105

ہوادانوں کا شہر

کلہوڑوں نے سندھ میں کئی شہر بسائے مگر وہ دریا کی نظر ہوگئے ۔ مثلاًً 1755ء میں میاں محمد مراد یاب سندھ کا حاکم بنا تو اس نے نصر پور کے قریب ایک شہر مراد آباد کے نام سے بسایا تھا ۔ مگر یہ صرف دو سال کے بعد ہی دریا غرق ہوگیا ۔ 1768ء میں حیدرآباد کا شہر آباد کیا گیا ۔ اس وقت تک دریا نے اپنی نئی گزرگا میں گنجو ٹکر کے مغرب میں مستقل طور پر بہنا شروع کردیا ۔ جب کہ حیدرآباد سے چند میل پہلے دریا کی ایک اور شاخ حیدرآباد کے مشرقی سمت سے گزرتی تھی اور یہ پھلیلی کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ شاخ آگے چل کر رین ندی کی گزرگاہ میں داخل ہوجاتی تھی ۔ کلہوڑوں کا بسایا ہوا سب سے اہم شہر حیدر آباد تھا جسے میاں غلام شاہ کلہوڑا نے بسایا تھا ۔ یہ شہر دریائے پران کی متروک گزرگاہ کے بعد گنجو ٹکر پہاڑی میں بسایا ہے ۔ میر شیر علی قانع ٹھٹھوی کی ایک غلط روایت کے مطابق یہاں قدیم زمانے میں نیرون کوٹ آباد تھا ۔ حالانکہ شمس العماء کے خیال میں یہاں راوڑ آباد تھا جس میں بہت حد تک حقیقت بھی ہے ۔ مگر شہر کے اکثر باسیوں کا خیال ہے یہاں قدیم نیرون کوٹ آباد تھا ۔ اس شہر کے قریب ہی شاید پٹارو گوٹھ جہاں نیوی کا ایک کیڈٹ کالج ہے یونانیوں کے مطابق پٹالہ مقام پر آباد تھا ۔

عبدالغنی کلہوڑو نے جب یہاں ایک شہر کی بنیاد رکھی تو یہاں حیدر علی ارغون نے اپنے نام سے ایک گاؤں بسایا تھا ۔ لہذا عبدالغنی کلہوڑو نے اس کا نام حیدر آباد ہی رہننے دیا ۔ یہ شہر کلہوڑوں کے زوال کے بعد ۱۷۸۴ء؁ میں سندھ تالپوروں کے قبضہ میں میں آیا تو اسے انہوں نے اس کے محل وقوع کی اہمیت کی وجہ سے بدستور دارلحکومت رکھا ۔ تالپوروں کے ذوال ۸۴۳!ء؁ تک یہ شہر ان کا درالحکومت رہا ۔ مگر انگریزوں کے سندھ پر قبضہ کے ساتھ یہ شہر بھی انگریزوں کے قبضہ میں آگیا ۔ مگر اس کی دارلحکومت کی حثیت ختم کرکے انگریزوں نے نے سندھ کا صدر مقام کراچی کو بنایا تاہم اس کی اہمیت بدستور رہی ۔ یہیں دریائے سندھ کے دوسرے کنارے پر انگریزوں نے پہلی ریلوے لائین جو کراچی سے آتی تھی تعمیر کی گئی جو پہلے ۱۸۵۶ءمیں ملیر تک ۱۸۵۷ءمیں دھابیجی تک اور ۱۷۶۰ تک کوٹری تک لا کر اسے دریائی بندرگاہ سے ملا دیا ۔ مگر حیدرآباد میں ریلوئے ۱۸۹۰ میں میں آئی تھی جب کوٹری پر دریائے سندھ کا پل تعمیر کیا گیا ۔ لیکن انگریزوں نے اس سے پہلے دریا کے مغربی کنارے پر ریلوے لائن ملتان تک لے گئے اور دوسری طرف کوئٹہ تک لے جاچکے تھے ۔ بعد میں حیدرآباد سے یہ لائن کو بڑھا کر روہڑی لے گئے تھے ۔ جہاں دریا پر پل تعمیر کیا گیا اور اسے سکھر سے ملادیا ۔ انگریز چاہتے تھے اس ریلوے لائن کو وسط ایشیا کی تجارتی راستہ کو ترقی دی جائے اور اسے وسط ایشیا کی تجارت کا مرکز بنائیں ۔ تاہم دریا کے دوسرے کنارے یعنی حیدرآباد میں ریلوے لائین اس وقت بچھائی گئی اور انہوں نے دریا پر پل تعمیر کیا ۔

آزادی کے بعد اس شہر نے تیزی سے ترقی کی ۔ خاص طور پر بھارت سے آنے والے کثیر مہاجرین نے یہاں آباد ہونا پسند کیا ۔ اس طرح یہ شہر دن بدن پھیلتا چلا گیا اور صنعت اور تجارت میں اسے ایک ممتاز مقام حاصل ہوگیا ۔ اس شہر کی خوبصورت شامیں اور راتیں اپنی خنکی کی وجہ سے مشہور ہیں ۔ جو دریا کی جانب سے آنے والی ہوا اس کو رات کو خنک کرتی ہیں ۔ اس لیے یہاں گرمیوں میں دن میں لو چل رہی ہو مگر راتوں میں یہی ہوا ٹھنڈی ہوجاتی ہے ۔ اس لیے اس شہر میں پہلے ہوا دان ہوا کرتے تھے ۔ جس کی وجہ سے یہ شہر ہوا دانوں کا شہر کہلاتا تھا اور یہاں کے باسی کمروں میں ٹھنڈی ہوا کا لطف اٹھاتے تھے ۔ مگر ترقی میں جہاں دوسرے فوائد حاصل ہوئے ان سے بہت سے نقصان بھی ہوئے ۔ اس کی وجہ سے پنکھوں اور اے سی نے ہوادانوں کو بالکل ختم کرکے رکھ دیا ۔ اب بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کسی زمانے میں ہوا دانوں کا شہر کہلاتا تھا ۔ یہ شہر تعلیم کا مرکز بھی ہے اور اس شہر میں کئی یونیورسٹیاں اور کالج قائم ہیں ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں