98

بلوچ قبائل

رند

رند بلوچوں کا اہم ترین ماخذ ہے اور حقیقت میں براہوئی رند کو بلوچ کا مترادف سمجھتے ہیں ۔ ان کے خالص ہونے پر اس قدر شہرت ہے کہ ہر بلوچ اپنے کو رندوں کا ہم نسل بتانے کی کوشش کرتا ہے ۔ فارسی میں اس نام کے معنی عیاش ، شورش پسند ، لابالی اور خطرہ آزما کے ہیں ۔ مکران میں مند میں ان کی بڑی آبادی ہے ۔ وہ شوران کے رند ان ہی کی نسل کے مدعی ہیں ۔ ڈیرہ غازی خان ، مظفر گڑھ ، ملتان ، جھنگ ، شاپور اور ساہیوال میں بلوچوں بستیاں ہیں جو کہ رند ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔

نسب کی عزت

ہیوگربکر کا کہنا ہے کہ تمام بلوچ رندوں سے اپنا رشتہ جورنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہمسائے ان کا احترام کرتے ہیں اور تمام بلوچ روایات ان کے ہیرو میر چاکر کے گرد گھومتی ہیں ۔ روایات کے مطابق رند کرامان سے نکلنے کے بعد کیچ اور کولواہ میں رہے ۔ جہاں اب بھی رند موجود ہیں ۔ پھر سندھ آئے اور وہاں سے پنجاب چلے گئے ۔ بلوچ روایتوں کے مطابق میر جلال خان کا بڑا بیٹا رند تھا ۔ جس کی سربراہی میں رند گیارویں صدی میں مکران آئے اور تقریبا پانسو سال وہاں رہے ۔

انفرادیت

رندوں کا ذوال انفرادیت پسندی سے منسوب کیا جاسکتا ہے ، جس کی طرف پہلے اشارہ کیا گیا ہے اور جس کے لیے وہ پورے علاقہ میں مشہور ہیں ۔ موکلر نے لکھا ہے کہ اس قبیلہ نے کبھی کسی اقتدار کو تسلیم نہیں کیا اور اس کا کوئی فرد کسی کا تابع نہیں ۔ لہذا قبیلہ کا کوئی مسلمہ سردار نہیں ہے اور اس احساس برتری کی ایک مثال ہے کہ جب میر چاکر رند دلی گیا تو وہ تخت پر بیٹھ گیا ۔ اس کے دیگر ساتھی تخت کے بازووَں اور دیگر حصوں پر بیٹھ گئے ایک ایک کو جگہ نہیں ملی تو وہ تخت کی چوٹی پر بیٹھ گیا ۔ جس سے تخت ٹوٹ گیا اور وہ سب گر پڑے ۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ انفرادیت پسندی کی پیدا کردہ دھرے بندی رندوں کے معاملات کو انتہائی مشکل بنادیتی ہے ۔ اگرچہ وہ بحران میں مشترکہ دشمن کے خلاف اکھٹا ہوسکتے ہیں تاہم ان کے بعض پاڑے اپنی شورش پسندی میں مشہور ہیں ۔

رندوں کا بیان ہے کہ ان کے آبا اجداد حلب (شام) سے کرامان آئے تھے اور دریائے جناب کے منبع اور دریائے بمپور کے درمیان وہ رہے اور اس کے بعد وہ مکران کی طرف بڑھے ۔ لیکن آمد کی تاریخ کا تعین ممکن نہیں ۔ یہ کم و بیش عربوں کے ہند پر وقت مانی جاسکتی ہے ۔ مقامی معلومات کے مطابق یہ سلطنت خلفاء کے ذوال کے بعد رند مکران میں عراقیوں کے جانشین ہوئے ۔ ان کی روایات تحفہ الکرام میں قبیلہ کی توسیع کو میر جلال خان سے منسوب کرتی ہے جو ہارون مکرانی کی اولاد میں سے تھا ۔ وہ حجاج (۵۰۷ء) کے وقت مکران کا گورنر تھا ۔ پندرویں صدی کے قریب رندوں کا ایک حصہ مشرق کی طرف وادی سندھ اور شمال مشرق کی قلات چلا گیا ۔ مشرقی بلوچوں کے منظوم قصوں کا ہیرو میر چاکر اشل و قلات (کولواہ زیریں ) میں اس وقت پیدا ہوا ۔ اس کے بعد مکران میں رندوں کی طاقت کا انحاط پذیر ہوگئی ۔ لیکن وہ اب بھی فخر ، خود پسندی اور بلوچ ضابطہ اخلاق کے سلسلے میں بہت حساس ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک جام جام ہوسکتا ہے ۔ لیکن وہ نسلاً جدگال ہے لہذا وہ بلوچوں کی شاہنا نسل کا ہم عصر کیسے ہوسکتا ہے ان کی پسندیدہ کہاوت ہے ۔

بالا الذکر ہوچکا ہے کہ رند فارسی کلمہ ہے ۔ جس کے معنی عیاش ، متوالا اور شورش پسند کے ہیں ۔ کہا جاتا کہ میر جلال خود رند تھا ۔ اس کی لڑکی مائی جتو کی شادی حاجی مراد سے ہوئی وہ بھی رند تھا ۔ اس طرح میر جلال کے لڑکے رند ، لاشاری ، ہوت اور کورائی بھی رند تھے ۔ یہ روایات کتنی بھی بے اصل ہو مگر اس بات کی نشادہی کرتی ہے کہ رند یا بلوچ مختلف قبائل کا مجموعہ ہے ۔ مثلاً ہوت جو کہ مکران میں قدیم ماخذ رکھتے ہیں وہ انکار کرتے ہیں کہ رندوں سے ان کا کوئی رشتہ ہے ۔

ٍٍجمہوریت پسندی

مکرانوں کے رندوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس قبیلہ نے کسی کا اقتدار تسلیم کیا ۔ کیوں کہ ان کی جمہوریت پسندی انہیں سردار چنے کا موقع نہیں نہیں دیتی ہے ۔ یہ کوئی حتمی کلیہ نہیں ہے ۔ ہم مکران کے رندوں کو دیکھ کر اس کا اطلاق دوسرے رندوں پر نہیں کرسکتے ہیں ۔ مکران میں دوسرے بلوچ قبائل کا بھی یہی حال ہے ۔ مثلاً ہوت اور یہ مکران میں ایک گروہ نہیں بلکہ وہ درحقیقت میں چھوٹے چھوٹے آزاد گروہوں کا مجموعہ ہیں ۔ دوسرے قبائل کی طرح اس میں بھی بیرونی عناصر شامل ہیں ۔ جیسے مندانی جن سے انہوں نے مند حاصل کیا تھا ۔ وہاں ان میں انتشار کی وجہ سے ان کا کوئی سردار نہیں ۔ اگرچہ یہ بحران کے وقت کسی کو اپنا قائد اور ترجمان چن لیتے ہیں ۔

دوسرے درجہ کے قبائل

مکران میں بلوچ قبائل امتیازی حثیت نہیں رکھتے تھے ۔ ان کا درجہ حکمران قبائل نوشیرانی ، گچگی اور بزنجو کے بعد آتا تھا ۔ رند دوسرے قبائل کی طرح ان کے زیردست تھے ۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حکمران جب چاہتے ان کا خون بہاتے تھے اور انہیں کسی قسم کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا تھا ۔ مکران میں رند نوشیروانیوں کے زیر تسلط ہیں اور ان کا وہاں درجہ بالادست یا دوسرا ہے ۔ اس طرح شوران میں بھی رندوں کا مسلمہ سردار موجود ہے ۔ اس طرح بلوچوں ، براہیوں ، جگدالیوں اور جاٹوں میں یعنیٰ بلوچستان کا کون ایسا قبیلہ ہے جس میں رندوں کا طاءفہ موجود نہیں ہے ۔ اس طرح وہ قبائل جو زیر دست مانے جاتے ہیں مثلا دہوار ان میں بھی رندوں کا طاءفہ موجود ہے ۔ خود مکران کے رند نوشیرانیوں کے زیردست تھے ۔ اس طرح شوران رند قبیلہ کا سردار سروان کے سردار کا زیر دست تھا اور وہ انہیں ایک ہزار لشکری فراہم کرتے تھے ۔ بالا الذکر رندوں کی ہمایوں کے دہلی جانے کی تاریخ سے ماخذ نہیں ہے ۔ یہ اور رندوں کی دوسری اور روایتیں مری بگٹی کے علاقہ لوک گیتوں میں ملتی ہیں ۔ اسے ہم نسلی تخافر کی وجہ سے اہمیت نہیں دے سکتے ۔ ویسے بھی یہ تاریخ سے ماخذ نہیں ہیں ۔

تبصرہ

اس بحث سے واضح ہوتا ہے رند کوئی نسلی وحدت نہیں ہے بلکہ مختلف نسلی گروہوں کا ایک مجموعہ ہے جو حالات کے تحت متحد ہوگئے تھے ۔ میر جلال خان کو رند بتایا جاتا ہے اور اس کے باوجود رندوں کا ذکر سولویں صدی سے پہلے نہیں ملتا ہے ۔ یہ وہ وقت تھا جب منگولوں اور اس کے بعد تیموریوں کے حملے افغانستان اور ایران پر ہو رہے تھے ۔ اس کا مطلب ہے یہ وہ بہادر ہیں جو کہ منگولوں کے خلاف شورش برپا کر رہے تھے اور ان کے خلاف مزاحمت کی ۔ ان کی اس بہادری اور شورش زدگی کی وجہ سے انہیں رند کا خطاب ملا ہے ۔ ایرانی بلوچستان میں رندوں کا ایک طاءفہ ہے اور وہ رندانی کہلاتے ہیں ۔

لاشاری

بلوچ روایت کے مطابق میر جلال خان کے دوسرے بیٹے کا نام لاشار تھا اور رند کی طرح یہ سپہ سالار تھا ۔ میر جلال خان کے مرنے کے بعد جب رند اور لاشار باپ کی تدفین میں مصرف تھے ہوت کی ماں نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور قلعے کے دروازے بند کردیئے اور ہوت کی باصبطہ بادشاہی کا اعلان کردیا ۔ جس پر رند اور لاشار نے لڑنا مناسب نہیں سمجھا کہ سوتیلی ماں اور بھائی سے جنگ کی جائے ۔ اس کے بعد لاشار نے ایرانی بلوچستان اور قندھار کا رخ کیا ۔ ان کی اولاد پھلی پھولی ۔ جب ان علاقوں میں خشک سالی پھیلی تو انہوں نے قلات کا رخ کیا اور میر شہک کی سربراہی میں قلات کو فتح کیا اور سبی آئے ۔ یہاں انہوں نے جام نندا کی شکت دے کر اپنی حکومت قائم کی ۔ کہا جاتا ہے میر شہک کے ساتھ چوراسی ہزار کا لشکر تھا ۔ میر شہک کی حکومت سبی میں تقریباً تیس سال رہی اور میر شہک کے لڑکے میر چاکر کے دور میں رندوں اور لاشاریوں کے درمیان جنگ جھڑ گئی ۔ جس کے بعد رند اور لاشار سبی کی طرف نقل مکانی کرگئے ۔ یہ بلوچ روایات ہے مگر تاریخ کچھ اور بتاتی ہے ۔

تاریخ معصومی ہے کہ سبی کے قلعہ میں پیر ولی برلاس کی اولاد حکمران تھی ۔ شاہ بیگ نے سبی کے قلعہ کو فتح کرلیا تو جو لوگ قلعہ میں تھے حاضر ہوگئے ۔ باقی لوگ وہاں سے پچاس کوس فتح پور چلے گئے ۔ سلطان پیر ولی کی اولاد ، برغدائی ، کوریائی اور بلوچ قبائل میں ایک ہزار اور دوسرے قبائل میں دو ہزار سوار لڑائی کے لیے نکلے ۔ لیکن فتح شاہ بیگ کو ہوئی ۔ ان میں سے کچھ قتل کردیئے گئے اور کچھ سندھ فرار ہوگئے ۔

اسی سال 923 ہجری (1517-18) میں جام نندہ کے منہ بولے بیٹے دریا خان نے ایک زبر دست لشکر کے ساتھ سیوی حملہ کیا ۔ شاہ بیگ مقابلہ کرنے نکا اور شاہ بیگ کے کچھ سپاہیوں اور سندھیوں کے درمیان جنگ ہوئی ۔ اس میں ابو محمد جو کہ شاہ بیگ کا بھائی تھا مارا گیا ۔

قابل ذکر بات یہ ہے لاشاری مغربی بلوچستان میں بالکل نہیں پائے جاتے ہیں ۔ مشرقی بلوچستان میں گندھاوا کے مقام پر مگسی قبیلہ میں ایک طاءفہ کی صورت میں ملتے ہیں ۔ کچھ تعداد ان کی سندھ ملتی ہے اور پنجاب میں ان کی کافی تعداد سرائیکی علاقہ میں آباد ہے ۔ ان کا پہلے پیشہ بشتر بانی تھا اور یہ سامان کی اونٹوں کے ذریعہ نقل و حرکت کرتے تھے ۔ اب زراعت اور دوسرے پیشوں میں بھی آگئے ہیں ۔

روایت کے مطابق لاشاری مکران سے قندھار جابسے اور وہاں سے سبی آئے ۔ ان کا کہنا ہے ایرانی بلوچستان کے علاقہ لاشار کی وجہ سے ان کا نام لاشاری پڑا ۔ اگر اسے مان لیا جائے تو میر جلال کے لڑکے کی نفی ہوتی ہے ۔ میر شہک اور میر چاکر کی کہانی میں کوئی حقیقت نہیں ہے تاریخی طور پر سبی پر جام نندا کی حکومت تھی اور اسے شکت دے کر ارغون فرمان روا شاہ بیگ نے قبضہ کرلیا تھا ۔ ان کا قبضہ مرزا غازی بیگ تک دور تک رہا ۔ یہاں تک کہ مرزا غازی بیگ نے اکبر کی فرمانروئی قبول کرلی ۔ اس کے بعد یہاں مغل گورنر آتے رہے ۔ اس کے بعد یہاں کلہوڑں کے قبضہ میں آیا اور ان سے سے خان قلات نے چھین لیا ۔ کہنے کا مقصد ہے یہاں میر شہک کا قبضہ اور اس کے لڑکے میر چاکر اور لاشاریوں کی جنگ ایک کہانی سے زیادہ نہیں ہے ۔ تاریخی طور پر اس کے کوئی شواہد نہیں ملتے ہیں ۔ پہلے زمانے میں بھاٹ اپنے ممدوع کو اس طرح کی داستانیں سنایا کرتے تھے ۔ اسے زمانے پھر فاتح اور رستم سے زیادہ بہادر بتایا کرتے تھے ۔

بلوچستان میں رند جو کہ ایک قبیلے کی صورت میں متحد ہوچکے تھے ان کا مشرقی بلوچستان میں آنا پسند نہیں کیا اس کے خلاف انہوں نے مزاحمت کی اور بابر کے حملوں کے بعد یہ پنجاب و سندھ میں پھیل گئے ۔ ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں تھی اس لیے یہ منتشر ہوگئے ۔

ہوت

ہوت کا مطلب ہے جنگو ، مکران کے صدر مقام تمپ ہے ، اس کے علاوہ یہ مکران کے دیگر علاقوں میں بھی آباد ہیں ۔ وہ مکران میں رندوں سے الگ ماخذ کے دعویدار ہیں اور ہولڈچ اور موکلر ہوتوں کو ایک قدیم ماخذ سے منسوب کرتے ہیں ۔ اول الذکر انہیں سکندر کے ہوتطائی یا اورطائی اور آخر الذکر زرکسر کی فوج کے اوتی ۔ بلوچ بیت کی سند پر انہی کے ہم جد مانے جاتے ہیں ۔

میر جلال کے چار بیٹے تھے

لاشار اور رند سردار تھے

ہوت اور کورائی گلہ بان

غالب امکان یہی ہے سکندر کو مکران میں جو اورتائی ملے تھے وہ موجودہ ہوت ہیں ۔ ہولڈچ کا کہنا درست ہے ۔ مقامی تاریخ کے مطابق رند حکومت کا تختہ ہوتوں نے الٹا ۔ پنوں ( جس کی سسی سے داستان عشق بلائی سندھ میں مقبول ہے ) کی میری کے آثار اب بھی تربت میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔ کیچ کور کے دائیں کنارے پر ان کی طاقت پر دال ہیں ۔ ہوتوں کو ملاک نے نکال باہر کیا ۔ ہوت مکران میں رندوں کے ساتھ رشتہ ناطہ نہیں کرتے ہی اور ان کا کوئی مسلمہ سردار نہیں ہے اور وہ اتنے ہی جمہوری ہےں جتنے مکران کے رند ۔ کئی قبیلے انہیں اپنا اخلاف مانتے ہیں ، مثلاً لغاری ۔

کورائی

بلوچ روایات کے مطابق کیر جلال ہان کے چار لڑکے ، رند ، لاشار ، ، کورائی اور ہوت تھے ۔ رند و لاشار لڑاکے تھے ، جب کہ کورائی اور ہوت چرواہے تھے ۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ کورائی اگرچہ لڑاکا نہیں تھے ، مگر انہوں نے منگولوں کے خلاف مزاحمت حمایت اور مدد کی تھی ، اسلیے انہیں بلوچ وفاق میں شامل کرلیا گیا تھا ۔

بلوچستان میں کورائی کسی واحد قبیلے کی شکل میں منعظم نہیں ہیں بلکہ منتشر حالت میں مختلف قبیلوں میں گروہوں میں ملتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ برصغیر میں مختلف مقامات پر اور راجپوتوں میں بھی ملتے ہیں ۔ ان کا ذکر سب سے پہلے مہابھارت میں ملتا ہے کہ کرو قبیلہ دو بھائیوں یعنی کورو اور پانڈو کے درمیان مہا بھارت ہوئی تھی ۔ جس میں پانڈو جیت گئے تھے ۔

بلیدی

بلیدی جو بردی بھی کہلاتے ہیں نے اپنا نام وادی بلیدہ سے اخذ کیا ہے ۔ جو مکران میں واقع ہے ۔ مگر ڈیمز بلوچوں کے قدیم افسانوی حوالے سے اس قبیلے کو میر جلال خان کے ایک بیٹے بولو سے اخذ شدہ تصور کرتا ہے ، جو بلیدہ کا بانی تھا ۔ اس قبیلہ کا نام وادی بلیدہ سے منسوب ہے اور ابوسعید کی اولاد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جو یہاں آکر بسا گیا تھا ۔ بلیدکی اکثریت سبی کے علاقہ اور کیچ گنداوہ اور ڈومبکی اور کھیڑی کے علاقہ میں آباد ہے ۔

اکثر بلیدی گولہ ہیں ، سندھی میں گولہ کا مطلب غلام کے ہیں ۔ بلیدی میر علی بھی کہلاتے ہیں اور کئی منظوم قصوں میں وہ اسی نام سے پہچانے جاتے ہیں ۔

بلیدی کا ایک حصہ مکران میں رہتا ہے ، جو کہ اٹھارویں صدی عیسویں کے آخر تک اس جگہ کا حاکم قبیلہ تھا ۔ بلیدی گچگیوں سے مغلوب ہونے کے بعد ہجرت پر مجبور ہوگئے اور بلوچستان کے شمال مشرقی علاقوں ( سبی اور کیچ گنداوہ ) کی طرف کوچ کرگئے اور وہاں سے شکار پور میں آباد ہوگئے ۔ یہ وادی بلیدہ کے قدیم باشندے ہیں اور بعد میں بلوچ کہلائے اور اس میں دوسرے مقامی قبائل شامل ہیں ۔

بگٹی

یہ قبیلہ بلوچستان میں سندھ اور پنجاب کے سنگم پر آباد ہے ۔ تاہم پنجاب خاص کر سندھ میں ان کی کثیر تعداد آباد ہے ۔ لیکن یہ مغربی بلوچستان میں بالکل نہیں پایا جاتا ہے ، مگر ایرانی بلوچستان کی وادی بگٹ میں یہ مختصر تعداد میں ملتے ہیں ۔ اس سے ان کے اس دعویٰ کو تقویت ملتی ہے کہ اس قبیلہ کا نام اس وادی کے نام سے بگٹی پڑا اور یہ اپنے آپ کو رند کہتے ہیں ۔

ہتو رام کا کہنا ہے کہ بگٹی اپنے آپ کو خاندان رند عالی کی اولاد پہلوان زائی عالیانی لغاری سے ملحق سمجھ کر کہتے ہیں کہ بیاعث اپنے بگ بوقت حلب سے آنے کے اس پارہ کا نام بگٹی تھا ، میر جلال خان کے چوالیس پاروں میں ایک پارہ بگٹی تھا ۔ لیکن میر گل خان نصیر کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے تو بلوچی لہجہ میں یہ کلمہ بگٹانی ہونا چاہیے تھا ۔ اسلیے کہا جاسکتا ہے اس کی تنظیم و تشکیل مشرقی بلوچستان ہوئی اور یہیں سے یہ بلوچ اتحاد میں شامل ہوا ۔

یہ قبیلہ اپنی شورش پسندی کی بدولت پڑوسیوں میں بہت بدنام رہا ہے ۔ اس طرح انہوں نے انگریزوں کو بھی بہت تنگ کیا ۔ بقول ہتو رام کے اس قبیلہ نے کسی کی سیادت تسیلم نہیں کی ، خان قلات کی بھی محدود سیادت تسلیم کی ۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ بگٹی جس علاقہ میں رہتے ہیں وہ علاقہ عام شایراہ سے ہٹ کر ہے اور بنجر اور پتھریلا علاقہ ہے ۔ جہاں پانی کی کمی سے زراعت بھی نہیں ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے یہ قبیلہ لوٹ مار پر مجبور تھا ۔ غالباً اس کا نام بگٹ یعنی لوٹ مار کر کے بھاگنے والے کی نسبت سے بگٹی پڑا ۔

پیرک زئی

پیرک زئی خاران کے قدیم ترین باشندے بتائے جاتے ہیں اور عرب قبضہ کے وقت اس علاقہ میں وارد ہوئے تھے ۔ جوں جوں نوشیروانی اقتدار بڑھتا گیا ، پیرک زئیوں کا اقتدار گھٹتا گیا ، حتیٰ یہ محض ایک قبائلی گروہ بن گیا ۔

جتوئی

جتوئی ایک طاقت ور طاءفہ ہے ان صدر مقام سنی ہے ۔ وہ بلوچستان کی نسبت سندھ اور پنجاب میں کثیر تعداد میں آباد ہیں ۔ رندوں سے ان کا رابطہ پوری طرح منطقع ہوچکا ہے اور حاجی مراد کے برائے راست جانشین ہیں جو کہ میرجلال خان کا بھتیجا تھا اور اس کی لڑکی مائی جتو سے بیاہاگیا تھا ۔ جتوئی دراصل جت کا معرب ہے اور اس کی اصل جاٹ ہے ۔

جمالی

جمالی کچھی کے رندوں کا سب سے بڑا طاءفہ ، جنہیں رندوں کا برائے راست جانشین کہا جاتا ہے ۔

میں شاہ کریم بلڑی کے قریب ایک دیہات میں گیا ۔ وہاں کے باشندے جماری ہیں اور یہ جمالیوں کا ایک طاءفہ ہیں ۔ اس کلمہ کو سن کر گمان ہوا کہ کلمہ جماری کو ہی معرب کرکے جمالی بنالیا گیا ہے ، یعنی کلمہ جمالی ابتد میں جماری تھا اور امتداد زمانے سے یہ کلمہ جمالی میں بدل گیا ۔ ’ ل ‘ جو ’ ر ‘ کی نرم آواز ہے رگ وید کے ابتدائی بھجنوں میں اس کا استعمال کم ہوا ہے ، لیکن قدیم ایرانی زبانوں یعنی اوستا ، قدیم فارسی اور پہلوی میں ’ ل ‘ استعمال نہیں ہوتا تھا ۔ عربوں کے نفوذ کے بعد فارسی میں ’ ل ‘ استعمال ہونا شروع ہوا ۔

اگر میرا گمان صحیح ہے تو اس کلمہ ابتدائی حصہ ’ جم ‘ ہے اور قدیم فارسی میں اور اوستا میں یہ کلمہ ’ یم ‘ آیا ہے اور اس کے معنی چاند کے ہیں ۔ یہی کلمہ جمشید میں بھی استعمال ہوا ہے ، جم جس کے معنی چاند کے اور شید بمعنی شعائیں ۔ اس سے بخوبی واضع ہوتا ہے کہ یہ قدیم آریاؤں کے باقیات ہیں اور ان کی اصل اندو سیتھک ہے جو کہ برصغیر میں چندر بنسی کہلاتے تھے ۔ گمان قالب ہے جماری ہی قبیلہ کا مرکزہ تھا اور بلوچ اتحاد میں شامل ہونے کے بعد یہ ذیلی قبیلہ بن گیا ۔

دامنی

کیپٹن وہپ ویر نے دامنیوں کا حال یوں بیان کیا ہے کہ یہ ایرانی سرحد پر آباد قبیلہ ہے اور تجارتی شاہرہ کے ابتدائی دنوں میں بدنام تھے ۔ تعداد کے لحاظ سے سرحد کا مظبوط ترین قبیلہ ہے ، شبانی بلوچ قبیلہ قزاقانہ عادات کے مالک اور شکل و شباہت ، عادت و اطوار اور رسم و رواج میں بلوچستان کے مریوں سے بہت مشابہ اور ان سے خونی رشتہ دار ہونے کا دعویدار ۔ قبائلی روایت کے مطابق مریوں کی ایک شاخ بہت قرن پہلے سواد اعظم سے علحیدہ ہو کر سرحد کی سطح مرتفع میں آبسی ۔ کیوں کہ یہ علاقہ ان کی جنم بھومی سے ملتا جلتا تھا ۔ رفتہ رفتہ یہ شاخ جڑ پکڑگئی اور اپنا اقتدار سرحد کے چھوٹے قبیلوں پر مسلط کردیا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ سب مل کر ایک قبیلہ بن گئے اور اپنے ہمسایوں میں دامنی کے نام سے مشہور ہوگئے ۔ یعنی پہاڑی ڈھلانوں پر رہنے والے ۔

بلوچستان کے مریوں کی طرح دامانی بنیادی طور پر سخت جان کہستانیوں کا گروہ ہیں ، وہ اپنی سطح مرتفع پر نثار ہیں جسے سال میں ایک دفعہ چھورتے ہیں ، تاکہ ماشکیل میں اپنی فصل سنبھالیں یا پھر دھاوا بولیں ، جس کے وہ بُری طرح عادی ہیں ، ماشکیل کی کل پیداوار کا ایک تہائی ھصہ اس قبیلہ کا ہے اور نہ ایرانی حکومت اور خاران کو کوئی مالیہ دیتے ہیں ، ہمسایئے انہیں بھروں کا چھتہ سمجھتے ہیں ، جن سے سروکار نہیں رکھنے میں ہی خیر ہے ۔ مختصر ترین الفاظ میں دامانی ایک وحشی بربریت پسند ، نیم آزاد پہاڑیے ہیں ، جن پر ایرانی گرفت دھیلی دھالی ہے ۔

دریشک

پکولین کا کہنا ہے کہ بلوچوں کے اصلی قبیلوں میں سے ایک ہے جس کا ذکر قدیم نظموں میں ملتا ہے ۔ یہ قبیلہ دریشک کو اپنا بانی کہتا ہے جو رندوں کو اولاد میں سے ہے ۔ ڈیمز کا خیال ہے کہ ان کا قبائلی نام دیزک کے نام سے تعلق رکھتا ہے جو مکران میں ایک جگہ کا نام ہے ۔ دریشک ڈیرہ غازی خان کے علاقہ میں آباد ہیں ، اس کے علاوہ سبی میں بھی آباد ہیں ۔

ڈومبکی

یہ مغربی بلوچستان میں بالکل نہیں پائے جاتے ہیں ۔ یہ مشرقی بلوچستان کے علاوہ سندھ اور پنجاب میں بھی آباد ہیں ۔ تاہم ایرانی بلوچستان میں دریائے ڈومبک کے کنارے ان کی کچھ آبادی ملتی ہے اور یہ اپنی نسبت بھی دریائے ڈومبک سے کرتے ہیں ۔

ڈومبکی جو رند نسل کے مدعی ہیں اور اپنا شجرہ نسب میر چاکر تک لے جاتے ہیں ۔ ایک پیشہ ور ذات جو کہ افغانستان سے لے کر بڑصغیر میں پائی جاتی ہے ۔ اس لیے یہ کہتے ہیں ہم ڈومکی نہیں ہیں بلکہ ڈومبکی ہیں ۔

ریکی

ریکی جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ریگستانوں یا نشیبی زمینوں کے باسی ہیں ۔ ان کے تین حصہ ہیں ۔ میر جاوا کے ریکی ، ماشخیل کے ریکی اور چالک کے ریکی ۔ ان سب کا مورث مشترکہ تھا ۔

رہکی رخشانیوں میں شامل ہیں اور رخشانی ہی سمجھے جاتے ہیں ، ان کی پہچان ان کے اپنے مخصوص نام سے ہے ۔ روایت کے مطابق وہ رخشانی رند ہیں ، جو سواد اعظم سے علحیدہ ہوکر دریائے ماشکیل کے اطراف کے ریگ زاروں میں رہ گئے ۔ لہذا ان کا نام ریکی یا مرد ریگ پر گیا ۔ وہ عرب النسل کا دعویٰ کرتے ہیں اور آنحضرت کے چچا کو اپنا مورث بتاتے ہیں ۔

رخشانی

رخشانیوں کو ایک براہوئی طاءفہ بتایا جاتا ہے ، لیکن انہیں بلوچ کہنا زیادہ صحیح ہو گا ۔ ان کی زبان بلوچی ہے اور ڈیمز نے بلوچ نسل کے بیان میں انہیں بلوچوں کا ایک طاءفہ بتایا ہے ۔ ان کا مورث اعلیٰ حمل بنح حسن بن شاہک بتایا ہے جو رند کی نویں پیڑھی میں تھا ۔

روایت کے مطابق قبیلے کا بانی رخش نامی بلوچ تھا ، جو کوئی تیس قرن پہلے زندہ تھا اور اس کے دو بیٹے ہارون اور جمال الدین باپ کی موت کے بعد جھگڑ پڑے اور جمال الدین نے حلب کے قریب گھر کو ترک کیا اور ساتھیوں کے ہمراہ گواش ( خاران ) کی طرف ہجرت کی ۔ اس کا بیٹا ہوت اس جانشین ہوا اور طاءفہ جماینی مشہور ہوا ۔ قریب اس وقت نوشکی کا بلوچ قبیلہ ماندوئی ، جو دس قرن پہلے عرب سے آیا تھا ۔ مغل حکمرانوں کے استحصال سے تنگ آکر جمال دینیوں سے مدد کا ملتجی ہوا ۔ التجا منظور ہوئی اور اور قبیلہ نوشکی منتقل ہوگیا اور علاقہ کی زمینیں دونوں طاءفوں میں برابر تقسیم ہوگئیں ۔ اس طرح ماندائی جمال دینی رخشانیوں میں مدغم ہوگئے ۔ دریں اثنا رخشانیوں کی دوسری شاخ ہارون بن بالدین کے زیر قیادت تھی اور بادینی کے نام سے موسوم تھی ۔ اپنے ہمسایہ قبائل کے ساتھ پیکار و کارزار میں شکست کھا کر جلدور ( خاران ) کی طرف ہجرت پر مجبور ہوگئے ۔ جمالدینیوں اور ماندئی نے مغل ظلم و ستم سے تنگ آکر بادینیوں کو مدد کےلیے بلایا ۔ جنہوں نے ایک چال کے ذریعہ افغانوں کو ٹھکانے لگادیا ۔ انہوں نے والی اور اس کے جلواداروں کو ایک ضیافت میں بلایا گیا ۔ اور مغل مہمانوں کو مختلف بادینی خاندانوں میں ٹہرایا گیا ۔ پہلے سے طہ شدہ اشارے پر جو نقارے کی چوٹ تھی بمعنی ’

نوش خانی ‘ ( کھانا شروع کرو ) بادینیوں نے مہانوں پر حملہ کیا اور انہیں ماڑ ڈالا ۔ مقامی روایت کے مطابق نوشکی کے موجودہ نام کی وجہ تسمیہ یہی الفاظ ’ نوش خانی ‘ ہیں ۔ بادین کو کابل بلایا گیا ، لیکن اس نے اپنے اقدام کی تسلی بخش وضاحت کی اور ایک مقررہ رقم سالانہ خراج کی ادائیگی پر واپس آنے کی اجازت دے دی گئی ۔ واپسی پر بادینیوں کو قبائلی زمینوں میں حصہ دے دیا گیا اور اس کے بعد ضلع کا مستقل قبیلہ بن گیا ۔ رخشانی کی کبھار ترنگ اور ہلمند میں ملتے ہیں ۔

پوٹنگر کا کہنا ہے کہ رخشانی کاہل الوجود جاہل ، بے سلیقہ اور لٹیرے ، لوٹ مار تو پوری نسل کا خاصہ ہے اور قمہار بازی بھی مہمان نوازی اور قول کی پابندی جو ان کی ذاتی بہادر سے متعلق ہو ان کی شیخیاں بالکل صحیح ہیں ۔ اب یہ قبیلے لٹیرے نہیں ہیں ، لیکن دیگر امور میں ان میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی ہے اور چند منشیات کے سوا وہ غریب اور کاہل کاشت کار ہیں ۔

گو رخشانی نام یا مقامی تلفظ کے تحت رشخانی خاران میں اتنا مقبول نام ہے کہ یہ کسی خاص قبیلہ اوَتک محدود نہیں ۔ اس کا اصلی مطلب ہے صرف وادی رخشان کا باشندہ ہے ۔ لیکن بتدریح اسے مختلف گروہوں کےلیے استعمال کرلیا گیا ہے ۔ بلاشبہ یہ معنوعی توسیع رخشانیوں اور رند بلوچوں کے مبینہ تعلق کا نتیجہ ہے ۔ کیوں کے بلوچی منظومات کے مطابق رندوں کے چوبیس بولکوں ;8; یا خاندانوں میں سے ایک تھا ، جو کولواہ میں ٹہر گئے ۔ اس منحوس سرزمین پر صرف باجرہ ہوتا ہے ، رخشانی پیچھے رہے گیا ۔ وہاں اس نے کھلے میدان میں اپنا گھر بنایا ۔ بعض روایات کے مطابق ریکی اور دامنی رخشانیوں کے طاءفہ میں تھے ۔ لیکن دامنی یچھے رہ گئے اور ریکی ریگہائے ماشکیل میں ٹہر گئے اور رخشانیوں کا سواد اعظم وادی رخشانی میں آگیا ۔ جہاں سے وہ شمال کی طرف خاران اور نوشکی میں پھیل گئے ۔

سیاہ پاوَ (کوہی)

سیاہ پاوَ کی وجہ تسمیہ کالے بوٹ ہیں ، جو انہوں نے علاقہ میں آمد پر پہنے ہوئے تھے ۔ وہ رند ماخذ کے دعویدار ہیں اور نوشکی کے جمال الدینوں کے ہم نسل ہیں اور ایک مشترکہ مورث مندو کی اولاد ہیں ۔

سیاہ پاوَ (کوچائی)

کوچائی سیاہ پاوَ کوہی سیاہ پاوَ کے مقابلے میں میدانی ہیں ۔ یہ اپنے کو سُنگر کہتے ہیں ، جو کئی پشتیں پہلے کہوڑی ( قلات ) سے کیچ آئے تھے ۔

سُنگر

سُنگر ایک بڑا قبیلہ ہے جو ساحل پر واقع میانی سے مکران تک مغرب میں ایرانی سرحد تک پھیلا ہوا ہے ۔ مکرانی سُنگروں کے برعکس وہ رخشانیوں سے یگانیت بتاتے ہیں ۔ لیکن زرعی مشاغل کی طرف ان کا قدرتی رجحان جدگالی ماخذ کا غماز معلوم ہوتا ہے ۔ سندھ میں وہ اپنے اصلی گھر سے قلات کی طرف ہجرت کرگئے اور بہت عرصہ تک وہیں رہے ۔ لیکن بعد میں قحط نے انہیں مغرب کی طرف دکھیل دیا ۔ شکل و شباہت اور لباس سے بلوچوں سے ملتے جلتے ہیں اور بلوچی بولتے ہیں ۔ ُسنگر ایک راجپوت قبیلہ بھی جو چھتیس راج کلی میں شامل ہے ۔

سنجرانی

سنجرانی رند ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ دیمز کا کہنا ہے کہ سنجرانی یا طوقی متفقہ طور پر ایک اہم قبیلہ سمجھے جاتے ہیں ۔ مقامی روایات کے مطابق قبیلے کا بانی سنجر خاندانی جھگڑوں کی وجہ سے رندوں کے سواد اعظم سے علحیدہ ہوگیا اور سترہ قرن پہلے چاغی آگیا ۔ قبیلہ کا اولیں مصدقہ شجرنسب جان بیگ اول سے شروع ہوتا ہے جو چھ قرن پہلے زندہ تھا ۔ سنجرانیوں کے تحت طوقیوں کے بے شمار چھوٹے چھوٹے قبیلے ہیں جو سنجرانی سردار کے زیر چاغی کے مغرب میں ایران تک پھیلے ہوئے ہیں ۔

سنجرانیوں نے کبھی خان قلات کو خراج دیا اور نہ ہی نواب خاران کی اطاعت کی ۔ انگریزی قبضہ سے پہلے ان کے تعلقات افغانستان سے تھے ۔ جہاں ان کی زیادہ تعداد اور اہم شاخیں سکونت پزیر ہیں ۔

ٍاگرچہ سنجرانی تعداد میں کم ہیں تاہم انہیں نوشکی کے قریب قائن کے مغرب میں کوہ ولیل تک کے علاقہ کے جائز مالک تسلیم کئے جاتے ہیں ۔ اس سے ماورا علاقہ بھی سرحد ایران تک سنجرانیوں سے آباد ہیں ۔ شمال میں ان کا علاقہ نئے افغانستان ایران کے سرحدی خط تک پھیلا ہوا ہے جنوب میں سلسلہ ہائے گھاٹ تک جو والبدین کے جنوب میں ہے شکی جاہ ، عیسی طاہر ، ہنی بان ، گلی چاہ اور سوراپ سجرانی حدود کے اندر ہیں ۔ سابقہ ایام میں وہ کچھ فاصلہ تک والبدین کے جنوبی سلسلہ کے علاقہ پر بھی ان کا قبضہ تھا ۔ جس میں ہرماگئی اور دیگر مقامات شامل تھے ۔ لیکن خان خاران نے ان پر قبضہ کرلیا اور اب مذکورہ ہن گھاٹ ان کے درمیان خط فاصل ہے ۔ یہ نام سے بخوبی اندازہ ہے یہ ترکی نسل ہیں اور بعد میں یہ بلوچ کہلائے ہیں ۔

سر پرہ

یہ قبیلہ جزواً بلوچ اور جزواً افغان ماخذ کا ہے ۔ قدیم تر حصہ شہاوانی کا ہے ، جو کہ شہدا نامی ابن داوَد رند کی اولاد ہیں ، جو تیرہ قرن پہلے رہتا تھا ۔ باقی سب بے گانے لوگ ہیں ۔

سُہر

سُہر کولواہ کے رند ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔

عمرانی

بطور مگسی ایک طاءفہ شمار ہوئے ہیں ۔ عمرانی عمر برادر غزن ابن علی کی اولاد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ، جو میر جلال خان کا ایک بیٹا بتایا جاتا ہے ۔ ایم ایل ڈیمز کا خیال ہے وہ بلیدیوں کی طرح بلوچ وفاق میں پانچ حصوں کی تشکیل کے بعد شامل ہوئے ہیں ۔

طوقی

طوقیوں کا نام غالباً قلعہ طوق سے پڑا ہے ، جیسے تیمور نے سیستان سے بست کی طرف کوچ کرتے ہوئے 1383ء میں فتح کیا تھا ۔

کھوسہ

میر جلال خان کے لڑکے ہوت کی اولاد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور مقامی روایات کے مطابق قبیلہ کا بانی کوسیر تھا ۔ جو کھوسہ میں بدل گیا ۔ انہیں کبھی کبھی مہانا یعنی کشتی بات بھی کہا جاتا ہے ۔ کیوں کہ ان میں سے چند نے کسی وقت میں میر چاکر کو دریائے سندھ پار کرایا تھا ۔ لیکن کھوسہ کا ماخذ کچھ اور معلوم ہوتا ہے اور بقول ڈیمز کے بلوچوں کو ہمیشہ لٹیروں اور ڈاکوں کی شہرت نصیب رہی ہے ۔ اس لیے انہیں غیر مہذب القابات ملے ۔ جیسے کھوسہ کا مطلب سندھی میں ڈاکو ہے ۔

کھوسہ بلوچوں کا قدیم ٹمن ہے جس کا ذکر بلوچوں کی شاعری میں ملتا ہے ۔ وہ نصیر آباد اور سبی کے علاقوں میں آباد ہیں اور ان کی اکثریت سندھ اور تھر پاکر میں رہتی ہے ۔ ان کا ایک حصہ ڈیرہ غازی خان میں بھی آباد ہے ۔ یہ ایک مخلوط قبیلہ ہے جس کی ترکیب میں کھتران ، رند ، حتیٰ جاٹ بھی شامل ہیں ۔

کہیری

کہیریوں کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ سیّد ہیں اور بلوچوں کے ساتھ آئے تھے ۔ مبینہ سیّد ماخذ کی وجہ سے بلوچ ان کی بہت عزت کرتے ہیں ۔ میر معصوم بکھری انہیں سیّد بتاتا ہے ، جس کا نام کہیر جنگلی درخت سے ماخوذ ہے ۔ جس پر ان کا ایک بزرگ ایسے چڑھا جیسے گھوڑے پر ۔ وہ آنحضور ﷺ کے ایک ہم عصر شاہ قتال سے اپنا شجرہ نسب اخذ کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے رہنما نیامت شاہ کے تحت بلوچوں کے ساتھ مکران آئے تھے ۔ ہیوگزبلر کا کہنا ہے ، کہیری ایک چھوٹا سا قبیلہ ہے ، لیکن انہیں سید یا بلوچ سمجھنا مشکوک ہے اور راجپوتوں ایک قبیلہ اس نام کا ہے ۔ جو تقدس کا حامل ہے ۔

گچگی

گچگی جو تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود مکران کا طاقت ور ترین گروہ ہیں ۔ مکران کے اعلی اور حکمران قبائل میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ یعنیٰ بلوچوں سے بھی اعلیٰ ۔ یہ مکران میں حکمران بھی رہے ۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک بلوچ سردار نے اولاد نہیں کی وجہ سے ایک راجپوت مار سنگھ کو اپنا بیٹا بنایا تھا جس کی نسل سے یہ ہیں ،

گشکوری

گشکوری بلوچستان میں ڈومبکی قبیلہ کی ایک شاخ ہے لیکن پنجاب میں یہ ایک بڑا اور آزاد قبیلہ مانا جاتا ہے ۔ یہ قبیلہ رند نسل کا مدعی ہے اور اپنا انتساب مکران کی گش یا گیش ندی سے کرتا ہے ۔ مگر یہ قبیلہ ایرانی اور مغربی بلوچستان میں نہیں پایا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ قبیلہ مشرقی بلوچستان میں منظم ہوا ہے ۔ گشکوری بلوچستان میں ڈومبکی قبیلہ کی ایک شاخ ہے لیکن پنجاب میں یہ ایک بڑا اور آزاد قبیلہ مانا جاتا ہے ۔

لغاری

یہ قبیلہ بلوچستان میں نہیں پایا جاتا ہے ، ان کی کثیر تعداد پنجاب میں راجن پور ، ڈیرہ اسمعیل خان سے لے کر مظفر گڑھ تک آباد ہے ۔ اس کے علاوہ سندھ میں بھی ان کی بڑی تعداد آباد ہے ، جہاں یہ ٹالپوروں کے ساتھ آئے تھے ۔ ٹالپور بھی لغاریوں کی شاخ ہیں ۔ لغاری خود کو بلوچ کہتے ہیں ، مگر حیرت کی بات یہ ہے یہ رند نہیں بلکہ ہوت کے اخلاف ہونے کے مدعی ہیں ، جو کہ بلوچ روایات میں چرواہا تھا ۔

مگسی

ہتو رام کا کہنا ہے کہ جس زمانے میں رندوں اور لاشاریوں کی جنگ ہو رہی تھی ، اسی زمانے میں سردار لاشاری خود جنگ پر جایا کرتا تھا ۔ اس کی غیر حاضری میں جام نندو اس کا ایک مصاحب کے تھا وہ ملک پر قابض ہوگیا تو میر گوہرام کو ملک کو چھوڑ کر چلا گیا ، مگر مگسی یہیں رہے ۔ ان کے طرز لباس اور چال چلن کلہوڑوں سے بہت مشابت رکھتے تھے ۔ مگسی لاشاری بھی کہلاتے ہیں اور ڈیمز

کے مطابق یہ اپنا نام مگ سے اخذ کرتے ہیں ، جو لاشار سے چھٹی پیڑھی میں تھا ۔ پورا قبیلہ جھل میں رہتا ہے لیکن اچھے خاصہ لوگ کٹ کر دوسروں سے جاملے ۔ ان کی کثیر تعداد سندھ اور پنجاب میں رہائش پزیر ہے ۔ قبیلہ کا مرکزہ مگس (ایران) سے آنے کا دعویٰ کرتا ہے ، جو گوہرام لاشاریوں کی حامیوں پر مشتمل ہے ۔ مگسی پشت در پشت رندوں کے دشمن رہے ہیں اور دونوں کے درمیان وقتاً وقتاً شدید لڑائیاں ہوتی رہی ہیں ۔

محمد حسنی

محمد حسنی جو عرف عام میں ( ماما سانی ) کہلاتے ہیں ۔ یہ اہم قبیلہ ہے اور سیستان ، لورستان کی پہاڑیوں اور بلوچستان کی وادی مشکے میں رہتے ہیں ۔ وہ شورہ رود سے جنوب میں ملار اور مغرب میں پنجگور تک پورے مغربی بلوچستان میں پائے جاتے ہیں اور نوشکی ، چاغی اور سنجرانی علاقہ میں راس کوہ کامران سلسلہ سے سیستان تک پھیلے ہوئے ہیں ۔ ان کا نام کلاسیکی ہے اور طاقت ور قبیلہ کا ، جس کا سکندر اعظم کو بلائی باختر میں مقابلہ کرنا پڑا ۔ وہ خارانی نوشیروانیوں کے رشتہ دار بتائے جاتے ہیں اور دونوں لُور کے ماما سانیوں کی اولاد کے دعویدار ہیں ۔ ماما سانی بلوچستان کابہادر ترین اور وحشی قبیلہ ہے اور اپنے ہمسایوں میں بُرے دوستوں اور سخت دشمنوں کی حثیت سے مشہور ہیں ۔ محمد حسنی یا ماما سیانی

ایک خانہ بدوش قبیلہ ہے ۔ یہ راس کوہ کامران کی پہاڑیوں سے سیستان تک ۔ یہ خاران ، سیستان ، لورستان اور وادی ہلمند کے ساتھ بھی ملتے ہیں ۔

مقامی محمد حسنی یا ماما سنی لوروں سے تعلق کے دعویدار ہیں کو لارڈ کرزن کی کتاب ’ فارس ‘ میں یوں بیان ہوئے ہیں کہ اس علاقہ میں آباد ہیں جو اب بھی شولستان کہلاتا ہے ، جو مشرق اور جنوب مشرق میں فارس میدان قزرون تک پھیلا ہوا ہے ۔ یہ قبیلہ اپنے ماخذ پر بہت نازان ہے اور سیستان سے آنے کا دعویٰ کرتا ہے اور رستم کی باقیات ہونے کا بھی ۔ یہ لوگ اپنی قزقانہ اور غیر قانونی عادات کی بنا پر زیادہ بدنام ہیں اور ہمیشہ اپنے پہاڑی قلع ( سفید قلعہ جو چٹٓان کی سفیدی کی وجہ سے ایسا کہلاتا ہے ) کو اپنا مقام اجتماع سمجھتے بھی ہیں اور پناہ گاہ بھی ۔ یہ مشہور قلعہ شیراز کے شمال مشرق میں پچاس میل دور واقع ہے ۔

مری

مری قبیلہ مشرقی بلوچستان میں سندھ اور پنجاب کے سنگم پر آباد ہے ۔ یہ سندھ اور پنجاب میں بھی ملتے ہیں مگر مغربی اور ایرانی بلوچستان میں نہیں ملتے ہیں ۔

بلوچ روایات کے مطابق میر چاکر ہندوستان جا رہا تھا تو مریوں کے سردار میر بجار نے ہندوستان جانے سے انکار کر دیا ۔ جس پر میر چاکر نے بجار مری ہے ۔ مری کے معنی بلوچی میں ’ جن ‘ کے ہیں اور عام رواج کے برخلاف جو کوئی کسی کا کہنا نہیں مانتا ہے اور اس کے برخلاف عمل کرتا ہے تو اس کو ’ مری ‘ یعنی جن کہتے ہیں ۔

مری ان قبیلوں میں سے ہیں جو بعد میں تشکیل پائے گئے ہیں ۔ بلوچوں کی قدیم شاعری میں ان کا ذکر نہیں ہے ۔ مری قبیلہ پندرویں صدی عیسویں کے اوخر میں اور سولویں صدی کے شروع ( جب ارغون کے ہاتھوں سبی چھوٹنے پر مجبور ہوگئے تھے ) میں اس علاقہ میں جہاں پر مری آباد ہیں وجود میں آیا ۔ رندوں کا بشتر حصہ اس وقت میر چاکر کی قیادت میں مشرق کی طرف پنجاب گیا ، مگر ایک چھوٹا سا حصہ جسے پژ رند کہا جاتا ہے ، میر بجار کی قیادت میں کوہ سلمان کے جنوبی دامن بجا رود اور کوٹ منڈی میں رہے گیا ۔ یہ رندوں کا وہی چھوٹا حصہ تھا ، جو سولویں صدی عیسویں کی پہلی دھائی میں مری کے نام سے وجود میں آیا ۔ مری قبیلہ کا نام منڈاہی کے پہاڑی سلسلے سے یہ نام لیا گیا ۔

بعد میں اٹھارویں صدی عیسویں میں مریوں نے حسنی قبیلہ کو مشرقی جانب ہجرت پر مجبور کردیا اور مریوں نے اس قبیلہ کی زمینوں پر قبضہ کرکے زیر تصرف علاقہ کو موجودہ سرحد تک بڑھایا ۔ مری خانہ بلوچوں کا ایک لڑاکا قبیلہ ہے ۔ وہ جب میر نصیر خان دوم کے وقت قلات کے تابع رہے ، میر لیکن نصیر خان کے فوت ہوجانے کے بعد خود کو قلات کے تسلط سے چھڑا لیا ۔

دائمی جنگوں اور لوٹ مار کی خاطر مسلسل حملے جو انسانوں کی زندگیوں کی قیمت پر ختم ہوتے تھے ۔ مری قبیلہ کو روز بروز کمزور کرتے جارہے تھے ۔ یہی وجہ تھی راہبر اور تمندار قبائلی گروپوں کے وڈیرے دیگر بلوچ حتیٰ پشتونوں ، براہویوں ، جٹ وغیرہ کو بڑی خوشی سے قبول کرلیتے تھے ۔ مثال کے طور پر مزرانی کی ترکیب میں کھتران اور جٹ اکثریت رکتے ہیں ۔ بجارانی کی ترکیب میں ایک بڑی تعداد پشتونوں اور براہویوں کی ہے ۔

مریوں کا علاقہ بگٹیوں کے ساتھ اور ان کی طرح پہاڑی ہے ، جہاں پانی نہیں ہونے کی وجہ سے زراعت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ان کی شورش پسندی کی وجہ سے ان کے ہمسایئے بہت نالاں رہے ۔ اور انہوں نے انگریزوں کو بھی بہت تنگ کیا ۔

کلمہ مری ’ مر ‘ سے متشق ہے ، جس کے معنی پہاڑ کے ہیں ۔ یہ کلمہ افغانستان ایران اور برصغیر کے بہت سے قبیلہ شہر اور افراد کے ناموں میں استعمال ہوا ہے ۔ اس میں ’ ی ‘ نسبتی ہے اور اس کے معنی پہاڑ پر رہنے والے ۔

ماموجو

ماموجاوَ غلزئی افغان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اپنے آپ کو قدیم باشندے کہتے ہیں ۔ لیکن ان کا سندھی جو پر ختم ہوتا ہے ، جو حالت اضافی کا نشان ہے اور ان کے جدگالی ماخذ کی نشاندہی کرتا ہے ۔ لیکن اپنے سرخ وسفید رنگوں اور نیلی آنکھوں کی وجہ سے ممتاز ہیں ۔

نوشیر وانی

نو شیرونیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ کیانی ملوک سے متعلق ہیں ، لیکن اس کی صداقت کو دلائل و براہن سے ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم خاران میں ملوک کے آثار کثیر ہیں ۔ یہ بات یقنی ہے کہ گروہ کے بانی نے انہیں اپنا نام دیا ہے ۔ لیکن عجیب و غریب بات یہ کہ سردار خاران کو نادر شاہ اور درانی بادشاہوں کی طرف سے ملی ہوئی اسناد میں صرف آخری مورقہ 1796ء میں خارانی سردار کو بلوچ نوشیروانی کے نام سے خطاب کیا گیا ہے ۔ سابقہ اسناد میں بلوچ خارانی یا بلوچ رخشانی کے خطاب سے موسوم ہوتے رہے ہیں ۔ تاہم آخری خطاب نوشیرونیوں کے ماخذ کے بیان کو کچھ تقویت دیتا ہے ۔ جس کے مطابق ان کے مورث اعلیٰ نوشیروان نے علاقہ کی تنہا حالت کے پیش نظر اور وادی رخشان سے مکران جانے والے قافلوں کو لوٹنے کے نقطہ نظر سے اپنے آپ کو دریائے سراپ کے ایک معاون یا دریائے گرگ پر واقع ایک قلعہ میں مستحکم کرلیا ۔ یہ دریا اب بھی نوشیروان پیشی کہلاتا ہے ۔ اس کی طاقت کو دیکھ کر خاران کے صف اول کے گروہ پیرک زئی سردار نے اپنی بیٹی کی شادی اس سے کردی اور اسی کی اولاد ہوتے ہوتے سرداری تک پہنچ گئی ۔ تاریخی طور پر نوشیروان اس پُر دور آشوب میں منظر عام پر آئے جب سترویں صدی عیسویں کے اواخر اور اٹھارویں صدی عیسویں کے اوائل کے وسط میں افغانستان افراتفری کی لپٹ میں تھا ۔

نچاری

نچاری گو عدی حثیت سے غیر اہم ہےں ۔ تاہم وہ ایک قدیم قیبلہ ہیں ۔ قبیلہ نے اپنے سابقہ ایام میں براہوئی دالحکومت کو اپنا نام دیا تھا ۔ جو آئین اکبری میں قلات نچارہ مزکور ہے ۔ بعد میں قلات بلوچ مشہور ہوا ۔ مقامی روایات کے مطابق نچاری الیکو زئی افغان ہیں ۔ ان کا مورث الیکو اپنے ڑیورں سمیت افغانستان سے نچارہ آیا تھا ۔ جو اس وقت ایک جدگال کے قبضہ میں تھا اور و۰ وادی ہمیر میں رہتا تھا ۔ رند بلوچ موسیٰ اور بنگلزئی براہوئیوں کا مورث بنگل بعد میں نچارہ آئے اور الیکو سے مل کر ہمیر کو مار دیا اور علاقہ آپس میں باٹ لیا ۔

واشکی

واشکی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ واشک کے بانی ملک دینار کے ساتھ ایران سے آئے تھے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں