55

بلوچستان کے جاٹ

جاٹوں کا مرکزہ بلوچستان کے قدیم باشندوں میں معلوم ہوتا ہے اور اغلب ہے کہ ان میں سے کچھ اصل ہندو باشندوں کی اولاد ہوں اور مسلمانوں کی فتحوحات کے وقت دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔ لیکن یہ ایسے مسلمانوں کا مجموعہ نظر آتا ہے جو افغان ، بلوچ ، سید اور براہوی نہیں ہیں یا ان ٍنسلوں کی باقیات ہیں جو قیصر ذلت میں گرگئیں اور اپنی قومیت کھوبیٹھیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آرائیں اور گوجر دیگر علاقوں میں علحیدہ ذاتیں ہیں ۔ بہت سے لوگ لوہری ہیں جو یہاں نوادر ہیں اور دیگر کئی ذاتوں کے لوگ جاٹ کی اصطلاح میں بند کردیئے گئے ۔ یہ آمزیش قدرتی اور مصنوعی دونوں قسم کی وجوہات کا نتیجہ ہیں ۔ کیوں کہ اعداد شمار بتاتے ہیں کہ ان لوگوں کو جاٹ شمار کرنے رجحان ہے جس کا ماخذ مشکوک تھا یا جن کے متعلق معلومات کا فقدان تھا ۔

نسل ہا نسل سے جاٹ بلوچوں اور براہیوں کے محکوم رہے ہیں ۔ وہ کاشت کار ہیں اور اپنی پیداوار کا ایک حصہ اپنے آقاؤں کو دیتے ہیں ۔ دیگر قبائل انہیں اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں اور جاٹ خود بھی اسے تسلیم کرتے ہیں ۔

مقامی جاٹوں میں بڑی تعداد ابڑا کی ہے ۔ اس کے علاوہ ماہی ، سمرا ، بہان ، جھکڑا ، برا ، باہنی ، لوہڑا ، مستوئی ، ڈنڈور ، کلور ، اناریہ ، درفع ، مہیا ، باڑا ، دہورجہ اور بانور شامل ہیں ۔

سندھ و پنجاب سے آنے والوں میں بھٹی سیال ، کھوکر ، ارائیں ، جویا ، رڈ ، گجر ، اعوان ، کالا ، ڈھنڈو ، کرل ، ڈھیر کو غالباً غلطی سے جاٹ شمار کیا گیا ہے ۔

دیگر طاءفوں میں کٹ پار ، بھنگر ، تونیہ ، تجبد ، سنجھو ، پیچو ، چاچڑ ، ایری ، کٹراڑ ، سامتو ، ڈیٹھا ، سیا پوسٹ ، ویر ہال ، سپر ، برہیجا ، بلال ، جٹانی ، واجہ ، مہین ، مسن ، اوتران ، کوری یا جولاہے ، بہی ، گگرایا یا خاکروب ، سیانج اور مانا قابل ذکر ہیں ۔ یہ سندھی جاٹ ہیں اور سندھ سے آئے ہیں ۔

کچھ اور طاءفے بلوچ ماخذ کے ہیں اور اب جاٹوں میں شامل ہیں ۔ کھپڑ ، بھنڈ ، دستی ، گولا ، مہیر ، کیچی اور ہڈکری کے علاوہ لوہڑیوں کا شمار بھی جاٹوں میں ہوتا ہے ۔

ہیوگزبلز کہنا ہے جاٹوں میں اندونی تمیز ہے ۔ بلوچ شتر بانوں اور چرواپوں کو جاٹ قبیلہ کے اندر جت کہا جات ہے ۔ یہ شتر بان دیگر جاٹوں سے مختلف زبان بولتے ہیں اور ان کی کئی رس میں بھی الگ ہیں ۔ یہ ماخذ کے لحاظ سے بھی جاٹوں سے علحیدہ ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بلوچوں کے ساتھ ان کے چرواہوں کی حثیت سے آئے تھے ۔ ان کے بڑے طاءفے میر جت ، لاشاری ، مجیدانی بھنڈ ، لیجوانی ، بتیر ، سوانی اور پالاری ہیں ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں