50

اہل تصوف پر ہندووَں کا اثر

عربوں نے بنو امیہ کے دور پہلی صدی ہجری میں سندھ کو فتح کرکے وہاں اپنی حکومت قائم کرلی ۔ ان کی حکومت سندھ کے ساحلی علاقہ ملتان تک تھی ۔ اگرچہ ان کی اگر گرد کے ہندو راجاؤں سے لڑائیاں جاری رہیں ۔ مگر انہوں نے مزید فتوحات کی طرف توجہ نہیں دی ۔ عربوں کے مرکز کی کمزوری کی وجہ سے اسلامی سلطنت کے بشتر حصوں میں خود مختار حکومتیں قائم ہوگئیں ۔ جو کہ اگرچہ اپنے کو عباسیوں کو زیر تسلط کہتی تھیں ۔ تاہم وہ پوری طرح سے خود مختار تھیں اور خطبہ میں خلیفہ کا نام لیتی تھیں ۔ خلیفہ بغداد بھی اپنی کمزوری کے پیش اس پر راضی تھے اور وہ ان سلاطین کو خلت اور اسناد دے ان کی توثیق کردیا کرتے تھے ۔ چوتھی صدی ہجری میں غزنویوں نے ہند کے اندر دور تک حملوں کا ایک طویل سلسلہ جاری کیا جو کے ان کے ذوال کے بعد غوریوں نے اسے جاری رکھا ۔ غوریوں کی مملکت کو پہلے خوازم شاہیوں اور اس کے بعد منگولوں نے جڑ سے اتار پھیکا ۔ لیکن وہ اس سے پہلے ہند میں اپنے غلاموں کے ذریعے یہاں اپنی حکومت قائم کرچکے تھے اور انہیں آزادی کا پرانہ اور چتر شاہی دے کر ان کی حکومتوں کی توثیق کرچکے تھے ۔

منگولوں کے وسط ایشاء پر حملوں کی وجہ سے وہاں کے مسلمان دربدر ہوچکے تھے اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے ہندوستان کا رخ کیا ۔ جہاں انہیں خوش آمدید کہا گیا ۔ کیوں کہ یہاں کے ترک حکمرانوں کو اپنے استحکام کے لیے افرادی قوت کی شدید ضرورت تھی ۔ منگولوں کے حملے سے پہلے وسط ایشیا میں صوفیا اپنی تنظم استوار اور اس کے اصول مرتب کرچکے تھے ۔ مگر منگولوں کے حملوں سے صوفیا کی تنظیم بھی بکھر گئی اور ان کی ایک بڑی تعداد نے برصغیر کا رخ کیا ۔ ان صوفیا کو خاندان غلامان نے خوش آمدید کیا اور انہیں خانقاہوں کے لیے زمینیں اور دوسرے اوقاف مہیا کئے ۔ صوفیا نے برصٖغیر کے مسلم علاقوں میں اپنی خانقاہیں قائم کیں اور اپنی تنظیم کو نئے سرے پر استوار کیا ۔ غاندان غلامان اور بعد کے حکمران ان کے عقیدت مند تھے اس لیے ان کا اثر رسوخ عوام پر بھی قائم ہوا ۔ خصوصاً دہلی میں مختلف صوفی سلسوں کی خانقاہیں قائم ہوئیں ۔ ان میں سب سے زیادہ چشتی سلسلے کو عروج و رسوخ حاصل ہوا ۔

یہاں جب صوفیا آئے بظاہر ایک منعظم خانقاہی نظام سے منسلک اور اسلام کے پیرو کار تھے ۔ جس میں ہندووَں کی طرح مجاہدات اور ریاضات کی کوئی جگہ نہیں تھیں ۔ اگرچہ وسط ایشیا میں بدھوں کے زیر اثر شہاب الدی مجاہدات اور ریاضات کا سلسلہ اور خانقاہوٓں کی تنظیم و اصول مرتب کرچکے تھے ۔ یہاں مسلمانوں کا سامنا سنیاسیوں ہندووَں کے مختلف سلسلوں سے پڑا جو کہ پنتھ کہلاتے تھے ۔ ان میں اکثر در بدر پھرتے رہتے ہیں اور بھیک مانگ کر کھاتے پیتے تھے ۔ ان میں بعض جنگلوں میں مختلف مجاہدات کرتے ہیں ۔ بعض برہنہ مادرزاد برہنہ رہتے ہیں ۔ بعض گیرو رنگ کی چادر استعمال کرتے ہیں اور سر یہ سر پر جٹائیں رکھتے ہیں ۔ بعض مختلف لباس پہنتے ہیں ۔ ان میں سے بعض تہمد اور سر پر کپڑا زرد رنگ کا باندھے ہوتے ہیں ۔ بعض گھاس یا اونٹ کے بال یا بکری کے بالوں کا کمبل اوڑھتے ہیں یا چمڑہ پہنتے ہیں اور بعض بالکل ننگے رہتے ہیں ۔ بعض لمبے بال ، ناخن اور ڈارھی رکھتے ہیں ۔ بعض برہنہ رہتے اور اپنے بدن پر زرد مٹی یا سمشان کی راکھ کا لیپ کرتے ہیں اور سرما میں بھی کپڑے نہیں پہنتے ہیں ۔ بعض ایک دفعہ معمولی سا کھانا یا بعض پندرہ دن میں ایک دفعہ ہی کھاتے تھے ۔ ان میں بعض صرف پھل یا گھاس یا دودھ استعمال کرتے تھے ۔ بعض صرف تل چاول پر گزارہ کرتے ہیں ۔ بعض صرف گرم پانی پیتے یں یا چاول کی پیچ یا چشمہ کا پانی پیتے تھے یا وہ پانی جو مٹی کے برتنوں رکھا جائے تو پیتے یعیٗ کوئی دھات استعمال کرتے تھے ۔ بعض تین پایہ لکڑی یا کھوپڑی یا تلوار پر رکھتے ہیں ۔ اس طرح بعض تختہ پر بعض چارپائی پر ، بعض چٹائی پر بعض صرف زمین پر بیٹھتے تھے ۔ بعں بدن کے تمام بال مونڈتے ہیں اور ایک لنگوٹی یا ایک چادر زرد مٹی سے رنگی ہوئی پنتے ہیں ۔ اکثر نقد و جنس کو رکھنا برا سمجھتے ہیں اور مانگ کر کھانا کھاتے ہیں ۔ بعض دھوئیں یا آگ کے قریب رہتے ہیں یا سورج کے سامنے تبتے رہتے ہیں یا ایک پیر پر کھڑے رہتے ہیں یا ایک ہاتھ یا دونوں اٹھائے رہتے ۔ جس سے ان کے ہاتھ ناکارہ ہوجاتے تھے ۔ بعض گھنٹوں جھکے رہتے ہیں ۔ بعض خاموش رہتے ہیں ۔ بعض ہمیشہ اپنا منہ آسمان کی طرف رکھتے ہیں اور ان کی گردن اکڑ جاتی ہے اور حرکت نہیں کرسکتی ہے ۔ بعض مادرزاد برہنہ رہتے ہیں اور جٹائیں ، ڈاڑھی اور مونچھیں رکھتے ہیں ۔ یہ سردیاں آگ کے سامنے گزارتے ہیں مگر کپڑے اڑھتے یا پہنتے نہیں ہیں ۔ بعض ناخن ہاتھوں کے ناخن کٹواتے نہیں ہے ۔ بعض خاموش رہتے ہیں ۔ کتنی ہی ضرورت ہو نہیں بولتے نہیں ہیں ۔ انہیں دوسرے لوگ کھلاتے پلاتے ہیں ۔ بعض خود رادھا جانتے ہیں ان کا لباس و بول چال ، سکنات اور حرکات عورتوں کی طرح ہوتی ہیں اور یہ خود کو کشن کی رادھا کہتے ہیں ۔ ان میں بعض دیکھتی ہوئی آگ یا کوئلوں میں گھس کر یا دم روکنے سے یا اپنے کو پتھروں میں جلانے سے یا کسی آگ یا پانی میں کود کر جان دے دیا کرتے تھے ۔

ہندووَں کے ہر فرقہ ہنود کے نذدیک مکتی کے لیے بھگتی کی ضرورت ہے یعنی بھگتی ہی ذریعہ نجات ہے ۔ بعض کے نذدیک بھگتی سے مراد افعال حسنہ ہے ۔ بعض کے نذدیک بھگتی سے مراد عشق ہے ۔ بعض کے نذدیک بھگتی سے مراد عرفان ہے ۔ اس لیے ہر قسم کے یوگ کرنے لیے ہر گروہ ہنود کے ہاں زہد و تقویٰ ، عبادت اور ریاضت کے جداگانہ خاص طریقے ہیں ۔ اس بھگتی سے انہیں مکتی حاصل ہوتی ہے ۔ جب مکتی حاصل ہوتی ہے تو وہ ایشور کی ذات میں جذب ہوجاتا ہے ۔ یہی بات محی الدین عربی نے وحت الوجود کے لیے کہی تھی ۔

قدرتی بات یہ عوام کے ساتھ ساتھ صوفیا بھی ان کی ہیت ، نفس کشی کے طریقہ کار سے بہت مرغوب ہوئے ۔ بقول حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے یہ بھی اپنے طریقہ کار سے خالق حقیقی کو پوجتے ہیں اور ان پنتھوں کی بہت سی باتیں مثلاً ریاضت و مجاہدات ، خرفہ یا زرد لباس اور ان کے عقائد بھی عوام کے ساتھ صوفیا نے شامل کرلیے ۔ مسلمانوں میں بھی جو قلندر اپنے جسم کے سارے بال مونڈھ کر ان بھیک مانگ کر کھاتے ہیں ۔ بعض زنانہ لباس بلکہ خواجہ پیا کی دلہن بنتے ہیں وہ بھی رادھا پنیتھی کی نقل ہے ۔ اس طرح زرد یا گیرو کپڑے پہنا وغیرہ ہندووَں کی نقل ہے ۔ ہندووَں یہ رنگ ان کے مذہب اور بزرگی کا ہے اور بھارت کے جھنڈے میں یہ رنگ ہندووَں کی نمائندیگی کرتا ہے ۔ اس طرح بہت سے واقعات جو کہ ریاضت اور مجاہدات کے متعلق ہیں وہ مختلف صوفیا سے منسوب کئے ۔ یا بہت سے قصہ جو پرانوں اور دوسرے شاستروں میں ہیں مختلف صوفیا سے منسوب کئے گئے ۔

تہذیب و تر تیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اہل تصوف پر ہندووَں کا اثر” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں