44

اشوک سے اشوک اعظم تک

آج اشوک بھارت کا مایہ ناز سپوت جس کا ذکر فخر کرتے ہیں ۔ اشوک واقعی اشوک اعظم کہلانے کا مستحق ہے ۔ اس نے عہد قدیم میں پہلی دفعہ بھارت کو متحد کرکے ایک ایسی سلطنت قائم کی جس کی نظیر مغلوں سے پہلے تک نہیں ملتی ہے ۔ اشوک دنیا کے فرمان رواؤں میں پہلا ہے کہ اس نے حکومت کا اہم مقصد رعایا کی فلاح و بہبود اور سہولتوں کی فراہمی قرار دیا ۔ کے بہت سے کتبات اور آثار پورے برصغیر میں بکھرے ہوئے ہے ہیں ۔ اشوک نے اپنے کتبوں میں مختلف اخلاقی و مذہبی احکام رعایا کے لیے لکھے ہیں ۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ہندوستان میں دو سو سال پہلے تک اشوک کو کوئی نہیں جانتا تھا ۔ صرف اتنا معلوم تھا کہ جب بندوسار کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا اشوک 270 ق م میں باپ کے مرنے کے بعد موریا سلطنت کے تخت پر بیٹھا ۔ جو اس وقت مگدھ میں نائب السطنتہ تھا ۔ یونانی مورخین نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا اور برہمنوں نے بھی اپنے نوشتوں اس کے بارے میں کچھ نہیں لکھا تھا ۔ تاہم انہوں نے تقریباً دس بارہ صدیوں کے بعد اس کا نام حکمرانوں کی فہرست درج کیا تھا ۔ حالانکہ اس زمانہ میں برہمنوں کی بدھوں کی تحریر تک رسائی نہیں تھی اور نہ وہ اشوک کے کتبوں کو پڑھ نہیں سکتے تھے ۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اشوک کا حال صدیوں تک سینہ بسینہ ان میں منتقل ہوتا رہا ۔ اشوک کے متعلق سیلون کی تاریخیں ، بدھوں کی تصنیفات اور خود اس کے کتبات میں بہت کچھ حالات درج ہیں اور اشوک ایسا گمنام بھی نہیں تھا ۔ ساتویں عیسویں میں چینی سیاح ہیونگ سانگ برصغیر آیا تو اس نے وادی کابل سے لے پورے برصغیر میں اشوک کے بنائے ہوئے بہت سے اسٹوپوں کا ذکر کیا ہے ۔

;230;بہت سے غاروں پہاڑوں اور ستونوں پر ہندوستان کے مختلف حصوں میں ایسے حرفوں میں کتبہ پائے گئے جن کے بارے میں کوئی یورپین نہیں سمجھ سکا تھا اور نہ ہی کسی ہندوستانی کی سمجھ میں آرہے تھے ۔ لوگ انہیں دیکھ کر شدر و حیران تھے کہ پرنسپب جو کہ قدیم تحریروں پر تحقیق کر رہا تھا ۔ اس کو ایک مندر سے کچھ کتبات کو پرنسیپ کے باس بھیجے گئے ۔ اس وقت تک انہیں پڑھا نہ سکا تھا ۔ اس نے ان کا جائزہ لیا تو یہ اندازہ لگایا ان تمام کتبات میں کسی نہ کسی وقف کا ذکر ہے ۔ اسے یہ حیرانی ہوئی کہ ہر کتبہ دو ہمشکل حروفوں پر شروع ہوتا ہے اور ہمشکل حروفوں پر ختم ہوتا ہے ۔ اس نے غور فکر کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ دونوں حروف اصل میں عطیہ کرنے والے کے نام ہیں ۔ اس طرح ایک اور حروف کے بار بار آنے سے اس نے اندازہ لگایا کہ وہ حروف سنسکرت کی طرح مالک کی عظمت کو پیان کرتا ہے اور اس نے اسے الیف تسلم کر لیا ۔ اس طرح اس نے تمام حروف تہجی کا دھونڈ لیے تو انہیں پڑحنے کی کوشش کی تو اسے اندازہ ہوا یہ تحریر سنسکرت کی تحریر نہیں بلکہ پالی زبان زبان کی ہے اور بدھ مت والوں کی لکھی ہوئی ہے ۔ اس نے اس کے بعد ان کتبوں کو جو اب تک پڑھے نہیں گئے تھے کوشش کی تو بہت سے ہندوستانی راجاءوں کے ترتیب وار سکے دریافت ہونے لگے اور ان کا قیاس اس حقیقت سے اور زیادہ مستحکم ہوا جو اس نے اور پروفیسر لسن بون نے بیک وقت دریافت کیا کہ اکاتھوکلیز اور پیتلیئن جو ایک تمغہ کے ایک جانب یونانی میں اور دوسری جانب انہیں حروفوں میں لکھے تھے جو انہوں نے دریافت کیے تھے ۔ یہ نیا سراغ جو پرنسپ کے ہاتھ لگا تھا ۔ اس نے اسے فیروز شاہ کی لاٹھ پر کندہ کتبہ کو اور تین اور کتبوں کو پڑھنے کی کوشش کی تو ان سب کا متن معلوم ہوگیا اور ان سب میں اسوکا کے فرمان درج تھے ۔ اس کے بعد اس نے پالی کی کتاب میں اس راجہ اشوک کے دو اور فرمان پادری سیٹیون کو ملے جو گجرات کے کوہ گرنار پر کندہ تھے ۔ پھر ایک اور کتبہ لیفٹینٹ وکٹر نے دھالی واقع کٹک کے ایک چٹان پر کندہ پایا ۔ ان میں سے ایک کتبہ میں گیارہ فرمان اور دوسرے میں چودہ فرمان تھے اور ان کتبوں وہ سب کتبے شامل تھے جو مختلف ستونوں پر کندہ تھے اور ان دونوں پہاڑوں کے کتبوں میں ہر طرح کے دس فرمان مطابق تھے ۔ پہاڑ کے کتبہ میں سے ایک فرمان شفاخانوں اور خیرات خانوں کے بنانے کے متعلق تھا ۔ جس کی نسبت لکھا کہ وہ اسوکا کے فرمان ان صوبوں میں جن میں بدھ مذہب والے آباد ہیں درج کیے جائیں ۔ ان صوبوں میں چار کا نام بھی لکھا ۔ یعنی لنکا اور اس بھی بڑھ کر اینٹیکویانا یعنی اینڈیوکس یونانی کی سلطنت کے صوبوں میں جہاں اس کے سردار حکومت کرتے ہیں بنائی جائیں ۔

اس کے بعد ایک کتبہ ایک پہاڑ پر ملا جو ٹوٹا پھوٹا اور خستہ حالت میں جو پڑھا نہیں گیا اور اس کا متن درست طور پر سمجھ میں نہیں آیا ۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اشوکا کے مذہبی مسائل خصوصاً جانوروں کو مارنے سے پرہیز کے مسلوں کا غیر ملکوں میں رواج ہوجانے کا اشوک اپنی خوشنودی ظاہر کرتا ہے ۔ اس فرمان میں مفصلہ ذول سے باقی حصہ رہا ۔ یعنی یونانی بادشاہ جس نے چپتا (جس کی وضاھت نہیں ہوسکی ) بادشاہ تو رامایو اور اور گونگ کا کینہ اور مانگا ہیں ۔

ان ناموں میں سے دو نام پرسپ نے ٹولمی آس اور ماگس شناخت کیا اور اس کو دلیل مانتے ہوئے کہ کہا گیا کہ اشوکا مصر سے ناواقف تھا اور خطوط و کتاب رکھتا تھا ۔ اس نتیجہ کو بلا حجت قبول کیا جاسکتا ہے ۔ کیوں کہ یونانی بادشاہوں کے دور میں ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات تھے ۔ پرنسسپ کا خیال تھا جس کی طرف اشارہ ہے وہ طولمی فلوڈلنس تھا ۔ جس کا ایک بھائی مائس تھا اور اس کی شادی اینٹیوکس اول کی بیٹی سے ہوئی تھی نہایت غالب معلوم ہوتا ہے ۔ اس سے یہ اندازہ کیا جاتا ہے کہ جس اینٹیوکس کا دوسرے فرمان میں ذکر ہے وہ ایٹی اوکس اول یا ثانی یعنی سلوکس کا بیٹا اور پوتا ہے ۔

یورپی مقحق جمیس پرنسیپ نے 1830 تا 1840 کے دوران مختلف قدیم کتبوں اور سکوں پر تحقق کر رہا تھا ۔ اسے ایک نام پیا داسی (دیوتاؤں کا پیارا) مختلف کتبات پر لکھا ملا ۔ اس نے ہندوستان کی مختلف قدیم کتابیں کھنگالیں کہ معلوم ہوسکے کہ یہ نام کسی کا ہے ۔ مگر اسے ہنوز کامیابی نہیں ہوئی ۔ حالانکہ اس نے اس کے لیے جان توڑ کوشش کی مگر معمہ حل نہیں ہوا کہ یہ کتبات کس کے ہیں جو کہ پورے ہندوستان میں پھیلے ہوئے تھے ۔

سیلون کی سول سروس کا ایک عہدہ دار جارج ٹرنور نے جب سیلون کی قدیم کتابوں کی چھان بین کیں تو اس پر یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ کتبوں میں جو راجہ پیا داسی کندہ ہے وہ راجہ اشوک کا ہی نام ہے ۔ جارج ٹرنور نے پرنسیپ کی توجہ اس طرف دلائی ۔ پرنسیپ نے سیلون کی ان کتابوں کی چھان بین شروع کی تو یہ انکشاف ہوا کہ اب وہ ان کتبات کو پڑھ کر زیادہ بہتر اندازے قائم کرسکتا ہے ۔ جب کہ مقامی ماخذ اس کی کوئی مدد نہیں کرتے ہیں ۔ اسے سیلون کی کتابوں میں اشوک کے بارے اس کے عہد جو تفصیلات ملیں وہ ان کتبات سے پوری طرح مطابقت رکھتی تھیں ۔ اگرچہ بدھوں نے ان تفصیلات کو تاریخ کے حوالے سے نہیں بلکہ مذہبی ضرورت کے پیش نظر قلم بند کیا تھا ۔

سیلون کی کتابوں میں اشوک کے بارے میں جو تفصیلات درج ہیں ان کی دوسرے ذراءع سے تصدیق اور کتبوں کہ مبہم مطلب بھی واضح ہوتے ہیں ۔ اشوک کا حال بہت سی کتابوں میں بکھرا ہوا ہے ۔ مگر چار کتابیں ایسی ہیں جن میں اشوک کے سوانح مسلسل درج ہیں ۔ یہ کتب درج ذیل ہیں ۔

(۱) اسوک اودان ۔ اس کتاب کی زبان بدھ کے زمانے سنسکرت ہے اور نیپال میں موجود ہے ۔

(۲) دیپ ومبسہ ۔ پالی زبان میں ہے اور برما میں ہے ۔

(۳) دنیائے کی تفسیر میں بودھ گھوس کا نوشتہ ہے ۔

(۴) مہادمسہ ۔ اس کی زبان پالی ہے اور سیلون میں محفوظ ہے ۔

پہلی کتاب وادی گنگا میں تصنیف ہوئی ۔ مصنف کا نام اور زمانہ تصنیف نامعلوم ہے ۔ یہ غالباً تیسری صدی عیسوی کی لکھی ہوئی ہے ۔ اودان قصہ کے معنوں میں آتا ہے اور یہ کسی سیرت مقدس کی طرح ہے ۔

باقی تین کتابیں سیلون میں انورادھ پور میں پالی میں مذہبی کتابیں اور سنہالی میں ان کی شرحیں ہیں ۔ ان شرحوں میں پالی زبان کے واقعات و مسائل اشعار صورت میں جابجا موجود ہیں ۔ چوتھی صدی عیسوی میں کسی نے ان میں سے صرف ایسے اشعار جمع کئے جو کہ سیلون کی تاریخ سے تعلق رکھتے ہیں اور مزید اشعار پیوست کرکے ایک مسلسل بیان پیدا کیا اور اس کا نام ویپ مسبسہ (جزیرے کی تاریخ) کا نام دیا ۔ یہ اشعار بہت بری پالی زبان میں اضافی اشعار ہیں ۔ جن کی زبان کچھ اچھی زبان میں نہیں تھی ۔ پرانے اشعار ایک تفسیر سے نہیں بلکہ کئی تفسیروں سے جمع کئے گئے ہیں ۔ اس لیے ایک واقعہ مختلف شعروں میں اعادہ ہے ۔ مہادمبہ (تاریخ کبیر) جو بہتر کتاب ہے اور اس نے ویپ ومبہ کی جگہ لے لی اور بالکل نیست و نابود ہوگئی ۔ اس کا موجودہ متن جو مخرف و مسخ ہے پروفیسر اولڈن برگ نے کئی قلمی نسخوں سے تدون کیا ہے مگر یہ سارے نسخے ایک نسخے سے ماخوذ ہیں جو برما میں بچا رہ گیا تھا ۔

ویپ ومبسہ کی تالیف کے کچھ عرصہ کے بعد بہار کا مشہور برہمن بودھ گھوس سیلون گیا اور اس نے سنہالی کی پرانی تفسیریں دوبارہ لکھیں اور اس کی کتابیں سنہالی کی شرحوں کی قائم مقام ہوگئیں ہیں ۔ قدیم شرحیں ناپید ہیں اور صرف بودھ گھوس کی کتابوں سے اس امر کا پتہ چلتا ہے کہ قدیم روایت کی اصلیت و نوعیت کیا تھی ۔ اس نے سنہالی کی پرانی شرح سے معاون حافظہ اشعار کشرت سے نقل کئے ہیں جو ویپ ومبسہ میں بھی موجود ہیں اور سنہالی نثر کو جہاں پہلے یہ پیوند تھے پالی میں لکھا ہے ۔

ایک نسل کے بعد مہانام نے مہاومسہ تصنیف کی ۔ یہ مورخ نہ تھا بلکہ ادیب تھا اور یہ کتاب ایک زرمیہ نظم ہے اور ’محبوب وشت گامنی’ اس نظم کا ہیرو ہے ۔ اس نے اشوک کی نسبت جو کچھ بیان کیا ہے وہ مقدمہ کے طور پر ہے ۔

پرنسیپ نے ان کتب کے مطالعہ کے بعد اعلان کیا کہ پیا داسی اصل میں اشوک کا نام ہے جو کہ چندر گپت کا پوتا اور بندوسار کا بیٹا ہے ۔ پرنسیپ کے اس اعلان سے بھوچال برپا ہوگیا اور مختلف اعتراضات کئے گئے ۔ مثلاً اس کا یونانیوں ذکر نہیں کیا اور کہا گیا کہ سیلون کی کتابیں مستند نہیں ہیں ۔ یہ محض افسانے ہیں تاریخ نہیں ہیں اور انہیں نظر انداز کرکے کتبوں پر مزید توجہ دی جائے ۔

مگر مسلہ یہ تھا کتبات پر لکھا ہوا مواد بہت کم ہے اور جمع کیا جائے تو مشکل سے کتاب کے 20 صحفوں میں آتا ہے ۔ اس کے علاوہ کتبے مطالب اور مقاصد واضح نہیں ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ یہ شاہی اعلانات ہیں اور ان کی صداقت کو متاخر تاریخوں کی روشنی میں دیکھا یا پرکھا نہ جائے تو انہیں سمجھنا ممکن نہیں اور کتبوں کے پیاداسی کو سیلوں کی کتابوں کے اشوک نہ مانا جائے تو بہت سے سوالات پیدا ہوں گے ۔ اس طرح اشوک کی چندر گپت سے رشتہ داری یا پاٹلی پٹر میں اس کا پایہ تخت ہونا یا اس طرح اور بہت سے سوالات تھے کہ جن کا جواب صرف سیلون کی تاریخوں سے ہی جواب مل سکتا ہے ۔ اگر ان پر تکیہ نہ کیا جائے تو ان سوالات کے جوابات ملنا ممکن نہیں ۔

اس کی سب سے پہلے ایم سیناڑٹ اور پھر بعد میں دوسرے لوگوں نے اس کی تائید کی ۔ اس کے بعد اشوک کے آثار اس کے کبتوں کو درست طور تشریح اور پڑھے گئے ۔ اس تحقیات کے نتیجے میں حقائق سامنے آئے اور اشوک وہ تصویر لوگوں کے سامنے آئی جو اب تک لوگوں کی نظر سے اجھل تھی ۔ اس تصویر میں وہ عظیم فاتح اور اس نے اتنی بڑی سلطنت قائم کی جس کی نظیر مغلوں پہلے نہیں ملتی ہے ، عظیم مذہبی مصلح ، اس کی عظیم تعمیرات ، اس کے رفاعہ عامہ کے کام کہ اس نے عام لوگوں کو سہولت پہنچانے کے لیے مفت علاج معالجہ کی سہولت ، مفت تعلیم اور تربیت کی سہولت ، راستوں کی تعمیر جس میں مسافروں کے رکنے کے لیے سراؤں کا قیام ، ہر مذہب کے لوگوں کی سرپرستی ، انصاف اور قانون کی فراہمی اور رعایا اچھے اعمال کی ترغیب کے لیے جگہ جگہ اس نے کتبات نصب کروائے ۔ یہ اشوک کے ایسے کارنامے تھے جن کو صدیوں تک کوئی انجام دے نہیں سکا ۔ اشوک کے یہ کارنامے جب ہندوستان کے لوگوں کے سامنے آئے تو ہندوستان کے لوگوں کو احساس ہوا کہ اشوک کتنا عظیم شخص تھا اور برہمنوں نے مذہبی تعصب کی وجہ سے اسے پس پشت ڈال دیا تھا ۔ لہذا اشوک کی عظمت کے پیش نظر اسے اشوک اعظم کے خطاب سے نوازا اور آزادی کے بعد بھارت نے اس کے نشان اشوک چکر کو نے اپنے جھنڈے پر جگہ دی ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں