yadoon sy yahood 71

یادو سے یہود

پشتون روایات کا اہم ماخذ نعمت اللہ ہروی کی مخزن افغانی ہے ۔ اس کتاب میں جو نسب نامے دیئے گئے ہیں وہ تاریخی ماخذ کے ططور پر قابل اعتماد نہیں ہیں ۔ تاہم ان روایتوں کے سلسلے میں جو سترویں صدی میں افغانوں میں پھیلی ہوئیں تھیں قابل قدر ہے ۔ ان روایات کے مطابق بیشتر افغانوں کا مورث اعلیٰ قیس عبدالرشید جو ساول یا طالوت کے ایک پوتے افغانہ کی نسل سے تھا ۔

نعمت اللہ ہروی کی کتاب مخزن افغانی کو یہود النسل ماننے والوں کے نذدیک یہ ایک مستند کتاب ہے ۔ مثلاً روشن خان جن کی بہت سی تفصیلات مخزن افغانی سے مختلف ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت میں ایک مستند کتاب ہے اور فاضل مصنف نے اسے پرانی کتابوں سے اخذ کیا ہے اور اسے اس وقت کے افغان مشاہیر اور اکابرین سے استفار و مشورہ اور مکمل تحقیق کے بعد مرتب کی ہے ۔ جب کہ ہم نشاندہی کرچکے ہیں کہ ان کے درمیان کتنا تضاد اور تاریخ سے ماخذ نہیں ہے ۔

آلف کیرو کا کہنا ہے کہ افغانوں کی روایات چھٹی صدی قبل عیسوی میں بنی اسرائیل سے جلاوطنی سے شروع ہوتی ہیں ۔ جو ۵۵۹ ق م سائرس کی تخت نشینی کا سال تھا ۔ اس خاندان کی حکومت ۳۳۱ ق م میں سکندر نے ختم کردی تھی ۔ ان دو صدیوں میں افغانستان صوبہ سرحد اور پنجاب کا کچھ حصہ ایران کی سلطنت کا حصہ رہے اور ان اقوام پر ایرانی تاریخ و تہذیب کے اثرات اسلام کے اثرات سے گہرے اور پرانے ہیں ۔

ڈاکٹر شیر بہادر پنی کا کہنا ہے کہ تمام مورخین کی رائیوں کا نچور یہ ہے کہ افغان بنی اسرائیل ہیں ۔ ان کے قبیلوں پہاڑوں اور دریاؤں کے نام اسرائیل کے بڑے آدمیوں کے نام سے موسوم ہیں ۔ افغانستان اور کشمیر میں بہت سے شہروں کے نام شام کے مواضعات کے نام پر رکھے گئے ہیں ۔ مگر مخزن افغانی کے مترجم برنہاڈ دورن کا کہنا ہے کہ افغان قوم کا اعقاد ہے کہ وہ یہود نسل ہیں اور ان کی رائے کو زمانہ حال کے مورخوں نے بھی اختیار کیا یا صحیح سمجھا اور افغانوں میں رواج ہے کہ یہودیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے ہیں ۔ لیکن اس کی وجہ ان کا مسلمان ہونا ہے ۔

ڈاکٹر شیر بہادر پنی نے انسائیکلوپیڈیا آف اسلام کے حوالے سے طبقات ناصری کا حوالہ دیا ہے کہ شنبانیوں کے دور میں غور کے علاقہ میں ایک قوم تھی جس کو بنی اسرائیل کہا جاتا تھا اور اس کے بہت سے لوگ ملحقہ ملکوں میں دور دور تک تجارت کے لئے جاتے تھے ۔ ہمیں طبقات ناصری میں ایسا کوئی تذکرہ نہیں ملا ۔ اس طرح روشن خان نے سفر نامہ ابن بطوطہ کے حوالے سے غوریوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس قبیلہ کے لوگ جنہیں الغوریہ کہتے ہیں اور یہ لوگ غور شام کی طرف سے منسوب ہیں اور ان کی اصل اسی سے ہے ۔ مگر ہمیں سفر نامہ ابن بطوطہ میں ایسا کوئی حوالہ نہیں ملا ہے ۔ اگر اسے مانا جائے تو اس سے یہ ثابت ہوگا کہ ایک مختصر سے گروہ کی وجہ سے مقامی آبادی اپنے کو یہود نسل کہنے لگے ۔

بنی اسرائیل کی افغانستان میں آباد ہونے کی تمام روایات موضع ہیں اور یہ بعد کی پیداوار ہیں اور قدیم مورخین نے ایسا کوئی ذکر نہیں کیا ہے کہ جس سے پتہ چلتا ہو کہ یہاں یہود آباد تھے ۔ ہاں ایران کے بڑے شہروں میں کچھ یہود ضرور تجارت کے لئے آباد تھے ۔ مگر یہ کوئی قابل ذکر تعداد نہیں تھی ۔ ایرانیوں نے کبھی خود تجارت کی کوشش نہیں کی ۔ ان کی ملکی تجارت غیر ملکیوں جس میں یہود کے علاوہ فنیقیوں ، بابلیوں اور یونانییوں کے ہاتھ میں تھی ۔ ایرانی بادشاہوں نے مواصلات کے لئے بڑی بڑی سڑکیں بنوائیں ۔ اس سے قدرتی طور پر تجارت میں ترقی ہوئی اور ایران کی تجارتی اہمیت بڑھ گئی ۔ مشرقی اور مغربی مملک کے درمیان تجارتی تعلقات ایران کے توسط سے قائم ہوئے ۔

 کیرو کا کہنا ہے کہ اس قوم پر ایرانی اثرات اسلام کے اثرات سے زیادہ گہرے اور پرانے ہیں ۔ مزید اس کا کہنا ہے کہ سفید ہنوں کے خاتمہ اور محمود غزنوی کا زمانہ (چارسو سال) ایران کی مشرقی سرحد تاریخی لحاظ سے گمنام اور تاریک ہے ۔ صرف چند سکوں سے کچھ حالات معلوم کئے جاسکتے ہیں ۔ عرب چار سو سال تک افغانستان و گندھارا کو فتح نہیں کر سکے اور کابل و غزنی کو مکمل طور پر فتح نہیں کرسکے اور وہ کوہ سلیمان تک تو بالکل پہنچ نہیں سکے ۔ اسلام کی ابتدائی دو صدیوں میں عربوں کا اثر صرف سیستان تک رہا ۔ وہ ہرات اور بست سے آگے مشرق کی طرف نہیں بڑھے ۔ زاابلستان اور کابل پر بدستور ہندو شاہی حکومت کررہے تھے ۔ اس لئے گندھارا اور اس کی ملحقہ آبادی مسلمان نہیں تھی ۔        

البیرونی لکھتا ہے کہ ہندوستان کے مغربی کوہستان میں افغانستان میں افغانوں کی بہت سی قومیں رہاش پزیر ہیں اور وہ سندھ تک پھلی ہوئی ہیں ۔ وہ ان کے متعلق لکھتا ہے کہ کہ جنگ جو وحشی قبائل ہندوستان کی سرحد سے کابل تک آباد ہیں یہ ہند المذہب ہیں ۔ سبکتگین نے پہلے پہل کابل و گندھارا سے ہندوئں کو نکالنے کی کوشش کی ۔ اس نے دو دفعہ جے پال کو لمغان اور ننگرباد میں شکست دی اور انہیں وادی کابل کے بالائی علاقے سے نکال باہر کیا اور دریائے سندھ کے مغربی کنارے بھی خالی کرالئے اور ہندوستان پر بھی حملے کیے ۔

بیلیو کی رائے میں راجپوت اور پٹھانوں کی عادات و رسومات ایک سی ہیں ۔ اگرچہ دونوں میں اسلام اور برہمنی مذہب کی وجہ دوری ہوگئی ہے ۔ پٹھانوں کے شجرہ نسب میں سربن (مشتق سوربنس) کے لڑکے کرشیون ، شرخیون اور اس کے پوتے شیورانی (شیرانی) کے نام راجپوتوں اور برہمنوں کے عام نام کرشن ، سرجن اور شیورانی کی تبدیل شدہ صورتیں ہیں ۔ اس کا خیال ہے کہ افغان یہودیوں کی نسبت راجپوتوں سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ۔

مولانا عبید اللہ سندھی لکھتے ہیں کہ اس قوم میں مختلف عناصر مخلوط ہیں ۔ جیسے ترک ، ایرانی ، یونانی ، ارمنی اور یہودی عرب وغیرہ ۔ ان سب قوموں کے آثار یہاں ملتے ہیں ۔ لیکن جہاں تک ہم تحقیق کرسکتے ہیں کہ اس قوم کو ہندی اقوام کا ایک حصہ مانتے ہیں اور پشتو کو سنسکرت کی فروغ سے جانتے ہیں ۔ تاریخ یمنی اور کامل ابن کثیر کے مطالع سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہاڑی قومیں اس وقت محمود غزنوی کی فوج میں داخل ہوئیں جب سلطان نے جے پال راجہ لاہور کو شکست دے کر لمغان کے علاقے پر قبضہ کیا ۔ جہاں اس وقت تک ہندو اور بت خانے موجود ہیں ۔ انہوں نے سلطان شہاب الدین غوری کے زمانے میں اسلام قبول کیا ۔

مصللع اسعدین میں ان کو ترک یا مغل کہا گیا ہے ۔ بقول جمال الدین افغانی کے حق تو یہ ہے لوگ ایرانی الاصل ہیں اور ان کی زبان ژند و اوستاسے ماخوذ ہے اور آج کل کی فارسی سے بہت مشابہہ رکھتی ہے ۔ جدید مورخین مثلاً فرانسس فغورمان وغیرہ اس کی تائید کرتے ہیں ۔

تاریخ کے حوالے سے ہم نے بالاالذکر جو مثالیں پیش کیں ان سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ قدیم زمانے میں یہاں کے مقامی باشندے ہندو المذہب تھے اور یہود یہاں کبھی آباد نہیں ہوئے تھے ۔ یہ تمام بیانات اپنی جگہ درست ہیں کیوں کہ افغان برصغیر پر حملہ آور مختلف قوموں کی باقیات ہیں ۔ ھن ناموں کو یہودی نام کہا جاتا ہے وہ دراصل اسلامی اثر کا نتیجہ ہیں اور یہ بعد کی پیداوار ہیں اور عہد قدیم میں ان ناموں کا ذکر نہیں ملتا ہے ۔  اب ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ اپنے کو یہود النسل کیوں کہتے ہیں ؟ ہم اس کا جواب تلاش کرتے ہیں ۔

ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ قدیم زمانے میں یادو اقوام جو دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر آباد تھیں اور یادو کی نسبت سے انہیں یہ گمان ہوا کہ وہ یہود النسل ہیں اور وہ اپنے کو یہود النسل کہنے لگیں ۔ بلاشبہ افغان قبائیل یہود النسل نہیں ہیں بلکہ ان کی اصلیت اندو سیتھک ہے ۔ ان کی رسومات اس کی تائید کرتی ہیں ۔ ان کی شکست اور فتوحات کی رسومات راجپوتوں کی طرح ہیں ۔ بہت سے افغان قبائیل کی اصلیت اندوسیتھک ہے جیسا کہ آپ آگے پڑھیں گے ۔

جیمز ٹاڈ لکھتا ہے کہ قدیم زمانے میں بحیرہ خزر سے لے کر گنگا کے کنارے ایک ہی قوم آباد تھی ۔ ان کا مذہب ایک تھا ، ان کی زبان ایک تھی ۔ یہ یادو یا جادو تھے ۔ ان کی اصل اندوسیتھک ہے اور قدیم زمانے میں یہ برصغیر پر حملہ آور ہوئے تھے ۔ رگ ویدمیں یادو قبیلے کا ذکر آیا ہے ۔ جس نے بھارت قبیلے اور اس کے حلیف ستجنی قبیلے کے خلاف ایک اتحاد بنایا تھا اور اس کے خلاف جنگ کی تھی ۔ اگرچہ یادو قبیلے کو شکست ہوئی مگر یہ افغانستان سے لے کر گنگا کے طاس تک پھیل گئے ۔ بھٹی جو یادو کی ایک شاخ ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ پنجاب آنے سے پہلے گجنی (غزنی) و زابل پر حکمران تھے اور وہیں سے پنجاب آئے ہیں ۔ مسلمانوں کی آمد سے پہلے تک وہاں حکومت کرتے تھے اور وہاں ان کے پس مندگان نے اسلام قبول کرلیا تھا ۔

کابل ، غزنی ، پنجاب و سندھ کا راجہ اسو بھاگ جس کو یونانیوں نے سوفاگنس لکھا ہے اس پر انطیوکس اعظم نے حملہ کیا تھا ۔ اگرچہ سوبھاگ نے شکست کھائی مگر انطیوکس بھی مارا گیا ۔ اس کے بعد اس کا بیٹا گج حکمران بنا ۔ یونانیوں نے اس کے بیٹے کو ملا کر سوفاگینس لکھا ہے ۔ یہ بھی جادو یادو کی نسل سے تھا ۔ گج کی ریاست کو بعد میں انطیوکس کے داماد اور یونانی حکمران دیمٹریس نے باضبطہ اپنی مملکت میں شامل کرلیا ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں