بدھ مت کا ذوال شروع ہوا ۔ ہن سورج کی پوجا کرتے تھے ، اس لئے ان کو سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر شیو مہاراج کو اپنانے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی ۔ انہوں نے اپنے جھنڈے پر آنندی (بیل) کی تصویر بنائی تھی ، جو شیو کی علامت تھی ۔ چینی سیاح ہوانگ سانگ ہنوں کے آخری دور 629ء میں برصغیر آیا تھا ۔ اس کے سفر نامے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ علاقہ کئی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا اور یہ ریاستیں ہنوںکی باج گزار تھیں ۔ جب ہنوں کی حکومت کمزور ہوئی تو یہ ریاستیں خود مختیار ہوگئیں ۔ 

خاتمہ
مہر کلاکے مرنے کے بعد جلد ہی افغانستان سے ہنوں کا اقتدار ختم ہوگیا اور ترکوں کے عروج نے ان کی قوت کو زبر دست صدمہ پہنچایا ۔ ترکوں نے ایران کے نوشیروان کے اتحاد سے افغانستان میں ان کے اقتدار کا 563ء تا 567ء کے دوران مکمل خاتمہ کردیا اور کچھ عرصہ تک ساسانیوں نے ہنوںکے کچھ علاقوں پر قبضہ جمالیا ، لیکن ترکوں کی بڑھتی ہوئی طاقت نے سارے افغانستان پر اپنا اقتدار قائم کرلیا ۔ ہنوںکی دونوں سلطنتوں کے خاتمہ کے بعد ان کے امراء کے قبضہ میں علاقہ رہے تھے ۔ مسلمانوں کی آمد کے وقت ان کے بہت سے خاندانوں کی افغانستان میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم تھیں اور ان میں سے بعض چینیوں کو اور بعض ایرانیوں کو خراج ادا کررہے تھے ۔
تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں