80

یوچی

چینی ماخذوں کی رو سے یوچیوں کا وطن شمالی چین تھا ۔ 165 ق م میں وسط اشیاء کے ایک دوسرے قبیلہ ہیونگ نوHinng nu  نے یوچیوں پر حملہ کردیا اور انہیں وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا ۔ یوچی سردار مارا گیا اور فاتح نے اس کی کھوپڑی کو جام شراب کے طور پر استعمال کیا ۔ یوچیyuechi  ترک وطن کے بعد مغرب کی طرف روانہ ہوئے تو ان کی تعداد بہت زیادہ تھی ۔ راستہ میں انہوں نے دریائے ایلیEaly  کے کنارے دوسون Wn sun قبیلہ کو شکست دی ۔ اس فتح کے بعد ان کی ایک شاخ جنوب کی طرف بڑھ گئی اور تبت Tibte کی سرحد پر آباد ہوگئی ۔ یہ شاخ جسے تاریخ میں یوچی خورد Yuechi Miner کہلاتی ہے ، جبکہ بڑی شاخ یوچی اعظم yuechi The Garet کہلاتی ہے ۔ 
یوچی اعظم مغرب کی جانب بڑھتی چلی گئی ، یہاں تک کہ دریائے سیحونOxus  کے میدان میں پہنچے اور چند سال کی جنگوں کے بعد انہوںنے سیتھیوںکو مغلوب کرلیا اور انہیں جنوب و مغرب کی طرف ہٹنے پر مجبور کردیا ۔ اب ساکاؤںکو نیا وطن اپنا نیا وطن تلاش کرنا پڑا ، چنانچہ وہ جنوبی افغانستان کے علاقے میں آگئے ۔ اس عرصہ میں دوسون سردار کا لڑکا جوان ہوچکا تھا ۔ وہ یوچیوں کے مخالفین یعنی ہیونگ نو کے سرداروں سے مدد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا اور دوسون اور ہیونگ نو قبیلے نے مل کر یوچیوں کو اس علاقے سے بھی نکال دیا ، جو کہ انہوں نے ساکاؤں سے چھین لیا تھا ۔ اب یوچی مجبور ہوکر دریا جہیون کی وادی میں آگئے اور وہاں سے ساکاؤں کو نکال کر بلخ ، باختراور سغدیانہ کے علاقے پر قابض ہوکر اس علاقے میں آباد ہو گئے ۔ 
پہلی صدی کے آخر تک یوچی خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے رہے اور پہلی صدی کے آخر میں انہوں نے خانہ بدوشوں کی زندگی ترک کر کے ایک ممتذن قوم کی زندگی بسر کرنے لگے ۔ ان کے پانچ قبیلے تھے اور انہوں نے پانچ ریاستوںکی بنیاد رکھی , جن میں ایک قبیلہ کشن یا کشان تھا اور جس کے نام پر ان کی ریاست کا نام بھی کشن یا کشان پڑا ۔ یہ تمام معاشرتی اور سیاسی ارتقاء 10 ق م میں مکمل ہوگیا ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں