102

یوسف زئی

سر آلیف کیرو کا کہنا ہے کہ دریائے کنارا اور دریائے باجور کی وادی میں اسپاسی قوم آباد تھی اور اسپ اس قبیلے کا ٹوٹم تھا ۔ یہ اسپاسی مسلمان ہونے کے بعد یوسف زئی بن گئے ۔ مگر یہ غالباً درست نہیں ہے یوسف زئی چندر بنسی یعنی جادو یا یادو ہیں ۔ یوسف یادو کی تخریب ہے یعنی یادو یوسف زئی کی اصل یہی یادو ہے ۔ اس کی تائید اس طرح بھی ہوتی ہے کہ اس علاقہ میں ایک قبیلہ جدون قبیلہ ہے جو کہ جادو کا معرب ہے ۔ الفسٹن انہیں یوسف زئیوں کی شاخ اور ان کا مسکن سوالک پربت بتایا ہے ۔

یہ یادو یا جادو کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ (دیکھے چندر بنسی) یادو اقوام جو دریائے سندھ کے مغربی کنارے آباد تھیں اور اسلام قبول کرنے کے بعد یہود سے اپنی نسبت کرنے لگیں ۔ یہ گمان انہیں یادو کی نسبت سے پیدا ہوا ہے ۔ اس لئے اپنا نسلی تعلق یہودی بادشاہ ساول (طالوت) سے کرنے لگیں ۔ لیکن ان کی اصلیت اندوسیتھک ہے اور افغانوں کی کی رسوم اس کا ثبوت بہم پنچاتی ہیں ۔ جیسا کہ بابر لکھتا ہے کہ پٹھانوں میں دستور ہے کہ جب یہ شکست تسلیم کرلیتے ہیں تو منہ میں گھانس کے تنکے پکڑکر حاضر ہوتے ہیں ۔ یہ راجپوتوں کی رسم ہے ۔ نیز فتوحات کی رسومات بھی اس کی تائید کرتی ہیں ۔

رامائن میں ہے کہ رام نے جب سیتا کو چھڑانے کے لئے لنکا پر حملہ کیا تو حملے سے پہلے اس نے بالی کے بیٹے انگت کو قاصد بنا کر راون کے پاس بھیجا کہلوایا کہ وہ اگر منہ میں گھانس ڈال کر حاضر ہوجائے تو اسے معاف کردیا جائے گا ۔ دکن میں مغلوں نے حملہ کیا تو مقامی باشندوں اور لشکریوں نے گھانس منہ میں ڈال کر امان مانگی تھی ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں