55

آریائی زبان

قدیم آریائی زبان اس وقت موجود نہیں ہے ، تاہم اس کے بہت سے الفاظ موجودہ زبانوں میں مختلف صورتوں اور ہیت میں موجود ہیں ۔ قدیم آریائی زبان جس کو ہند یورپی زبان بھی کہا جاتا ہے ۔ جب آریا مغربی اور جنوبی حصوں میں پھیل گئے ، تو مختلف علاقوں میں جاکر ان کی زبانوں میں اختلاف ہوتا گیا ۔ اب ان زبانوں کی شکل بہت حد تک مختلف ہے ، تاہم اس کے الفاظ کی ملتی جلتی صورت سے ان ان کے ایک ہی زبان سے نکلنے کا اندازہ لگایا جاتا سکتا ہے ۔ آریائی زبان کے چند الفاظ اپنے معنوں کے ساتھ درج کئے جاتے ہیں ، جن سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ، کہ ان زبانوں کے ماخذ کیا ہیں ۔

اردو ۔ سنسکرت ۔ ۔ فارسی ۔ ۔ لاطینی ۔ ۔ یونانی ۔ ۔ جرمن ۔ ۔ روسی ۔ ۔ انگریزی

ماں ۔ ۔ ماتا ۔۔ ۔ ۔ مادر ۔ ۔ ۔ ۔ ماتر ۔ ۔ ۔ میٹر ۔ ۔ ۔ ۔ مٹر ۔ ۔ ۔ میت ۔ ۔ ۔ مدر

باپ ۔ ۔ پتر ۔ ۔ ۔ پدر ۔ ۔ . ۔ ماتر ۔ ۔ . ۔ میٹر ۔ ۔ ۔ ۔ مٹر ۔ ۔ ۔ پیت ۔ ۔ ۔ فادر

بھائی ۔ ۔ بھراتر ۔ ۔ برادر ۔ ۔ ۔ فریٹر ۔ ۔ ۔ ۔ فریٹر ۔ ۔ ۔ برڈر ۔ ۔ بریت ۔ ۔ برادر

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مقصود شدہ آریائی زبان کی ایک چھوٹی سی دستاویز دریافت ہوگئی ہے ۔ یہ عہد نامہ ہے جو ہتیوں کے بادشاہ مستنیّ کے دیوتا متر اندر اور ورن کا ذکر کیا تھا ۔ یہ زبان نہ تو ہند آریائی ہے اور نہ ایرانی بلکہ دونوں کا ماخذ آریائی زبان تھی ۔ یہ دستاویز پندھویں صدی قبل مسیح لکھی گئی تھی ۔

آریا جب ہجرت کرکے ایرانی خطہ میں داخل ہوئے اور ان کی ایک شاخ مشرقی درہ کو غبور کرکے پاک و ہند میں داخل ہوئی ۔ چوں کہ ایرانی اور برصغیر کے آریا ہم نسل تھے ، اس لئے جہاں دوسری باتوں میں مشہابت تھی ، وہاں ان کی زبانوں میں بھی مشابہت تھی کہ دونوں محض ایک زبان کی کی بولیاں معلوم ہوتی تھیں ۔

ایرانی سیاسی اور ثقافتی اثر افغانستان اور برصغیر کے شمالی علاقوں پر ہخامنشی دور میں قائم ہوا ، لیکن یونانی حملے کے ساتھ ہی ایرانی اثر و رسوخ قائم نہیں رہا اور یہ علاقہ وسطہ ایشاء کے قبائل کی اماج گاہ بنا رہا ، جو برائے نام ایرانی سیادت قبول کرتے تھے ، یہی وجہ ہے یہ علاقہ سیاسی ، مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے یہ علاقے برصغیر کے زیر اثر ہوگئے اور افغانستان کے مشرقی علاقہ پر ہند آریائی زبانوں کی اجارداری تھی اور آج بھی افغانستان میں ہند آریائی زبانوں کی باقیات ملتی ہیں ۔ اگرچہ افغانستان کے مغربی خطوں کو ایرانی اثر بدستور قائم رہا ۔

چھٹی صدی ہجری میں اس علاقے پر مسلمانوں کا اقتدار قائم ہوا ، تو ہند آریائی اقتدار کے ساتھ ثقافت ، مذہب اور زبان کو اس علاقے سے رخصت ہونا پڑا ۔ آریائی زبانوں کی دونوں شاخوں ، یعنی ہند آریائی اور ایرانی میں عظیم انشان ارتقائی عمل ہوا جس کی مثال نہیں ملتی ہے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں