60

یزدان

زرتشتی مذہب نہ توحیدی مذہب ہے اور نہ ثنویت مذہب تھا ۔ اس مذہب میں ربانی ہستیوں کی کثرت تھی اور اس طرح مزد گویا ذات ہے اور وہ سب ہی اس کی تجلیات یا صفات ہیں ان ساتھ ہی وہ اس کی مشیت کو جو وہی مشیت ایزدی ہے نافذ کرنے والی ہیں ۔ مزد کی ذات لاشریک ہے اور ثنویت کا عقیدہ فقط ظاہری ہے ۔ کیوں کہ وہ عالمگیری روحوں (روح خیر اور روح شر) کے درمیان جنگ جاری ہے وہ بالآخر روح خیر کی فتح ہوگی ۔ اس جنگ عظیم میں انسان کے لیے ایک ماموریت ہے ۔ وہ تدوین و تقویٰ کے سات دینی و اخلاق کے لیے جہاد کرے ۔ وسائل حیات کی طرف داری کرتے ہوئے موت کی طاقتوں کا مقابلہ کرے ۔ تمدن اور سب سے بڑھ کر تہذیب وطن کی خدمات میں روح خیر کا حامی رہے ۔ پندرار نیک گفتار نیک اور کردار ، نیک اخلاق کے زرتشتی اصول سہ ہیں ۔ جن کی سزا عقبی میں بہشت ہے اور صحت و بقائے دوام کے ساتھ مقامی روحانی میں رہتا ہے ۔ برخلاف اس کے گناہگاروں کی سزا مقام نارمتی ہے ۔ جہاں ہمیشہ کے لیے عذاب الیم ہے ۔ جزا و سزا کے اس فیصلے کے علاوہ جو انسان کے مرنے کے بعد فوراً صادر کیا جاتا ہے اوستا کے باب گاتھا (جو منظوم نصائح پر مشتمل ہے اور زرتشت کی اصل تعلیم کا پرتو ہے) نضائح پر مشتمل ہے اور جس میں زرتشت کی اصلی تعلیم کا پرتو ہے اور ایک عمومی اور کلی حساب آخرت کی طرف اشارات پائے جاتے ہیں ۔ جو روح آتش کے ذریعے سے کیا جائے گا ۔ یعنی روح مزد حساب لینے والی ہوگی اور امتحان بذریعہ آگ اور بگھلی ہوئی دھات سے کیا جائے گا ۔ یہ امتحان اختتام کے زمان کائنات کے بعد ہوگا ۔ جب کہ روح خیر اور روح شر کی فوجوں کے درمیان آخری جنگ کا خاتمہ مزد کی فتح پر ہوچکا ہوگا ۔

دارا کے کتبوں میں اہورا کو قادر مطلق بتایا گیا تھا اور مگر اوستا میں کئی جگہوں پر متھرا (سورج) اور ساتھ ہی خدائے آب انہتہ (ناہید سامی زہرہ) کی ستائش آئی ہے اور ساسانی دور میں ان کی زور شور سے پوجا کی جانے لگی ۔  

زرتشت کے ماننے والے اہورا مزد کے علاوہ امشسپدان کو جاویدان ہستیوں کو الوہیت کا درجہ دیتے ہیں اور انہیں قابل پرستش سمجھتے ہیں ۔ پرستش کے لئے آتش پرستی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔ چونکہ آتش سراسر نور ہے اور اہورا کی صفت اول کا مظہر ہے ۔ یہی وجہ ہے زرتشتیوں کو آتش پرست بھی کہتے ہیں ۔ ان کا قبلہ بھی آتش ہے اور آتش کو ہمیشہ روشن رکھنا فرض اولین میں داخل ہے ۔

زرتیشتی مذہب میں ربانی ہستیوں کی کثرت وجہ سے مزد گویا ذات ہے اور یہ الوہی ہستیاں اس کی تجلیات یا صفات ہیں اور یہ ہستیاں اس کی مشیت کو نافظ کرنے والی ہیں ۔ ان ہستیوں کی صفات کو یزدان (لافانی) مانا جاتا ہے اور خدائی درجہ اور قابل پرستش سمجھی جاتی ہیں ۔ جب کہ ہورا مزد کی ذات کو لاشریک کہا جاتا ہے لیکن اس کو احترام کے درجہ تک محدود کردیا گیا ۔ جب کہ ان یزداں (صفات) کا درجہ بہت بلند ہے اور ان یزداں کی اہورا مزد کے بجائے پرستش کی جاتی ۔ ظاہر اس صورت میں ثنویت کا عقیدہ پس پشت چلا گیا ہے ۔

زرتشت کی تعلیمات میں بہت تصاد اور ابہام ہے اور ایک طرف یہ کہنا کہ کائنات کا خالق اہورا ہے اور دوسری طرف شر کے خالق کی حثیت سے اہرمن کو تسلیم کرتا ہے ۔ حتیٰ کہ وہ انسان کو نقصان پہنچانے والے جانوروں کو پیدا کرنے والا اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم فرشتہ شروش جو کہ مقدس انسانوں اور خالق کے درمیان پیغام رسانی کرتا ہے اس کے بارے میں اوستا میں آیا کہ وہ دو خالقوں کی پوجا کرتا ہے ۔ پرستش کے لیے آگ ، ستاروں ، امشینپد اور ان کی خصوصیات یعنی یزدان (جس کے بارے میں عام لوگوں کا خیال ہے یہ خدا ہے) کی پوجا کا حکم دیا گیا ہے ۔ یہاں آکر معاملہ الجھ جاتا ہے ۔ اگر مزد خالق ہے تو اس کی پرستش کا حکم کیوں نہیں دیا گیا ؟ اس کے بجائے دوسری ہستیاں یا اس کے مظاہر کی پوجا کی جاتی ہے آخر کیوں ؟ ہم ان خیالات اور پرستش کو بعد پیداوار نہیں کہہ سکتے ہیں اور ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ ان کا ذکر اوستا اور ان کی پرستش قدیم دور سے ہو رہی ہے ۔ زیادہ سے زیادہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں زرتشت نے اہورا مزد خدا ضرور کہا مگر اس کی قدت اور قادریت کو اس قدر کو محدود کردیا کہ اس کی پرستش تک کا حکم نہیں دیا ہے ۔

دبستان مذہب کے مطابق قدیم زمانے میں پیغمبر یزدانیاں اور سلاطین فارس ستاروں کو قبلہ مانتے تھے اور ان کی پرستش کرتے تھے ۔ خاص طور پر جب کوئی ستارہ اپنے خانے میں یا شرف منزل پر ہوتا تھا تو وہ اس کی پرستش کرتے تھے ۔ اس کے مطابق یہ پہلے ستارہ پرستی کرتے تھے اور مختلف ستاروں کے معبد بنے تھے جن کی پوجا ہوتی تھی ۔

آگ کی پوجا کی قدیم آریا بھی کرتے ہیں اور آگ کو مقدس سمجھتے تھے اور یہ تقدس ہندوؤں اور ایرانیوں میں بھی جاری رہا ۔ زرتشت نے اسی سلسلے کو آگے بڑحایا ہے ۔ ستاروں کی پوجا کلدانیوں اور صابیوں میں ہوا کرتی تھی اور کلدانیوں کا قدیم ایران پر بہت اثر پڑا ہے اور کلدانیوں کے زیر اثر ایرانیوں میں بھی ستاروں کو مقدس ماننے اور پوجنا شروع کیا ہے ۔ اس کی تصدیق ساسانی عہد کے ناموں سے بھی ہوتی ہے ۔

عہد ساسانی کے نگینے ، کتابیں اور مہریں جو اب بھی موجود ہیں اور ان میں جو نام درج ہیں وہ اکثر مذہبی نوعیت کے ہوتے تھے ۔ ان کے ناموں میں ان کے ان خداؤں کا ذکر ہے جن کی زرتشتی پوجا کرتے رہے ہیں ۔ مثلاً ہرمزد (ادہر مزد ، اہور مزدا) ، بہرام یا وہرام (ورثر غنا) نرسی (نیریو سنگھا) اور کبھی دو خداؤں کے نام سے ہوتے تھے ۔ مثلاً مہر وراز (متھرا + وراز یعنی گزاز) مہر بوزیذ (متھرا نجات دیتا ہے) زروان داؤ (زُروان کا دیا ہوا ) یزد بُخت (خدانے نجات دی) اناہیذ پناہ (اناہتا کے پاس پناہ لینے والا) ۔ ایسے نام بھی ہیں جن کی ترکیب آذر گشنسپ ، مہران گشنسپ ، گشنسپ فر (گشنسپ کی شان و شوکت والا) آذر بگ ، فربگ ، بُرزین اور پناہ بُرزین وغیرہ ۔ کچھ ایسے نام ہیں جن کے تین نام ہیں ۔ مثلاً آذر خورشیذ آذر ، یزدان دخت (خدا کی بیٹی) اس سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ زرتشتی ان کی پوجا یا پرستش کرتے تھے ۔

اوستا خردہ میں وضائفوں اور پانچ نیایشوں میں چاند ، سورج ، متھرا ، پانی رب النوم اور آتش بہرام کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ اس کی  پانچ نیائشیں Nyaishes ہیں ۔ جو آفتاب ، ماہتاب ، مترا ، اردویسور (آبی روح) ، بہرام آریائی ورتیرہ Varitra اوستائی ورثرغن Vqri thragan پہلوی ورہرام Rehram فارسی بہرام یعنی ستارہ مریخ کی شان میں کہے گئے ہیں ۔ ان نیائشیوں کے علاوہ دو سیروزہ چھوٹے بڑے مہینے ہیں اور تیس فرشتوں کے متعلق ہیں ۔ جو اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ یہ مذہب ثنوی نہیں تھا بلکہ اس میں خداؤں کی بھر مار تھی  

گاتھا میں یسنا ۴۳ ، ۴۴ میں وہ مناجاتیں ہیں جو انہوں نے آتش بہرام (آذر مقدس) کے سامنے کھڑے ہو کر پڑھیں ہیں ۔ اس میں توحیدی خیالات ہیں اور اہورا مزد کو واحد خدا اور فرشتوں ، چاند ، سورج اور دنیا کا خالق کہا گیا ہے اور خداؤں کے اس مجموعہ کو انہوں نے اہورا مزد کہا ۔ اگرچہ ایک طاقت کا نام بھی مزدانہو جمع کے صیفہ میں استعمال ہوا ہے اور یہ توحید کے منافی ہے ۔ لہذا زرتشت نے اہورا محض صفت قرار دے کر مزد اس ہستی کا نام قرار دیا ہے اور یہی لفظ پہلوی میں یزدان ہوگیا ۔ زرتشت نے اسے اہورا امزد (ہرمزد) کا نام دیا ۔ یعنی وہ اہورا جو مزد (یعنی خالق کل) ہے ۔ اگرچہ زرتشت نے اہورا مزد یہاں بھی اس ایک طاقت کا نام جمع کے صیغہ استعمال ہے اور چونکہ یہ منافی توحید تھا لہذ زرتشت نے اس کو مزد صیٹہ واحد میں بدل دیا اور لفظ اہورا محض ایک صفت قرار دے کر مزد خاص اس ہستی مطلق کا نام قرار دے دیا ۔ یہی لفظ پہلوی میں یزدان ہوگیا ۔ مگر یزدان امشاند کی صفتوں کی نام بھی ہیں اور یہ زرتشیوں کے خداؤں کا مجموعہ بھی ہیں اور یہ سب صفات ہے ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں