53

عقیدے سے عقل کا سفر

ہم جب ہم مذہب کے بارے میں انکار سنتے ہیں تو ہمارا گمان یہ ہوتا ہے کہ موجودہ دور میں لادینت کا اثر بڑھ گیا ہے ۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ہر دور اور ہر معاشرے میں انکار خدا کے داعیوں کی طرف سے اس طرح کے سوالات اٹھتے رہے ہیں اور اٹھتے بھی رہیں گے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ لیکن حیرت کی بات ہے ان کا حلقہ ہر دور میں بہت محدود رہا ہے اور اب بھی محدود ہے ۔ اگرچہ مغرب کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں لادینت پھیل چکی ہے ۔ لیکن ایسا نہیں ہے وہاں کے بشتر لوگ بظاہر مذہب سے دلچسپی نہیں رکھتے ہیں اور مذہبی رسمی رسومات سے بھی دور ہیں ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے لوگوں کی اکثریت کسی نہ کسی شکل میں اللہ ، گوڈ یا ایشور یا کوئی بھی آپ نام دے لیں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ ہمارے سامنے روس اور کیوبا کی مثالیں موجود ہیں ۔ جہاں مذہب سے پابندی اٹھنے کے بعد وہاں مذہب کا اثر بڑھ گیا ہے ۔ خود کیوبا کے کاسٹرو جب پوپ سے ملے تھے تو آنسووَں کی چھڑی ان کے چہرے پر واضح نظر آرہی تھی ۔ مغرب میں سیکڑوں ریڈیو اور ٹی وی چینل ایسے قائم ہیں جو صرف مذہبی پروگرام بھی پیش کرتے ہیں اور بہت سے مبلغ ایسے ہیں جو روزانہ کئی کئی چینلوں پر اپنا پروگرام پیش کرتے ہیں ۔ ان کے پاس پیسوں کی کمی نہیں ہے اور جب بھی انہوں نے کسی وجہ سے پیسوں کی اپیل کی تو چند دن میں انہیں کڑوروں ڈالر مل جاتے ہیں ۔ اس لیے یہ خیال غلط ہے مغرب لادینیت کی طرف مائل ہے ۔ اگرچہ وہاں لوگ مذہبی عبادتوں میں باقیدیگی سے مسلمانوں کی طرح شریک نہیں ہوتے ہیں لیکن اللہ کو مانتے ہیں ۔ آج جو عیسائی دنیا میں اسرائیل کے لیے ہمدردی ہے وہ اسرائیل کی مظلومیت کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک ایسے عقیدے کی بنا پر ہے کہ اسرائیل کی تکمیل اس بات کی نشادہی کرتی ہے کہ عیسیٰ کی آمد قریب ہے اور میں اس کی تفصیل ایک الگ مضمون میں بیان کی ہے ۔ تاہم یہ عیسائیوں کی انتہاپسندی کی انتہا ہے جس کا الزام مسلمانوں پر لگایا جاتا ۔

اللہ کیا ہے ;238; ہم اس کے بارے میں صرف اتنا جانتے ہیں جتنا کہ ہماری مذہبی کتابوں میں آیا ہے اور اللہ پر یقین کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی عقلی دلیل نہیں ہے بلکہ عقیدہ اور ایمان ہے ۔ اگر یہ عقیدہ اور ایمان اللہ پر نہیں ہو تو لامذہبیت کہلاتی ہے ۔ لامذہبوں کے پاس انکار خدا کے لیے بہت سی طاقتور عقلی دلیلیں دیتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم خدا کے حق میں دلیل دیں گے تو آخر میں مادہ آئے گا ۔ اس طرح اگر ہم مادہ کے حق میں دلیل دیں گے تو اس کے جواب میں خدا آئے گا ۔ لہذا خدا کے شافی جواب عقلی بنیاد پر دینا آسان نہیں ہے اور اعتراضات کا جواب دینا بھی فضول ہے ۔ کیوں کہ اس کا تعلق عقیدے سے ہے ۔ اس کے وجہ یہ ہے مذہب کا تعلق عقیدے سے ہے عقل سے نہیں ہے ۔ لہذا ان کا جواب دینا بالکل ایسا ہوگا کہ ایک شخص کسی گاڑی کی برائیاں بتائے جواب میں میں اس گاڑی کے رنگ کی خوبصورتی کی بات کریں ۔ لہذا ان کے جواب دے گر مخالف کو مطمعین نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اس کا سب بہتر جواب یہی ہے کہ اللہ پر ہمارا عقیدہ و ایمان ہے اور دنیا میں اربوں انسانوں کے پاس مذہب کی سب سے طاقت ور دلیل بھی یہی ہے ۔ یہی وجہ ہے ہر دور میں مذہب کے مانے والوں کے تعداد کثیر اور لامذہبوں کی اقلیت رہی ہے ۔

آج کل مذہب سے انکار کرنے والے بھی خدا کے بہت خلاف بہت کم دلیلیں دیتے ہیں ۔ ان کے بشتر اعتراضات مذہبی کتابوں کے تضاد ، بانیوں کی زندگی اور عقائد پر اعتراضات کرتے ہیں اور ایسی باتیں ہر مذہب میں پائی جاتی ہیں ۔ مثلاً مسلمان وضو کیوں کرتے ہیں اور چار شادیوں کی اجازت کیوں ہے ;238; یا تمہارے نبی نے اتنی شادیاں کیوں کیں ;238; اور اسی قبیل کے اعتراضات دوسرے مذاہب پر کیے جاتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس طرح کے اعترضات کرنے والے لادینی لوگوں کی زندگیاں میں اس نوع کی خرابیاں موجود ہوتی ہیں ۔ جسے وہ معاشرہ یا مرضی یا قانون کا نام دیتے ہیں ۔ اصل میں مذہب کا تعلق عقیدے سے ہے اور کسی عقیدہ پر یقین رکھنا بھی مذہب کہلاتا ہے ۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے سائنس اور علم کا تعلق عقل و حقیقت سے ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے علم و سائنس کا تعلق حقیقت سے ہے ۔ لیکن مذہب کی طرح سائنس اور دوسرے علوم کا آغاز خیال یا تصور یا مشاہدے سے ہوئی ہے ۔ عقیدہ اگرچہ خیال یا تصور اور مشاہدے بھی سے زیادہ طاقت ور ہوتا ہے اور مستحکم ہوکر مذہب کی بنیاد بنتا ہے اور اسے الہام کہا جاتا ہے ۔ لیکن جب مذہب کو مان لیا جاتا ہے اس کو مزید ترقی و ترویح کے لیے عقل کار فرما ہوتی ہے اور ہماری زندگی کے ہر شعبے میں ایک دستور عمل اور ایک طریقہ کار فراہم کرتا ہے ۔ وہ دستور اور طریقہ کار ایسا مستحکم ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ اسی رنگ میں رنگ جاتا ہے ۔ جب معاشرے اسی راہ پر چلتا ہے تو کیا اس کی بنیاد میں عقل کار فرما ہوتی ہے ۔

اس طرح ہم سائنس کے جتنے نظریات ہیں وہ ایک فرضی خیال یا تصورات ہیں جن پر ہم عقیدہ رکھتے ہیں اور ان سے مختلف حقائق ثابت کرتے ہیں ۔ آپ اسکیل یا پیمانہ دیکھ لیں ، بنگ بین کا نظریہ دیکھ لیں ، آئین اسٹائن کی تھیوری ہو ڈاردن کا نظریہ ارتقا یہ کوئی مجسم یا حقیقت نہیں ہے بلکہ ایک فرضی تصورات ہیں ۔ جسے مذہب کی روشنی میں ہم عقیدہ کہتے ہے اور ان کی بنا پر ہم چلتے ہیں ۔ اس طرح ہر علوم مثلاً تاریخ ، عمرانیات ، جغرافیہ وغیرہ ہر کسی میں جو بھی نظریات ہیں ۔ یہ سب ایک تصوراتی چیزیں ہیں اور ان پر علوم کی بنیاد رکھی گئی ہیں ۔ اگر دوسرے سب علوم کی بنیاد تصوراتی عقیدے پر رکھی گئی ہے تو مذہب پر یہ اعتراض کیوں کیا جاتا ہے کہ مذہب کی بنیاد عقل پر نہیں ہوتی ہے ۔ ہاں کسی مذہب کو ماننے والا دوسرے مذہب پر اپنے عقیدے کی روشنی میں کیا جاسکتا ہے اور اس کے جوابات دیے بھی جاسکتے ہیں ۔ مذہب تو لوگوں کے لیے زندگی گزارنے کے اصول و قانون وضع کرتا ہے ۔ اس پر اعتراض کرنا ایسا ہی ہے کہ لوگوں کے زندگی گزارنے کے اصولوں پر اعتراضات کیے جائیں ۔ اگرچہ ہر شخص کا کوئی نہ کئی مذہب ہوتا ہے اور اسی کے اصولوں کے مطابق وہ اپنی زندگی بسر کرتا ہے اور لامذہبیت بھی ایک مذہب ہے ۔ وہ جس خیال و تصورات اور عقیدے کے مطابق زندگی بسر کر رہا وہ بھی تو عقیدہ ہے اور درست ہے کہ نہیں یہ الگ بات ہے لیکن یہ سب تصور یا عقیدے کہیں نہ کہیں سے آیا ہوگا ۔ کیا وہ بھی کوئی مذہب یا کوئی قانون نہیں ہوگا ، جس کے بہت سے اصول کو مخالفت کے باوجود ابھی تک اپنا رکھے ہوں گے ، مثلاً شادی ، بچے وغیرہ ۔ ہم کسی مسلمان کو اپنی مذہبی کتابوں سے دلیل یا حوالہ دے سکتے ہیں لیکن کسی غیر مسلم کو نہیں ۔ لیکن ہم اگر ہندو یا عیسائی کو اپنے مذہب کی دلیل دیں گے تو اس کا انداز الگ ہوگا ۔ ہم اسے اپنے مذہب کی خوبیاں بتائیں گے کہ اس میں عقل کی بات بتائیں گے کہ کیا کیا ہے ۔ مگر اسے یہ نہیں کہے سکتے ہیں کہ تم پہلے قران پر ایمان لاوَ پھر میں بتائیں گے ۔ لہذا یہ اعتراض بیجا ہے کہ تمہارے مذہب میں یہ ہے وہ ہے ۔ اعتراض تو ہم اس کی زندگی گزارنے پر بھی کرسکتے ہیں جو کہ مذہب کی ایک شکل ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عقیدہ کے سامنے عقل بھی ہاتھ باندھ کر کھڑی ہوجاتی ہے ۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کسی عقیدے کو عقل کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے ;238; اور یا علم و سائنس کی بنیاد واقعی عقل پر رکھی گئی ہے ۔ پہلے سوال کے جواب اکثر لوگ اس کا انکار میں جواب دیں گے اور دوسرے سوال کا لوگ شاید کچھ جواب نہیں دیں اور بشترہاں جواب دیں گے ۔ لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے مذہب ہی نہیں بلکہ ہر علم و سائنس کی بنیاد کے پیچھے حقیقت نہیں بلکہ خیال ، مشاہدہ اور تصور رکھی گئی عقل پر نہیں رکھی گئی ہے ۔ یہ اور بعد میں اس علم کو عقل سے مستحکم سائنس اور دوسرے علوم کے بارے میں ہمارے خیالات تجربات و مشاہدات سے بدلتے رہتے ہیں کیوں اس بارے میں ہماری رائے اور تجربات میں غلطی بھی ہوسکتی ہے ۔ لیکن مذہب عقیدے کی بنا ان علوم سے زیادہ اس کی بنیاد مستحکم ہوتی ہے ۔ کسی مذہب کے مانے والوں سامنے اس تعلیمات یعنی مذہبی صحیفے مستحکم ماخذ ہوتے ہیں ۔ جن پر یقین کامل اور عقیدہ مستحکم ہوتا کہ یہ غلط نہیں ہوسکتے ہیں ۔ کوئی بھی مذہب کی ابتدائی عقیدہ چند باتوں میں مشتمل ہوتا ہے ۔ جب کہ علوم کی بنیاد مشاہدات اور معلومات پر ہوتی ہے ۔ جس میں تجربے سے تبدیلی ہوسکتی ہے ۔ لیکن کوئی بھی ابتدائی خیال کتنا ہی غلط ہو وہ ایک علم کی بنیاد رکھ دیتا ہے ۔ اس لیے ابتدائی خیالات اور معلومات بھی پولیس کی ایف آئی آر کی طرح بہت اہم ہوتے ہیں ۔ ہم ارسطو اور افلاطون کا ذکر بہت سنتے ہیں اور کرتے بھی ہیں ۔ مگر ان کے بہت سی باتیں سوائے فلسفہ اور شاعری کے خیالات اور مشاہدات آج کل غلط ثابت ہوچکے ہیں ۔ مگر اس کے باوجود ان کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے ۔ اس وجہ صرف صرف یہی ہے کہ انہوں نے اس موضع پر سب سے پہلے اپنے خیالات کو پیش کرکے ایک علم کی بنیاد رکھ دی تھی ۔

ہم مسلمان ہیں اور ہمارا اللہ پر ایمان ہے ، ہم قران کو اللہ کی کتاب مانتے ہیں اور ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسم کو آخری نبی الزماں مانتے ہیں ۔ یعنی ہمارا مذہب بھی دوسرے مذاہب کی طرح عقیدے پر قائم ہے اور اسلامی فقہ کے بنیادی ماخذ کتاب اللہ ، حدیث اور اجماع ہیں ۔ جب کسی معاشرے میں کسی مذہب کو مان لیا جائے تو وہاں معاشرے کی تعمیر اس مذہب کے احکامات جو کہ اس کے بنیادی ماخذ میں ہوتے ہیں پر قائم ہوتی ہے ۔ جب ہم ان ماخذوں کی روشنی میں کسی امور پر بحث کریں گے تو وہاں ہم عقل کا استعمال کرتے ہیں اور اسی بنیاد پر اسے غلط یا درست ثابت کرتے ہیں اور یہی ہمارے قانونی ماخذ بھی ہیں ۔ لیکن کوئی فرد اگر کسی دلیل کو نہیں مانتا ہے یا اس سے انکار یا اختلاف کرتا ہے تو وہ ایک الگ اپنا حلقہ اثر قائم کرلیتا ہے اور گویا الگ فقہ یا دبستان قائم ہوجاتا ہے اور اسلام میں مختلف مسلک یا فقوں کی بنیاد یہی ہے ۔ خیال رہے یہ بنیادی ماخذوں سے اختلاف نہیں کرتے ہیں مگر ان ان تشریح یا دلیل سے اختلاف کرتے ہیں ۔ لیکن اگر وہ بنیادی ماخذوں سے یعنی قران ، حدیث اور اجماع سے انکار کرتا ہے تو وہ الگ فرقہ قائم کرلیتا ہے مثلاً شیعہ فرقہ ۔

علم و سائنس جس کو ہم حقیت تسلیم کرتے ہیں ان کی بنیاد بھی خیال یا تصور یا مشاہدہ کی بنیاد پر رکھی جاتی ہے ۔ یہ اگرچہ عقیدے سے کہیں کم تر درجہ پست ہوتا ہے اور یہ اکثر غلط بھی ثابت ہوتا ہے ۔ تاہم مسلسل مشاہدات اور تجربات کی بنا پر اسے رد یا مستحکم ہو جاتا ہے ۔ خیال ، تصور اور تخیل بھی عقیدے کی ایک کمزور شکل ہے ۔ لہذا جب ایک خیال یا تصور پر ایک علم کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے تو عقیدے پر مذہب کی بنیاد کیوں نہیں رکھی جاسکتی ہے ;238; جو کہ کسی خیال یا تصور سے بھی کہیں زیادہ طاقت ور ہوتا ہے ۔ علم میں آغاز مشاہدے سے ہوتا ہے جو تجربات کی بنا پر غلط بھی ثابت ہوتا ہے اور اور جب اسے تسلیم کرلیا جاتا ہے تو عقل کا اسے بڑھاتی ہے ۔ یعنی مشاہدہ وہ چیز ہے جو سائنس اور دوسرے علوم کو بنیاد فراہم کرتے ہیں ۔ مذہب میں ابتدا میں عقیدہ ہوتا ہے اور عقیدہ اپنی طاقت کی وجہ سے مذہب کو بنیاد فراہم کرتا ہے اور بعد میں اس کی تعمیر و ترقی میں بھی عقل کارفرما ہوتی ہے ۔ جب کسی خیال یا مشاہداہ بنا پر جو آگے چل کر عقلی بنیاد بنیاد پر سائنس یا علم کہا جاتا ہے تو مذہب بھی جب عقیدے سے ترقی کرکے کسی معاشرے کی رہنمائی کرتا ہے تو کیا یہ عقلی کام نہیں ہے ۔ پھر اسے غیر عقلی کیوں کہا جاتا ہے ۔ جب کہ دونوں کی پیدائش حقیقت سے نہیں بلکہ ایک تصور سے ہوئی ہے اور بعد میں عقل ان کی رہمنائی کرتی ہے ۔ یعنی دونوں مذہب اور سائنس میں ابتدا کسی مجسم حقیقت سے نہیں ہوتی ہے ۔

میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ ابتدائی خیال خواہ کتنا بھی غلط ہو یہ علم و سائنس بنیاد بھی ہے ۔ اب آپ کے سامنے 4 لکھوں گا تو فوراً آپ کے ذہن میں ایک معین تعداد آجائے گی ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ چار کیا کوئی حقیقی چیز ہے ;238; اس میں کیا طلسم ہے جس کی بنا پر ذہن میں ایک خاص تعداد آجاتی ہے ;238; لیکن حقیت میں چار ہندسہ جو ہم نے لکھا ہے وہ کوئی حقیقی چیز نہیں ہے بلکہ ایک خیالی یا تصوراتی چیز ہے یہی چیز ایک عقیدہ بھی ہے ۔ ہم ہندسوں کی بنیاد پر نہ صرف اپنے کاروبار و حسابات ، زندگی اور کائنات کی ہر چیز ان ہندوسوں سے بڑی بڑی حقیقیں ثابت کرتے ہیں اور کائنات کی ان حقیقتوں کو ثابت کرتے ہیں اور انہیں کوئی چلنج بھی کرتا ہے تو انہی اعداد سے کام لیتا ہے ۔ اسی طرح حروف تہجی ایک خیال تصور اور عقیدے کی بنیاد پر وجود میں آئے ہیں اور ہم ان سے ہی دنیا بھر کی علم و دانش اور حقائق لکھتے ہیں ۔

تہذیب و تر تیب

(عبدالمعین انصاری)

کیٹاگری میں : فکر

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں