63

ہوما

قدیم آریا قربانی کے وقت ایک مقدس گھاس کا رس پینا عبادت میں شامل تھا ۔ اس گھاس کا نام سوما Soma اور اوستا میں ہوما Haoma بتایا گیا ہے ۔ یہ غالباََ بھنگ ہے جس کا عرق آج بھی پاک و ہند میں استعمال ہوتا ہے ۔ زرتشتی مذہب میں ہوما کی بڑی اہمیت ہے ۔ اس اہمیت کا اندازہ اس لگایا جاتا کہ جب زرتشت کی اہورا کے سامنے حاضری ہوئی تو وہاں ان کے سامنے ہوما انسانی شکل میں ان کے سامنے آیا تھا جسے انہوں نے پہچان لیا تھا ۔ اوستا میں اس تعریف و توصیف آئی ہے اور اس کی پرستش کا کہا گیا ہے ۔ اس طرح اس کا ایک یشت ہے ۔ جس میں اسے خدا کہا گیا ہے ۔

مگر ساسانی عہد میں ایرانی جو ہوما بناتے تھے وہ دودھ اور ایک پودے کے رس جس کا نام ہذنیپتا تھا ملا کر شربت تیار کیا جاتا تھا اور دیوتاؤں کو چڑھاوے کے طور پر پیش کیا جاتا تھا اور آتش کدے کی مقدس آگ پر چڑھایا جاتا تھا ۔ اس ہوما کو بنانے کے لیے دو خاص موبد متعین تھے پہلا جسے آسنتر کہا جاتا تھا جو ہوم کو چھانتا تھا اور دوسرا جو رئیث ونشکر کہلاتا تھا ۔ اس کا کام ہوم کو دودھ میں ملانا تھا ۔ تاہم ایسے شواہد ملے ہیں کہ قدیم ایرانی خاص کر جشن و تہوار کے موقع پر اس کا استعمال بڑے پیمانے پر کرتے تھے ۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ہوما وہ نہیں ہے جو بعد میں آتش کدوں میں مقدس آگ پر چڑھایا جاتا تھا ۔ یہ غالباً بھنگ ہی تھی اور اس کا ہندوؤں میں بھی مذہبی رسوم میں دیوتاؤں پر چڑھاوے چڑھاتے اور پیا جاتا تھا اور اس کی پرستش کی جاتی تھی اس لیے یہ بھی یزدان میں شامل ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں