89

یات کار زریراں

ایک قدیم پرانی ایرانی داستان ’یات کار زریزاں‘ جو کہ ۵۰۰ عیسوی کے قریب تصنیف ہوئی تھی ۔ یہ کتاب مختصر سی ہے اور اس کا ماخذ قدیم روایات ہیں جو بعد میں فردوسی کے شاہنامہ میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ پیش کیا تھا ۔ یہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ ساسانی بادشاہ اپنے کو دیوتا یا ربانی وجود جو پہلوی میں بغ ، کلدانی میں الااہا اور یونانی میں تھیاس کہتے تھے اور قدیم کیانی خاندان کی اولاد ہونے کے علاوہ اپنے آپ کو حکومت و فرکیانی کا جائز وارث سمجھتے تھے اور اسے اپنے علو ، منصب ہر ممکن ذریعے سے رعایا کے دلوں میں جاگزیں کرتے تھے ۔ فرکیانی ایک طرح کا سکینہ یا آسمانی حق کی مادی صورت تھی ۔ اس کی وجہ سے صرف آل ساسان کو عجمی تاج پہنے کا حق حاصل تھا ۔ ساسانیوں کے خاندان میں اس کے منتقل ہونے کی عجیب روایتیں ہیں ۔ آل ساسان وہ فرمان روا تھے جن کو یونانیوں نے خسرو اور عربوں نے کسری لقب دیا تھا ۔ جو ایران کی دولت قدیم اور زرتشت کے بہ دین کو زندہ کرنے تھے ۔ 
 ساسانیوں کے عہد میں بادشایوں کے آسمانی حق کا نتیجہ جس تمیم اور شد و مد کے ساتھ ایران میں اپنایا گیا غالباٍ اس کی مثال کسی دوسرے ملک میں نہیں مل سکتی ہے ۔ شاہی خاندان کے علاوہ کسی متنفس کی مجال نہیں تھی کہ وہ شاہی لقب اختیار کرلے ۔ اس کی جرت و شرارت کا ایک ایسا فعل سمجھا جاتا تھا کہ جو بالائے فہم تھا ۔ نولڈیکی نے باغی سردار بہرام چوبین اور غاصب شہربراؤ کے حوالوں سے تصریح کی ہے کہ آسمانی حق کے بارے میں اہل ایران کا کیا عقیدہ تھا ۔ 
آسمانی حق کی تعلیم نے ایران کی آئندہ تاریخ پر نہایت وسیع و وقیع اثر ڈالا ۔ مذہب شیعہ یا علی کی ہمنوائی پر ایرانیوں کا اصرار اس کی نہایت بین مثالیں ہیں ۔ جو کہ عربوں کی جمہورت پسندی کے لیے بالکل ایک الگ تصور تھا ۔ جب کہ یہی چیز یا طریقہ انتخاب ایرانیوں کے لیے غیر طبعی اور نفرت انگیز چیز تھا ۔ حضرت عمر نے چوں کہ عجم کو فتح کیا تھا اس لیے ان سے نفرت کرتے تھے اور یہی نفرت تھی اور انہوں نے اسے مذہبی رنگ دے دیا ۔ حضرت علی چوں کے اور آپ کے چچا زاد بھائی تھے ۔ جن کی شادی آپ کی بیٹی فاطمہ سے ہوئی تھی ۔ اس لیے آسمانی وراثت جو اہل ایران کے نذدیک تقدس رکھتی تھی اور یہ جوڑا بھی تقدس کا حامل ہوگیا ۔ اسے مزید تقویت بخشنے کے لیے داستانیں تخلیق کی گئیں ۔ تاریخی حوالے کے بعد یزد گرد کی عمر مارا گیا تھا اس کی عمر اکیس برس تھی ۔ مگر اس کی جوان لڑکی شیر بانو قید ہو کر مدینہ لائی گئی اور حسین بن علی جو خود بھی نو عمر تھے کی شادی اس سے کرادی گئی اور ان کی اولاد یعنی شیعہ یا اسمعیلی ائمہ نہ صرف پیغمبری بلکہ شاہی حقوق و صفات کے وارث ہیں اور پیغمبر عربی سے ان کا خون ملتا ہے اور آل ساسان بھی رشتہ ہوتا ہے ۔ اس تعلق سے ایک سیاسی عقیدہ پیدا ہوگیا ۔ جس کی نسبت محقق گوبی نیو نے کہا ہے کہ ’ایران میں سیاسی تعلیم کا یہ ایک منازعہ فیہ مسلہ ہے کہ صرف بنی علی جائز طور پر تاج و تخت کے مالک ہیں اور یہ اس دوہرے حق سے کہ ادھر وہ آخری تاجدار یزد گرد کی بیٹی شہر بانو کی طرف سے ساسانیوں کے وارث ہیں اور ادھر ملت حقہ کے سراروں یعنی اماموں کی اولاد ہیں ۔ بنی علی کے سوا اور بادشاہ زور بازو سے بادشاہ ہیں نہ استعقاق سے اور کامل مشترع لوگ اس کو غاصب ہی سمجھتے ہیں اور کوئی شخص ان کو سلطنت کا جائز وارث نہیں کرتا ہے ۔ اس لیے اسلام قبول کرنے کے بعد شیعی مسلک ایران میں غالب مسلک رہا ہے ۔ حسین بن علی اور شہر بانو کی شادی کو اہل تشیع ایک تاریخی واقعہ مانتے آرہے ہیں ۔    
بقول پروفیسر برؤن کے شیعی ، بابی ، اسعیلی اور دوسرے فرقوں کو ان عقائد کی باز گزشت کو دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ ایران میں مذہبی اور فلسفی خیالات کا ایک دور ہے جو مقامی طور پر ہمیشہ موجود رہتا ہے اور مناسب محرک کے زیر اثر سے متعدی بن جانے کے لیے ہر وقت آمادہ رہتا ہے ۔ 

تہذیب و تر تیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں