70

یہ عرس و مذہبی محفلیں

ہمارے روحانی محفلیں خاص کر عرس ، میلاد اور برسی کا وغیرہ کا رواج ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان میں قران خوانی ، میلاد نعتیں اور قوالیاں ہوتی ہیں ۔ یعنی اس جو کچھ پڑھا جاتا ہے اس کا تعلق کسی نہ کسی معنوں میں اسلام سے ضرور ہوتا ہے ۔ لیکن یہ ایک سوال اٹھتا ہے کیا ان رسموں کا تعلق اسلام سے ہے ؟ کیوں کہ ان کا رواج اوئل اسلام میں نہیں ملتا ہے ۔ کسی کے مرنے پر نہ قران پڑھا جاتا تھا نہ کسی کی برسی منائی جاتی تھی ۔ جہاں تک عید میلاالنبی منانے کا تعلق ہے وہ سب سے پہلے تیسری ہجری صدی میں فاطمین مصر نے بارہ ربی اول کے دن منانی شروع کی ۔ 

ٍٍٍٍ قابل ذکر ہے کہ شیعوں کے عقیدے کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سترہ ربی اول کو ہوئی تھی ۔ مگر فاطمین مصر بارہ ربی اول کو یہ جشن مناتے تھے ۔ کیوں کہ ان کے عقیدے کے مطابق بارہ ربیع اول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بارہ اول کے دن کو ہوئی تھی اور آپ کی وفات کے بعد وصی کا دور شروع ہوتا ہے اور وہ اس کی خوشی مناتے تھے اور باطنی عقیدے کے تحت لوگوں کو یہ بتایا جاتا تھا کہ یہ جشن عید میلاد النبی ہے ۔ مگر سوال یہی رہتا ہے یہ روحانی محفلیں کیوں منائی جاتی ہیں ۔ اس کے لیے تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔
ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق انسان کا فرض تھا کہ وہ دیوتاؤں کو خوش رکھے ۔ کیوں کہ اگر وہ ناراض ہوجائیں تو دنیا کے تمام امور بگڑ جائیں گے ۔ دیوتاؤں کو خوش کرنے کا طریقہ زبان سے بھی ہوتا ہے اور نذر و نیاز سے بھی ۔ اس لیے دونوں طرح سے دیوتاؤں کو خوش کرنا چاہیے ۔ مگر اگر کوئی نذر و نیاز کرنا چاہتا ہے مگر اس کے طریقوں سے واقف نہ ہو تو اس کی بدتمیزی سے دیوتاؤں کے خوش ہونے کے بجائے ناراض ہونے کے خدشہ ہوتا ہے اور اس طرح اس کے کام درست ہونے کے بجائے بگڑ جاتے ہیں ۔ اس لیے نذر و نیاز دیوتاؤں کو پیش کرنے کا کام پجاریوں کا ہوتا ہے ۔ یہ پجاری گو انسان ہیں مگر اس کے ساتھ پراسرار قوتیں رکھتے ہیں اس لیے وہ انسانوں سے بالاتر ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ وہ مقدس خاندانوں سے رکھتے ہیں اور یہ اپنے کو برہمن (بر- اونچا ۔ مان یعنی منش انسان ۔ یعنی اعلی اور مقدس انسان) کہتے ہیں ۔ ان کو اپنے پتروں (اجداد) کی وجہ سے اعلیٰ مقام حاصل ہے اور ان کے تقدس کی وجہ آسمانی دیوتاؤں کی اولاد کی وجہ سے ان میں روحانی اور الہی جوہر ہے ۔ اس لیے ان میں فطرت کے کاموں میں دخل دینے ، دنیا کی حفاظت کرنے اور قائم رکھنے کے وسیع اختیارات کے حامل ہوتے ہیں اور اس لیے فطرت کو اپنے منشا موڑ سکتے ہیں ۔ یہ اپنے تقدس کی وجہ جو ان کے آبا کی وجہ سے انہیں حاصل ہے بلا کسی خوف کے دیوتاؤں سے ہم کلام ہوتے ہیں اور ان سے دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں ۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ دیوتاؤں کو کس قسم کی نذریں پسند ہیں اور انہیں کس طرح پیش کرنا چاہیے ۔ یہ مذہبی رہنما اور پجاری چونکہ مقدس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے ان کی دعائیں قوانین قدرت کو توڑ سکتی ہیں ، پانی برسا سکتی ہیں ، روشنی لاتی ہیں ، اولاد و ترقی اور دنیا میں امن و امان رکھتی ہیں ۔
یہ برہمنوں کا قدیم زمانے میں قربانی کرنے والے پجاریوں اور رشیوں کی اولاد ہونے کی وجہ سے دیوتاؤں کے ہم نسل ہونے کا دعویٰ ۔ ان رشیوں سے ویدوں میں وسیع اختیارات وسیع اختیارات منسوب ہیں ۔ ان میں انسانی کاموں میں دخل ، آفرنیش عالم اور دنیا کو قائم رکھنے میں ان کا ہاتھ ہے ۔
ویدوں میں مذہبی رسوم کے لیے ریت کا کلمہ آیا ہے جس کے معنی قانون و ضابطہ کے ہیں ۔ اس کلمہ کا مادہ ری Ri کے معنی بہنے کے ہیں جو یونانی لفظ Riao اور انگریزی لفظ River میں موجود ہے ۔ یعنی اعلیٰ ترین قانون یا نظام عالم کا حوادث قدرت کی ہم آہنگی ہے ۔ نذر و نیاز کی رسم ریت سے بڑھ کر آسمان اور زمین کے درمیان ایک پل بن جاتا ہے اور راستہ پر چلنے والے یعنی نذر و نیاز پیش کرنے والوں کی دعائیں و التجائیں قبول ہوتی ہے ۔ یہ راستہ جو نذر و نیاز پیش کرنے والوں کو ملتا ہے ۔ یہ نذر و نیاز وہ ہے جو پجاریوں و مذہب رہنماؤں کو لوگ دیتے ہیں ۔ یہ نذر و نیاز کا طریقہ جو دیوتاؤں تک پجاریوں اور مذہبی رہنماؤں کے ذریعے کیا جاتا ہے دیوتاؤں کو مجبور کرنے قوت رکھتا ہے ۔ ایک مشہور مقولہ ہے دیوتا منتروں کے تابع ہیں اور منتر برہمنوں کے پاس ۔ لہذا برہمن ہی حقیقی دیوتا ہیں ۔ رگ وید کے بھجنوں میں دیوتا ان کی التجا پر جواب دیتے ہیں ۔
یہ پجاری و مذہبی رہنما دیوتاؤں کے آداب و آئین اور باہمی تعلقات سے واقف ہوتے ہیں ۔ ان فرائض کو بخوبی انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ پجاری و مذہبی رہنما صدق دل اور درست طریقہ سے دعائیں مانگیں ۔ اس کے لیے انہیں بھاری نذرانہ ، گراں قدر اور بیش بہا تحائف پیش کیے جاتے ہیں کہ وہ ہم سے راضی رہیں اور اہنے تقدس اور اختیارات جو انہیں اپنے آبا سے حاصل ہوا ہے ہمارے کاموں کے لیے تائید اور مدد کریں ۔ یہی وجہ ہے ہندوؤں کے علاوہ مسلمان بھی پیروں اور مذہبی رہنماؤں کو نذرانے دیتے ہیں اور مذہبی مجالس و عرس منقد کیے جاتے ہیں ۔ چونکہ یہ مذہبی رہنما اور پجاری کسی مقدس بزرگ کی اولاد ہوتے ہیں اور اس لیے یہ بھی مقدس ہوتے ہیں اور یہ سمجھا جاتا ہے ان رضامندی کی وجہ سے ان کے اجداد ہم سے راضی رہیں گے اور ہماری مدد اور حفاظت کریں گے ۔
ایک عام انسان کی خصوصیت ہے کہ وہ گزشتہ عنایتوں کے لیے اظہار منت اور ان کی بقا اور ان میں اضافے کا بھی متمنی رہتا ہے اور گزشتہ تکلیفوں پر معافی و رحم و پشمانی کا اظہار کرتا ہے ۔ یہاں اظہار تشکر میں نذر و دعا ایک صورت ایک تجارتی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔ دیوتاؤں کی ستائش کی جاتی ہے ان سے التجا و نذر پیش کرکے عنایات کرنے اور مسلوں کے حل کی درخواست کی جاتی ہے ۔ امید کی جاتی ہے کہ وہ ان کی درخواست قبول کریں گے ۔ کیوں کہ دیوتا تو درکنار انسان بھی کسی سے نذر لینا اور اس کا صلہ نہ دینا گوارا نہ کرے گا ۔
لیکن اجداد (پتریوں) اور دیوتاؤں کی راہیں جدا ہیں ۔ اجداد کی راہ موت کی ہے اور تمام انسان اسی راہ سے جائیں گے ۔ اسی لیے دونوں کو جو نذریں چڑھائی جاتی ہیں وہ مختلف ہوتی ہیں ۔ یہ آبا جو آسمانوں میں خوبصورت مکانوں میں رہتے ہیں ۔ ان پتروں کے لیے خاص تحفہ شرادھ یعنی نذر و نیاز آبا کی نذر کہلاتی ہیں ۔ جو مختلف موقوں اور برسیوں کے موقع پر ادا کرتے تھے ۔ جو متوفی عزیزوں ، خاندان کے بزرگوں کے لیے اور مقدس اور باعظمت رشیوں کے لیے ہوتے ہیں ۔ تاکہ وہ مہربان ہوجائیں وہ ہماری التجاؤں کو سنیں ۔ ان سے التجا کی جاتی ہے کہ یہ نذریں ہم نے تمہارے لیے تیار کی ہیں ، انہیں قبول کرو اور اپنے ساتھ صحت جسمانی اور بیشمار برکتیں لاؤ’’۔ ہماری مدد کرو ، ہمیں برکت دو اور ہمیں نقصان نہ پہنچاؤ ۔ کسی ایسے گناہ کی پاداش میں جو انسان ہونے کی وجہ سے ہم سے سرزد ہوا ہو’’۔ اپنے پاکباز بیٹوں کو جو فانی ہیں دولت و فلاح و برکت دو’’۔ قدیم اور مہربان آبا کے ساتھ شادمانی میں حالت رہتا ہے ۔ جو دیوتاؤں کے ساتھ بیٹھے ہیں ، قربانی کے رموز سے واقف ہیں اور مخیر آبا کے ساتھ آ جو عالم نور میں رہتے ہیں’’۔ آبا کے ساتھ جو نذروں کے ساتھ دیوتاؤں سے متحدہ ہوگئے ہیں ۔ اور عالم نور میں دیوتاؤں کی ستائش کرتے ہیں’’۔ وہ ہماری نذروں سے پہلے آسمان میں خوش ہیں ۔
اس بحث سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پیروں ، سجادہ نشینوں کو ہمارے کو ہمارے معاشرے میں جو تقدس حاصل ہے اور اور مختلف مذہبی محفلیں اور منقد کیے جاتے ہیں اس کا تعلق اسلام سے نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے قدیمی آریاؤں اور ہندوؤں کا عقیدہ ہے ۔
تہذیب و ترتیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں