29

بلوچ کا اشتقاق

ہم پہلے اس پر بحث کرچکے ہیں کہ جدورش یا گدروش کا اشقاق بلوچ ہے درست نہیں ہے ۔ کیوں کہ جاٹ جو یہاں جدگال کہلاتے تھے برصغیر کی ثقافت کے تابع تھے ۔ ان کا وسط ایشیا ، افغانستان سے رشتہ تقریباً ٹوٹ چکا تھا ۔ اگر جدروش یا گدروش سے بلوچ بنتا تو پہلے پہل یہ کلمہ دریائے سندھ کنارے ملتا ۔ اب کلمہ بلوچ کے اشتیقاق کو دیکھتے ہیں ۔

جب نوشیراں عادل نے جب ایران کے تخت پر بیٹھا اس وقت افغانستان ، وسط ایشاء اور شمالی برصغیر پر ہن چاہے ہوئے تھے ۔ ان کی طاقت کا یہ عالم تھا پچاس سال تک ایرانی بادشاہ انہیں خراج دیتے رہے ۔ ایرانی ان کے مقابلے میں عاجز آگئے تھے ۔ اس وقت وسط ایشیاء کی بساط پر ایک نئی قوم ترکوں نے قدم رکھا ۔ نوشیروان عادل نے مغربی ترکوں سے جن کا حکمران ایل خان تھا دوستانہ تعلقات قائم کرلئے اور ان کی مدد سے افغانستان میں ہنوں کو شکست دی اور اس کے بعد اس نے خزر قبائل پر فوج کشی کی اور ان کی طاقت کو پارہ پارہ کردیا ۔ اس سے بھی ترکوں کی طاقت میں خاطر اضافہ ہوا اور وہ افغانستان میں ہنوں کے خالی کردہ علاقوں پر برائے جمان ہوگئے ۔ اس لیے ترکوں اور نوشیروان میں اختلاف پیدا ہوگیا ۔ ترک جو افغانستان پر چھاگئے تھے اور یہ ایران اور افغانستان میں غز یا غزر بھی کہلاتے تھے ۔ ٖغز ایک ترک قبیلہ تھا جو ایرانی سرحدوں پر آباد تھا اور اس کی نسبت سے ترکوں کو غز اور غزر بھی کہا جاتا تھے ۔ یہ غز یا غزر جب برصغیر آئے تو گوجر کہلائے اور انہوں نے گجرات کے ساحل پر ایک ریاست بروچ نام کی قائم کی تھی ۔ انہوں نے عربوں کے حملوں کو دوسو سال تک کامیابی سے روکا ۔ عربوں نے اس ریاست کا ذکر بروج نام سے کیا ہے ۔ افغانستان میں غزوں کا ایک قبیلہ شار آباد تھا ۔ افغانی قبیلہ بروچ ان کے ہی اخلاف ہیں ۔ اس طرح بلوچستان میں ایک ہندو قبیلہ بروچ نام کا بھی آباد ہے ۔

عربوں نے اپنے ابتدائی دور میں بلوچوں کا ذکر بلوص ، بلوث ، بلوش اور بلوص کے نام سے ذکر کیا ہے ۔ جب حضرت عمر;230; کے دور میں کرامان فتح کیا تو کرامان کے قریبی پہاڑوں میں بلوچ آباد تھے ۔ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ بلوچ پہاڑی باشندوں تھے ۔

دور حاضر کی فارسی میں بر بلند و بالا کو کہتے ہیں ۔ یہ کلمہ اوستا میں بروز آیا ہے اور بلوچی میں بروُز کہلاتا ہے ۔ اس سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ بلوچ کی ابتدائی شکل بروز اور بعد میں یہ کلمہ بروش یا بروچ میں بدل گیا اور اس کے معنی پہاڑوں پر رہنے والوں کے ہیں ۔ کیوں کے قدیم ایرانی زبانوں اوستا ، قدیم فارسی اور پہلوی میں ’ل’ استعمال نہیں ہوا ہے اور یہ ’ر’ کی نرم آواز ہے ۔ اس لیے اکثر چھوٹے بچے ر کے بجائے ل استعمال کرتے ہیں ۔ مثلاً ریوڑی کے بجائے لیوری کہتے ہیں ۔ عربوں کی آمد کے بعد ایران میں ’ل’ کا استعمال شروع ہوا اور جب عربوں کا نفوز ایرانی علاقے میں پھیلا تو رفتہ رفتہ بہت سے ’ر’ ’ل’ میں بدل گئے اور اس طرح یہ کلمہ بروچ سے بلوچ ہوگیا ۔

حقیقت میں جو پہاڑی باشندے کرامان کے پہاڑوں پر رہتے تھے ان کا کسی ایک نسل سے تعلق نہیں تھا ۔ بلکہ اس میں مختلف نسل کے لوگ جو کہ ایرانی حکومتوں کے متعیوب ، باغی ، شورش پسند اور آزادی پسند تھے ۔ وہ کسی کی غلامی پسند نہیں کرتے تھے اور انہوں نے پہاڑوں میں پناہ لی ہوئی تھی کہ کسی بادشاہ کی سر تابی نہیں کرنی پڑے ۔ یہاں پناہ لینے یا آباد ہونے کی کچھ شرائط تھیں کہ ان میں سے کسی گروہ میں شامل ہوجائیں ۔ جو کہ آج بھی ہ میں بلوچوں میں یا یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ کچھ عرصہ پہلے تک یہ دستور نظر آتا تھا ۔ ہم بلوچوں میں انضمام اور علحیدیگی کے طریقہ کو مد نظر رکھیں تو آپ کو میری بات میں وزن نظر آئے گا ۔ اس لیے یہاں آریایوں ، ترکوں اور سیتھیوں اور مختلف قوموں کی باقیات اپنے مفاد اور تحفظ کے لیے مشترکہ دکھ کے لیے پناہ لے کر یکجا ہوگئیں تھیں ۔

اس بروچ کا استعمال آج بھی سندھی میں ہوتا ہے اور یہ بلوچ لکھا مگر اس کی ادائیگی بروچ سے کی جاتی ہے ۔ اس اس کے معنی چونکہ پہاڑ پر رہنے والوں کے یا پہاڑی باشندوں کے ۔ اس لیے منگولوں کے حملوں سے پہلے اور منگولوں کے حملے کے بعد جو لوگ پشتو نہیں بلولتے تھے وہ اپنے کو بلوچ یعنی پہاڑ پر سے آنے والے بولتے تھے اور پکارے جاتے تھے ۔

بلوچ مختلف نسلوں کا مجموعہ ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے بلوچستان کے مغربی اور مشرقی زبان میں بہت فرق ہے ۔ مغربی بلوچ خالص ایرانی کے قریب اور نرم و ملائم زبان ہے اور اس میں کسی نغمے کا تاثر ابھرتا ہے ۔ اس میں عربی حروف اور ح استعمال نہیں ہوتے ہیں اور خاص کر خ ۔ اس لیے خواب کو وہ واب بولتے ہیں ۔

دوسری طرف ہم مشرقی بلوچی کو دیکھیں تو اس میں ہند آریائی یعنی ھ کا استعمال عام ہے ۔ مثلاً کھوسہ ، اس کے علاوہ اس میں سندھی ، پنجابی سرائیکی اور پشتو الفاظ بھی عام ہیں ۔ مشرقی بلوچی مغربی بلوچی کے مقابلے میں کھڑے لہجے کی ہے ۔ اس میں سختی اور کھدرا پن ہے ۔

سندھ میں ٹھٹھ کے بعد بلوچ قبائل آباد ہیں ان کی مادری زبان سرائیکی یا سرائیکی سے قریب ہے ۔ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان میں یعنی مکرانی اور مشرقی بلوچیوں میں کوئی یک نسلی گروہ نہیں بلکہ مختلف نسلی گروہ ہیں جنہوں نے حالات کے پش نظر یک نسلی چھتری میں پناہ لی ہے ۔ ورنہ ایران کے قبیلے بلوچوں کے کچھ قبیلے جو مغربی مکران کے جنوبی وادیوں میں میر بازار ، دشتیاری ، کیچ وغیر میں آباد ہیں ۔ وہ ان روایات کا علم نہیں رکھتے ہیں کہ وہ کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ وہ میر جلد ہان اور رند و لاشار کو نہیں جانتے ہیں ۔ خود مکران میں قبیلے کو نہیں بلکہ علاقہ کو اہمیت دی جاتی ہے اور وہاں کے لوگ اپنا قبائلی نام نہیں بلکہ علاقائی نام بتاتے ہیں اور یہی روایت مکران میں تھی ۔ وہاں قبیلے علاقہ کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ اس طرح پہاڑوں سے میدانی علاقہ مین آنے والے باشندے بلوچ کہلاتے تھے مگر رفتہ رفتہ یہ کلمہ مغرب یا شمال مغرب سے آنے والا ہر قبیلہ بلوچ کہلایا ۔ کلہوڑے اگر عباسی ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے تو یہ بھی بلوچ کہلاتے ۔ مگسیوں کے بارے میں ہیتو رام لکھتا ہے ان کا لباس اور ٹوپی کلہوڑوں کی طرح ہے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں