31

بلوچ قومیت کی تشکیل

بلوچوں کا قبائلی اتحاد اور پھر رندوں کا قبائلی اتحاد اسی زمانے میں پاگیا ، بلوچوں کے افسانوی سربراہ میر جلال کے بیٹوں میں ایک رند کے نام سے قبائلی اتحاد کے سربراہ کی حثیت سے موجود تھا ۔ اسی طریقہ سے اسی زمانے میں بلوچوں کے قبائلی لہجوں سے واحد بلوچی زبان وجود میں آگئی ۔

اس کے باوجود بلوچوں کے قبائلی وحدت اور اتحاد منعظم نا تھا ، مگر پھر بھی قدیم زمانے سے مشترکہ اقتصادی مفادات رکھتے تھے ۔ زمینوں اور چراگاقہوں پر قبضہ کرنے کی خاطر وہ اکثر اکٹھے ہو کر لڑا کرتے تھے ۔ دیہاتوں پر مشترکہ تباہ کن حملے کرتے اور مقامی لوگوں کو غلام بنالیا کرتے تھے ۔

اس طرح یکجا شدہ سارے قبیلوں کےلیے ( نہ صرف بلوچ قبائل متحد ہوتے بلکہ غیر بلوچ قبیلے جو بلوچوں کے تابع اور محکوم تھے بھی متحد ہوگئے ، ایک عمومی نام سے قبائلی اتحادیوں میں ان کی ایکتائی نسلی لہجوی شکل سے ایک واحد زبان کی طرف بڑھے ۔ واحد معاشی کردار اور رسم و رواج کی موجودگی میں یہ ساری چیزیں قومیت کی تشکیل کےلیے بنیادی عناصر ہوتی ہےں ۔ دسویں صدی عیسویں تک موجود تھیں ۔

وہ مشترکہ خطہ رکھتے ، بلوچ ایک عمومی قوم کی حثیت کرامان اور مکران میں رہتے تھے ( جہاں تک ہ میں ان کی تاریخ کا دورانہ معلوم ہے ) ۔ مگر بعد میں پھر مغرب سے مشرق کی طرف ایک خطہ یعنی یعنی کرمان سے دریائے سندھ کے دہانے تک آباد ہوگئے ۔ یہ خطہ ان کے قومی نام یعنی بلوچستان ( بلوچوں کا وطن ) کے نام سے مشہور ہوا ۔ بلوچوں کی تاریخ کے قدیم مرحلے میں انب کے معاشی کردار کے متعلق باوثوق معلومات نہیں ہیں ۔

بلوچوں کا قبائلی اتحاد اور پھر رندوں کا قبائلی اتحاد اسی زمانے میں پاگیا ، بلوچوں کے افسانوی سربراہ میر جلال کے بیٹوں میں ایک رند کے نام سے قبائلی اتحاد کے سربراہ کی حثیت سے موجود تھا ۔ اسی طریقہ سے اسی زمانے میں بلوچوں کے قبائلی لہجوں سے واحد بلوچی زبان وجود میں آگئی ۔

اس کے باوجود بلوچوں کے قبائلی وحدت اور اتحاد منعظم نہیں تھا ، مگر پھر بھی قدیم زمانے سے مشترکہ اقتصادی مفادات رکھتے تھے ۔ زمینوں اور چراگاقہوں پر قبضہ کرنے کی خاطر وہ اکثر اکٹھے ہو کر لڑا کرتے تھے ۔ دیہاتوں پر مشترکہ تباہ کن حملے کرتے اور مقامی لوگوں کو غلام بنالیا کرتے تھے ۔

اس طرح یکجا شدہ سارے قبیلوں کےلیے ( نہ صرف بلوچ قبائل متحد ہوتے بلکہ غیر بلوچ قبیلے جو بلوچوں کے تابع اور محکوم تھے بھی متحد ہوگئے ، ایک عمومی نام سے قبائلی اتحادیوں میں ان کی ایکتائی نسلی لہجوی شکل سے ایک واحد زبان کی طرف بڑھے ۔ واحد معاشی کردار اور رسم و رواج کی موجودگی میں یہ ساری چیزیں قومیت کی تشکیل کےلیے بنیادی عناصر ہوتی ہےں ۔ دسویں صدی عیسویں تک موجود تھیں ۔

وہ مشترکہ خطہ رکھتے ، بلوچ ایک عمومی قوم کی حثیت کرامان اور مکران میں رہتے تھے ( جہاں تک ہ میں ان کی تاریخ کا دورانہ معلوم ہے ) ۔ مگر بعد میں پھر مغرب سے مشرق کی طرف ایک خطہ یعنی یعنی کرمان سے دریائے سندھ کے دہانے تک آباد ہوگئے ۔ یہ خطہ ان کے قومی نام یعنی بلوچستان ( بلوچوں کا وطن ) کے نام سے مشہور ہوا ۔ بلوچوں کی تاریخ کے قدیم مرحلے میں انب کے معاشی کردار کے متعلق باوثوق معلومات نہیں ہیں ۔

جلال الدین خوارزم شاہ نے بلوچوں کو منعظم کیا ۔ یہ منگول سے بچ کر مکران آیا تھا اور مکران سے کرامان گیا تھا ۔ اس نے مکران اور کرامان میں بلوچوں کو منگولوں کے خلاف منعظم کیا ۔ یہی وجہ ہے آج بھی بلوچوں کی تنظیم جنگی طرف پر ہے ۔ اس نے کرامان میں بلوچوں کو مکران جاکر مقامی قبائل اور حکمرانوں سے اتحاد قائم کرنے کی ترغیب دی تھی ۔ اس لیے بلوچوں نے مکران نقل مکانی کی اور یہ نقل مکانی ان کی روایات میں زندہ ہے اور بلوچ قبائل مکران آگئے اور انہوں نے مقامی قبائل کو اپنے اتحاد شامل کرلیا ۔ پیکتولین کا کہنا کہ خانہ بدوش فرقہ جنگی تشکیل کے اصولوں پر وجود میں ّآیا تھا ۔ جس میں سربراہ سپہ سالار ہوتا تھا ۔ چراگاہوں اور زمینوں کے جھگڑے مختلف قبائل کے درمیان جنگیں سبب بنے کہ بلوچوں کے کوچی قبائل میں اس طرح کی جنگی تنظیم تشکیل دی جائے ۔ یہاں یہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سرزمین میں اس طرح کے جھگڑے وسط ایشیا ، برصغیر اور عرب کے صحراؤں میں بھی تھے مگر وہاں ایسی تنظیم کیوں وجود میں نہیں آئی ;238; جب کہ بلوچوں کو حکومت یا سلطنت کا تجربہ بھی نہیں تھا ۔ یقینا بلوچوں تنظیم صلاحیتیں ہوتیں تو وہ کسی سلطنت کی بنیاد رکھ دیتے ۔ وہ بلوچستان کے علاقہ میں کثیر تعداد ہونے باوجود براہوی قبیلہ کے زیر دست رہے ہیں ۔ اس سے ہمارے موقف کی تصدیق ہوتی ہے کہ ان میں یہ جنگی تنظیم کی بنیاد جلال الدین خوازم شاہ نے رکھی جس کو یہ اپنی روایتوں میں میر جلال خان کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔

اس وقت ہوت مکران کے حکمران تھے اور وہ بلوچوں کے ساتھ شامل تو ہوگئے مگر اب بھی الگ ماخذ کے دعوے دار ہیں ۔ یہ بلوچ درہ بولان پار کرتے ہوئے دریائے سندھ تک جاپہنچے ۔ اس تحریک میں مقامی قبائل کے علاوہ ایران اور افغانستان سے آئے ہوئے قبائل بھی شامل تھے ۔ یہ سب قبائل منگولوں کے خلاف مزاحمت کرنے کی وجہ سے رند کہلائے ۔ جو بلوچ کا ہی مترادف ہے اور رفتہ رفتہ بلوچ وحدت میں شریک ہوگئے ۔ اس تحریک کا ان علاقوں میں زیادہ ذور تھا جو کہ منگولوں کے سرحدی علاقوں میں تھے ۔ یہی وجہ ہے بلوچ لسبیلہ جیسے دور دراز علاقوں پر کم اثر انداز ہوئے ۔

بلوچ تحریک جو ترقی کرچکی تھی اور جب ان کے مفاد مشترک ہوئے تو اس نے یک جدی کا روپ دھار لیا ۔ مختلف نسلی گروہ جب مشترک ہوئے تو ان کی روایات مشترک ہوگئیں اور مشرقی بلوچستان میں وقت کے ساتھ یہ روایات کچھ سے کچھ ہوگئیں اور یہ روایات نئے روپ میں سامنے آئیں اور ان کو نئے معنی پہنائے گئے ۔ سلطان خوارزم شاہ جو کہ ان کی روایات میں زندہ تھا مگر ایک جاہل معاشرے کی وجہ سے اس کی حقیقت بدل گئی اور اسے اپنا جد امجد تصور کیا گیا اور نئی روایات کے مطابق اسے میر جلال خان اسے بتایا گیا ۔ جو منگولوں کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے رند تھا اور اس جدوجہد میں شامل بھی رند تھے ۔ اگرچہ بعد میں رایات میں رند کو میر جلال خان کا ایک بیٹا تسلیم کرلیا گیا اور دوسرے اہم قبیلے یا گروہ جنہوں نے اس تحریک میں ساتھ دیا انہیں بھی بیٹا تسلیم کیا گیا ۔

ان بیٹوں میں لاشاری زیادہ اہم جنگی قبیلہ تھا اسے رندوں کے بعد اہمیت دی گئی اور اسے رند کے ساتھ جنگجو کہا گیا ۔ ہوت اور کورائی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ چرواہے تھے ۔ اس کی وجہ یہ ہے یہ خالص مقامی قبائل ہیں اور انہیں نے بلوچوں کی منگولوں کے خلاف مدد کی تھی ۔ مگر جب بلوچ مکران پر چھانے لگے یا ایسا بھی ہوا کہ بلوچوں کی کثیر تعداد کو برداشت نہیں کرسکا تو دوسرے بلوچ قبائل نے مکران سے نقل مکانی کی ، مگر ہوتوں نے یہی رہنا پسند کیا ۔ بلوچ بولان کے راستہ مشرقی بلوچستان آئے ۔ لیکن تیمور اور مغلوں کے حملوں کی وجہ سے ان کی کثیر تعداد پنجاب اور سندھ کی طرف پھیل گئی ۔

یہ مختلف النسل قبائل مشترکہ مفاد کے یعنی اپنے تحفظ کے لیے یکجا ہوئے تو قومیت کی تشکیل ہوگئی ۔ ان کے دیکھ سکھ مشترک ہوچکے تھے اور ایک کے درمیان اشتراک کی بدولت یک جدی مفروضے نے جنم لیا ۔ جنہوں نے اپنی نسلی برترکی کو ظاہر کرنے کے لیے میر جلال خان کا حلب سے آنے اور اس سے بھی آگے امام حسین کی مدد کرنے اور امیر حمزہ کی اولاد ہونے کا دعویٰ کیا جو تاریخ سے ماخذ نہیں ہیں ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں