39

بلوچ فسانہ کی حقیقت

یورپ کے محقیقن نے بلوچوں کے نقل مکانی کو اہمیت دی ہی ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ ہلوچوں نے اپنے لوک گیتوں میں اپنی نقل مکانی کا ذکر کیا ہے ۔ اس نقل مکانی پر ہم دوسری جگہ بحث کریں گے ۔ یہاں ہم یورپی مستشرقین کا اس بارے میں کیا کہنا ہے اس کو اور ان بحث کرلیں ۔

ایم ورتھ لانگ کا کہنا ہے کہ سیستان اور مٖغربی بلوچستان میں ان کی نقل و حرکت (سلجوقی حملہ ) گیارویں صدی کے آخر میں ہوئی اور مشرق کی طرف مزید پیش قدمی چنگیز خان کی فتوحات کے تحت ہوئیں ۔

ایم ورتھ لانگ کے اس نکتہ میں بہت حد تک حقیقت ہے لیکن ان نقل و حرکت سلجوقی حملہ کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ چنگیز خان کے حملے کا نتیجہ تھا ، جس نے ایران افغانستان اور وسط ایشیا کی دوسری اسلامی حکومتوں کو تہہ بلا کر دیا تھا اور اس کے نتیجہ میں کثرت سے مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا ۔ یہی وجہ ہے بلوچ کرامان سے تیرویں صدی عیسوی میں ان کی نقل و حرکت مکران کی جانب ہوئی تھی ۔ یعنی وہ پناہ لینے کے لیے مکران کی طرف آئے تھے ۔

بلوچوں کی روایات کے مطابق جلد ہان کے چار فرزند تھے ۔ رند اور لاشار لڑاکے اور سردار تھے اور ہوت اور کورائی غلہ باں تھے اور لڑکی مائی جتوں تھی ۔ جس میں رند اور لاشار کو کلیدی حثیت حاصل تھی یہ روایت کتنی ہی حقیقت سے دور ہو لیکن اس سے ایک بات صاف ظاہر ہے بلوچ مختلف قوموں کا مجموعہ ہے ۔ ان میں آریا ، سیتھی اور ترک شامل ہیں ۔ یہ قبائل مختلف حملوں کی وجہ سے بھی پہاروں پر رہائش پزیر تھے ۔ کچھ پسند کی وجہ سے اور کچھ مجبوری سے وہاں رہ رہے تھے ۔ جہاں حملہ آوروں کی پہنچ اور اجارداری نہیں تھی ۔ وہاں رہنے والوں کے مفادات مشترک تھے ۔ اس لیے ہم ان کے سابقہ انضمام کو ذہن میں رکھیں تو بخوبی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ رسم ان میں ان پہاڑوں اور صحراؤں میں اپنے تحفظ کے لیے وجود میں آئی ۔ کیوں کہ وہاں پر رہنے والے قبائل کی نسلیں اگرچہ علحیدہ علحیدہ تھیں مگر ان کے مفادات ایک ہی تھے کہ حملہ ّآور قوموں اور باشاہوں نے انہیں رام کرنے کی کوشش کیں تو وہ حالات کے پیش نظر اتحاد اور اس سے بڑھ کر انضمام کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ اس کے مثنت پہلو یہ ہے انہوں نے رفتہ رفتہ خود کو ایک قوم کی شکل میں بدل لیا اور انہوں نے حالات کے پیش نظر انضمام کی پالیسی جاری رکھی ۔ یہ مختلف گروہ ایک قومیت کے تحت متحد ہوئے تو انہوں نے اپنے ایک نسلی گروہ تصور کیا ۔ کیوں کہ نہ صرف مفادات مشترک ہوگئے تھے بلکہ ان کے دکھ سکھ ، رشتہ داریاں اور زمینیں مشترک ہوگئیں تھیں ۔ اس طرح وقت کے دھارے نے بھی مشترک نسل کے مفروضہ میں جنم لیا اور اس نے بالذکر روایت کی شکل اختیار کرلی ۔

لیکن بلوچوں ایک مختصر گروہ مکران آیا ہوا تھا ۔ مکران میں جلال الدین خوازم شاہ چنگیز خانی فوجوں سے بچ کر اوچ و دبیل سے ہوتا ہوا مکران آیا تھا ۔ وہاں اس کی ان پہاڑی قبائلیوں سے ہوئی جو کہ چنگیز خان کے حملے کی وجہ سے مکران آئے ہوئے تھے ۔ غالب امکان یہی ہے کہ جلال الدین خوازم شاہ نے انہیں منگولوں کے حملوں کے خلاف ابھارا اور ان کی جنگی تنظیم کی کہ وہ منگولوں کا مقابلہ کرسکیں ۔ اس کے بعد جلال الدین منگولوں کے خلاف فوجوں کی فراہمی کے لیے سیستان چلاگیا ۔ یہی وجہ ہے بلوچ جلال الدین خوازم شاہ کو نہیں بھولے اور اسی اپنی روایتوں میں اعلیٰ مقام دیا یعنی جد امجد یا مورث اعلیٰ تسلیم کیا ۔

اس تنظیم جس کے روح و رواں کرامان سے آئے ہوئے بلوچ تھے اور اس اتحاد میں ان کے ساتھ مقامی باشندے بھی شامل ہوگئے کہ منگولوں کا مقابلہ کیا جاسک ۔ مکران کے مقامی باشندے اگرچہ جنگجو نہیں تھے مگر وہ بھی منگولوں کے حملوں سے پریشان تھے کہ ان کو خطرہ تھا کہ یہ سیلاب یہاں نہیں آجائے ۔ اس لیے بلوچ روایتوں میں ہوت اور کورائیوں کو جو کہ مکران کے قدیم قدیم باشندے ہیں اور الگ ماخذ کے دعوے دار ہیں انہیں اپنی روایتوں میں میر جلال خان کا فرزند تسلیم کرتے ہوئے انہیں چرواہا کہا گیا ہے ۔

یہ بلوچ چونکہ منگولوں کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے اس لیے انہیں رند کہا گیا ۔ بلوچوں کی مزاحمت کی تحریک قومی تحریک بن گئی ۔ اس میں جو شامل ہوا وہ بلوچ اور خود بخود رند بھی بن جاتا تھا ۔ بلوچوں کا یہ طریقہ کار آج بھی زندہ ہے اور ان میں انضمام کی روایت موجود ہے ۔

مکران ایک ایسا صحرائی علاقہ ہے جہاں پیداواری زراءع کم ہیں ۔ شاید اسی لیے مقامی آبادی بھی پریشان ہوگئی اور شاید ان سے کچھ ان بن ہوئی ہو ۔ اس لیے بلوچ واپس کرامان چلے گئے ۔ تاہم ان کی دوبارہ کثیر تعداد میں تیمور اور مغلوں کے دباوَ کے تحت انہوں نے مشرقی بلوچستان میں نقل مکانی کی ۔

مگر خیال رہے یہ ایک قافلہ کی شکل میں نہیں آئے بلکہ سمندر کی لہروں کی طرح تھوڑے تھوڑے کرکے آتے رہے ۔ غالباً ان بلوچوں کے کسی گروہ نے قلات کا رخ کیا جہاں مقامی باشندوں یعنی براہیوں نے مزاحمت کی تو بلوچ اسے اجاڑ کر مشرقی بلوچستان نکل گئے ۔ جہاں دوسرے مقامی قبائل جو کہ سیستان اور کرامان سے آئے تھے اور ان سے ان ک انضمام ہوگیا یا وہاں ان کے ساتھ سامل ہوگئے ۔ مگر یہ قبائل منعظم نہیں تھے اور نہ ان میں کوئی مرکزی تنظیم نہیں تھی ۔ اس لیے یہ مشرقی بلوچستان میں کوئی حکومت قائم نہیں کرسکے ۔ اگرچہ ان میں مقامی قبائلیوں کا تیزی سے انضمام ہوتا رہا اور ان میں آپس میں لڑائیں بھی ہوتی رہیں ۔ پھر یہ مشرقی بلوچستان سے مغلوں کے حملے کے باعث سندھ اور پنجاب میں پھیل گئے ۔

میر جلال خان کی طرح ان کے ہیرو وہ نہیں ہیں جنہیں انہوں نے اپنے لوگ گیتوں میں پیش کیا ہے ۔ جن کے لیے یہ گیت لکھے گئے وہ معمولی درجہ کہ قبائلی سردار تھے اور اس زمانے کے دستور کے مطابق انہیں بڑھا چڑھا کے پیش کیا گیا ہے ۔ لوک گیتوں میں ہیں میر چاکر کو پیش کیا گیا جس نے ہمایوں کے لیے دہلی فتح کیا تھا اور دوسری ساری داستانیں افسانے ہیں اور تاریخ سے ماخذ نہیں ہیں ۔ حتیٰ میر چاکر کے بارے میں مبالغہ آرئی کی گئی ہے

بلوچ جسے کے معنی پہاڑوں کے باسی کے ہیں اور جو لوگ بلوچستان کے علاقہ سے کرامان کے پہاڑوں اور افغانستان کے پہاڑی علاقہ سے بلوچستان اور دوسرے علاقوں میں داخل ہورہے تھے وہ بلوچ یعنی پہاڑی لوگ کہلاتے تھے ۔ یہ بلوچ جو کہ حملہ آوروں سے پناہ کے لیے آرہے تھے انہوں نے اپنے تحفظ کے لیے مختلف قبائلیوں سے اتحاد کیا یا انضمام کیا اس طرح نئے اتحادی بھی بلوچ اور رند کہلائے ۔ اس تحریک کا ان علاقوں میں زیادہ دور تھا جو کہ سرحدی علاقہ تھے ۔ دور دراز علاقوں میں ان کی نقل مکانی ہوئی مگر اس تحریک کا زور نہیں تھا ، مثلاً لسبیلہ کے علاقے میں اس کا زور نہیں تھا ۔ یہ ہجرت کرکے آئے تھے اس لیے ان کی زبانوں میں بھی فرق تھا ۔ مکران اور مشرقی بلوچستان کی بولی میں فرق ہے ۔ اگر اس سے اوپر ڈیرہ اسمعیل خان کی طرف جائیں گے تو ان کی بولی اور مختلف یعنی سرائیکی ہے ۔ سندھ اور بلوچستان میں بشتر آنے والے والے بلوچ سرائیکی علاقہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی زبان بلوچی نہیں بلکہ سرائیکی تھی اور آج بھی سرائیکی ہے ۔

جب بلوچ پھیلے تو ان میں انضمام کی بدولت ان کی تعداد میں اضافہ ہوا اور یہ کئی گروہ بن گئیں جن کہ درمیان لڑائیاں بھی ہوتی رہیں ۔ یہ محدود علاقے میں لڑائیاں تھیں مگر انہیں داستان گووَں نے بڑھا چڑھا کر بتایا ہے ۔ ان میں تنظیم نہیں تھی اور یہ چھوٹے چھوٹے گروہ کی صورت میں تھے ۔ ان میں اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے کوئی حکومت قائم نہیں کرسکے ۔ اس لیے بلوچستان میں انہیں براہیوں نے انہیں آسانی سے زیر اثر کرلیا اور دوسروں علاقوں میں بھی یہ مختلف علاقائی حاکموں کے زیر اثر تھے ۔ ان کی پہلی حکومت جو قائم ہوئی وہ سندھ کے علاقہ میں تھی ۔ اس کی وجہ ان کی صلاحیتوں سے زیادہ کلہوڑوں کی ناہلی اور افغانستان کی سندھ کے علاقہ میں دخل اندازہ کی وجہ سے انتشار وجہ تھی ۔ اگر کلہوڑے کچھ عرصہ بعد آتے تو شاید یہ بھی بلوچ کہلاتے مگر ان کے بلوچ نہیں کہلانے کی سب سے بڑی وجہ ان کا عرب سے آنے کا دعویٰ اور پیری کا سلسلہ تھی ۔

تالپوروں نے سندھ میں اپنی حکومت قائم کی یہ کوئی منعظم حکومت یا طاقت ور حکومت نہیں تھی ۔ یہ بھی سرائیکی علاقہ سے آئے تھے اور لغاریوں کی ایک شاخ تھے اور ان کی زبان بھی سرائیکی تھی ۔ قابل ذکر بات یہ لغاری رند کے بجائے ہوت ماخذ کے دعوے دار ہیں جو کہ بلوچوں کی روایات میں چرواہا تھا ;180; ۔

بالذکر بحث سے بخوبی یہ نٹیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بلوچ پہاڑوں پر رہنے والوں کو کہا جاتا تھا اور رند کوئی قبیلہ نہیں تھا ۔ بلکہ منگوں اور بعد میں مغلوں کے خلاف مزاحمت کرنے کی وجہ سے انہیں یہ نام دیا گیا ۔ اس میں لاشاری ، جات اور دوسرے قبیلے شامل ہوتے گئے ۔ اس میں افغانستان سے آنے والے قبائلیوں کے علاوہ مقامی قبائل بھی شامل ہوئے ۔ ان کا انضمام کا مجودہ طریقہ اس کی نشادہی کرتا ہے ۔ اس طرح ان کی جنگی تنظیم بھی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ انہوں نے منگولوں کے خلاف جنگیں کیں ۔ یہی وجہ ہے بشتر براہوی قبیلوں کا دعویٰ ہے کہ وہ بلوچ ماخذ کے ہیں جو اس بات کی نشادہی کرتا ہے کہ وہ بھی اس تحریک یا ہوا میں شامل ہوچکے ہیں اس لیے بلوچ ماخذ کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ دوسری اہم بات یہ ہے بہت سے قبیلے براہیون اور بلوچوں میں مشترک نام کے کچھ تلفظ کے فرق سے ملیں گیں ۔ جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پہلے مشترک قبیلے تھے اور ان میں تقسیم براہیوں اور بلوچوں میں شامل ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے ۔

جب مختلف نسلی گروہ متحد ہوئے تو ان کی روایات بھی مشترک ہوگئیں اور انہوں نے یک جدی کا روپ دھار لیا ۔ انہوں نے اپنی روایات کو نئے معنیٰ پہنائے ۔ ان روایات کی صورتیں بدل گئیں ۔ دلچسپ بات یہ یہ روایات جو کہ بلوچوں وحدت اور نسل کے بارے میں ہیں مکران میں نہیں وجود میں آئیں ۔ وہاں کوئی میر جلال خان کو جانتا تھا اور وہاں بلوچ یا رند دوسرے درجے سے تعلق رکھتے تھے ۔ یہ تمام روایات اور دعوے تو مشرقی بلوچستان یا دریائے سندھ کے کنارے وجود میں آئے ۔ کیوں کہ وہ ایک صحرائی علاقہ ہے وہاں لوگون کی آمد و رفت کم ہوتی ہے ۔ جب کہ بولان کا علاقے کے ذریعہ افغانستان اور ایران سے آمد رفت جاری رہی ہے ۔ یہاں نئی نئی باتیں سنیں کو ملتی رہتی ہیں ۔ یہ وجہ ہے یہاں یہ داستانیں وجود مین آئیں ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں