41

عربی النسل کا فسانہ

بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا مشرقی بلوچستان کے مری بگٹی کے علاقہ میں یہ منظوم داستانیں ہیں ۔ ان میں برصغیر کی دوسری قوموں کی طرح ایک طرح تو یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ صلی اللہ وصلم کے چچا حضرت حمزہ کی اولاد سے ہیں اور دوسری طرف یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ حلب سے آئیں ہیں ۔ یہ وہ امام حسین کے ساتھ تھے اور یزید سے سات جنگین لڑیں اور اس کے بعد وہ سیستان اور مکران آئے ہیں ۔

خدا بخش بجرانی صاحب کا کہنا ہے کہ بلوچ خود کو ملک شام کے قدیمی شہر حلب کے باشندے بتاتے ہیں ۔ صوبہ کرامان اور سیستان کی طرف نقل مکانی کا سن 14ہجری بمطابق 680 مقرر کرتے ہیں ۔ یہ ہجرت جنگ کربلا کے بعد وقوع پزیر ہوئی ۔ خود بلوچ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ حضرت امام حسین کے نہ صرف دار تھے بلکہ اپنے کو امیر حمزہ کی اولاد بتاتے ہیں ۔ حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد بھی بلوچ اپنے قول کے مطابق یزید سے سات جنگیں لڑکر کرمان اور سیستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ۔

بلوچوں کا یہ دعویٰ تاریخ کی روشنی میں درست تصور نہیں کیا جاتا ہے ۔ کیوں کہ کربلا کے واقع کے 38 سال پہلے 23 ہجری میں ایران کے اولین فاتح فوجوں کا کرامان کی پہاڑیوں بلوچوں یا کوچوں جنہیں الطیاری کوفج کہتا ہے سے مدبھیڑ ہوئی اور اسلامی فوجوں اور کی ان بلوچوں سے سخت جنگ ہوئی جس میں بلوچوں کو شکست فاش ہوئی اور مورخ ان بلوچوں کو کافر بتاتا ہے ۔ اس سے بتہ چلتا ہے کہ بلوچوں کی ہجرت کا سلسلہ نہ صرف واقع کربلا بلکہ ابتدائی فتوحات اسلام سے بہت پہلے ہوچکا تھا ۔

مزید ان کا کہنا ہے کہ بلوچوں کے متعلق فردوسی کے قول کو اہمیت دیں جو ہر لحاظ سے اہمیت کے قابل ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ کچھ بلوچ شمالی ایران میں بحیرہ کیپسین کے کنارے مرو و ہرات میں 500 ق م آباد ہوچکے تھے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچوں کی ابتدائی نقل مکانی کا راستہ ملک شام سے شمالی ایران کی طرف ہوا ۔ وہ ایران کے وسطی ریگستانوں کو پار کرکے گرد و نواح کے پہاڑوں میں آہستہ آہستہ پھیلتے گئے ۔ جب کہ دور وسطی میں یہ لوگ سیستان اور کرمان جا پہنچے ۔

اپنی کلاسکی شاعری میں بلوچوں کا یہ دعویٰ کہ وہ حضرت امام حسین کے ہمراہ تھے ۔ تاریخ کی روشنی میں غلط نہیں سمجھا جاسکتا ہے ۔ کیوں کہ دسویں صدی عیسوی میں مشہور و معروف عرب سیاح ابن حوقل جب کرامان پہنچا تو اس نے بلوچوں کو شیعہ پایا گو آج کل بلوچ عموماً اہل سنت ہیں ۔ مگر ایران ، سندھ اور بلوچ قبائل میں شعیہ اعتقادات بھی دیکھتے ہیں ۔

خدا بخش بجرانی صاحب جن شواہد کی بناء شام سے بلوچوں کی نقل مکانی تسلیم کر رہے ہیں ۔ اگر جواز کو تسلیم کرلیا جائے تو یقین کریں پاکستان کے مسلمانوں میں کوئی قوم ایسی نہیں ملے گی جو عرب نژاد ہونے کا وعویٰ نہیں کرتی ہو ۔ جب بلوچوں کا عرب سے آنے کو دعویٰ مان رہے ہیں تو معلوم نہیں اس سے کیوں انکار کر رہے کہ ہیں کہ بلوچ امام حسین کے ہمراہ نہیں تھے ۔

خدا بخش بجارانی صاحب کا خیال ہے کہ یہ بلوچی نظم بلوچوں کی ماقبل تاریخ کا ان کے اصل وطن اور حالات کا مستند تاریخی حوالہ ہے ۔ خود بلوچوں کا اپنی تاریخ کا اور کوئی مستند شہادت نہیں ہے ۔ بلوچوں کے مختلف قبیلوں اور فرقوں کی اصلیت اور نسب جو کہ ان کے ذہنوں میں محفوظ تھے اور انہیں نظموں اور گیتوں کے زریعہ ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچائی جاتی ہیں ۔ یہ ان کی بدولت اپنی قدیم تاریخ اور قبیلوں کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں ۔

خدا بخش بجارانی صاحب نے اعتراف کیا ہے کہ یہ نظم تاریخ سے ماخذ نہیں ہے اور بجارانی صاحب نے خود بھی بلوچوں کی مسلم حکمرانوں کی لڑائیں ہوئیں ان کا بھی ذکر کیا ۔ اس کے باوجود وہ اسے مسنتد کہہ رہے ہیں ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے اگر یہ نظم تاریخ سے ماخذ نہیں ہے تو خرافات ہے اور خرافات کو کیوں مستند کہیں ? جس کی تائید کسی ماخذ سے نہیں ہوتی ۔ روایت بھی اہم ہوتی مگر صرف اسی صورت میں اس کی تائید تاریخ کے حوالے سے ہو ورنہ دوسرے صورت میں اس کی اہمیت ایک کہانی سے زیادہ نہیں ہوتی ہے ۔ پھر بھی خدا بخش بجارانی صاحب بلوچوں کے حلب سے آنے کے فسانے پر یقین کر رہے ہیں تو سات چھوڑیں ایک جنگ کا بھی تاریخی حوالہ بتادیں جو بلوچوں نے بنی امیہ سے لڑی ہو ۔ حب کہ خدا بخش بجرانی خود بھی تاریخ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ اس وقت بلوچ مسلمان نہیں تھے اور دسویں صدی عیسویں تک ان کا عرب سیاح برابر ذکر کرتے رہے ہیں ۔ ابتدا میں انہیں کافر اور بعد میں ابن حوقل لکھتا ہے کہ بلوچ قرمطی ہیں ۔ اس تائید بلوچوں کی نظم میں بھی ہوتی ہے ۔ جس کہ کچھ خاص نکات ذیل میں درج ہیں ۔ جس پر ہم آگے چل کر بحث کریں گے ۔

(۱) ہم یا علی کے مرید اور امام کا دین برحق ہے ۔

(۲) ہم میر حمزہ کی اولاد ہیں اور ہمیشہ بازی لے جانے والے ہیں ۔

(۳) حلب سے اٹھے اور یزید سے لڑائی کی ۔

(۴) کربلا پھر درمیان میں بمپور اور سیتان ہماری منزل ہے ۔

بلوچ نظم میں ان مصروں کی اہمیت اس لیے ہے کہ ان پر بلوچوں کے دعوے کا انحصار ہے ۔ اس بارے میں ظہور شاہ ہاشمی صاحب نے اچھی تحقیق اور بحث کی ہے ۔ ہم یہاں ان ہی کہ حوالے سے بحث کریں گے ۔

(۱) ہم یا علی کے مرید اور امام کا دین برحق ہے ۔

جہاں تک اس عقیدے کا تعلق ہے وہ ایرانی شیعہ عقائد ہوکر متاثر اپنایا گیا ہے ۔ انہوں نے اپنے کو علی کے عقیدت مندوں میں شمار کرلیا اور امام کے دین کو برحق کہا گیا ہے اور ابن حوقل ان کو قرامطہ کہتا ہے ۔ یہ مصرعہ بلوچوں کے قدیم عقیدے کی عکاسی کرتا ہے ۔

(۲) ہم میر حمزہ کی اولاد ہیں اور ہمیشہ بازی لے جانے والے ہیں ۔

بلوچوں میں ایک کہانی مشہور ہے کہ ایک دفعہ امیر حمزہ شکار کھیلتے ہوئے کوہ کاف کے علاقہ میں چلے گئے وہاں ان کی ایک دیو سے سامنا ہوا جس نے انہیں لکارا ، دیو مارا گیا اور وہاں ایک پری سے ان کی شادی ہوگئی اور اس لڑکی سے ایک بیٹا ہوا اور وہی بلوچ ہیں ۔ یہ حیرت کی بات نہیں ہے ایران میں فارسی میں ایسی سیکڑوں داستانیں چھپ چکی ہیں ۔ ان پڑھ بلوچ آج بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو چیز چھپ جائے وہ غیر قابل تردید شدہ ہوتی ہے ۔ انہوں نے حمزہ کی اولاد کا دعویٰ کیا ہے ۔ بلوچوں میں کوئی حمزہ نام کا ہوگا جس کی نسبت ان کا گمان حمزہ کی طرف گیا ۔ یہ نام آج بھی بلوچوں میں مقبول ہے ۔ اس کے بعد ایک قدم آگے بڑھا کر کہا ہم حلب کے رہنے والے ہیں اور دعویٰ کیا کہ ہم قریش ہیں ۔ یہ دعویٰ ایک بلوچی نظم میں ہے یعنی رند جو ہیں وہ قریش اور حمزہ کی اولاد ہیں ۔

آج بھی جو بلوچ ایران کے جنوب میں خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے ہیں وہ کرش کے نام سے بھی پہچانے جاتے ہیں ۔ وہ خود اپنے کو کرش بھی کہتے ہیں ۔ کرش غالباً ان کے کسی قدیم قبیلے کا نام ہوگا اور بلوچ قوم کا نام ہے ۔ یہ کوش پہلے کوچ کہلاتا تھا اور یہ کوروش کی ایک شکل ہے ۔ ایرانی بادشاہت کا بانی کوروش کبیر کہلاتا ہے ۔ اسی لفظ کی وجہ سے ان کا گمان ان کا قریش کی طرف گیا اور وہ خود کو قریش تصور کرنے لگے ۔

(۳) حلب سے اٹھے اور یزید سے لڑائی کی ۔

ان مصروں میں حلب کا ذکر آنے کی وجہ سے کئی مورخوں اور عام بلوچوں نے بلوچوں کے اصل مرکز شام کے قدیم شہر الپو یا حلب منوانے کی کوشش کی ۔ جس شاعر نے یہ نظم کہی ہے اس کا نہ تو نام معلوم ہے اور نہ حیثیت ۔ لیکن وہ پندرویں صدی کے بعد کا ہے ۔ کیوں کر اس نظم میں چاکر کا آیا ہے ۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا بلوچ قوم واقعی حلب سے آئی ہے ;238; جس کا جواب یقینا نفی میں ہوگا جس کے شواہد اب تو ساری دنیا پر ظاہر ہوچکے ہیں ۔ بلوچوں نے اس نظریہ کو اپنایا تھا وہ محض خوش عقیدت کے سوا کچھ نہ تھا ۔

ہاشمی صاحب لکھتے ہیں ایک پرانا نقشہ ان کے ہاتھ لگا جس میں بحر کیسپین کا پرانا نام ہیرکانی ہے اور اس کے کنارے ایک جگہ کا نام البا یا البانی تھا جو کہ قفقاز (کوہ قاف) کے دامن میں واقع ہے اور یہ شہر باکو سے زرا دور ہے ۔ چونکہ بلوچ یہاں سے آئے تھے اس لیے امیر حمزہ کی اولاد کی شادی یہاں کی ایک لڑکی سے شادی کرائی اور ایرانی تاریخ میں شمالی ایران خصوصاً مازندادان جو اس علاقہ میں ہے کے دیو مشہور ہیں اور ایرانی شہنشاہ ان دیووَں سے ہمیشہ پریشان رہے اور یہیں ان دیووَں سے مقابلہ کرنے کی وجہ سے رستم کو سیستان سے بلوایا تھا ۔ اسی البا کو پندویں صدی سے پہلے کے بلوچوں نے اپنے تذکروں میں صحیح تلفظ اور معنوں کے ساتھ بیان کرتے رہے ہیں اور بعد میں عقیدت مندوں نے اس الب میں تبدیلی لا کر اسے حلب کردیا ۔ جس پشت پر عقیدہ کے علاوہ احساس کمتری بھی شامل تھی ۔

اس طرح مصرعہ ہے ہم البانے سے اٹھے اور یزید سے لڑائیاں ہوتی رہیں ہیں ۔ اس میں یہ یزید بن معاویہ تو بالکل نہیں ہے ۔ خیال رہے بلوچوں میں حکمران کا نام ایک سمبل کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے ۔ ایران کے ساسانی خاندان کا یزد گر ایک مشہور بادشاہ گزرا ہے اور غالباً اس یزد کو مذہبی عقیدت نے یزید کردیا ہو ۔

(۴) کربلا پھر درمیان میں بمپور اور سیتان ہماری منزل ہے ۔

اس نظم میں ایک مصرعہ میں ہے یعنی کربلا سے نکلے پھر درمیان میں بمپور ہے اور سیستان کا شہر ہماری منزل ہے‘ ۔ خیال رہے کربلا سے سیستان جائیں تو مکران کا شہر بمپور درمیان میں کسی طرح نہیں آتا ہے ۔ اس کے لیے عراق اور ایران کے مشہور شہروں کے درمیان سے گزرنا پڑے گا ، مگر ان کا تو ذکر نہیں ہے ۔ مشہور مستشرق میجر موکلر نے سکندر کا بیڑا نیارکوس کی کمان میں گزرنے کے راستہ تعین اور تحقیق کے لیے 1876 میں گوادر سے جاسک تک کا سفر کیا کہ بندر گاہوں اور مقامات کا محل وقوع اور قدیمی ناموں سے آگاہی ہوسکے ۔ اس نے ان مقامات کا ایک نقشہ بنایا تھا ۔ اس نقشہ میں مکران کے ساحلی علاقوں کے قدیمی نام درج ہیں ۔ ان میں سے ایک کارپلا Karpela بھی ہے ۔ یہ مقام مشہور بندرگاہ جاسک سے چھبیس میل مغرب میں ہے ۔ اس کے قریب ایک پہاڑی بھی ہے جسے ماہی گیروں نے کوہ مبارک کا نام دیا ہوا ۔ اگر آپ نقشہ دیکھیں گے تو بمپور کا محل وقوع کارپلا اور سیستان کے درمیان ہے ۔ یہی وہ نام ہے جسے معرب کرکے کربلا کر دیا گیا ہے ۔ ویسے قدیم زمانے میں ب اور پ کی تمیز نہیں ہوتی تھی اور دونوں کے لیے ب استعمال ہوتا تھا ۔ یعنی بلوچ البا یا البانے سے ہم اٹھے اور یزد گر سے ہماری لڑائیں ہوتی رہیں اور ہم ہجرت کرکے کرپلا پہنچے اور وہاں بمپور سے ہوتے ہوئے سیستان گئے ۔

یعنی ان منظومات میں غلط تشریح کرکے الب سے حلب ، کارپلا سے کربلا ، کرش سے قریش کی گئی ہے ۔ بقول ہاشمی صاحب کہ اس میں ان لوگوں کا ہاتھ ہے جو احساس کمتری کی وجہ سے اپنی نسلی برتری کو ظاہر کرنے کے لیے کی جاتی ہے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں