36

?ادب کیا ہے

ٍمعنی

ادب عربی کا لفظ ہے جس کے معنی طور طریقہ کے ہیں ۔ لیکن جب ادب کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کسی زبان میں داستان یا فسانہ جو وہاں تخلیق ہوئے ہیں ۔ ہم جب دنیا کے ابتدائی ادب کو دیکھتے ہیں تو ایک بات مشترک نظر آتی ہے کہ تمام دنیا کا ادب مافوق فطرت عناصر سے بھرا ہوا ہے ۔ چاہے ہومر کی اوڈیسی ہو ، ایلیڈ ، دانتے کی ووائن کامیڈی ہو یا شیکسپیئر کے دڑامے ہوں یا اردو کی ابتدائی مثیویاں ہوں اور لیلی مجنوں کے داستان ہوں ۔ کوئی بھی ایسی تخلیقات نہیں ہے جو کہ اصلیت پر مبنی ہو ۔ یہاں تک رامائن مہابھارت اور دنیا کی سب سے پہلی اور سمیریوں کی گلمیش کی داستان سب کی سب فسانہ ہیں ۔ ان سب میں یہ مشترک ہے کہ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

ماخذ

ادب ہمیشہ ذہنی تخلیق ہوتی ہیں اور ان کا حقیقت سے تعلق نہیں ہوتا ہے ۔ البتہ ادیب قاری کے جذبات کی ترجمانی ضرور کرتا ہے ۔ اس طرح ادب تخلیق کرنے والے ماحول اور حالات سے متاثر ہوتا ہے ، وہ ماحول اور حالات سے ہٹ کر لوگوں کے جذبات کی ترجمانی نہیں کرسکتا ہے ۔ اس کی تخلیقات پر اپنے ارد گرد کے ماحول اور حالات کا اثر بھی ہوتا ہے ۔ لیکن وہ حقیقت نہیں فسانہ لکھتا ہے ۔ اگرچہ اس کے کردار ماحول کے مطابق ہوتے ہیں ، لیکن اس کے کردار حقیقی نہیں ہوتے ہیں ۔ اگر ادب سے مراد حقیقت نگاری ہے تو اخبار اور تاریخ بھی ادب میں شامل ہوجائیں گی ۔ لیکن اخبار یا تاریخ کبھی ادب میں شامل نہیں ہوتے ہیں ۔ ادیب کتنا بھی حقیقت نگار ہو لیکن ہو حقیقت نہیں فسانہ لکھتا ہے ، اس کی منظر کشی ماحول کے مطابق ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ حقیقت نہیں ہوتی ہے ۔ ادیب بھی انسان ہے اور ماحول سے ہٹ کر سوچ نہیں سکتا ہے ۔

ماحول کا اثر

ادیپ کی تخلقات حالات اور ماحول سے ضرور متاثر ہوتی ہیں ۔ مثلاً منٹو کے افسانے یا اس دور کے دوسرے ادیبوں کے افسانے دیکھیں وہ اس دور یعنی ہجرت اور فسادات سے بہت متاثر ہوئے اور اس کا اثر ان کے افسانوں پر پرا ۔ لوگ انہیں پڑھ کر کہہ اٹھتے ہیں کہ فلاں ادب حقیقت نگاری سے کام لیا ہے اور کیا منظر کشی کی ہے ;238; ادیب اگرچہ اپنے ارد گرد کے ماحول کی درست منظر کشی کرتا ہو تاہم اس کے باوجود وہ حقیقت نہیں لکھتا ہے ۔ بلکہ وہ پڑھے والوں کے جذبات کا اظہار کرتا ہے اور جو ادیب یہ کام جتنے اچھے طریقہ کرے گا وہی کامیاب ادیب کہلاتا ہے ۔ مثلاً جنگ عظیم کا اثر مغربی ادیبوں پر بھی پڑا اور انہیں نے اپنی تخلیقات میں جنگ کے ماحول اور حالات کی قاری کے جذبات کی ترجمانی کی ۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں ادب حقیقت نہیں ہے بلکہ کسی قوم یا کے حذبات کی ترجمانی ہے اور ایک اچھا ایب لوگوں کے سامنے ماحول اور حالات کے مطابق قاری کے جذبات کی منظر کشی کرتا ہے ۔ قاری اس سے مطلب نہیں ہے ادیب جو لکھ رہا وہ حقیقت لکھ رہا ۔ کیوں کہ قاری حقیقت اپنے جذبات کا اظہار چاہتا ہے ۔ کیوں کہ خبروں کے لیے وہ کوئی اخبار یا تاریخ کی کتاب پڑھ سکتا ہے اور جو ادیب اس میں کامیاب ہوتا ہے وہی بڑا ادیب کہلاتا ہے ۔ اس طرح قاری کے جذبات کی ترجمانی ہی ادب ہے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں