88

یورپی محْققین اور پٹھان

ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ مختلف افغان قبائیل نسلاً ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ باجوڑ ، چترال کے کاشوں سے بہت قریبی رشتہ رکھتے ہیں ۔ دوسری طرف بلوچستان کے چوڑے سر والے اپنے بلوچ بھائیوں سے ملتے ہیں اور ڈیرہ جات کے میدانی علاقے میں کس قدر ہندی خون کی آمزش ہے اور بعض قبائیل ترک منگول اثر کی علامتیں پائی جاتی ہیں ۔ لیکن عام طور پر کہا جاسکتا ہے کہ افغان بحیرہ روم کی لمبوتری کھوپڑی والی ایرانی افغانی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ افغانوں کے بال عموماً سیاہ ہوتے ہیں مگر ایک اقلیت بھورے والی چلی آرہی ہے اور اس میں شمالی نارڈک خون کی آمزش ظاہر ہوتی ہے اور ان کی ڈارھیاں کثرت سے گھنی ہوتی ہیں ۔
برن اپنے سفرنامے میں لکھتاہے کہ افغان جو اپنے آپ کو بنی اسرائیل کہتے ہیں لیکن یہودیوں سے سخت نفرت کرتے ہیں ۔ افغان یہودیوں کی طرح چھوٹا بھائی بڑے بھائی کی بیواہ سے شادی کرلیتا ہے ۔ لہذا ان کے بنی اسرائیل ہونے کے دعویٰ کو باوجود یہودیوں سے نفرت سے رد نہیں کیا جاسکتا ہے اور ماننا پڑتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل ہیں ۔
اس طرح ڈورن افغانوں کو ہند یورپی اقوم سمجھتا ہے ۔ لیکن اس ضمن میں ڈارون اور جان میلکم ہم خیال ہیں ۔ میلکم کا کہنا ہے کہ افغانوں کی عادات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فارسیوں ، تاتاریوں اور ہندوستانیوں سے جدا قوم ہیں ۔
ڈاکٹر بیلو بھی برن کی تائید کرتا ہے کہ افغان جہاں گرد قافلوں میں یہودیوں کی طرح رواج ہے کہ وہ شادی سے پہلے کچھ مدت اپنے خسر کی نوکری کرتے ہیں اور یہ قوم بہت سرکش اور گناہ میں بہت جری مثل پرانے یہودیوں کی طرح ہیں ۔ لہذا یہ بات قابل قبول نہیں ہے وہ یہودیوں سے نفرت بھی کریں اور اپنے آپ کو بغیر کسی وجہ کہ بنی اسرائیل بھی کہیں ۔
ڈاکٹر پنل لکھتا ہے کوئی افغان بیماروں کو اسپتال میں دیکھے گا تو انہیں یقینی طور پر یہودی سمجھے گا ۔ اس نے دو رسموں کو جو افغانوں میں ہیں اور مسلمانوں میں نہیں ہیں ان کے بنی اسرائیل ہونے پر استدلال کیا ہے ۔ (۱) قحط پرنے اس کے اثرات سے بچنے کے لئے یک بکری یا بھیڑ ذبیح کرکے اس کا خون دروازوں اور صحن میں چھڑکتے ہیں (۲) اپنے گناہوں کے کفارہ کے لئے یہ لوگ ایک بچھڑے کو آزاد پھرنے دیتے ہیں ۔ یہ رسمیں اب عام نہیں ہیں ۔
یورپی محقیقین نے افغانوں کے دعویٰ کی تائید میں ان رسومات کو پیش کیا ہے جو کہ بنی اسرائیل کرتے تھے ۔ مگر ہم چند رسومات کی بنا پر افغانوں کو بنی اسرائیل نہیں ٹہراسکتے ہیں ۔ جب کہ افغانوں میں یہ رسومات عام بھی نہیں ہیں ۔ افغانوں کی یہ نام نہاد رسومات کو آریائی قوموں میں بھی پائی جاتی ہیں ۔ لہذا ان پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔
بیوا کی شادی کے متعلق ہم آگے ولور میں بحث کریں گے لہذا اس کی طرف رجوح کیا جائے ۔ تاہم برصغیر میں ہندو سے مسلمان ہونے والی قوموں میں عام رواج ہے کہ بھائی کی بیواہ سے بھائی شادی کرلیتا ہے ۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاً راجپوتوں میں یہ غیرت کا مسلئہ ہوتی ہے ، جب کہ دوسری اقوام میں جائیداد کا بٹوارہ اور جاٹوں میں میں یہ ادلہ بدلہ ہوتی ہیں ۔
الفسٹن نے ان کی نسب کے بارے میں قدیم روایات کی سختی سے تردید کرتا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ افغانوں اور یہودیوں کے رسم و رواج کے مابین بہت سی مماثلتیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔ لیکن اس قسم کی مماثلتیں قوموں کے ایک جیسے ہونے کی دلیل نہیں ہے اس قسم کی مماثلتیں مختلف قوموں میں عام پیش کی جاسکتی ہیں ۔
جان ملکم نے تاریخ فارس میں اس روایت کو مسترد کیا اور کا کہنا ہے کوئی ایسی کتاب دریافت نہیں ہوئی کہ اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے ۔ ان کی ایک مبہم روایت قبول نہیں کی جاسکتی ہے ۔ ڈرون نے جان میلکم کی عبادت نقل کی ہے کہ دو اقوام کے چہروں کی مماثلت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نسل ہیں تو کشمیری بھی ہم نسل ہوں گے ۔
ہمیں افغانوں میں یہ رواج کہیں نہیں ملا کہ افغان شادی سے پہلے کچھ عرصہ خسر کی چاکری کرتے ہیں ۔ کیپتن رابنسن کا کہنا ہے کہ ان میں گھر داماد کی رسم نہیں ہے ۔ تاہم اسے مان لیا جائے تو بھی یہ رسم منگولوں میں میں بھی ملتی ہے کہ ان میں دستور تھا کہ رشتہ طے ہوجانے کے بعد لڑکا اپنے سسر کے گھر میں کچھ عرصہ رہتا تھا ۔ چنگیز خان نے اپنی بیوی برتائی کو پسند کرنے کے بعد کچھ عرصہ گزارہ تھا ۔ تاہم افغانوں میں ایسا کوئی دستور نہیں ہے ۔ اگر اسے مان لیا جائے تو برصغیر کے بہت سے قدیم قبائل جو کہ مشرقی پہاڑہ علاقوں میں آباد پایا جاتا ہے ۔ غالباً بیلیو کو یہ غلط فہمی اس لیے ہوئی ہوگی کہ وہ منگنی کے بعد کچھ عرصہ (چند روز) اپنی ہونے والی بیوی کے ساتھ گزارتے ہیں اور اس دوران جینسی تعلقات بھی قائم کرسکتے ہیں ۔
افغانوں کی ناک کھڑی اور اکثر خم دار ہوتی ہے جو کہ سامیوں کے لئے مخصوص سمجھی جاتی ہے ۔ تاہم اس قسم کی ناک کشمیریوں اور بلوچیوں میں بھی پائی جاتی ہے ۔ برصغیر کی دوسری قوموں میں بھی اس طرح کی ناک پائی جاتی ہے ۔ خاص کر کشمیریوں کے بارے میں بھی یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے اخلاف ہیں ۔ برنیئر اور فاسٹر نے بھی کشمیریوں کو دیکھ کر کہا کہ ان کی شکل و صورت اور دوسری رسومات و لباس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بھی بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ڈکشنری آف جیوگرافی میں اے کے جانسن کشمیریوں کے متعلق لکھتا ہے کہ یہاں کہ باشندے دراز قد قوی ہیکل مردانہ شباہت والے ، عورتیں مکمل اندام خوبصورت بلند خمدار بینی شکل والی وضع میں بالکل یہودیوں سے مشابہہ ہیں ۔
جنرل جارج میکمن کا کہنا ہے کہ پنجاب کے مسلمان راجپوتوں کے خصاص کا مقابلہ اگر پٹھانوں سے کیا جائے تو کچھ زیادہ فرق نہیں آتا ہے ۔ ماسوائے پہاڑی ماحول کا اثر ہے اور دوسری طرف پنجاب کے میدانوں میں ایک منضبط زندگی ہے ۔ پٹھانوں کے نام زیادہ تر یہودانہ ہیں ۔ لیکن یہ بات شاید دوسرے مسلمانوں پر بھی صادق آتی ہے ۔
خٹک کو راجپوت ماخذ کے پٹھانوں اور پنجابی مسلمانوں (جو اب بھی اپنے کو راجپوت کہتے ہیں) کے درمیان نسلیاتی کڑی کہا جاسکتا ہے اور چہرہ اور انداز کہ اعتبار سے بھی دونوں کے درمیان ہیں ۔ خٹک سرزمین سے نیچے سندھ کے کناروں پر کمتر پٹھان قبائل کو بنتے دیکھنا ، جیسے نیازی ، خطی خیل وغیرہ ہیں اور جن میں کچھ میانوالی کے ارد گرد دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر رہتے ہیں ۔ واقعی ایک دلچسپ منظر ہے ۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ سندھ پر جب جب ڈھیلی ڈھالی شلوار پہن لے تو پٹھان ہے اور جب چادر (دھوتی) پہن لے تو ایک پنجابی مسلمان ہے ۔ چادر پہن کر وہ ایک جٹ یا کاشتکار بن جاتا ہے اور پشتو چھوڑ کر وادی سندھ کی جٹکی بولنا شروع کردیتا ہے ۔
شیر محمد گنڈاپور کا کہنا ہے کہ چہرے کہ سفیدی ناک کی اونچائی اور قد آوری سے کوئی بنی اسرائیل نہیں بن سکتا ہے اور یہ اوصاف بنی اسرائیل ہونے کی دلیل ہیں تو پھر ازبک اور اویماق بلکہ دھونڈ کڑوال بھی بنی اسرائیل ہوسکتے ہیں ۔
لی بان کا کہنا ہے کہ اصل آریا پنجاب کے شمال غرب کے اس منقد سے قریب رہتے ہیں جس کا نام ہم نے باب آریا رکھا ہے اور یہ آریا پٹھان کہلاتے ہیں اور دردستان اور کافرستان کے باشندوں سے بہت مشابہہ ہیں اور کشمیریوں سے قریبی تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کے رنگ صاف ، ناک خمدار ، چہرے بیضاوی ، بال بھورے بعض اوقات سفیدی مائل اور آنکھیں کنجی ہیں ۔ جب کہ یہ خصائص ہندیوں میں کم ہی پائے جاتے ہیں ۔ یہاں اکثر بال و آنکھوں کی پتلیاں سیاہ ہوتی ہیں ۔
لی بان کا کہنا ہے کہ چہرے کشمیر کے باشندے جسمانی خصائص کے لحاظ سے سب سے عجیب و غریب اور سفید رنگ کے ہیں ۔ ان کی عورتوں کا حسن شہرہ آفاق ہے ۔ جلد ان کی نرم اور صاف ہے ۔ ناک خمدار بال اور ڈارھی گھنی ، یہ زیادہ لمبے نہیں ہیں لیکن مظبوط ہیں ۔ اصلیت کے لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ کشمیری باشندے خالص آریاکی اولاد ہیں اور ان کے اعلیٰ طبقات میں تبتی میل نہایت خفیف ہے ۔ یہ سب مسلمان ہیں لیکن ان میں ذاتیں بھی ہیں ۔
دردستان کا خطہ جہاں دریائے سندھ شمال سے جنوب کی طرف ننگا پربت سے گھومتا ہے ۔ یہاں کے باشندے خالص آریا نسل کے معلوم ہوتے ہیں ۔ ان کے قد بلند اور چہرے بیضاوی ہیں ۔ اگرچہ یہ مسلمان ہیں لیکن ان میں ذاتیں موجود ہیں ۔ سب سے اونچی ذات شن کہلاتی ہے ۔ ان کا ذکر مہابھارت اور منوشاشتر میں پایا جاتا ہے ۔
جیمز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ بھٹیوں کا چہرہ بالکل یہودیوں کی طرح کا ہوتا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ پنجاب آنے سے پہلے غزنی و زابل پر حکومت کرتے تھے ۔ جہاں ان کے ہم نسل اب بھی آباد ہیں اور مسلمان ہوچکے ہیں ۔
لی بان کا کہنا ہے کہ راجپوت بلند قامت سڈول ان کا رنگ صاف اور مانند ہے ۔ آنکھیں بڑی خوبصورت رنگ میں کنجی سیاہ یا بھوری ، ناک خمدار اور نتھنے پھولے ہوئے ، بال سیاہ کثرت سے گھنگریالے ، ڈارھی لمبی اور گھنی ، اکثر اپنی ڈارھیوں کو یا یہ کہنا چاہیے اپنے ٹھیکوں کو بڑھنے دیتے ہیں اور اوپر پہنچا کر سر کے بالوں سے باندھ لیتے ہیں ۔ ان کی عورتیں نہایت حسین ہوتی ہیں ۔
لی بان مزید لکھتا ہے مرہٹے صورت و شکل میں تورانی الااصل معلوم ہوتے ہیں ۔ لیکن زیادہ میل ہونے کی وجہ سے ان کے خصائص مخلوط ہوگئے ہیں ۔ جلد ان کی زرد اور سیاہی مائل ، رخسار کی ہڈیاں کم ابھری ہوئی ، چھوٹی ناک ، نوک پر اونچی اور نٹھنے بھولے ہوئے ۔ ان کی عورتوں کا رنگ صاف ہوتا ہے ۔
ذات کی سختیوں نے مدت تک مفتوع قوموں سے ملنے نہ دیا ۔ یا اقلاً ان کے میل کو ست کردیا ۔ لیکن میل کتنا ہی ست ہو بالاآخر بہرو و زمان قوم فاتح کو مفتوع میں غائب کردیا ۔ ایک مدت دراز سے چند ہندوستان میں آریوں کا وجود ہی نہیں ہے اور جب ہم محض بیان کی آسانی کے لیے کہتے ہیں کہ کوئی قوم آریا ہے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ان کا رنگ سفید ہے اور یہ یورپیوں سے ملتے ہیں ۔ مگر ان کی سفیدی یورپیوں تک نہیں پہنچتی ہے ۔ آریوں کا رنگ سفید اور بال سیاہ ہوتے تھے مگر ایک اقلیت سرخ بالوں کی پائی جاتی ہے ۔ یہ سرخ بالوں والی اقلیت آریوں کے زمانے میں موجود تھی ۔ کیوں کہ منو نے انہیں نیچ قوم اقرار دیا ہے اور ان کے ساتھ اعلیٰ طبقات کے ہنود کا شادی بیاہ ممنوع تھا ۔
مخزن افغانی کے مترجم برنہاڈ دورن کا کہنا ہے کہ افغان قوم کا اعقاد ہے کہ وہ یہود نسل ہیں اور ان کی رائے کو زمانہ حال کے مورخوں نے بھی اختیار کیا یا صحیح سمجھا اور افغانوں میں رواج ہے کہ یہودیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے ہیں ۔ لیکن اس کی وجہ ان کا مسلمان ہونا ہے ۔ سر میلکم کا کہنا ہے کہ افغانوں کا یہود نسل ہونے کا دعوی بہت مشتبہ ہے ۔ لیکن ان کی شکل و ظاہری قد و خال اور اکثر رسوم سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فارسیوں ، تار تاریوں اور ہندیوں سے جدا قوم ہے ۔
بیلیو کا کہنا ہے کہ افغانوں کی تین شاخیں اپنے کو قیس کی اولاد بیان کرتے ہیں ۔ ان کی ایک شاخ سرابند کے نام سے موسوم ہے ۔ یہ کلمہ پشتو زبان میں اس نام کا ترجمہ ہے جو پرانے زمانے مین سورج بنسی کا نام تھا ۔ اس طرح سربن کے لڑکے خرشیون ، شرخیون اور اس کے پوتے شیورانی (شیرانی) کے نام راجپوتوں اور برہمنوں کے عام نام کرشن، سرجن اور شیورانی کی تبدیل شدہ صورتیں ہیں ۔ اس کا خیال ہے کہ افغان یہودیوں کی نسبت راجپوتوں سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ۔
بالاالذکر بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ افغانوں ، ایرانیوں اور آریاؤں اور برصغیر کے ہم نسل ہیں یعنی آریا نسل ہیں ۔ گو افغانی قبائیل ایک دوسرے سے مختلف ہیں تاہم تاہم ان میں اس کی وجہ دوسری نسلوں کا اختلاط ہے اور برصغیر کے آریاؤں کی نسبت ان میں میل کم ہوا ہے ۔ جب کہ برصغیر کے باشندوں میں کثرت سے میل ہوا ہے ۔ اس لئے یہ برصغیر کی آریا اقوام سے مختلف ہیں ۔ تاہم یہ کشمیریوں اور راجپوتوں کی ان کی نسلی خصوصیات ملتی ہیں ۔
ڈاکٹر پینل نے جن دو رسموں کی بدولت ان کے بنی اسرائیل ہونے پر استدلال کیا ہے ۔ وہ رسمیں حقیقت میں دنیا بھر کی قوموں میں مختلف صورتوں میں رائج رہی ہیں اور یہ صرف یہود کی خصوصیت نہیں ہیں ۔ (تفصیل کے لئے دیکھے سر جیمس جارج فریزر کی شہرہ آفاق کتاب ’ شاخ زریں) لہذا ان کی بنا پر افغانوں کے بنی اسرائیل ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا ہے ۔ ہم یہاں برصغیر کی قوموں میں رائج شدہ مثالیں دے رہے ہیں ۔
لی بان کا کہنا ہے کہ آریاؤں میں عوام کے دیوتاؤں کے ساتھ تعلقات تجارتی تھے ۔ یعنی یہ دیوتاؤں کی مدح سرائیاں کرتے اور ان کو چڑھاوے چڑھاتے اور دیوتا اس کے عوض انہیں مال و مویشی اور دشمنوں پر فتح عطا کرتے ۔ جس کسی دیوتا سے وہ التجا کرتے اس کی بے حد خوشامد کرتے اور رسوم اور دودھ و شہد کے چڑھائوں اور بعض اوقات زندہ جانوروں کی قربانی کا وعدہ کرتے ۔ اس شرط پر دیوتا ان کے خاندان کی حفاظت کرتا اور امراض سے بچاتا ، ان کے کھیتوں پر پانی برساتا اور ان کے گایوں باور کرتا ۔
بالاالذکر رواج بھی غالباً کسی ایسی قربانی کی یادگار ہے جسے بعد میں تبدیلی مذہب کے بعد قحط کے دفعیے کے لئے کیا جانے لگا ۔ کیوں کہ دفعیہ بلیات کے لئے اس کے رواج اب بھی برصغیر کی قوموں میں پائے جاتے ہیں ۔ مثلاً مشرقی ہند کے کرمیوں میں ہیضے کے دفیعہ کے لئے متاثرہ گاؤں کے باہر ایک بندر کو پٹخ کر ماردیا جاتا ہے اور اس کے خون میں سنگریزے ڈبو ڈبو کر تمام مکانوں میں اڑاتے ہیں اور ہر گھر کی دہلیز پر بندر کی دم سے جھاڑو دیتے ہیں ۔ آسام کی گاڈر قوم میں بلیات کے دفعیہ کے لئے ایک بکری پھر ایک ماہ کے بعد گھونس یا بندر کی قربانی دی جاتی ہے ۔ قربانی سے پہلے انہیں گھر گھر گھمایا جاتا ہے ، پھر گاؤں کے باہر تبر کے ایک ہی وار سے اس کی آنتیں نکال دی جاتی ہیں اور اس کو صلیب پر چڑھادیا جاتا ہے اور اس کے گرد نوک دار بانس لگا دیئے جاتے ہیں ۔
ہندؤں کے نذدیک گائے اور بیل مقدس جانور ہیں ۔ وہ اس کی پوجا کرتے ہیں ، وشنو مالک برست یعنی مالک سانڈ سمجھا جاتا ہے ۔ شیو کی سواری نندی بیل ہے ۔ اس کی دیوتا کی حثیت سے پوجا کی جاتی ہے اور ان کے تقدس کی وجہ سے اور اپنی مرادوں کے حصول کے لئے گائے بیل آزاد چھوڑ دیتے ہیں اور ان کی باقیدہ دیکھ بھال ہوتی ہے اور انہیں فروخت نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
افغانوں میں صدقے میں بچھڑے چھورنے کا رواج قدیم ہند آریائی رواج کی باقیات ہوگا جو اب صدقے میں بدل گیا ہوگا ۔ تاہم برصغیر میں صدقے میں مختلف جانوروں اور انسانوں کو استعمال کیا جاتا تھا ۔ مثلاً نیلگری کی ٹوڈا قوم مویشوں کی پوجا کرتی ہے ۔ ان میں گائے بڑا مقدس جانور سمجھا جاتا ہے ۔ سال میں ایک خاص دن مقرر ہوتا ہے جب تمام قوم کے گناہ ایک بچھڑے پر لادے جاتے ہیں اور ڈنڈے مار کر جنگل میں بھگادیا جاتا ہے ۔ لی بان کا کہنا ہے کہ یہ رسم یہودیوں کی یاد دلاتی ہے ۔ جس میں گناہوں کی گٹھری بکری کی پشت پر رکھ کر جنگل میں چھوڑ دیا جاتا تھا ۔
جنوبی ہند میں کسی میت کے گناہ دھونے کے لئے ایک بھینس کے بچھڑے کو ارٹھی کے گرد چکر لگوا کر دور ہانک دیا جاتا ہے ۔ اس طرح یہ تصور کرلیا جاتا ہے کہ میت کے گناہ بچھڑے میں چلے گئے اور اسے ہر گز فروخت نہیں کیا جاتا ہے اور اس کی متبرک جانور کی حثیت سے دیکھ بھال کی جاتی ہے ۔ مانی پور کے راجاؤں میں دستور تھا کہ وہ اپنے گناہ کسی شخص جو عموماً مجرم ہوتا تھا سونپ دیتے تھے ۔ اس کے لئے راجہ رانی ایک تختے پر غسل کرتے اور نیچے صدقہ کا آدمی ہوتا تھا ۔ اس طرح گناہ مجرم کو سونپ دیئے جاتے تھے اور مجرم کو ملک بدر کردیا جاتا تھا ۔ اس ٹرانکور کے متوفی راجہ کے گناہ کسی برہمن کو معاوضہ کے بدلے سونپ دیئے جاتے ہیں اور پھر اسے ملک بدر کردیا جاتا تھا ۔ ہندوستان کے بھارسنوں ، ملانوں اور ترمیوں میں جب ہیضہ کا زور ہوتا ہے تو وہ ایک بکری یا بھنس لے کو اس کی بیٹھ پر کچھ لونگ ، اناج ، سندور اور اور ایک کپڑا باندھ کر اسے گاؤں سے نکال دیا جاتا تھا اور پھر گاؤں واپس نہیں آنے دیا جاتا تھا ۔ کوہ ہمالیہ کے مغربی علاقہ جوہر بھاٹیا میں ایک کتے کو شراب پلا کر اسے مٹھائی کھلائی جاتی تھی اور پھر گاؤں کے گرد گھما کر چھوڑ دیا جاتا تھا اور اسے لکڑیوں اور پھتروں سے مار کر موت کے گھاٹ اٹار دیا جاتا تھا ۔ اس طرح ان کے عقیدے کے مطابق سال بھر کوئی آفت نہیں آتی ہے ۔
بالاالذکر بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ صدقہ اور دفعیہ بلیات کا رواج جو کہ افغانوں میں رائج تھا یہ برصغیر کی قوموں میں بھی مختلف شکلوں میں رائج ہیں اور ان کی بناء پر ہم انہیں یہود نسل نہیں کہے سکتے ہیں اور ایسی مماثلت ہر قوم میں ملتی ہیں اور یہ مقامی دستور ہیں اور ان کی کثرت سے برصغیر کی قوموں میں مختلف ٔشکلیں ملتی ہیں ۔ اس طرح ان کا نسلی تعلق آریائی اقوام سے ثابت ہوتا ہے ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں