47

بلوچ اور مستشرقین

پروفیسر رابنسن نے بلوج نام بیلوس یا بعل سے اخذکئے ہیں ۔ سر تھامسن ہلڈوچ کا کہنا ہے کہ اس میں بمشکل شک و شبہ ہوسکتا ہے کہ بعل کے بچاری چھائے نہ بھی ہوں تو بھی وہ مکران سے ضرور گزرے ہوں گے ۔ جب میسوپٹمیا کی سامی ڈراوی نسلیں کالڈیا کے میدانوں میں بتدیح سامیوں کے سامنے دبتی جا رہی تھیں ۔ اغلب یہ ہے ڈراوی نسلیں جو اب ہندوستان کے صوبجات کے جنگلوں اور پہاڑوں میں آباد ہیں اور جنہوں گزرتے ہوئے اپنے زبردست خاندان کے نمائندے مکرانی پہاڑوں میں چھوڑے ہیں ۔ یہ یقناً بابل کے گرد و نواح سے ہندوستان آئیں اور انہوں نے کوہ داماں میں چھوٹے عجیب و غیریب پتھر کے بنے ہوئے گھروندے چھوڑے ہیں ۔ جو گرہوں یا قصبوں کی شکل میں ہیں ۔

ایرانی بلوچستان اور مکران میں آباد ہونے سے پہلے بلوچوں کا ماخذ دھندلکوں میں ہے اور اس بارے میں اختلاف ہے ۔ کچھ شامی ماخذ کی کہانی پر یقین رکھتے ہیں اور کچھ انہیں ترکمان نسل سے بتاتے ہیں ۔ سر ہنزی گرین کو اپنی شام کی سیاحت میں ایسے قبائل ملے جن کے نام وادی سندھ کے بلوچوں کی طرح تھے ۔ اس کے برعکس عرب حملہ آور کو ۴۶۶ء;247; میں کیکنان پر حملہ کے دوران اٹھارہ ترک شہ سواروں سے مقابلہ کرنا پڑا جو دم کٹے گھوڑوں پر سوار تھے ۔ کیکنان کیچ ، قصدار اور مکران کے درمیان کہیں واقع تھا ۔ یہ واقعہ اس پر دال ہے کہ بلوچوں کا وسط ایشیائی ماخذ کا نظریہ بے بنیاد نہیں ہے ۔ اگر ہم موجودہ بلوچوں میں سابقہ یا جاریہ عمل انضمام کو ذہن میں رکھیں تو شاید ہمارے لیے یہ تحقیق حیران کن نہ ہوگی کہ بلوچ دونوں عرب اور تورانی نسلوں کا امتزاج ہیں ۔

ہیوگز بلر نے لکھا ہے کہ سندھ میں پائے جانے والے موجودہ بلوچ قبائل کا مرکزہ ابتدا میں مکران اور جنوب کرامان میں ایرانی بلوچستان میں آباد تھا اور اس کے کافی شواہد موجود ہیں ۔ بگٹیوں کا مرکزہ اپنے آپ کو بگ ایرانی بلوچستان سے ماخوذ قرار دیتا ہے ۔ بلیدی مکران کی وادی بلیدہ کو اپنا ماخذ قرار دیتے ہیں اور اس کے آپ پاس اب بھی موجود ہیں ۔ ڈومبکی ایرانی بلوچستان کے دریائے ڈومبک سے نسبت رکھتے ہیں ۔ لاشاری لاشار سے ، کشگوری گش ندی جو وادی بلیدہ کو سیراب کرتی ہے ، کلانچی کلانچ وادی مکران سے ، مگسی مگس ایرانی بلوچستان سے ۔ مزید یہ کہ رندوں کا ایک مظبوط قبیلہ مکران میں آباد ہے جس سے کچھی کے رند ماخوذ ہیں ۔ ایلفسٹن نے لکھا ہے کہ 666 میں اولین حملہ کے وقت بلوچ مکرانی پہاڑوں پر آباد تھے اور دسویں صدی عیسوی میں ابن حوقل لکھتا ہے کہ کوچ و بلوچ مکران کی سرزمین پر آباد تھے ۔ جو ہند و سندھ کی سرحد پر ہے ۔ پشتو اور قدیم فارسی میں کوچی اور کوچائی کی مانند بلوچ کا کا مطلب ہے خانہ بدوش ، جہاں گرد ۔

ایم ورتھ لانگ کا کہنا ہے کہ سیستان اور مٖغربی بلوچستان میں ان کی نقل و حرکت (سلجوقی حملہ ) گیارویں صدی کے آخر میں ہوئی اور مشرق کی طرف مزید پیش قدمی چنگیز خان کی فتوحات کے تحت ہوئیں ۔

پیکولین کا کہنا ہے کہ پندویں صدی عیسوی کے آخر اور سولویں صدی عیسوی کے شروع میں جنوبی پنجاب تک بلوچوں کی دوسری ہجرت ( جو پہلی نقل مکانی سے قبائلی تشکیل میں مہاجروں کے لحاظ سے بہت فرق رکھتی تھی ) اصل میں چراگاہوں کی کمی کی وجہ سے تھی ۔ رند قبیلے کا جو رند کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اسی قبیلے کے دوسرے فرزند لاشاری کے ساتھ مشرقی سیستان کی سرزمین پر تیس سالہ لڑائی کے بعد ناکام ہو اور میر چاکر کی سربراہی میں ملتان کوچ کرگیا ۔ پھر بلوچوں کے دوسرے بہت سارے قبائل کے فرقہ اپنے ساتھ لے کر شمال کی طرف روزگار اور زمین کی تلاش میں نکل گیا ۔ نقل مکانی کے پہلے حصہ میں ( تیرویں صدی عیسوی ) بلوچوں کے پورے کے پورے قبیلے یا قبائل کے بڑے حصہ عام طور پر سندھ آگئے اور سندھ کے مغربی حصوں کے پہاڑوں کے دامن پر ہموار حصوں میں آباد ہونے لگے ۔ کچھ عرصہ کے بعد ( چودویں صدی عیسوی کے اوخر سے ) بلوچ سویستان اور کیچ گندارہ سے شمال کی طرف ملتان اور پنجاب کی طرف کوچ کرگئے ۔ اسلیے کہ سندھ کی اچھی زمین اور چراگاہیں پہلے ہی قبضہ ہوچکی تھیں ۔ نتیجاً بلوچ قبائل دودائی ، میرانی اور گورچانی وغیرہ اپنے سرداروں سہران خان دودائی اور اس کے تینوں بیٹوں غازی خان فتح خان اور اسمعیل خان کی سردگی میں ملتان میں وارد ہوگئے اور کوٹ کنار سے رنگوٹ تک کے علاقہ پر قابض ہوگئے ۔ یہ علاقہ بعد میں قندھار کے حاکم شاہ حسین کی طرف سے جاگیر کے طور پر سہراب خان کو دے دیا گیا ۔ سہراب خان اس جاگیر کے ;174;عوض پابند تھا کے ملتان کے شمال مغربی سرحدوں کو پشتنوں کے حملے سے بچائے رکھے ۔

بلوچوں کا مغربی جانب سے وسیع ہیمانے ہر وردد چھودویں اور پندویں صدی عیسویں میں وقع پزیر ہوا تھا ۔ کیوں کہ سولیوں صدی تک مستند شہادت کے مطابق کثیر تعداد میں تھے اور چاروں طرف حملے کر رہے تھے ۔ وہ بلوچ قبائل جو جنوبی پنجاب اور سندھ میں آباد تھے ، ہندوستان کے اس شمال مغربی حصہ کی سیاسی زندگی سے بے تاثیر نا رہے ۔ ہندوستان میں بابر کی حکمرانی ( 1526 تا 1530 ) اور اس کے بیٹے ہمایوں کی حکمرانی ( 1530;247; تا 1556 ) کے عرصہ میں رند اور لاشاری ان مغلوں کی خدمت کرتے رہے اور ان کی بے شمار لشکر کشیوں میں حصہ لیتے رہے ۔ بعد میں بلوچوں نے سندھ میں اپنی حکومت قائم کرلی ۔

مکران گزٹیر میں ہے کہ وادی سندھ کی متوالہ روایت جو جو جلد ہان یا جلال خان جس کے چار بیٹے رند ، لاشار ، ہوت ، کورائی اور ایک بیٹی کے گرد گھومتی ہے پر شک و شبہ کی گنجائش ہے ۔ بالخصوص اس لیے کہ مکران کے ہوت متفقہ طور پر علاقہ کے قدیمی باشندے سمجھے جاتے ہیں ۔ ہوت خود بھی رندوں اور علاقہ کے دیگر بلوچ قبائل سے ایک علحیدہ نسل سمجھے جاتے ہیں ۔ ممکن ہے وہ اورطائی یا ہوتائی کی باقیات ہوں ۔ جو سکندر اعظم کو براستہ مکران مغرب کی طرف جاتے ہوئے ملے تھے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں