66

یاما

رگ وید کے نویں منڈل کے ۱۱۳ بھجن میں تین منتر ہیں ۔   
ـ’’جہاں نور ازلی ہے ، جہاں عالم میں آفتاب رکھا گیا ہے ، اسی لازوال غیر فانی عالم میں مجھے بھی لے جا اے سوما’’۔
’’جہاں دِوَسوت کا بیٹا شاہانہ حکومت کرتا ہے جہاں بہشت کا مقام پوشیدہ ہے ، جہاں زبردست دریا ہیں ، وہاں (لے جاکر) مجھے غیر فانی بنادے’’۔
’’جہاں کی زندگی کی آزادانہ ہے تیسرے آسمان پر ، جہاں عالم درخشاں ہے ، وہیں (لے جاکر) مجھ غیر فانی بنادے’’۔
’’جہاں آرزوئیں اور امیدیں ہیں ، جہاں سوما کا چمکتا ہوا پیالہ ہے ، جہاں عمدہ کھانا اور خوشیاں ہیں وہاں (لے جاکر) مجھے غیر فانی بنادے’’۔  
’’جہاں مسرت و ابنساط شادی و نشاط کا مسکن ہے ، جہاں اعلیٰ سے سے اعلیٰ آرزوئیں پوری ہوتی ہیں ، وہاں (لے جاکر) مجھے غیر فانی بنادے’’۔ 
اگر سوما کو چاند کا مترادف خیال کرلیا جائے تو اس بھجن میں ایسا تخیل نہیں ہے جس کی تعبیر نہ ہوسکے ۔ لیکن سوما کے کوئی اور معنی لیے جائیں تو انہیں سمجھنے میں سخت دقت ہوگی ۔ سوما کا چمکتا ہوا پیالہ ، عالم درخشاں (ستارے) ، عالم نور ازلی اور زبردست دریا ہر ایک کے معافی واضح ہیں ۔ قدیم آریا چاند کو مردوں کا مسکن تھے ۔ جہاں وہ دیوتاؤں کی طرح سوما کے مزے لیتے ہیں اور ان کی طرح اسے پی کر اپنی حیات میں اضافہ کرتے ہیں ۔ یہاں دو اشخاص دِوَسوت اور اس کے بیٹے کا ذکر ہے ۔ 
بیٹے کا نام یاما ہے ۔ اس کو اوستا میں ییما ابن دوَس ہَوَنت کہا گیا ہے ۔ مگر ان دونوں کی صورت میں کس قدر اختلاف ہوگیا ہے ۔ رگ وید میں وِدس وَت کا بہت کم ذکر ہے سوائے اس کے کہ وہ یاما کا باپ تھا ۔ مگر نیچے دی ہوئی دعاؤں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایک زمانے میں طاقت ور دیوتا تھا ۔ مثلاً 
’’دِوَس دت کا زہریلا تیر ہمیں اس وقت تک نہ لگے جب تک ہم بوڑھے نہ ہوجائیں’’۔ 
’’دِوَس دت ہمیں حیات ازلی عنایت کرکے موت چلی جائے اور اس کے بدلے میں حیات ازلی آئے ۔ وہ ہماری قوم کا پیرانہ سالی تک محافظ ہے’’۔
مگر یہ غالباً اس کی حرمت کا جو قدیم ایرانی ہندی میں تھی ایک دھندلا اور مٹا ہوا خاکہ ہے ۔ کیوں کہ اوستا میں مذہب زرتشتی کی غیر مشرکانہ رجحان کی مناسبت سے دِون ہونت محض ایک فانی انسان اور مقدس پجاری تھا ۔ اس نے سب سے پہلے پاوما (سوما) کی قربانی چڑھائی اور اس کا بیٹا پتیما patimaبھی فانی اور پہلا بادشاہ ہے جو زمانہ قدیم میں حکمران تھا ۔ لیکن ہندوستان میں باپ کو گمنامی میں ڈال دیا گیا ۔ مگر بیٹے یعنی یاما کا ویدوں کی دیومالا میں نہایت اعلیٰ درجہ ہے ۔ کیوں کہ وہ مردوں کا بادشاہ ہے اور اس مقام پر حکومت کرتا ہے جہاں مردوں کی روحیں (سنسکرت پتھری ۔ اوستا مرادِشی) امن اور چین کی زندگی بسر کرتی ہیں ۔    
یاما پہلا انسان تھا جو موت کا شکار ہوا اور چونکہ اسے مرنے والوں پر شرف اولیت حاصل ہے ۔ اس لیے عالم بالا میں وہ ان کا میزبان ہوگیا اور رفتہ رفتہ ان کا حاکم اور بادشاہ ہوگیا ۔ اس کے ہرکارے تمام عالم میں گشت لگا کر مرنے والوں کو ڈھونڈتے ہیں اور ان کو اس کی مملکت میں پہنچاتے ہیں ۔ ان ہرکاروں کی تعداد دو بیان کی گئی ہے اور ان کی شکل ڈراؤنی اور بھیانک کتوں سی ہے ۔ جس سے مراد غالباً صبح اور شام کی شفق سے ہے ۔ یہ شاعرانہ تخیل مناسب حال ہے ۔ کیوں کہ ہر روز صبح و شام کو بہت سے انسان اس دنیا فانی سے عالم ارواح میں پہنچ جاتے ہیں ۔ یاما کے واقعہ کو اتھرون وید میں نہایت اختصار اور توصیح سے بیان کیا گیا ہے ۔
’’شاہ یاما ابن دِوَاست کے نام پر قربانی کرو جو فانی انسانوں میں پہلا مرنے والا تھا ۔ جو پہلا آدمی ہے جو اس دنیا سے گیا جو انسانوں کو جمع کرنے والا ہے’’۔
بدشگون پرندے بھی یاما کے پیام بر خیال کیے جاتے تھے ۔ اس لیے ایک شاعر دعا کرتا ہے کہ اس قسم کے کسی پرندے کی بدشگونی پوری نہ ہو ۔ کتوں کو سرامے یا سرما کے بچے کہا گیا ہے ۔ جن کی چار آنکھیں تھیں ، کھال پر چتے تھے اور ناک چوڑی تھی ۔ یاما سے دعا کی جاتی تھی وہ اپنے کتوں کو حکم دے کہ راہ میں مہمانوں (مرنے والوں) کی حفاظت کریں ۔
جس دنیا پر یاما حکمران تھا تاریک ڈراؤنی یا بھیانک نہ تھی اور سپہر بریں یعنی کرہ آفتابی پر واقع تھی ۔ کرہ آفتابی میں درخشاں عالموں کے درمیان جہاں سزا یا جزا کا کوئی ذکر نہ تھا ۔ رگ وید میں یاما کو مردوں کا بادشاہ بیان کیا گیا ہے نہ کہ انصاف کرنے والا یا سزاد دینے ولا ۔ یہ بعد کے زمانہ کی ایجاد ہے اور برہمنوں کی کتابوں اس کی یہ خصوصیات زائل ہوچکی ہیں اور اسے شیطان کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے اور اس نرم مزاج اور نیک دیوتا کے خط و خال بالکل مٹ جاتے ہیں جس کے سپرد آریائی ہندو اپنے پیارے اعزا کو کرتے تھے ۔ 
اب سوال یہ ہے کہ مظاہر قدرت میں سے کون یاما دیو سوت کے پردے میں مضمر ہے ۔ جس درست جواب یہ کہ اس سے غروب ہونے والا سورج مراد ہے ۔ کیوں مظاہر قدرت میں یہی ایک تماشا ہے جس سے انسان میں آئندہ زندگی کی امید پیدا ہوتی ہے ۔ ابتدائی افسانہ سازوں جو استعاروں سے کام لیتے تھے غروب ہونے والے سوریا کو (دِوَسوَت) کا بیٹا بنا دینا قابل تعجب نہیں ۔ مگر دِوَسوَت سے ہمیشہ آفتاب مراد نہیں لی گئی ہے ۔ محققین کا ایک گروہ یاما کو سوما کی طرح چاند قرار دیتا ہے ۔ ان کے دلائل درج ذیل ہیں ۔
(۱) بیان کیا گیا کہ یاما کا مقام تیسرے آسمان کے پوشیدہ ترین گوشے میں ہے اور یہ سوریا کا قائم مقام نہیں ہوسکتا ہے ۔
(۲) ممکن ہے ان کا خیال یہ ہو کہ چاند ایک چھوٹا سورج ہے یا سورج کا بچہ ہے جو اپنا چکر کاٹ کر مر جاتا ہے یا غائب ہوجاتا ہے ۔
(۳) قدیم زمانے میں دیوتاؤں کو اکثر ان کے باہمی تعلقات کو مختلف اشکال میں پیش کیا جاتا اور ممکن ہے ان کا خیال ہو کہ سورج اور چاند توام بھائی ہیں ۔ جیسا کہ قدیم زمانہ کی اکثر اقوام کا خیال تھا اور اس کے علاوہ یاما کے معنی بھی توام کے ہیں ۔  
یاما کے متعلق بیان یہ بھی بیان کیا گیا ہے وہ پہلا انسان اور نسل انسانی کا مورث تھا ۔ مگر یہ اعزاز دِوَسوَت کے دوسرے بیٹے منو کو حاصل ہے اور اس کو غلط دلیل کی بنا پر یاما سے منسوب کیا گیا ہے ۔ یعنی پہلے مرا تو پہلا انسان بھی لازمی ہوگا ۔ مگر یاما کو کہیں پہلا انسان نہیں کہا گیا ہے ۔ بلکہ فانیوں میں پہلا لفظ مرتیا (فانی) سے اکثر مراد انسان سے ہوتی ہے ۔ مگر انسان کے لیے اور لفظ مَنُشِا (سوچنے والا) جَنَا (پیدا شدہ) بھی ہیں ۔ مگر یاما کے لیے ان دونوں میں سے کوئی لفظ استعمال کیا گیا ہے بلکہ ہمیشہ فانیوں میں پہلا کہا گیا ہے ۔ اس لیے یہ اتفاقی امر نہیں ۔ زمانہ قدیم کے افسانہ سازوں کے خیال میں صرف انسان ہی فانی نہ تھا بلکہ ان کے خیال میں دیوتا بھی موت کا شکار ہوتے تھے اور وہ آسمانی سوما یعنی آب حیات پی کر اپنی جوانی اور حیات ابدی کو قائم رکھتے تھے ۔ وہ دیکھتے تھے کہ سورج غروب ہوجانے کے وقت مرجاتا ہے اور موسم سرما میں اس کی حرارت گھٹ گھٹ کر غائب ہوجاتا تھا ۔ یعنی موت کے بعد زندگی بھی ہے ۔ اب یہ امر پوری طور پر ثابت ہوگیا کہ یاما کے متعلق ہر جگہ یہی ذکر ہے کہ وہ فانیوں میں پہلا مرنے والا تھا نہ کہ فانی انسانوں میں پہلا تھا ۔
برہمنی کتابوں کے مطابق یم مردوں کی روح کا دیوتا اور ان کا حساب کرتا ہے ۔ یم کا ملک دکشن میں ہے اس لیے اس کو دکشنا شاپتی کہتے ہیں ۔ اس کا رنگ سبز ہے اور سرخ رنگ کی پوشاک پہنتا ہے ۔ اس کی سواری کا جانور بھنسا ہے ۔ اس کے ایک ہاتھ میں بھالا اور دوسرے ہاتھ میں پھانس لیے رہتا ہے ۔ اس کی بیویوں کے نام ہیم مالا ، سونشہلا اور روجبا ہیں ۔ یمپوری میں اس کا محل ہے اور محل کا نام کالی چی ہے ۔ اس محل کے دروازے پر ویئی وہیت بطور محافظ کھڑا ہے ۔ وہاں وہ اپنے تخت وچار بہو پر جلوہ آرا ہوتا ہے ۔ اس کا وزیر چتر گپت اپنے معاونوں مہا چند اور پُرسش کے حاضر رہتا ہے ۔ جب انسان مرتا ہے تو اس کے کارندے یا یم ووت اس کی روح کو یم کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ اس وقت چتر گپت اس روح کے نیک و بد اعمال کی تفصیل (اگرسندہانی) پیش کرتے ہیں ۔ اس کے مطابق یم اس روح کے لیے حکم جو (۱) پتروں میں داخل کرنے کا حکم (۲) اس کے گناہوں کے مطابق اسے ذوزخ میں داخل کرنے کا حکم (۳) یا اسے زمین پر کسی دوسری شکل میں پھر پیدا کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ 
یم راجہ یدہشتر کا باپ ہے اور پرانوں میں درج ہے ایک دفعہ یم نے اپنے باپ کی لونڈی  وجہایا کو مارنے کے لیے لات ماری تو وجہایا نے بدعا دی کہ تیرے پیر میں کیڑے پڑھیں ۔ تو اس کے پیر میں کیڑے پڑ گئے ۔ جس پر ووسوت نے اسے ایک مرغ دیا ۔ جس نے سارے کیڑے کھاگیا اور پیر تندرست ہوگیا ۔ اس سے اس کا نام نہرادہون پاؤ پڑا ۔ اس کے علاوہ اس کے نام اس کی خصوصیات کی بنا پر مرتیو کال انیک ، یعنی موت ۔ کرنانت یعنی انجام دہندہ ۔ شمن یعنی قائم کرنے والا ۔ ڈنڈی یا ونڈدہر یعنی تنا بردار ۔ بہیم شامن یعنی خوفناک حکم دینے والا ۔ باشی یعنی حامل ۔ بہانس پتری ہنی یعنی پتروں کا مالک ۔ پریت راج یعنی پریتوں کا راجہ ۔ شرادھ ویو یعنی شرادھوں کا دیوتا ۔ دہرم راجہ یعنی انصاف کا راجہ ۔ اودمبر یعنی انجیر کے درخت پر یہ نام پڑا ۔ اس کا پدری نام دئی سوت ووسوت سے پڑا ہے ۔

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں