59

یوچی خورد Yuechi Miner

چوتھی صدی کی نصف دھائی کے بعد یوچیوں کی وہ شاخ جو تبت میں آباد ہوگئی تھی ، ان پر مشرق کی جانب سے منگولی ترکوں نے حملے شروع کردیئے اور انہیں تبت سے نکل نے پر مجبور کردیا ۔ چنانچہ وہ باختریہ آگئے ۔ ان کے ساتھ ان کی ہی نسل سے تعلق رکھنے والے دوسرے قبائل کی جمیت بھی تھی جن میں ہن بھی شامل تھے ۔ اگرچہ شاپور رومیوں کے مقابلے پر سرپیکار تھا ، تاہم وہ لشکر لے کر ان قبائل کے مقابلے پر آیا مگر صلح پر مجبور ہوگیا اور نہیں باختریہ میں اس شرط پر آباد ہونے کی اجازت دی کہ وہ رومیوں کے مقابلے میںمدد دیں گے ۔ 
یوچی خورد کے بادشاہ کیدار Kidaraنے جلد ہی فتوحات کے دائرہ کو کوہستان ہندو کش کے جنوب تک بڑھا کر کابل ، غزنین ، سوات و پشاور کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا ۔ بعد ازاں کیدار نے آزادی کا حق منوانے کی کوشش کی ، تو جلد ہی ایرانی فرمانروا شاپور سے جنگ کی نوبت آگئی اور ہوا بھی یہی کیدار اور شاپور سے تصادم میں دوسرے ہم نسلی قبائل نے شاپور کا ساتھ دیا اور کیدار مملکت چھن گئی اور وہ مارا گیا ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں