48

اگنی کل

ہندو دیو مالا کے مطابق اگنی کل کو برہمنوں نے دیتوں (شیطان) سے مقابلہ کرنے کے لئے دیوتاؤں کی مدد سے کوہ آبو پر ایک اگنی کنڈ )آگ کے الاوَ( روشن کرکے اس میں سے پیدا کیا تھا ۔ ان سب سے اعلیٰ چوہان اور پھر بالترتیب سولنگی یا چالک ، پڑھیار اور پنوار شامل ہیں ۔ یہ چاروں چھتیس راج کلی میں شامل ہیں ، اس کے علاوہ ان کی کئی شاخیں بھی چھتیس راج کلی میں شامل ہیں ۔

جیمز ٹاڈ انہیں تکشک کی نسل سے بتاتا ۔ اس کا کہنا ہے کہ ان اقوام کا تعلق وسط ایشیا سے ہے ۔ ان کے خیالات جو رزمیہ اشعار میں بیان کئے گئے ہیں وہ سیتھاکی اقوام کے ہیں ۔ ان کی جو سمادیاں دستیاب ہوےءں ہیں خصوصاً گولکندہ دکن وغیرہ میں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کوہ آبو کی روایت پر ایمان نہیں رکھتے تھے ۔ اس کے علاوہ ان کے قدیم کتبوں کی تحریریں پالی زبان میں ہیں اور ان مقامات سے ملی ہیں جہاں پہلے بدھ مذہب راءج تھا ۔ مسلمانوں کے حملے کے وقت اگنی اقوام ہندو مذہب کے بجائے وہ جین اور بدھ مذہب پر کاربند تھے ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ برہمنوں نے ان کی اگنی کنڈ کی پیدائش اپنے مفادات کے لئے گھڑی تھی اور نیز یہ اقوام مقامی نہیں ہیں بلکہ یہ بیرونی خانہ بدوش حملہ آور قو میں تھیں اور ان کے قص میں ایسی روایات ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نسلی تعلق چندر بنسیوں ، اگنی کل اور جاٹوں سے قریبی ہے ۔

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں