42

بلوچوں کا ذریعہ معاش

ابن حوقل اور المسودی کے تاریخی وقعات اور مشترق یاداشتوں کے مطابق بلوچ مالداری کیا کرتے تھے ۔ مالداری کے ساتھ ساتھ بلاشک ان میں دستکاری مثلاً چمرے کے جوتے بنانا ، پشینہ بنانا ، نمدے بنانا ،پوشاک اور سر کے رومال کےلیے کڑرا بنانا ایک حد تک سیکھلیے تھے ۔ اصطخری بلوچوں کو چرواہے کہتا ہے ، جو پشم بنائے ہوئے گھروں میں زندگی بسر کرتے ہیں ۔

بلوچ دوسرے خانہ بدوش قبائل کی طرح جب زمینوں پر قبضہ کرلیتے تو اکثر زراعت کو برباد کر کے انہیں راگاہوں میں تبدیل کردیتے ۔ وہ مقامی باشندوں کو یا تو بھگا دیتے تھے یا انہیں غلام بنالیتے یا پھر انہیں باقیدہ مزارع بنالیتے ۔

بلوچ چونکہ خانہ بدوشی کے عادی تھے اس لیے ان میں باقیدہ زراعت کا رواج نہیں تھا ۔ صرف ان جگہوں پر جہاں بلوچ قبیلے ایک مقام پر کچھ زیادہ عرصہ تک قیام پزیر ہوتے وہاں کاشت کاری کرتے تھے ۔ مگر پانی کی کمی اور موسم انہیں خانہ بدوشی پر مجبور ہوتے تھے ۔ اس لیے بلوچوں کی اکثریت اپنے مالداری کے پیشے کو قائم رکھی ہوئی تھی ۔

قبیلے کی الگ الگ شاخوں کےلیے موسم گرما اور سرما کےلیے چراگاہیں مختص ہوتی تھیں ۔ نقل مکانی کی ترتیب اور چراگاہوں سے استفادہ کے طریقہ قبیلوں کے سربراہوں کی طرف سے مقرر ہوتے تھے اور یہ مورثی سربراہ ہوا کرتے تھے ۔

بلوچستان میں مناسب چراگاہوں کی تعداد محدود تھی اور خود یہ چراگاہیں گھاس کے لحاظ سے اس قدر گنجان نہیں تھیں ۔ بلوچوں کے قبیلے کا ہر فرقہ ایک سے ، مگر کبھی کبھی زیادہ تعداد ہوجاتی تھی تو دو یا تین خانہ بدوش مالداروں سے بنتا تھا ۔ ایسے فرقہ کی یکتائی کا عامل جانوروں کا مشترکہ پالنا اور چراگاہوں سے اکھٹا استفادہ کرنا تھا ۔

جیسے کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ سولویں صدی عیسویں تک ان قبائل نے کرامان سے مکران ، سیستان اور خراسان تک ہجرت کی اور ان علاقوں سے پھر انہوں نے مکران اور قلات کہ سیوستان ، سندھ ، ملتان اور پنجاب کو کیا ۔ قدرتی بات ہے کہ ایسی نقل مکانی ( وہ بھی اس قدر دور دراز مقامات تک ) زراعتی امور میں مشغولیت اور آباد ہونے کےلیے اچھے حالات پیدا نہیں کرسکتی تھی ۔

ییہ کہنا مناسب ہوگا کہ بلوچوں اور پشتونوں کے کوچ کرنے تنظیم اور تشکیل میں تقاوتیں موجود تھیں ۔ پشتون بڑے بڑے گروپوں کی صورت میں دور دراز مقامات تک نقل مکانی کرتے تھے ۔ جو شمال میں گومل کے ہموار خطوں تک اور جنوب مشرق میں سندھ کے ڈیلٹا تک جاتے تھے ۔ بلوچ چھوٹے چھوٹے گروپوں کی صورت میں ( اکثر ایک آدھ گھرانے اکھٹے ہوجاتے ہیں ) اور نذدیکی فاصلوں تک نقل مکانی کرتے ہیں ۔

پختون تجارت کے نقطہ نظر سے سفر کرتے تھے ۔ ان کے قابل برصغیر میں کلکتہ جنوبی ہند تک جایا کرتے تھے ۔ جب کہ اس کی نسب بلوچ تجارت نہیں بلکہ اپنی مویشوں کے لیے چارہ گاہیں اور محنت و مزدوری کی تلاش میں سندھ میں شکار پور تک جایا کرتے تھے ۔

خانہ بدوشی جیسے کہ ظاہر ہے جدا جدا علاقوں میں چراگاہوں میں مال مویشی پالنے کی ایک شکل ہے ۔ بلوچ سردیوں میں چراگاہوں کے ان حصوں میں پڑاوَ ڈالتے جہاں خشک گھاس بہت ہوتی تھی ۔ یہ حصہ غالباً بلوچستان کے مرکزی اور شمال مشرقی حصوں کے ہموار خطوں اور پہاڑ کے دامن ہوتے تھے ۔ موسم بہار میں وہ اپنے مویشی اپنی سردیوں کی رہائش گاہوں کے نذدیک لے جاتے تھے اور پھر شمال اور مشرقی کی سمت روانہ ہوجاتے تھے ۔ حتیٰ کہ سال کے گرم موسم پیچھے ہٹے ہی شمالی بلوچستان کے پہاڑی علاقے میں پہنچ جاتے تھے ۔

خانہ بدوشی کی ضرورت کم مصروف معیشت کی وجہ سے وجود میں آئی ۔ ان ممالک میں جہاں کھیتی باڑی آبپاشی سے ہوتی ہے زمین کے ساتھ پانی بھی پیداوار کا ایک بنیادی زریعہ ہے ۔ اس طرح خانہ بدوشوں کےلیے مویشی بھی اہمیت نہیں رکھتے ہیں ۔ کیوں کہ مویشی محض ایک منافع بخش جانور نہیں بلکہ انسان کی پیداوار کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔

قدیم زمانے میں مالداری کی حاجتیں اور ضرورتیں بلوچ کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ رہائش گاہوں اور رہاہش گاہوں کو ایک مخصوص تنظیم سے کام میں لاتا تھا اور تبدیل کرتا تھا ۔ بیک وقت جب وہ کمزور پڑوسیوں کی چراگاہوں پر حملہ کرتے تھے ۔ سب سے بڑی چیز جو کہ خانہ بدوشوں کو اکٹھا رکتھی تھی ۔ وہ بڑا عمومی کام تھا ، جو کہ یا تو موجودیت کی عینی شرائط کو حاصل کرنے ( یعنی چراگاہوں اور رہائش گاہوں ) اوا قبضہ کرنے اور پیشہ اپنانے کی خاطر بہت ضروری اور لازمی تھا ۔

مگر بلوچستان میں انہیں ایک منعظم حکومت یعنی براہوی کے زیر دست ہونے کے کی وجہ سے جو کہ تجارتی راستہ کھلے رکھنے کی کوشش کرتی تھی ۔ یہ دھاوے کی جگہ کھیتی باڑی اور معاش و مزدوری کی وجہ سے سندھ و پنجاب کی سمت نقل مکانی کے لیے مجبور ہونا پڑا ۔ اس سلسلے میں انگریز حکومت نے ان کی اس طرح کی سرگرمیوں کا سختی سے نوٹس لیا اور انہیں مجبور کیا کہ وہ پرامن پیشوں کی طرف آئیں ۔ مثلاً مری ، بگٹی اور رخشانی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں