60

یاما

اگر سوما کو چاند کا مترادف خیال کرلیا جائے تو اس بھجن میں ایک شعر یا ایک بھی تخیل ایسا نہیں ہے جس کی آسانی سے تعبیر نہ ہوسکے اور سوما کے کوئی دوسرے معنی لیے جائیں تو ہر شعر کو سمجھنے میں سخت دقت ہوگی ۔ سوما کا چمکتا ہوا پیالہ ، عالم درخشاں (ستارے) ، عالم نور ازلی اور زبردست دریا ہر ایک کے معافی واضح ہوجائیں گے ۔ جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ چاند مردوں کا مسکن ہے جو دیوتاؤں کی طرح اس کی محلولی شیرینی کے مزے لیتے ہیں اور انہی کی طرح اس کے جام کے جام پی کر ہر جرعے کے ساتھ اپنی حیات میں اضافہ کرتے ہیں ۔ یہاں دو اشخاص کا ذکر ہے یعنی دِوَسوت اور اس کا بیٹا ۔ 
بیٹے کا نام یاما ہے ۔ اس کو اوستا میں ییما ابن دوَس ہَوَنت کہا گیا ہے ۔ مگر ان دونوں کی صورت میں کس قدر اختلاف ہوگیا ہے ۔ رگ وید میں وِدس وَت کا بہت کم ذکر ہے سوائے اس کے کہ وہ یاما کا باپ تھا ۔ مگر نیچے دی ہوئی دعاؤں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایک زمانے میں طاقت ور دیوتا تھا ۔ مثلاً 
’’دِوَس دت کا زہریلا تیر ہمیں اس وقت تک نہ لگے جب تک ہم بوڑھے نہ ہوجائیں’’۔ 
’’دِوَس دت ہمیں حیات ازلی عنایت کرکے موت چلی جائے اور اس کے بدلے میں حیات ازلی آئے ۔ وہ ہماری قوم کا پیرانہ سالی تک محافظ ہے’’۔
مگر یہ غالباً اس کی حرمت کا جو قدیم ایرانی ہندی میں تھی ایک دھندلا اور مٹا ہوا خاکہ ہے ۔ کیوں کہ اوستا میں مذہب زرتشتی کی غیر مشرکانہ رجحان کی مناسبت سے دِون ہونت محض ایک فانی انسان اور مقدس پجاری تھا ۔ اس نے سب سے پہلے پاوما (سوما) کی قربانی چڑھائی اور اس کا بیٹا پتیما patimaبھی فانی اور پہلا بادشاہ ہے جو زمانہ قدیم میں حکمران تھا ۔ لیکن ہندوستان میں گو باپ گمنامی پڑگیا ۔ مگر بیٹے یعنی یاما کا ویدوں کی دیومالا میں نہایت اعلیٰ درجہ ہے ۔ کیوں کہ وہ مردوں کا بادشاہ ہے اور اس مقام پر حکومت کرتا ہے جہاں مردوں کی روحیں (سنسکرت پتھری ۔ اوستا مرادِشی) امن اور چین کی زندگی بسر کرتی ہیں ۔    
یاما وہ پہلا انسان تھا جو موت کا شکار ہوا اور چونکہ دوسرے مرنے والوں پر اسے شرف اولیت حاصل ہے ۔ اس لیے وہ عالم بالا میں ان کا میزبان ہوگیا اور رفتہ رفتہ ان کا حاکم اور بادشاہ ہوگیا ۔ اس کے ہرکارے تمام عالم میں گشت لگا کر مرنے والوں کو ڈھونڈتے ہیں اور ان کو اس کی مملکت میں پہنچاتے ہیں ۔ ان ہرکاروں کی تعداد صرف دو بیان کی گئی ہے اور ان کی شکل ڈراؤنی اور بھیانک کتوں سی ہے ۔ جس سے مراد غالباً صبح اور شام کی شفق سے ہے ۔ یہ شاعرانہ تخیل مناسب حال ہے ۔ کیوں کہ ہر روز صبح و شام کو بہت سے انسان اس دنیا فانی سے عالم ارواح میں پہنچ جاتے ہیں ۔ یاما کے واقعہ کو اتھرون وید میں نہایت اختصار اور توصیح سے بیان کیا گیا ہے ۔
’’شاہ یاما ابن دِوَاست کے نام پر قربانی کرو جو فانی انسانوں میں پہلا مرنے والا تھا ۔ جو پہلا آدمی ہے جو اس دنیا سے گیا جو انسانوں کو جمع کرنے والا ہے’’۔
بدشگون پرندے بھی یاما کے پیام بر خیال کیے جاتے تھے ۔ اس لیے ایک شاعر دعا کرتا ہے کہ اس قسم کے کسی پرندے کی بدشگونی پوری نہ ہو ۔ کتوں کو سرامے یا سرما کے بچے کہا گیا ہے ۔ جن کی چار آنکھیں تھیں ، کھال پر چتے تھے اور ناک چوڑی تھی ۔ یاما سے دعا کی جاتی تھی وہ اپنے کتوں کو حکم دے کہ راہ میں مہمانوں (مرنے والوں) کی حفاظت کریں ۔
جس دنیا پر یاما حکمران تھا تاریک ڈراؤنی یا بھیانک نہ تھی اور سپہر بریں یعنی کرہ آفتابی پر واقع تھی ۔ کرہ آفتابی میں درخشاں عالموں کے درمیان جہاں سزا یا جزا کا کوئی ذکر نہ تھا ۔ رگ وید میں یاما کو مردوں کا بادشاہ بیان کیا گیا ہے نہ کہ انصاف کرنے والا یا سزاد دینے ولا ۔ یہ بعد کے زمانہ کی ایجاد ہے اور برہمنوں کی کتابوں اس کی یہ اعلیٰ خصوصیات زائل ہوچکی ہیں اور وہ شیطان کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے اور اس نرم مزاج اور نیک دیوتا کے خط و خال بالکل مٹ جاتے ہیں جس کے سپرد آریائی ہندو اپنے پیارے اعزا کو کرتے تھے ۔ 
اب سوال یہ ہے کہ مظاہر قدرت میں سے کون یاما دیو سوت کے پردے میں مضمر ہے ۔ جس صریح جواب یہ کہ اس سے غروب ہونے والا سورج مراد ہے ۔ کیوں مظاہر قدرت میں یہی ایک تماشا ہے جس سے انسان میں آئندہ زندگی کی امید پیدا ہوتی ہے ۔ ابتدائی افسانہ سازوں جو استعاروں سے کام لینے میں بے باک تھے غروب ہونے والے سوریا کو (دِوَسوَت) کا بیٹا بنا دینا قابل تعجب نہیں ۔ مگر دِوَسوَت سے ہمیشہ آفتاب مراد نہیں لی گئی ہے ۔ محققین کا ایک گروہ یاما کو سوما کی طرح چاند قرار دیتا ہے ۔ ان کے دلائل درج ذیل ہیں ۔
(۱) بیان کیا گیا کہ یاما کا مقام تیسرے آسمان کے پوشیدہ ترین گوشے میں ہے اور یہ سوریا کا قائم مقام نہیں ہوسکتا ہے ۔
(۲) ممکن ہے ان کا خیال یہ ہو کہ چاند ایک چھوٹا سورج ہے یا سورج کا بچہ ہے جو اپنا چکر کاٹ کر مر جاتا ہے یا غائب ہوجاتا ہے ۔
(۳) قدیم زمانے میں دیوتاؤں کو اکثر ان کے باہمی تعلقات کو مختلف اشکال میں پیش کیا جاتا اور ممکن ہے ان کا خیال ہو کہ سورج اور چاند توام بھائی ہیں ۔ جیسا کہ قدیم زمانہ کی اکثر اقوام کا خیال تھا اور اس کے علاوہ یاما کے معنی بھی توام کے ہیں ۔  
یاما کے متعلق بیان یہ بھی بیان کیا گیا ہے وہ پہلا انسان اور نسل انسانی کا مورث تھا ۔ مگر یہ اعزاز دِوَسوَت کے دوسرے بیٹے منو کو حاصل ہے اور اس کو غلط دلیل کی بنا پر یاما سے منسوب کیا گیا ہے ۔ یعنی پہلے مرا تو پہلا انسان بھی لازمی ہوگا ۔ مگر یاما کو کہیں پہلا انسان نہیں کہا گیا ہے ۔ بلکہ فانیوں میں پہلا لفظ مرتیا (فانی) سے اکثر مراد انسان سے ہوتی ہے ۔ مگر انسان کے لیے اور لفظ مَنُشِا (سوچنے والا) جَنَا (پیدا شدہ) بھی ہیں ۔ مگر یاما کے لیے ان دونوں میں سے کوئی لفظ استعمال کیا گیا ہے بلکہ ہمیشہ فانیوں میں پہلا کہا گیا ہے ۔ اس لیے یہ اتفاقی امر نہیں ۔ زمانہ قدیم کے افسانہ قدیم کے افسانہ ساز اقوام کے خیال میں صرف انسان ہی فانی نہ تھا بلکہ ان کے خیال میں دیوتا بھی موت کا شکار ہوتے تھے اور وہ آسمانی سوما یعنی آب حیات پی کر اپنی جوانی اور حیات ابدی کو قائم رکھتے تھے ۔ وہ دیکھتے تھے کہ سورج غروب ہوجانے کے وقت مرجاتا ہے اور موسم سرما میں اس کی حرارت گھٹ گھٹ کر غائب ہوجاتا تھا ۔ یعنی موت کے بعد زندگی بھی ہے ۔ اب یہ امر پوری طور پر ثابت ہوگیا کہ یاما کے متعلق ہر جگہ یہی ذکر ہے کہ وہ فانیوں میں پہلا مرنے والا تھا نہ کہ فانی انسانوں میں پہلا تھا ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں