46

بلوچ قبیلوں کی تشکیل

بعض محقیقن مثلاً پیکولین کا خیال ہے کہ شاعری اور عوامی نظمیوں میں جن قبیلوں کا ذکر ہے وہ تقریباً گیارویں اور باروسویں وعیسویں کے متعلق ہیں ۔ یعنی سیستان سے مکران تک بلوچوں کی ہجرت کا زمانہ ۔ ان نظموں اور عوامی گیتوں میں بلوچوں کے چوالیس بنیادی بولک ( قبیلوں ) ذکر آیا ہے ۔ ان قبائل کے نام اب بھی ملتے ہیں ۔ مثلاً گورگیچ ، کلمتی ، نوتکانی ، گچشکوری ، کروانی ، رخشانی ، ڈمبکی کولاچی ، رند ، دریشک ، لاشاری ، تالپور ، جتوئی ، مزاری ، ہوت ، میکانی ، میرالی کھوسہ اور چانڈیا وغیرہ ۔ اس طرح وہ قبائل جو بعد میں بلوچوں میں شامل ہوئے ۔ مثال کے طور پر دشتی ، گبول ، گوپانگ ،کرد اور مستوئی بعد میں بلوچوں میں ضم ہوگئے کے نام ملتے ہیں ۔ ان میں ہوت چاندیا مقامی قبائل ہیں ان کا ایرانی بلوچستاں میں نام و نشان بھی نہیں ملتا ہے ۔ یہ یہیں تشکیل دیئے گئے ہیں ۔

اگرچہ یہ نظ میں پندویں صدی کے بعد بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا سترویں میں لکھیں گئیں ۔ ان نظموں میں بلوچوں کی ہجرت کا تذکرہ مگر دوسری تفصیلات تاریخ سے ماخذ نہیں ہیں ۔ ان نظموں میں صرف ان قبیلوں کا ذکر ہے جو کہ اب بھی موجود ہیں ۔ ان قبیلوں کا ذکر نہیں ہے جن کا قدیم مورخین نے ذکر کیا ہے یا ایرانی بلوچستان میں ہیں ۔ ان کی غیر موجودگی ان کی حقیقت مشکوک بنادیتی ہے ۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ان نظموں میں جن قبائل کا ذکر آیا ہے ان میں سے بشتر قبیلوں کا تعلق اسی سرزمین سے ہے یا ان کی تشکیل اسی سرزمین پر ہوئی ہے اوربلوچ وفاق میں شامل ہونے کے بعد بلوچ کہلائے ۔

بلوچ قبائل کے بشتر نام افسانوی یا جغرافیائی خطہ ناموں سےلیے گئے تھے ۔ جغرافیائی خطہ کے ناموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب ان قبائل کی تشکیل اس سرزمین پر ہوئی تو اس کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں تھی جو کہ اس علاقہ سے آئے تھے ۔ مثلاً وادی مگ سے مگسی ، دشت سے دشتاری ، وادی بلیدہ سے بلیدی ، ، دامنی ایران کے سروان کے علاقہ دامن سے ، ڈومبکی ایران کی وادی ڈومبک کی وادی سے ، گشکوری گشکور کے دریا سے وغیرہ وغیرہ ۔

بلوچ قبائل اور ان کے فرقوں کے نام یا تو جگہوں کے جغرافیائی ناموں سےلیے گئے تھے ۔ جس مقام پر ایک قبیلہ نے موجودہ علاقہ تک نقل مکانی کی تھی یا قبیلے کے (یہ افسانوی نام نہیں ہیں بلکہ حقیقی نام ہیں جن کی حقیقت کو بلوچوں نے بھلا دیا ہے) کے نام رکھے گئے تھے یا پھر ان کے القاب اور ناموں سے موسوم ہوئے ، جو ایک دوسرے قبیلے کے پڑوسیوں کی طرف سے رکھ گئے تھے ۔ مثلاً مگسی کا نام مگ وادی سے لیا گیا تھا ، دشتاری مغربی بلوچستان میں دشت نام سے ، بلیدی مشرقی بلوچستان کی وادی بلیدہ کے نام سے ، دامنی ایران کے سروان کے علاقہ دامن سے ، ڈومبکی ایران کی وادی ڈومبک کی وادی سے ، گشکوری گشکور کے دریا سے (مکران میں ہے) وغیرہ وغیرہ ۔

دودائی ، دریشک ، جتوئی ، زینو تدین ، مرالی ، احمدانی ، حسینی ، راہیجہ ، عمرانی وغیرہ مشابہ نام ہیں ۔ مزاری شیر لغاری (میلا کچلا) کھوسہ ( جنگی ) ہوت ( مظبوط ) وغیرہ قدیم القاب تھے ۔

بلوچوں کے بہت سے بڑے قبائل اور نسبتاً چھوٹے قبائل ( بگٹی ، بلیدی ، لنڈ ، لغاری ، مری ، قمرانی ، عمرانی ، شبہانی ) جو موجودہ مشرقی بلوچستان میں تشکیل پائے تھے ۔ ایرانی بلوچستان میں آباد قبیلے مثلاً برانزئی ، عبدللحئی ، سیبی سورانی ، وغیرہ بہت بعد میں وجود میں آئے ہےں ۔ بلوچوں کے قبائل مثلاً کلمتی ، گورمقانی ، دودائی ، ناموری ، نوہانی ، حسنی جنہوں نے بلوچ تاریخ میں اہم کردار ادا کئے بکھر گئے اور بلوچوں کے دوسرے قبیلوں میں ضم ہوگئے ۔

ایرانی بلوچستان کے برعکس جو ایک جیسی ٹولی میں اکھٹہ رہتے تھے ۔ مشرقی بلوچستان کے بلوچ متفرق انداز میں دوسری قوموں اور قبیلوں ( پشتونوں ، جٹوں ) کے درمیان آباد ہوئے اور ان قبیلوں اور قوموں نے وقت گرنے کے ساتھ ساتھ پڑوسیوں کے رسم و رواج اپنالیے اور ایک دوسرے میں ضم ہوگئے ۔

نتیجاً ضعیف مظبوط کے زیر اثر آگئے اور ان جیسے ہوگئے ۔ نسل کے ساتھ علحیدہ علحیدہ گروپوں میں مل جانے کا عمل بلوچستان میں قدیم زمانے سے شروع ہوا ۔ دور دارز علاقوں تک کوچیوں کی دائمی نقل ، چراگاہوں اور رہائشی علاقوں پر لڑائیاں ، دیہاتوں اور تجارتی قافلوں پر مسلح حملے ، یہ سب ایک طرف بلوچوں کی اصل تعداد میں کمی اور دوسری طرف بلوچ قبیلوں کے اندر اضافہ کا سبب بنیں ۔ ان میں دوسرے کمزور قبائل حتیٰ کہ غیر بلوچ فرقہ اور قبیلہ شامل ہوگئے ۔ مثال کے طور پر مری کی ترکیب میں بڈانی یقینا براہوئی ہیں ، شیرانی فرقہ کی اکثریت ژوپ کے پٹھان ہیں ۔ مزاری فرقہ کھیتران سے آیا ہے ، وغیرہ وغیرہ ۔

اس طرح کا عمل مغربی بلوچستاں میں دءکھا جاسکتا ہے ۔ پ ا رتخ ( جس نے گزشتہ صدی کے آخر میں بلوچستان کا سفر کیا تھا ) نے سرحد میں کچھ آریائی قبیلے شامدان ، لاویزی ، تامینی ، خاشی وغیرہ دیکھے تھے ۔ ( م کہان اور ارزم آرا بعد کی معلومات قبیلوں کی تعداد ( جو رتخ نے بتائے تھے ) اب دو رہ گئی ہے ۔ یعنی تامینی اور خاشی اور اب وہ بھی فارسی نہیں بلکہ بلوچی بولتے ہیں اور خود کو بلوچ کہتے ہیں ۔

اس دوران بڑے قبائل کے ساتھ چھوٹے قبیلوں کے مل جانے کا عمل جاری رہا ۔ جمشید زئی اور رحمان زئی اب احمد زئی کے ساتھ مل گئے ہیں اور ایک ہوگئے ہیں ۔ ریگی قبیلہ میں بالو زئی ، ہاشم زئی اوور برد گوئی قبائل کے الگ الگ فرقہ شامل ہوگئے ہیں ۔ بعد میں میر اور ملا زئی قبائل کے یکجا ہونے کے نتیجہ میں بزرگری کے نام سے نیا قبیلہ وجود میں آیا ہے ۔ جس کا ذکر رتخ کی ریسرچ نے علحیدہ قبیلہ کی حثیت سے نہیں ہوا تھا ۔ قبائل کے یکجا ہونے کے عمل کے دوران باکو زئی ، ہوواری اور میر زئی قبائل میں سے ایک نیا قبیلہ میر ہزار زئی تشکیل پایا ۔

پاکستانی بلوچستان کے بلوچوں کی خصوصیات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے بلوچوں کے کچھ قبیلوں کے مکمل اور بڑے فرقہ دوسرے بلوچ اور غیر بلوچ قبیلوں میں اس طرح شامل ہوئے کہ انہوں نے پرانے نام برقرار رکھے ۔ اس طرح ہم بزدار ، لغاری مری اور مگسی قبائل کی ترکیب میں بجارانی فرقہ دیکھ سکتے ہیں اور قدیم جنگجو لاشاری قبیلہ کے فرقہ گرچانی ، کھوسہ ، رند ، مگسی ، ڈومبکی اور دوسرے قبائل کی ترکیب میں دیکھ سکتے ہیں ۔

مشرقی بلوچستان کے بیشتر بلوچ براہوئی کے قبیلوں کی ترکیب میں بنکل زئی ، لانگو ، لہری اور شاہوانی خوا جتنا براہوئی کہیں مگر بولتے بلوچی ہیں ۔ یہ اس بات کی دلیل ہوسکتی ہے کہ یہ بلوچ مہاجر کہیں جائیں ۔ بلوچ اور براہوئی قبیلوں کے یکجا ہونے کے بعد بعض قبیلے اس طرح مل گئے کہ انہیں پرانے قبیلہ ( الگ فرقہ ) کے ساتھ منسوب کرنا بہت مشکل ہے ۔

ایسی یکجائی پختون قبائل میں بھی ( بلوچستان کے شمالی علاقہ میں آباد ہیں ) دیکھی جاسکتی ہے ۔ مثال کے طور پر شرانی قبیلہ کے الگ الگ فرقہ بلوچوں کے مری قبیلہ کی تشکیل میں شامل ہوئے ۔ سپین ترین کا رئسانی فرقہ بلوچوں کیے کچھ قبیلوں کی ترکیب میں شامل ہوگیا تھا ۔ حتیٰ سروان کے قبائلی اتحاد کے سربراہ بھی رئیسانی فرقہ سے ہیں ۔

آخر میں یہ کہنا چاہیے کہ مغربی مشرقی بلوچستان کے علاقوں میں صرف بلوچ دوسرے قبائل اور قومیتوں سے ممثل نہیں ہوئے ، بلکہ پڑوسی قبائل اور قومیتیں ان کے ساتھ ملتی رہی ہیں ۔ بلوچ سندھی ، ہندی قوموں اور سیستان میں ایرانیوں کے ساتھ مل گئے اور مل رہے ہیں ۔ ایسی ایک مثال ہندووَں کا فرقہ رام زئی بھی کھتران میں شامل ہوگیا تھا ۔

ایرانی بلوچستان کے منطقہ میں اب تک بلوچوں کا کوئی چھوٹا حصہ زندگی بسر کرتا ہے ۔ بڑا حصہ جو ماضی کے بڑے قبیلوں (رند ، لاشاری ، چانڈیا ، ہوت) پر مشتمل ہے سیستان اور مغربی بلوچستان سے چاغی ، خاران اور مشرقی مکران کوچ کرگیا اور ان علاقوں میں آباد ہوا ۔ بعد میں نسبتاً دور زراز کے قلات ، سبی ، کیچ گنداواہ اور بالا آخر دریائے سندھ کے داہنے کنارے تک اور سندھ اور پنجاب میں آباد ہوگیا ۔

مگر یہ نظ میں پندویں صدی اور اس کے بعد لکھیں گئیں ۔ اس میں اگرچہ ہجرت کے متعلق ضرور بتایا گیا ہے ۔ مگر دوسری تفصیلات تاریخ سے ماخذ نہیں ہیں اس یہ نام ان نظموں آئے ہیں ان کی حقیقت مشکوک ہے کہ یہ قبائل نے نے ہجرت کی تھی یا نہیں ہیں ۔ ان میں بشتر قبائل اسی سرزمین کی پیداوار اور ہیں یا یہیں ان کی تشکیل ہوئی ہے ۔ جو بعد میں بلوچوں میں شامل ہوگئے تھے ۔ ان میں ہوت چاندیا مقامی قبائل ہیں ان کا ایرانی بلوچستاں میں نام و نشان بھی نہیں ملتا ہے ۔ ان میں ہوت چاندیا مقامی قبائل ہیں ان کا ایرانی بلوچستاں میں نام و نشان بھی نہیں ملتا ہے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں