54

اشوک اعظم

آج بھارتی اشوک کو بھارت کا مایہ ناز سپوٹ فخر سے کہتے ۔ قدیم بھارت کے موریہ خاندان کا اشوک واقعی اشوک اعظم کہلانے کا مستحق ہے ۔ اس نے عہد قدیم میں پہلی دفعہ بھارت کو متحد کرکے ایک ایسی سلطنت قائم کی جس کی نظیر مغلوں سے پہلے تک نہیں ملتی ہے ۔ اس نے ہی سب سے پہلے دنیا کو یہ تصور دیا کہ ریاست کا کام عوام کو سہولتیں پہنچانا اور رفع عامہ کے کام کرنا ہے ۔ اس کے بہت سے کتبہ اور آثار پورے برصغیر میں بکھرے ہوئے ہے ہیں ۔ اشوک نے اپنے کتبوں میں مختلف اخلاقی و مذہبی احکام رعایا کے لیے لکھے ہیں ۔

اشوک اعظم اعظم کی بازیابی

آج بھارتی اشوک بھارت کا مایہ ناز سپوٹ فخر سے کہتے ۔ اشوک واقعی اشوک اعظم کہلانے کا مستحق ہے ۔ اس نے عہد قدیم میں پہلی دفعہ بھارت کو متحد کرکے ایک ایسی سلطنت قائم کی جس کی نظیر مغلوں سے پہلے تک نہیں ملتی ہے ۔ اس کے بہت سے کتبہ اور آثار پورے برصغیر میں بکھرے ہوئے ہے ہیں ۔ اشوک نے اپنے کتبوں میں مختلف اخلاقی و مذہبی احکام رعایا کے لیے لکھے ہیں ۔

یورپی مقحق جمیس پرنسیپ نے 1830ء تا 1840ء کے دوران مختلف قدیم کتبوں اور سکوں پر تحقق کر رہا تھا ۔ اسے ایک نام پیا داسی ( دیوتاؤں کا پیارا ) مختلف کتبات پر لکھا ملا ۔ اس نے ہندوستان کی مختلف قدیم کتابیں کھنگالیں کہ معلوم ہوسکے کہ یہ نام کسی کا ہے ۔ مگر اسے ہنوز کامیابی نہیں ہوئی ۔ حالانکہ اس نے اس کے لیے جان توڑ کوشش کی مگر معمہ حل نہیں ہوا کہ یہ کتبات کس کے ہیں جو کہ پورے ہندوستان میں پھیلے ہوئے تھے ۔

سیلون کی سول سروس کا ایک عہدہ دار جارج ٹرنور نے جب سیلون کی قدیم کتابوں کی چھان بین کیں تو اس پر یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ کتبوں میں جو راجہ پیا داسی کندہ ہے وہ راجہ اشوک کا ہی نام ہے ۔ جارج ٹرنور نے پرنسیپ کی توجہ اس طرف دلائی ۔

پرنسیپ نے ان کتب کے مطالعہ کے بعد اعلان کیا کہ پیا داسی اصل میں اشوک کا نام ہے جو کہ چندر گپت کا پوتا اور بندوسار کا بیٹا ہے ۔ پرنسیپ کے اس اعلان سے بھوچال برپا ہوگیا اور مختلف اعتراضات کئے گئے ۔ مثلاً اس کا یونانیوں ذکر نہیں کیا اور کہا گیا کہ سیلون کی کتابیں مستند نہیں ہیں ۔ یہ محض افسانے ہیں تاریخ نہیں ہیں اور انہیں نظر انداز کرکے کتبوں پر مزید توجہ دی جائے ۔

اشوک ورھن یا اشوک اپنے باپ بندسار کے عہد حکومت میں اپنی ولیعہدی کا زمانہ اولاً ٹیکسلا شمال مغربی صوبے اور بعد میں اجین مغربی ہند کے نائب السطنت کی حثیت سے گزرا اور اسی زمانے میں اس نے سرکاری کاروبار اور سیاست مدن کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔ بند سار کے چند اور بیٹوں ایک بیٹا اشوک تھا اور بلاشبہ اس کے باپ نے اس کو ہونہار اور جانشینی کے لائق پاکر اپنا ولیعہدیا پور راجہ منتخب کیا ۔

لنکا کی اس روایت کو کہ اشوک نے اپنے باپ کی مرض الموت میں مبتلا ہونے کی خبر سنی اور دارلسطنت میں طلب ہوا وہ اس وقت اجین میں تھا اور اشوک کے سو بھائی تھے اور ان میں سے ننانوے 99 بھائیوں کو قتل کرکے اس نے تخت حاصل کیا ۔ مگر اس کے عہد کے ستر ویں یا اٹھارویں سال تک اس کے بھائی و بہن زندہ تھے اور وہ ان کے خاندانوں کی خبر گیری بڑی تندہی اور محبت سے کرتا تھا ۔ ممکن ہے تخت کی وجہ سے اسے چند بھائیوں کا خون بہانا پڑا ہو اور بدھوں نے اسے نناوے بھائیوں کے قتل منسوب کر دیا ہے ۔ یہ کہیں ظاہر نہیں ہوا کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے کھٹکتا تھا ۔ اس کا دادا چندر گپت جس نے ایک غریب جلا الوطن سے ترقی کرکے بزور شمشیر تخت حاصل کیا تھا ۔ قدرتی طور پر سازشوں اور دھڑا بندیوں کا آماج گاہ بنا رہا اور اسی وجہ سے اس کو شک اور بدگمانی سے زندگی بسر کرنی پڑی تھی ۔ لیکن اشوک راجہ کے گھر میں پیدا ہوا ایسی سلطنت اس کو ورثہ میں ملی جس اس کے باپ دادا نے پچاس سال کے عرصہ میں اپنے ذور بازو سے مستحکم کیا تھی ۔ اس لیے یہ فرض کرنے کی وجہ ہے اس کے ساتھ چند گپت سی کوئی بدگمانی نہیں لگی ہوئی تھی ۔ شروع سے آخر تک اسکے فرامین سے کوئی خطرہ یا کمزوری ظاہر نہیں ہوتا ہے اور غالباً اپنے باپ کے انتخاب کے بموجب امن و امان سے تخت کا مالک ہوا ۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ شمالی ہند کی یہ روایت کہ جانشینی کے لیے اس میں اور اس کے بھائی سوسیم کے مابین کوئی تنازع ہوا ہو ۔ لنکا کے بھکشووَں کی حکایت کی نسبت تاریخی پہلو سے معلوم ہوتا ہے ۔

کیوں کہ اشوک نے پورے چالیس تک حکومت کی اس لیے جب 273 ق م میں یا اس کے قریب قریب اس سلطنت کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیا اس وقت وہ بالکل جوان آدمی ہو گا ۔ اس کے شروع کے گیارہ بارہ سال کے عہد حکومت کا حال ہ میں بالکل ہ میں معلوم نہیں اور ظن غالب یہ ہے کہ یہ زمانہ معمولی انتظامات سلطنت میں گزرا ہوگا ۔ اس کی باقیدہ تاجپوشی 269 ق م سے پہلے یعنی تخت نشینی سے چار سال بعد تک نہیں ہوئی ۔ اس سے اس خیال کو تقوویت ہوتی ہے کہ اس کی تخت نشینی میں مزاحمت اور تنازع ہوا ہو گا ۔ اس کی تاج پوشی کی سالگرہ نہایت دھوم دھام سے منائی جاتی تھی اور خصوصاً اس موقع پر قیدیوں کو معاف کیا جاتا تھا ۔

کلنگ کی جنگ 261 ق م

اس کی حکومت کے تیرویں سال یا اگر تاجپوشی کے سے حساب لگایا جائے تو نویں برس اشوک نے زندگی کی پہلی اور آخری جنگ کی تیاری کی جا کی تاریخ ہم تک پہنچی ہے اور کنگ کی سلطنت کی فتح اور الحاق سے اپنی سلطنت کو کامل کیا ۔ کلنگکا علاقہ خلیج بنگال کے ساحل پر دریائے مہاندی اور گوادری کے درمیان واقع تھا ۔ یہ مہم پورے طور پر کامیاب رہی اور اس کے بعد کلنگ موریا سلطنت کا حصہ بن گیا ۔ چند سال کے بعد دو خاص فرمانوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے مفتوحہ علاقے کے انتظام میں راجہ کو کچھ تردد کرنا پڑا تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ نیم وحشی اقوام کے ساتھ نہایت ہمدرانہ سلوک کیا جائے ۔ مگر ان ہداتیوں کو اس کے بعض عمال بعض اوقات نظر انداز کردیتے اور اس کو تنبیہ کرنی پڑتی تھی کہ شاہی احکام کی خلاف ورزی کرنے سے نہ وہ خدا کی نظر میں اور نہ وہ اپنے سامنے سرخ رو ہو سکتے ہیں ۔

کلنگ کی سلطنت کے پاس بڑی فوج تھی جس کا اندازہ میگھستینز نے 60000 پیادے 10000 سوار اور 700 ہاتھی تھے ۔ کلنگا نے مزاحمت اور مقابلہ سختی کیا ۔ اشوک بیان کرتا ہے ۔ 150000 آدمی قید ہوئے 100000 لاکھ آدمی مارے گئے اور اس سے کئی گنا زیادہ لوگ قحط وبا اور دوسری آفات کی نذر ہوگئے ۔

خیالات میں تبدیلی

ان مصائب نے اشوک کے خیالات پر سخت اثر کیا اور وہ سخت پشیمان اور نہایت متاسف ہوا ارادہ کیا کہ وہ ملک گیری کی ہوس نہیں کرے گا ۔ اس فتح کے چار سال یہ کہتا تھا کہ کلنگ کی فتح کے موقع پر جتنے آدمی قتل کئے گئے یا قید ہوئے ان کی تعداد کے سویں یا ہزارویں حصہ کا نقصان اس کے لیے سخت افسوس کا باعث ہوگا اور اشوک بقیہ عمر ہمیشہ جارحانہ جنگ سے در گزر کرتا رہا ۔ اسی زمانے میں بدھ کی تعلیمات نے اس پر اثر کرنا شروع کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کی طرف اس کا رجحان بدھ مت کی طرف بڑھتا رہا ۔ وہ کہتا ہے کہ سب سے بڑی فتح وہ ہے جو قانون پرہیز گاری کے ذریعہ حاصل کی جائے ۔ وہ اپنے جانشینوں سے استدعا کرتا ہے کہ وہ اس خیال کو بالکل ترک کردیں کہ فوج کے ذریعہ سے ملک گیری بادشاہوں کا اول اور آخر فرض ہے اور اگر بالفرض وہ اپنی خواہش اور تمنا کے باوجود لڑنے پر مجبور ہی ہوں تو اس حالت میں بھی وہ جتائے دیتا ہے کہ وہ نرمی اور تحمل سے کام لے سکتے ہیں اور ان کو چاہیے کہ اصلی اور حقیقی فتح اسی کو سمجھیں جو قانون پرہیزگاری یا فرض سے حاصل ہو ۔

اشاعت اخلاق

اس زمانے کے بعد اشوک نے اپنی زندگی کا صرف یہ فرض قرار دے لیا تھا کہ اپنی وسیع مملکت میں اپنی غیر محدود شاہی اخلاق کو ایک اخلاقی قانون ہے جسے وہ سقانون فراءضژ (یا دھم یا دھرم) کہتا ہے کہ سکھلانے ، پھیلانے اور منوانے میں صرف کرے ۔ اس قانون کی زیادہ تر اس نے بدھ مذہب کے واعظوں سے حاصل کیا تھا ۔

اپنی حکومت کے سترھویں یا اٹھارھویں سال اس نے قطعی طور پر اس معاملے میں اپنے طرز عمل کے متعلق فیصلہ کیا اور اپنی رعایا میں حکومت کے اصول کا اعلان فرمانوں کے ذریعہ کیا ، جن کو اس نے اس نے چٹانوں پر کندہ کراویا ۔ جن میں چحوٹا سنگی فرمان نمبر ۱ اور چودہ سنگی فرمامین شامل ہیں ۔ ان میں اس نے وہ عام اصول درج کئے ہیں جن پر خداوندان نعمت کو عمل کرنا چاہیے ۔

ان عجیب و غریب فرامین کے بعد اس نے دوسرے فرامین شاءع ہوئے جو نئے مفتوحہ علاقہ کلنگ کے متعلق تھے اور ان تمام سلسلے میں سب سے قدیم فرمان چھوٹا سنگی فرمان نمبر ۱ معلوم ہوتا ہے ۔ یہ مختصر ہے اور چھ مختلف صورتوں میں پایا جاتا ہے ۔ دوسرے طویل کتبوں کے ساتھ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اشوک بدھ مذہب کو اختیار کرنے سے ڈھائی برس سے زیادہ تک دنیادار چیلا (اپاسک) رہا اور اپنے اعلانات کی اشاعت کم بیش ایک برس قبل وہ بھگشووَں کی جماعت میں شامل ہوگیا اور نہایت سرگرمی اور مستعدی سے مذہب کی اشاعت اور ترقی کی کوشش کرنے لگا ۔ وہ عجیب فرمان جو سبھابُردیا دوسرا بییرات سنگی فرمانژ کے نام سے مشہور ہے اس جس میں راجہ نے مذہبی کتب کی سات عبارتوں کا ذکر کیا ہے ۔

مقدس مقامات کی یاترا

942 ق م میں جب اس کو تخت پر بیٹھے ہوئے تقریباً چوبیسویں سال اشوک نے بدھ ارض مقدس کے سب سے پاک مقامات کی زیارت اور یاترا کے لیے روانہ ہوا ۔ وہ دارلسلطنت پاٹلی پتر سے نیپال کی راہ پر جس کے اوپر پانچ بڑے بڑے ایک ہی پتھر سے تراشے ہوئے مینار اب بھی قائم ہیں اور زمانہ حال کے ضلع مظفر پور اور چمپارن سے گزرتا ہوا بالآخر کوہستان ہمالیہ کے دامن میں پہنچتا ہے ۔ یہاں سے وہ مغرب میں لمبنی باغ کی زیارت کی ۔ یہاں روایتوں کے مطابق مہاتما بدھ کی ماں مایا کو درد دروزہ شروع ہوا تھا اور وہاں ایک درخت کے نیچے بدھ پیدا ہوا ۔ یہیں اس کے رہبر اور مرشد اُپگپت نے راجہ کو خطاب کیا کہ ساے مہاراجہ یہاں وہ مقدس بزرگ پیدا ہوا تھا’ ۔ اشوک نے وہیں ایک مینار قائم کیا اور اس پر یہ الفاظ کندہ کئے گئے تھے اور اس طرح اس کی جاترا کی یادگار قائم کی جو آج تک قائم ہے ۔

اُپگپت اشوک کو بدھ کے وطن کپلا وستو لے گیا ۔ اس کے بعد وہ بنارس کےپاس سارناتھ گیا جہاں بدھ نے اپنے مذہب کی تبلغ کی تھی ۔ پھر وہ سراوستی گیا جہاں بدھ ایک مدت تک مقیم رہا تھا ۔ پھر گیا کے بدھی درخت کی زیارت کی اور پھر کوسی نگر آیا جہاں بدھ نے وفات پائی تھی ۔ ان تمام متبرک مقامات پر اشوک نے بہت خیرات کی اور یادگاریں قائم کیں ۔ جن میں سے بعض اب دوبارہ دریافت ہوئیں ہیں ۔

اشوک راجہ بھی بھکشو بھی

اشوک حکمران کے ساتھ بھکشو بھی بن گیا تھا ۔ کیوں کہ بدھ مذہب میں کچھ وقت کے لیے دنیا کو ترک کر کے بھکشو بن سکتے ہیں ۔ پھر دنیا میں شامل ہوجائے اور چھوٹا سنگی فرمان نمبر 1 اور بھابرو کا فرمان اسی زمانے کا ہے ۔ اشوک نے اپنی زندگی کے آخری پچیس سال کے عرضہ میں اشوک نے سلطنت اور مذہب کی عنان اپنے ہاتھ میں لے لی تھی ۔

تخت سلطنت پر متمکن ہونے کے تیس سال کے بعد 243 ق م یا اس کے قریب اشوک نے نئے فرامین کا ایک سلسلہ شروع کیا ۔ جو سات ستونی کتبے کہلاتے ہیں ۔ ان میں اس نے اپنی تمام گزشتہ تعلیمات کو دہرایا ہے اور آخر میں ان تمام طریقوں کو بیان کردیا ہے جو اس نے ان تعلیمات کو پھیلانے اور ان اصلاحات کو پورا کرنے کے لیے اختیار کئے تھے ۔ ان ہی میں جانوروں کو ذبح کرنے اور ان کے اعضاے کاٹنے کے متعلق قوانین ہیں ۔ کیوں کہ یہ ایسے افعال تھے جن کو وہ دل سے ناپسند کرتا تھا ۔

مگر ان میں بیرونی مذہبی سفارتوں کا ذکر نہیں ملتا ہے اور نہ ہی بودھ مذہب کی مجلس کا کا ذکر ہے جو بدھ روایتوں میں اس کے دارلسلطنت میں منعقد ہوئی ۔ ممکن ہے بدھ مت میں اختلافات ابھر رہے تھے اور یہ مجلس اسی سلسلے میں منعقد کی گئی ہو مگر سنگی فرامین میں اس کا ذکر نہیں ہے ۔ اگرچہ اس مجلس کے بارے میں کثرت سے روایات ملتی ہیں ۔

سلطنت کی وسعت

اس وسیع سلطنت کی وسعت کا اندازہ صحت کے کیا جاسکتا ہے جس پر اشوک حکمران تھا ۔ شمال مغرب میں وہ کوہ ہندو کش تک پہنچی ہوئی تھی ۔ اس میں ایک بڑا حصہ اس علاقہ کا بھی شامل تھا ۔ جو آج کل افغانستان میں شامل ہے اور ساتھ ہی بلوچستان اور سندھ کا تمام یا بڑا حصہ بھی اس سے ملحق تھا ۔ سوات اور باجور کی دور افتادہ وادیاں بھی شاہی اعمال کی زیر نگرانی تھیں اور ان کے علاوہ کشمیر اور نیپال تو یقینا شامل تھے ۔ کشمیر میں اشوک نے ایک دارلسلطنت تعمیر کیا تھا اور اس کا نام سری نگر رکھا تھا جو آج کل اسی نام کے شہر سے تھورے فاصلے پر واقع تھا ۔

اشوک نیپال میں

ٍنیپال کی وادی میں اس نے پرانے دارسلطنت منجو پٹن کی جگہ ایک اور شہر آباد کیا تھ جس کا نام پاٹن للت پاٹن یا للت پور رکھا تھا ۔ یہ شہر اب بھی موجودہ مستقر کھٹمنڈو سے ڈھائی میل کے فاصلے پر واقع ہے ۔ للت پاٹن بعد کے زمانے میں خود مختیار سلطنت کا دارلسلطنت ہوگیا ۔ مگر اس پر بدھ مذہب کا وہ مخصوص رنگ چڑا ہے جو اشوک نے اسے دیا تھا ۔ اس شہر کو اس نے اپنے نیپال کے سفر کی یادگار پر قائم کیا تھا ۔ جو اس نے 250 ق م یا 249 ق م میں جاترا کے دوران میں کیا تھا ۔ اس کے ساتھ اس کی بیٹی چارمتی بھی تھی ۔ اس نے سنیاس کی زندگی اختیار کرلی تھی اور اس کا باپ کوہستان سے چلا آیا تو وہ وہیں نیپال ہی میں اپنی زندگی کے دن پورے کرنے کے لیے رہ گئی ۔ اس نے اپنے خاوند دیو پال کشتری کی یاد میں ایک شہر دیوپاٹن کے نام سے آباد کیا اور خود وہیں ایک خانقاہ میں جس کی بنا خود اس نے ڈالی تھی سنیاسیوں کی طرح رہنے لگی ۔ یہ خانقاہ پسو پٹن ناتھ کے مقام پر بنائی گئی تھی اور اب بھی اسی کے نام سے مشہور ہے ۔ اشوک نے للت پاٹن کو بہت متبرک مقام سمجھا اور وہاں پانچ زبردست استوپ قائم کئے ۔ جس میں ایک تو عین شہر کے مرکز میں تھا اور چار شہر کے باہر فصیل کے چار کونوں پر تعمیر کئے ۔ یہ تمام یادگاریں اب تک باقی ہیں اور اس کے بعد کے زمانے کی تمام عمارتوں سے ممیز ہیں ۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی چھوٹی چھوٹی عمارتیں جو اشوک یا اس کی بیٹی کے نام کے ساتھ منسوب کی جاتی ہیں ۔ مشرق کی طرف اشوک کی سلطنت میں دریائے گنگا کے دہانوں تک تمام بنگال کا علاقہ (ونگ) شامل تھا ۔ ان دہانوں میں رالیپتی یعنی موجودہ تملوک سب سے بڑی بندرگاہ تھی ۔ دریائے گوداوری کے شمال کا ساحلی حصہ جو کلنگ کے نام سے مشہور تھا 261 ق م میں زیر نگیں کیا گیا ۔ زیادہ جنوب میں دریاہائے گوداوری اور کرشنا کے درمیان اندھر سلطنت بھی اگرچہ خود اپنے راجہ کے ماتحت تھی ۔ مگر اشوک کے زیر سیادت شمار کی جاتی تھی ۔ جنوب و مشرق میں دریائے پنار اشوک کی سلطنت سمجھی جاتی تھی ۔

جنوب و مغرب کی وسعت

تامل سلطنتیں جو جنوب کے جزیرہ نماہ میں چول اور پانڈیا کے نام سے مشہور تھیں ۔ یقناً خود مختیار تھیں اور یہی حالت جنوب مغربی ساحل یا مالابار کی سلطنتوں کریل پتر اور ستیا پتر کی تھی ۔ سلطنت کی جنوبی سرحد تقریباً صحت کے ساتھ دریائے پنار کے دہانے یعنی مشرقی ساحل پر ضلع نلور کے قریب سے لے کر کڈپہ میں ہوتی ہوئی اور جنوب میں چیتل درگ پر سے گزرتی ہوئی مغربی ساحل پر ُہنچتی تھی ۔ یہ تلور ملک کی شمالی سرحد تھی اور غالباً ستیا پتر کی سلطنت کی جگہ قائم تھی ۔

وحشی اقوام

شمال مغربی سرحد کی نیم وحشی اقوام اور وہ قو میں جو بندھیا چل کے پہاڑوں میں آباد تھیں جو شمالی معلوم ہوتا ہے وہ مرکز کے زیر مگر تقریباً خود مختیار تھیں ۔ اس اشوک کی سلطنت میں ہندو کش پہاڑ کے جنوب میں افغانستان کا جنوبی علاقہ ، بلوچستان ، سندھ ، کشمیر کی وادی ، نیپال ہمالیہ کا زیرین علاقہ اور تمام ہندستان ماسوائے انتہائے جنوب کے شمال تھا ۔

وائسرائے

سلطنت کے وسطی حصوں خود بادشاہ کی زیر نگرانی پاٹلی پتر سے حکومت ہوتی تھی اور دور دراز کے صوبوں میں نائب السطنت مقرر تھے ۔ نائب السطنت بظاہر کم از کم چار تھے ۔ شمال مغربی حصہ کے حکمرانی کا مقام ٹیکسلا تھا اور پنجاب ، سندھ دریائے سندھ کا علاقہ اور کشمیر کے علاقہ اس کے زیر حکومت تھے ۔ مشرقی ممالک جن میں کلنگ کا علاقہ بھی شامل تھا ۔ ایک نائب سلطنت مقرر تھا جس کا صدر مقام توسلی نامی ایک مقام تھا ۔ مگر اس کا تعین نہیں ہوسکا ۔ مالوا ، گجرات اور بیرون کاٹھیاوار کے مغربی صوبے ایک تیسرے صوبے دار کے ہاتھ میں تھے اور اس کا مستقر اجین قدیم شہر تھا ۔ ماوراء نربدا کے جنوب کے صوبے ایک چوتھے نائب السلطنت کے زیر نگین تھے ۔

تعمیرات

اشوک کو عمارتیں بنوانے کا بڑا شوق تھا ۔ اس کے تعمیرات کی عظمتو شان کی بہت سی روایتیں گھڑ لی گئیں ہیں ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے تین ماہ کی قلیل مدت میں چوراسی ہزار استوپ تعمیر کرائے تھے ۔ جب سے چینی جاتری فاہیان اشوک کے دارلسطنت پاٹلی پتر میں چندر گپت بکرماجیت کے عہد حکومت یعنی پانچویں صدی عیسوی میں کے شروع میں یہاں پہنچا تو اس وقت اشوک کا کا شاہی محل موجود تھا اور لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ وہ مانوق العادات قوتوں کے ذریعے بنایا گیا تھا ۔ وہ لکھتا ہے کہ سسشاہی محلات اور ایوان جو شہر کے وسط میں اسی طرح قائم ہیں جیسے قدیم زمانے میں تھے ، یہ ان طاقتوں نے بنائے تھے جو اس کے غلام تھے ۔ انھوں نے ہی پتھروں کو ایک دوسرے پر جمایا ، دیواریں اور دروازے قائم کئے اور ایسی خوبصورت کھدائی پچی کاری کا کام کیا جو انسانی طاقت سے باہر ہے ۔ ژژ

یہ تمام عالیشان عمارتیں ناپید ہوگئیں ہیں اور ان کے آثار اب دریائے گنگا اور سون کے تہوں میں اس قدر گہرے مدفون ہیں ۔ ان ہی کھنڈرات پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی ریلوے لائن ، پٹنہ کا شہر اور بانکی پور کی آبادی قائم ہے ۔ مگر برائے نام کھدائی نے اتنا ضرور ہماری آنکھوں کے سامنے ظاہر کردیا جس سے جاتری کے پر جوش بیان کی صحت کا اندازہ ہوسکتا ہے ۔ اشوک کے محلات کی طرح اس کی بنائی ہوئی بے شمار اور عالیشان خانقائیں برباد ہو چکیں ہیں اور اب ان کا پہنچاننا بھی ناممکن ہیں ۔

اس نے مختلف مقامات پر عالی شان محلات ، خانقائیں اوراسٹوپے تعمیر کروائے جن کے نشانات اب نہیں ملتے ہیں ۔ اس نے سنیاسیوں کی عبادت کے لئے گیا کے قریب برابر کے پہاڑوں میں چٹانوں کو کاٹ خوب صورت اور بہت ہی صاف شفاف خانقائیں بنوائیں جو اب بھی باقی ہیں ۔ مگر اس کی تمام یادگاروں میں اہم اس کے کتبہ ہیں جو تعداد میں تیس ہیں ۔ یہ کتبہ زیادہ تر چٹانوں کی سلوں ، غاروں کی دیواروں اور ستونوں پر کندہ ہیں برصغیر کے بہت سے حصوں میں پائے گئے ہیں ۔ ان کی زبان پراکرت ہے ، یعنی وہ مقامی زبانوں میں ہیں ۔ ان کتبوں میں دو کا رسم الخط وہ ہے جسے آج کل کروشتھی کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ یہ رسم الخظ قدیم آرامی رسم الخظ سے ماخوذ ہے اور دائیں سے بائیں لکھا جاتا تھا ۔ بقیہ کتبے براہمی حروف کے کسی نہ کسی شکل میں کندہ ۔ یعنی ان حروف میں ہیں جن سے موجودہ دیوناگری رسم الخط نکلا ہے ۔ یہ حروف دائیں سے بائیں لکھے جاتے تھے ۔ یہ کتبات شاہی فرامین ہیں اور زیادہ تر اخلاخی اصول بدھ کی عام تعلیمات ، نظم و نسق اور اصول سلطنت پر مشتمل ہیں ۔

سانچی کے استوپ

اشوک کے زمانے کی جو عمارات بچ رہی ہیں ان میں وہ مشہور استوپ جو وسط ہند میں سانچی کے مقام پر اس کے قریب اجین کے نذدیک واقع ہیں ۔ جہاں اشوک شہزادگی کے زمانے میں مغربی ہند پر حکومت کرتا تھا ۔ ان میں جنگلے کے نہایت عمدہ منقوش دروازے جو کہ خود اشوک کے زمانے میں یا اس بعد فوراً ہی بنوائے گئے تھے ۔

ٍٍپتھر کے تراشے ہوئے مینار

اشوک نے اپنے عہد حکومت کے دوران بے شمار ایک ہی پتھر کے تراشے ہوئے سنگی ستون سلطنت کے قریبی صوبوں میں نصب کرائے ۔ ان میں سے بعض پر اس کے فرامین کندہ ہیں اور بعض پر نہیں ۔ چند ستون ایسے ہیں جو بلندی میں پچاس فٹ بلند اور وزن میں تقریباً پچاس ٹن ۔ یہ ستون نہ صرف اس زمانے کی قابل یاد گار آثار ہیں بلکہ وہ وہ قدیم ترین نمونے ہیں جو ہم کو ہندی فن تعمیر کے متعلق مل سکتے ہیں ۔ ان کا نقشہ ایرانی نمونے سے لیا گیا ہے ، مگر ان میں بہت جدت سے کام لیا گیا ہے اور ساتھ کاری گری بھی تکمیل کو پہنچی ہوئی ہے ۔

برار کے غار

برار کی پہاڑیوں میں گیا کے قریب اشوک نے نہایت ہی سخت سنگ خارا کی چٹانوں تراش کر نہایت صاف و شفاف خانقائیں کھدوائے تھیں ۔ یہ خانقاء آجوک سنیاسیوں کے لیے تیار بنوائے تھے جو کہ نہایت قدیم مذہبی تھا اور جین مت اور بدھ مذہب سے علیحدہ تھا ۔

کتبات

ان تمام چیزوں کے علاوہ اشوک کے زمانے کی سب سے دلچسپ یادگار اس کے کتبے ہیں ۔ یہ تعداد میں تیس سے کچھ زیادہ ہیں اور چٹانوں ، بڑے بڑے پتھر ، غاروں کی کی دیواریں اور ستونوں پر کندہ نہیں ہیں ۔ یہی کتبے اس زمانے کی تاریخ کے بہترین اور معتبر اسناد ہیں ۔ ان میں سے زیادہ اہم کتبے وہ ہیں جن سے اس کی حکومت کے نظم و نسق اور اس کے فلسفہ اخلاق کا تفصیلی پتہ چلتا ہے اور اس کی شخصیت اور عادات و خصائل پر بھی بہت کچھ روشنی ڈالتے ہیں ۔ مختصر کتبات میں نذرانوں کی عبارتیں ، یادگار کے طور پر مختصر بیانات اور دوسری باتیں ملتی ہیں ۔ مگر بہر حال سب سے مختصر کتبوں کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے ۔ یہ کتبے تقریباً تمام ہندوستان میں یعنی کوہستان ہمالیہ سے لے کر میسور تک اور خلیج بنگالہ سے لے کر بحیرہ عرب تک پھیے ہوئے ہیں ۔

تمام کتبے مختلف قسم کی پراکرت زبان میں لکھے ہوئے ہیں ۔ یعنی مقامی زبانوں میں ، جن کا تعلق ایک طرف تو علمی سنسکرت زبان سے تھا اور دوسری طرف لنکا کے بدھ مذہب کی پالی زبان سے تھا ۔ مگر خالصاً ان دونوں میں سے کوئی بھی نہیں ہے ۔ اس لیے بظاہر ان کا مقصد اور ان کی اصل غاءت یہ ہے کہ عوام اس کو پڑھیں اور سمجھیں ۔ ان کے وجود ہی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس زمانے میں لکھنے پڑھنے کا علم عام تھا ۔ یہ کتبے بالتخصیص عوام کی تعلیم کے لیے شایع کئے گئے تھے ۔ یہ شاہراہوں پر یا جاترے کے ایسے مقامات پر جہاں لوگوں کی آمد و رفت زیادہ ہو اور جہاں ان کی اشاعت آسانی سے ہو سکے کندہ کرائے گئے ہیں ۔

کتبات اور روایات کی شہادت کا تعلق

وہ تمام ملخص جو ان کتبات کا درج کیا ہے ان سے ان کتبات کی اہمیت کا اندازہ ہو سکتا ہے جو اشوک نے 257 ق م اور 232 ق م کے مابین نافذ کئے تھے ۔ کیوں کہ یہی وہ چیز ہیں جن کی بناء پر اشوک کی عظیم انشان عہد حکومت کی داستان لکھی جاسکتی ہے ۔ مگر ان کے علاوہ ادبی روایتوں کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

اشوک کے متعلق حکایات

اشوک کے متعلق بے شمار حکایتوں کے مشہور ہیں ۔ اشوک کے متعلق ان احکایتوں میں کچھ تاریخی اور حقیقی روایات بھی شامل ہیں ۔ ان حکایتوں میں ایک کی اور دوسری شمالی ہند کی ۔ لنکا کی مختلف روایتیں ایسی کتابوں میں ملتی ہیں جن کو باقیدہ تاریخی کتب ہونے کا ادعا ہے اور سب سے قدیم تاریخ دیپاومس غالباً چوتھی صدی عیسوی میں تصنیف ہوئی اور اس طرح اشوک کی موت کے بعد کم از کم چھ صدی بعد کی یہ کتاب ہے اور اس کا ہم عصر تاریخ ہونے کا دعویٰ بلکل غلط ہے ۔

شمالی ہند کی روایات ہی اتنی ہی قدیم ہیں ۔ مگر کیوں کہ وہ مختلف ہندی ، نیپالی اور چینی کتابوں میں لکھی گئی ہیں ۔ یہ اگرچہ مسند لنکا کے مقابلے میں ہوسکتی ہیں ۔ تاہم دونوں قسموں کی روایاتوں کا مقابلہ ایک دوسرے سے کرنا چاہیے ۔

دہم یا قانون فراض

اشوک کے تمام فرمان بیشتر اس فلسفہ اخلاق پر مشتمل ہے جسے اشوک اپنی زبان میں دہم کہتا ہے جو تشریح ، تعلیم اور تاکید پر مشتمل پر ہیں ۔ پراکرت کا دہم اور سنسکرت دھرم کا متبادل جس کے معنی قانون زہد یا صرف ذہد سے ادا کیا جاسکتا ہے ہا قانون فراءض ہوسکتا ہے ۔ تمام فرامین میں اس قانون زہد یا فراءض کو تسلیم کیا گیا ہے اور اسے مذہبی دلائل یا فلسفیانہ دلیلوں ثابت ہے ۔ اس میں گوتم کے مذہبی خیالات زیر نظر نہیں لکھا گیا ہے ۔ اس میں مسلہ تناسخ کے عقیدے تسلیم کیا اور اسی پر تمام اخلاقی تعلیم کی بنیاد رکھی گئی ہے ۔

اہمسا

ہندو مت کے کچھ ، جین مت اور بدھ ،ت کے مطابق حیوانی زندگی کے تقدسپر یقین رکھتا تھا کہ جب تک فطرت اجازت دے ادنیٰ سے ادنیٰ جانوروں زندہ کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی زندگی کو ہمیشہ قائم رکھیں اور اس میں بھوت پریت ، دیوتا ، انسانوں اور جانداروں شامل تھے ۔

کرم

اس کے عقیدے کے مطابق دیوتا بھی کرم کی بدولت دوبارہ ایک کیڑے شکل میں پیدا ہوسکتے ہیں اور ایک کیڑہ ممکن ہے وہ بتدریح دیوتا کا درجہ حاصل کرلے ۔ اسی عقیدہ ہے کہ تناسخ کا دارو مدار کرم پر ہے ، ہندوستان کے تمام فلسفے اصل اصول ہے ۔ کرم کسی ہستی کی موت کے بعد اس کے اچھے اور بڑے کاموں کا ایک قسم کا موازنہ یا اخلاخی نتیجہ ہے ۔ اس عقیدہ کے ساتھ برصغیر کا ہر مذہب وابستہ ہے ۔ تناسخ کے ماننے والے روح کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں اور وہ لوگ بھی اسے مانتے ہیں جو سرے سے روح کے قائل نہیں ہیں ۔

انسانی زندگی

اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ انسانی زندگی کو بھی ایک کیڑے کی زندگی کی طرح قابل احترام سمجھا جائے ۔ عملی طور پر جانداروں کی زندگی زیادہ قابل تقدس و احترام سمجھی جاتی تھی اور بعض اوقات کسی جانور کو مارنے یا محض گوشست کھانے پر بھی کسی انسان کو بھی ماڑ ڈالا جاتا تھا ۔ بدھ اور جین مت حکرانوں نے موت کی سزا دیتے رہے ہیں اور اشوک بھی موت کی سزا دیتا رہا ہے ۔ البتہ اس نے اتنی نرمی کردی تھی کہ مجرم کو تین دن کی مہلت دی جاتی تھی کہ وہ مرنے کی تیاری کرلے ۔

اشوک کا آغاز زندگی میں طرز عمل

شروع میں اشوک برہمنی مذہب کا پیرو کار تھا اور اسے اس دیوتا کی بیوی دیوی کو خونی بھینٹ دینے میں مزا آتا تھا ۔ ہر شاہی دعوت میں ہزارو جانور ذبیح کیے جاتے تھے ۔ مگر بعد میں اس نے جانوروں کو مارنے کی ممانیت کرید اور صرف دو مور اور ایک ہرن اپنے لیے ذبح کرنے کی اجازت دی ۔ لیکن 257 ق م میں اس کی بھی ممانعت کردی ۔

شکار

اس سے دو سال پہلے 259 ق م میں اشوک نے شکار کو بھی موقوف کردیا ۔ وہ کہتا ہے کہ گزشتہ زمانے میں میرے بزرگ شاہان ماسلف تفریح و طبع کے لیے ملک میں دورے کیا کرتے تھے اور اس کے دوران میں شکار اور دوسری چیزوں سے وہ دل بہلایا کرتے تھے ۔ مگر اب اشوک راجہ بزرگ و محترم اس قسم کی حرکتوں کو پسند نہ فرماتے ہیں ۔ اس کی جگہ ایسے دورے مقرر کئے جن کے دوران وہ ملک و رعایا کی حال ملاحظہ کرسکتا تھا ، پاک نفس لوگوں سے ملاقات اور ان کو نذرانے دے سکتا تھا اور ان سے قانون فرءض پر بحث کرسکتا تھا ۔

243 ق م کا قانون

وقت کے ساتھ اشوک جانداروں کی زندگی تقدس و تحریم کا سختی سے پابند ہوتا گیا ۔ اس کے نتیجے میں 242 ق م میں نہایت سختی سے اکثر قسم کے جانور ذبح کرنے کی پابندی لگادی ۔ گوشت خواروں کےلیے ذبح پر پابندی نہیں تھی مگر بعد میں اس پر بھی سخت پابندیاں لگادی گئیں ۔ سال کے چھپن خاص دنوں میں جانوروں کو ذبح کرنے کی قطعی ممانعت کردی گئی اور رعایا کی آزادی میں بہت رکاوٹیں پیدا کردی گئی ۔ اشوک کی زندگی میں ان قوائد پر عمال عمل کراتے تھے اور خلاف ورزی پر سزائے موت دی جاتی تھی ۔

تعظیم و تکریم

اشوک والدین ، بزرگوں اور استادوں کا ادب ملحوظ رکھتا تھا اور تعلیم دیتا تھا ۔ وہ کہتا تھا کہ بزرگوں کا ہے کہ وہ چھوٹوں اپنی تعظیم کرانے کے ساتھ وہ ان سے اور ملازم ، غلام اور گھر جانوروں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں اور اپنے قریبی رشتہ داروں ، سنیاسیوں اور برہمنوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور خوش اطوری سے پیش آئیں اور اس کے ساتھ ہی ان کو فرقوں ، دوستوں کے ساتھ سخاوت اور فیاصی سے کام لینا چاہیے ۔

راستی

لوگوں کا فرض ہے کہ وہ راستی اختیار کریں ۔ ان تینوں بڑے بڑے اصولوں کو چھوتے اصولوں کو سنگی فرمان نمبر میں ۲ میں نہایت اختصار کے ساتھ جمع کردیا گیا ہے ۔ اس میں درج ہے کہ ماں باپ کی فرمانبرداری کرنی چاہیے ۔ اس طرح تمام جانوروں کی عزت کرنی چاہے اور ہمیشہ سچ بولنا چاہیے ۔ یہ ہیں قانون زہد کی خوبیاں جن پر عمل کرنا ضروری ہے ۔ اسی طرح چیلوں کا اپنے گرو کا ادب کرنا چاہے اور اعزا و اقارب سے نیک سلوک کرنا چاہیے قدیم طریق زہد کا یہ معیار ہے ۔ اس پر زندگی کی طوالت کا انحصار ہے اور لوگوں کو اس پر عمل کرنا لابدی ہے ۔ ژژ

مذہبی روادری

اس نے دوسرے مذاہب کے ساتھ ہمدری اور روادری برتی اور ایک خاص فرمان (سنگی فرمان نمبر 21) میں درج ہے کہ شاہی معلم اخلاق کی رعایا کو متنبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے عقائد و مذاہب غاءت اور انتہا تزکیہ نفساور خوداری ہے اور خواہ وہ جزئیات میں کتنے ہی مختلف نہ ہوں مگر اصل اصول میں سب ایک ہیں ۔

اشوک نے تمام مذاہب کے کا ادب احترام کرتا تھا ۔ غار کے کتبات میں اجیوک کو بہت بیش قیمت تحاءف و نذریں دینے کا ذکر ہے ۔ حالانکہ یہ ایک بالکل خود مختیار سنیاسیوں کا مذہبی فرقہ تھا ۔ ان ہی کتبات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ برصغیر کے دوسرے قدیم راجوں کی طرح اشوک نے درحقیقت عام مذہبی روادری کی حکمت عملی اختیار کرلی تھی ۔

اگرچہ اشوک کی روادری محدود تھی ۔ کیوں کہ تمام ہندی مذاہب کی تعلیمات بہت کچھ ایک دوسرے سے ملتی جلتی تھیں اور یہ سب ہندوانہ خیالات کی مختلف صورتیں تھیں ۔ ان میں ایسا کوئی خاص فرق نہیں تھا ۔ جیسا کہ ہندو مت اور اسلام میں ہے اور دیوتاؤں کی بھینٹیں بھی ضروری تھیں اور ان کے بغیر پوجا نہیں ہوسکتی تھی ۔ شروع کے زمانے میں دارلسطنت میں قطعی ممنوع تھیں اور ستونی فرامین نافذ ہونے کے بعد پابندیاں مزید سخت کردی گئیں ۔ کسی بھی شخص اجازت نہ تھی کے ان کی خلاف ورزی کرے ۔ عوام جو چاہے عقیدہ رکھیں مگر اس کے احکامات پر کار بند ہونا ضروری تھا ۔

خیرات

اگرچہ خیرات کرنے کی بہت تاکید کی گئی تھی ۔ مگر ساتھ ہی ساتھ ایک اور بڑے اصول کی تلفین کی گئی تھی کہ قانون زہد کو خیرات میں کسی دوسرے کو بخشنے سے اور کوئی بڑی خیرات نہیں ہوسکتی ہے ۔

مذہبی رسوم

اشوک مذہبی رسومات کا عادی نہیں تھا ۔ وہ تمام رسوم کو حقارت سے دیکھتا تھا ۔ سسان کے متعلق اس کا خیال تھا کہ یہ بے مقصد اور بے حقیقت ہیں ۔ حقیقی خیرات یہ ہے کہ زہد کے اصولوں کی لوگوں میں تبلیغ کرے ۔ اصل مذہبی کہ ان اصولوں پر عمل کرے ۔ کیوں کہ اس کا ثمرہ بہت ملتا ہے ۔ سان میں اپنے غلاموں اور نوکروں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنا ، استادوں کی عزت کرنا ، حیسات کی تقدیس ملوظ رکھنا اور برہمنوں اور تارک الدنیا اشخاص کے ساتھ ایثار بھی شامل ہے یہ اور اسی قسم کے اور افعال رسوم زہد کہلاتے تھے ۔

نیک خصاءک جن کی تعلیم دی گئی ہے ۔

اشوک کو لوگوں کے ظاہری اعمال و افعال کے بجائے ان کے تزکیہ نفس کا زیادہ خیال تھا ۔ وہ ان کی طرف سلطنت کے تمام افراد کی توجہ مبذول کرانا چاہتا تھا کہ وہ رحم ، فیاضی ، حق ، پرہیز گاری ، شرافت اور دینداری کے خصائل کی تحصیل میں مصروف رہیں ۔ اسے امید تھی کہ وہ قوائد و ضوابط جو اس نے نافذ کیے ہیں اس لوگوں میں پرہیز گاری عام ہوجائے گی ۔ لیکن پھر بھی اس کا انحصار ان لوگوں کے دہیان گیان پر تھا جن میں اس تعلمیات کی وجہ سے مذہبی جوش پیدا ہو گیا تھا ۔ وہ کہتا ہے کہ ان دو طریقوں میں سے پرہیز گاری کے قوائد و ضوابط کچھ زیادہ کار آمد نہیں ، بلکہ دہیان بہت بیش قیمت چیز ہے ۔

سرکاری تبلیغ کا کام

اشوک نے اپنے عقائد و اصول کی تبلیغ کے لیے حکومتی وسائل سے کام لیا ۔ اس نے تمام شاہی عمال کو حکم دیا کہ وہ اپنے دوروں کے دوران رعایا کی مجلسوں میں انسانی فراءض کی تعلیم و تلفین کریں ۔ اس فرض کی ادائیگی کے لیے ہر سال میں چند دن مخصوص کر دیئے گئے تھے اور دوسرے فراءض کے علاوہ عمال کو حکم دیا تھا کہ وہ اس فرض کو بھی پورا کریں ۔

محتسب

محتسبوں کا محکمہ قائم کیا گیا اور اس کا مقصد اہنسا اور والدین کے ادب احترام کے قوائد و ضوابط کی لوگوں سے پابندی کروائیں ۔ ان یہ ھکم تھا کہ وہ ہر مذہبی فرقہ اور آبادی کی ہر جماعت یہاں تک کہ شاہی خاندان کے افراد کے چال و چلن کی بھی تفتیش کریں ۔ اس کے علاوہ دوسرے افسر بھی مقرر کیے گئے کہ وہ عورتوں کے چال و چلن کی نگرانی کا کام دیں ۔ عملی طور پر اس انتظام کی وجہ سے بہت کچھ جاسوسی اور ظلم و ستم ہوتا ہوگا ۔

مسافروں کی سہولتیں

مسافروں کا خاص خیال رکھا جاتا تھا ۔ اشوک کہتا ہے کہ س میں نے سڑکوں کے دو طرفہ کیلے کے درخت لگوادیئے ہیں تا کہ انسان اور حیوان کو چھاؤں نصیب ہو ۔ میں نے آم کے درختوں کے جھنڈ نصب کرایے ہیں اور ہر کوس پر کنویں کھدوادیئے ، آرام و آسائش کے لیے مکان تعمیر کیے ہیں اور ہر جگہ انسان اور حیوان کے استعمال کے لیے پانی کی سبیلیں تیار کرادی ہیں ۔

بیماروں کی مدد

اشوک کو مصیبت زدہ بنی و نوع اور بے زبان جانوروں کے ساتھ گہری ہمدردی تھی ۔ اس نے وسیع پیمانے پر اپنی سلطنت میں انسانوں اور جانوروں کے شفاخانوں اور ان کی تمارداروں کا بندوست کیا ۔ دواؤں میں کام آنے والی بوٹیوں کی کاشت کروائی بلکہ دوسرے ممالک سے درآمد بھی کروائیں ۔

بیرنی ممالک میں تبلغ

اس کی دلی خواہش تھی کہ اس کے مخصوص فلسفہ اخلاق اور بدھ مت کی تعلیمات ان سلطنتوں میں بھی پہنچائیں جائیں جن سے اس کے تعلقات تھے ۔ اس مقصد کے لیے اس نے بیرونی ممالک میں تبلغ کے لیے اعلیٰ پیمانے پر خود اپنی نگرانی میں انجمن تیار کیں ۔ اس طرح اس نے نے نہایت کامیابی کے ساتھ تبلغ کا کام کیا ۔

تبلیغ کی حدودیں

252 ق م سے پہلے جب سنگی فراماین کو نافذ کیا گیا ۔ شاہی مبلغین سلطنت کی سرحد کی زیر سیادت ریاستوں اور قوموں ، حدود سلطنت کے اندر جنگلی علاقوں ، جنوبی ہند کی خود مختیار سلطنتوں ، لنکا اور مصر ، شام مقدونیہ اور سبیرس کے ملکوں میں بھیجے جاچکے تھے ۔ اس طرح اس کا تبلیغی مشن تین بر اعظموں یعنی افریقہ ، یورپ اور ایشیا پر محیط تھا ۔

اس طرح اس کے زیر سیادت ریاستوں اور اقوام جو بدھ مت کے زیر اثر آگئیں ، ان میں کاموج ، کوہستان ہمالیہ کی اقوام ، وادی کابل اور اس کے مغرب کی قو میں گندھر اور یون ، بھوج ، پلند ، پٹینگ اقوام شامل تھیں جو بندھیا چل اور مغربی گھاٹ کے پہاڑوں پر آباد تھیں ۔

موریا سلطنت کا ذوال

یہ حقیقت ہے جو قیام امن کے لیے قائم ہوتی ہے خود بغیر جنگ اور عسکری طاقت کے بغیر قائم رہے نہیں سکتی ہے ۔ اشوک نے اپنی تمام زندگی میں عدم تشدد کی پر زور تبلیغ کی اور ان کے اصولوں سیاسی اور اجتماعی زندگی میں اپنانے اور قابل عمل بنانے کی کی کوشش کی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں کے اندر سلطنت کی حربی طاقت ختم ہوگئی اور فوج کا جنگی جذبہ سرد ہوگیا ، نظام حکومت کمزور ہوگیا اور اس کی ہیبت لوگوں کے دلوں سے اٹھ گئی ۔ ساتھ ہی ساتھ بدھ مت کی تبلیغ کی وجہ سے برہمنیت جاگ اتھی اور وہ نچ ذات کے بدھ فرمانروا کو اکھاڑ پھیکنے پر تل گئی ۔ طاقت کے استعمال کا خوف تھا ہی نہیں اس لیے بڑی بیباکی کے ساتھ اعلیٰ اور ادنیٰ ذاتوں کا مسلہ کھڑا کر کے مذہبی جذبات بھڑکا دیا گیا ، اشوک کے موت کے بعد موریا سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا ۔ ایک طرف اشوک کے بیٹوں اور پوتوں نے حصہ بخرے کر لئے اور دوسری طرف بعض حوصلہ مندوں نے بعض مقامات پر قبضہ جمالیا اور یہ بتانا مشکل ہوگیا کہ اشوک کے بعد اس کا جانشین کون ہوا ۔ پران کی روایت میں کنال جو اشوک کا بیٹا تھا پہلا جانشین بتاتا ہے ۔ مگر کشمیر کے واقع نگار ایک شخص جلوک اس کا بیٹا اور جانشین کہتے ہیں ۔ تیسری بدھ مت کی روایتیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ بڑھاپے میں اشوک کا انہماک مذہب کی طرف اس حد تک بڑھ گیا کہ وہ حکومت کے کاموں سے غفلت برتنے لگا ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں