72

یوگ


  ”اتصال ملاپ“
نفس جسمانی Psychimatic اعتبار سے یہ اصطلاع وحدت کی تلاش میں جسم اور ذہن کو ایک کرنے کی کوشش کا نام ہے۔ اپنے درست معنوں میں اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اپنی ابتدائی شکل میں ہڑپہ اور موہن جوڈارو کے زمانے سے اس کی مشق جاری تھی ہے اور یہ ویدوں کے ہندوستان سے پہت پہلے کی بات ہے کیپ مپل کا خیال ہے کہ کانسی کے اوئل دور میں بادشاہ چاند کے ساتھ متماثل قرار دیا جاتا تھا اور یوگا بادشاہ کشی کے اسطور سے وابستہ تھا۔ بعد ازان اسے کائنات کے بار بار پیدا ہو کر پھر سے تباہ کیے جانے کے عمل کے ساتھ متشخص کیا جانے لگا۔ یوں اس نے باہم منحصر شیو شکتی کے تصور کی صلاحیت حاصل کی۔ 
اپنشدوں کے کلاسیک دور سے پہلے اس میں آتما یا ادہی آتما یوگ جیسی ٹیکنیکی اصلاحات کا وجود دیکھنے کو نہیں ملتا ”وجود کی ہر حالت کی مذمت یا خاتمے“ کا سا کوئی مقصد۔ میتری اپنشد میں درج ہے کہ یوگ کا مقصد کسی وجود کو نفسی جسمانی اعتبار سے ایک وحدت دینا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یوگ کی مختلف اشکال وجود میں آئی۔ ہتھ یوگا کے ذریعہ جسمانی اور ذہنی توانائیوں کو قابو میں رکھا جاتا ہے۔ منتر یوگ میں منتروں وغیرہ کی جپ اور تپسیا سے ارفع ترین کے ادراک کی کوشش کی جاتی ہے۔ ذہنی قوتوں کو باطنی اصوات کے ساتھ وصال دینے کی کوشش یوگا کہلاتی ہے۔ یوگا کی اس شکل میں سانس کو مشقوں کو خاص مقام حاصل ہے۔

یوگ کے تمام نظام ایک دوسرے سے منحصر ہیں اور کوئی ایک نظام دوسرے سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہے۔ انسانی طبع کے لا محدود تنوع پر مبنی ہونے کے باعث نہ صرف عالمگیر سطح پر کشش رکھتی ہے۔ بلکہ بقا کی سی بنیادی جبلتوں کے برابر ہے۔ تمام مذہب میں کسی نہ کسی صورت میں اس کا کوئی نہ کوئی اصول کسی نہ کسی نام سے عمل ہو رہا ہے۔
تہذیب و ترتیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں