41

بلوچوں کی خانہ بدوشی

جیسے کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ سولویں صدی عیسویں تک ان قبائل نے کرامان سے مکران ، سیستان اور خراسان تک ہجرت کی اور ان علاقوں سے پھر انہوں نے مکران اور قلات کہ سیوستان ، سندھ ، ملتان اور پنجاب کو کو کیا ۔ قدرتی بات ہے کہ ایسی نقل مکانی ( وہ بھی اس قدر دور دراز مقامات تک ) زراعتی امور میں مشغولیت اور آباد ہونے کےلیے اچھے حالات پیدا نہیں کرسکتی تھی ۔

ییہ کہنا مناسب ہوگا کہ بلوچوں اور پشتونوں کے کوچ کرنے تنظیم اور تشکیل میں تقاوتیں موجود تھیں ۔ پشتون بڑے بڑے گروپوں کی صورت میں دور دراز مقامات تک نقل مکانی کرتے تھے ۔ جو شمال میں گومل کے ہموار خطوں تک اور جنوب مشرق میں سندھ کے ڈیلٹا تک جاتے تھے ۔ بلوچ چھوٹے چھوٹے گروپوں کی صورت میں ( اکثر ایک آدھ گھرانے اکھٹے ہوجاتے ہیں ) اور نذدیکی فاصلوں تک نقل مکانی کرتے ہیں ۔

خانہ بدوشی جیسے کہ ظاہر ہے جدا جدا علاقوں میں چراگاہوں میں مال مویشی پالنے کی ایک شکل ہے ۔ بلوچ سردیوں میں چراگاہوں کے ان حصوں میں پڑاوَ ڈالتے جہاں خشک گھاس بہت ہوتی تھی ۔ یہ حصہ غالباً بلوچستان کے مرکزی اور شمال مشرقی حصوں کے ہموار خطوں اور پہاڑ کے دامن ہوتے تھے ۔ موسم بہار میں وہ اپنے مویشی اپنی سردیوں کی رہائش گاہوں کے نذدیک لے جاتے تھے اور پھر شمال اور مشرقی کی سمت روانہ ہوجاتے تھے ۔ حتیٰ کہ سال کے گرم موسم پیچھے ہٹے ہی شمالی بلوچستان کے پہاڑی علاقے میں پہنچ جاتے تھے ۔

خانہ بدوشی کی ضرورت کم مصروف معیشت کی وجہ سے وجود میں آئی ۔ ان ممالک میں جہاں کھیتی باڑی آبپاشی سے ہوتی ہے ، زمین کے ساتھ پانی بھی پیداوار کا ایک بنیادی زریعہ ہے ۔ اس طرح خانہ بدوشوں کےلیے مویشی بھی اہمیت نہیں رکھتے ہیں ۔ کیوں کہ مویشی محض ایک منافع بخش جانور نہیں ، انسان کی پیداوار کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔

مالداری کی حاجتیں اور ضرورتیں بلوچ کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ رہائش گاہوں اور رہاہش گاہوں کو ایک مخصوص تنظیم سے کام میں لاتا تھا اور تبدیل کرتا تھا ۔ بیک وقت جب وہ کمزور پڑوسیوں کی چراگاہوں پر حملہ کرتے تھے ۔ سب سے بڑی چیز جو کہ خانہ بدوشوں کو اکٹھا رکتھی تھی ۔ وہ بڑا عمومی کام تھا ، جو کہ یا تو موجودیت کی عینی شرائط کو حاصل کرنے ( یعنی چراگاہوں اور رہائش گاہوں ) اوا قبضہ کرنے اور پیشہ اپنانے کی خاطر بہت ضروری اور لازمی تھا ۔

اس امر کی قوی شہات موجود ہے کہ بلوچ قبائل بلوچستان ، سندھ اور پنجاب کی طرف نقل مکانی کرنے سے پہلے کرامان ، ایرانی بلوچستان اور مکران میں آباد تھے ۔ اس امر کی شہادت قبائلی ناموں ے عیاں ہے ۔ بگٹی ایرانی بلوچستان کے علاقہ بگ سے ادھر آئے ہیں ۔ بلیدی مکران کی وادی بلیدہ میں آباد تھے ۔ لاشار کا تعلق لاشار ایرانی بلوچستان سے ہے ۔ گشگوری وادہ گشگور میں آباد تھے اور کلانچی کلانچ کے علاقہ سے آئے ۔ مگسیوں کا مگس سے جو ایرانی بلوچستان میں واقع ہے ۔ ہم اس بارے زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بلوچ کا مرکزہ یا کچھ قبائل ان علاقوں سے آئے ہیں ۔ کیوں کہ اس دعویٰ کی تصدیق تایخی حوالوں سے نہیں ہوتی ہے اور نہ یہ علاقہ کثیر تعداد میں لوگوں کو برداشت کرسکتے ہیں ۔

پیکولین کا کہنا ہے کہ پندویں صدی عیسوی کے آخر اور سولویں صدی عیسوی کے شروع میں جنوبی پنجاب تک بلوچوں کی دوسری ہجرت ( جو پہلی نقل مکانی سے قبائلی تشکیل میں مہاجروں کے لحاظ سے بہت فرق رکھتی تھی ) اصل میں چراگاہوں کی کمی کی وجہ سے تھی ۔ رند قبیلے کا جو رند کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اسی قبیلے کے دوسرے فرزند لاشاری کے ساتھ مشرقی سیستان کی سرزمین پر تیس سالہ لڑائی کے بعد ناکام ہو اور میر چاکر کی سربراہی میں ملتان کوچ کرگیا ، پھر بلوچوں کے دوسرے بہت سارے قبائل کے فرقہ اپنے ساتھ لے کر شمال کی طرف روزگار اور زمین کی تلاش میں نکل گیا ۔ نقل مکانی کے پہلے حصہ میں (تیرویں صدی عیسوی) بلوچوں کے پورے کے پورے قبیلے یا قبائل کے بڑے حصہ عام طور پر سندھ آگئے اور سندھ کے مغربی حصوں کے پہاڑوں کے دامن پر ہموار حصوں میں آباد ہونے لگے ۔ کچھ عرصہ کے بعد (چودویں صدی عیسوی کے اوخر سے) بلوچ سویستان اور کیچ گندارہ سے شمال کی طرف ملتان اور پنجاب کی طرف کوچ کرگئے ۔ اسلیے کہ سندھ کی اچھی زمین اور چراگاہیں پہلے ہی قبضہ ہوچکی تھیں ۔ نتیجاً بلوچ قبائل دودائی ، میرانی اور گورچانی وغیرہ اپنے سرداروں سہران خان دودائی اور اس کے تینوں بیٹوں غازی خان فتح خان اور اسمعیل خان کی سردگی میں ملتان میں وارد ہوگئے اور کوٹ کنار سے رنگوٹ تک کے علاقہ پر قابض ہوگئے ۔ یہ علاقہ بعد میں قندھار کے حاکم شاہ حسین کی طرف سے جاگیر کے طور پر سہراب خان کو دے دیا گیا ۔ سہراب خان اس جاگیر کے ;174;عوض پابند تھا کے ملتان کے شمال مغربی سرحدوں کو پشتنوں کے حملے سے بچائے رکھے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں