339

بلوچ شاعری

قدیم زمانے میں تاریخ و ادب کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ شاعری تھی اور بلوچی میں بھی شاعری ایک اہم ذریعہ تھا ۔ اس لیے ہر قبیلہ میں شاعر ہوتے تھے جو ہر مہم کو قلمبند کرتے تھے ۔ جن قبیلوں میں شعرا موجود تھے ان کی تاریخ اور دوسری معلومات کسی نہ کسی طرح اب بھی موجود ہیں اور جن قبائل میں شعرا نہیں تھے ان کی ہر چیز فنا ہوچکی ہے اور اس کے بارے میں معلومات دوسرے قبائل کے شعرا میں کہیں کہیں اکا دکا ملتی ہیں ۔ اس لیے چاکر یا گہرام یا ان کے زمانے کی دوسری شخصیات یا قبائل سے متعلق تصنیف منظومات کے ایک بڑے حصہ کو لوگ اس دور سے منسوب کرتے ہیں ۔ یہ اشعار اگرچہ چاکری دور کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور حتیٰ کہ تمام طور پر ڈرامہ کے انداز کے ہیں ۔ اگرچہ یہ بلوچی شاعری کا خاصہ ہیں اور آج بھی ایسے اشعار کہے جارہے ہیں جو کہ کسی بھی گزشتہ بعید ترین زمانے کی باتیں کرتے ہیں ۔ اس لیے ممکن ہے کہ چند ایک نظموں کے کچھ اکا دکا اشعار جر گیتہ (اسٹانزا) اسی زمانے کی منظومات کا بچا کچا حصہ ہوں ۔

دنیا کی دوسری زبانوں کی طرح بلوچی ادب کی ابتدا شاعری سے ہوئی ہے ۔ گو بلوچستان کے تمام علاقہ میں منظوم کلام عام ملتا ہے ۔ مگر وہ زیادہ تر علاقائی سورماؤں کے کارنامے یا علاقائی شاعری پر مشتمل ہے ۔ پندرویں صدی سے پہلے کا بلوچی شعری ادب کا بہت تھوڑا سا حصہ بری طرح شکت و رنجیت کی حالت میں بچا ہے ۔ ان میں دیہاتی گیت ، کھیلوں کے گیت ، لوریاں چیستان وغیرہ شامل ہیں ۔ اس میں طربیہ ، ہجو ، قصیدہ ، حکایات ، روایات اور واقعات ہر قسم کے اشعار ملتے ہیں ۔ البتہ زرمہ اشعار کو بلوچی قومی روایات کے حوالے سے اہمیت دی جاتی رہی ہے ۔

بلوچوں میں ہر قبیلے کے اپنے شاعر ہوا کرتے تھے جو اکثر بیشتر سرداروں سے منسلک ہوا کرتے تھے ۔ یہ شاعر اپنے قبیلے کی آبا اجداد کی بہادری کی داستانیں ، قبائلی لڑائیوں کے قصے ، فتح اور دشمن کی شکست کی داستانیں اور قبیلے کی روایات کو نظم کرکے پیش کرتے تھے ۔ ان نظموں کو گانے والے گویئے پہلوان کہلاتے تھے ۔

ان نظموں مختلف قبائل کے شعرا نے اپنے قبیلے کی فتح اور حریف کی شکست کی داستانیں بیان کی گئی ہیں ۔ مثلاً میر چاکر اور میر گوہرام کی لڑائی کی داستان جو کہ تاریخ سے ماخذ نہیں ہیں ۔ اگرچہ دونوں حریف واقعی ہوں گے مگر معمولی سرادر جیساکہ دوسرے سردار اور ان کے مابین لڑائیاں بھی ہوئیں ہوں گیں ۔ مگر ان روایات جس طرح ایک بڑی علاقائی لڑائی کی صورت میں پیش کیا گیا ہے ۔ یہ معمولی لڑائیاں تھی اور ان کا ذکر تاریخی ماخذ میں نہیں ملتا ہے اور نہ ہی اس علاقہ میں بلوچوں کی کبھی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی ۔ جس پر ہم آگے وہاں کے تاریخ کے حوالے سے بحث کریں گے ۔

ان نظموں میں شاعر کا نام ایک آدھ جگہ ہی کسی حوالے سے آیا ہے ۔ مگر اس پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ کیوں کہ یہ بلوچستان میں گانے والے عموماً اس میں کسی کا نام دال دیتے تھے ۔ بلوچوں میں زرمیہ نظم اس طرح منظوم کیا جاتا تھا کہ گویا کوئی کردار خود ہی حریف سے مخاطب ہو ۔ گویا یہ ڈرامہ کی ایک شکل ہوتی تھی ۔ اس طرح کی منظومات سے لوگوں کا گمان ان کرداروں کی طرف ہوتا ہے کہ نظم انہوں نے لکھی ۔ میر چاکر اور میر گوہرام یا دوسرے قبائلی سرداروں سے منسوب نظ میں حقیقت میں ان کی کہی ہوئی نہیں ہیں ۔ اس طرح کی نظ میں بلوچوں میں رزمیہ نظموں کے علاوہ عشقی داستانیں بھی لکھی جاتی رہیں ہیں ۔ ان میں مکالمہ کی صورت میں عاشق اور معشوق کے درمیان گفتگو ہوتی ہے ۔ یہ نامعلوم شعرا نے لکھیں ہیں اور انہیں عاشق اور معشوق سے منسوب کردیا گیا ہے ۔ حالانکہ ان کی بنیاد افسانوں پر ہے ۔ ایک قبائل معاشرے میں جہاں جہل اور رواج کی بنیاد مظبوط ہوتی ہے اس طرح کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ یہ صرف شعرا اور گانے والوں کی مشترکہ کوشش ہیں ۔ شعرا کسی خیال کو نظم کرتا ہے تو گانے والا اس میں وقت کہ ساتھ مناسب تبدیلیاں بھی کرتا ہے ۔ کیوں کسی جاہلی معاشرے میں کسی چیز کو محفوظ کرنا ممکن نہیں ہے ۔

ان داستانوں کے علاوہ بلوچی شاعری جو سولہویں صدی کے اواخر یا سترہویں صدی کی ابتدا لکھی جانے لگی تھی اور سترویں صدی کے آخر تک اسے عروج حاصل ہوا ، مگر اٹھارویں صدی میں یہ ذوال پزیر ہونا شروع ہوئی اور انیسویں صدی میں اس قدیم طرز کی شاعری کا نشاط ثانیہ ، قابل ستائش اور لائق فخر عروج تک پہنچتی ہے ۔ لیکن اس کا سہرا کسی بھی پہلو سے سبی و ڈھاڈر کے علاقوں کو نہیں ہے بلکہ یہ مکران خاران کے علاوہ ایرانی صوبہ بلوچستان و سیستان کے علاقوں میں پروان چڑھی ہے اور اس کی وجہ وہاں کے حکمران طبقہ کی سرپرستی تھی ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں