53

بلوچستان کی زبانیں

بلوچستان رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے ۔ رقبہ کے علاوہ بلوچستان کا طرح امتیاز اس کی آبادی کی کمی بھی ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے کم آبادی کا صوبہ ہے ۔ یہاں مختصر سی آبادی میں کثیر تعداد میں زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ اس لحاظ سے یہ علاقہ زبانوں کی جنت ہے ۔ اس علاقہ کی خصوصیت یہ ہے کہ تقریباً ہر شخص کئی زبانیں جانتا ہے ۔ جن میں ایک اس کی مادری زبان اور دوسری اردو اور اس کے علاوہ کئی زبانیں جانتا ہے ۔

بلوچستان میں ابتدائی تعلیم اردو میں دی جاتی ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ آبادی کی کمی ہے ۔ اب تو یہاں شہر نظر آنے لگے ہیں اور لوگوں کی نقل مکانی کم ہوئی ۔ یہاں آبادی کی کمی کا یہ حال ہے کہ چند جھونپڑیوں پر مشتمل آبادی کو نقشہ پر دیکھایا جاتا ہے ۔ یہاں کی بشتر ٓآبادی کچھ عرصہ پہلے تک نقل کرتی تھی ۔ مادری زبان میں ابتدائی تعلیم نہ دینے کی وجہ یہ بھی یہاں ہر علاقہ میں مختصر سی آبادی میں کئی زبان بولنے والے آباد ہیں اور پندرہ بیس بچوں کو جن کی مادری زبان مختلف ہیں ان کی مادری زبان میں تعلیم دینا آسان نہیں ہے ۔ جب کہ اکثر زبانیں صرف بولیوں کی حثیت رکھتی ہیں ۔ یہی وجہ بلوچستان کے پہلے وزیر اعلیٰ عطا اللہ مینگل نے یہاں تعلیم اردو میں دینے کا فیصلہ کیا ۔ اب کچھ بلوچستان کی زبانوں کے بارے بات ہوجائے ۔

بلوچی

بلوچستان میں بلوچی کے دو لہجہ ہیں ۔ جن میں مغربی یا مکرانی بلوچی نہایت سریلی اور میٹھا پن ہے ۔ یہ براہ راست پہلوی اور سیٹھی زبانوں کے اوغام سے وجود میں آئی ہے ۔ اس کی خصوصیت اس میں خالص عربی حروف نہیں ہیں جو کہ پہلوی کی خصوصیت ہے ۔ اس میں خو کی جگہ و بولا جاتا ہے اور اس میں جن الفاظوں میں ح آتا ہے اس میں ح کو گرا کر بولا جاتا ہے یا ہ استعمال ہوتا ہے ۔ مثلاً خواب کو واب اور خان کو ہان بولا جاتا ہے ۔

بلوچی کا دوسرا لہجہ مشرقی ہے ۔ اس عام اشیاء و افعال قریبا خالص بلوچی ہیں باقی پنجابی ، سندھی اور پشتو کے الفاظ بھی استعمال ہوتے ہیں ۔ جس وجہ سے اس میں ایک گونہ سختی آجاتی ہے ۔ اس خصوصیت اس میں ابتدائی بندیشی حروف ’ک ، پ ، ت ، ٹ‘ ایک خاص دھماکے سے بولے جاتے ہیں ۔ یہ ہندوستانی بندشی حروف سے بہت الگ ہیں ۔ تاہم دونوں میں فرق زیادہ نہیں ہے اور اس کے علاوہ رخشانی مکرانی بلوچوں سے علحیدہ زبان بولتے ہیں اور رخشانی بلوچی کہلاتی ہے ۔

براہوئی

بلوچ میں براہوی زبان بولی جاتی ہے ۔ یہ درواڑی گروہ کی زبان ہے ۔ اس کے بارے میں سب سے پہلے انکشاف ڈاکٹر گریرسن نے کیا کہ یہ داوڑی گروہ کی زبان ہے ۔ اس میں بشتر الفاظ سندھی ، بلوچی فارسی کے ہیں اور اس میں شکست و رنجنیت اس قدر شکار ہوئی کہ اس کے دراوڑی الفاظ غائب ہوگئے ۔ مگر اس کا بنیادی ڈھانچہ دراوڑی ہے ۔ اس کے بھی دو لہجے ہیں ۔ سروانی براہی خالص ہے اور جھالانی براہوئی میں سندھی الفاظ کافی ہے ۔

پشتو

بلوچستان میں پشتو خاص کر مشرقی بلوچ میں بولی جاتی ہے ۔ یہاں بھی اس کے کئی لہجہ ہیں ۔ ان میں سبی سندھی آمیز اور مری کے پٹھان جو بلوچ قبیلے میں شامل ہیں بلوچ آمیز پشتو بولتے ہیں ۔ غلزئیوں اور کاکڑوں کی پشتو میں فرق ہے ۔ اس طرح دکی ، بوری ، ترنیاوَ اس کے مختلف لہجے ہیں اور سبی کے علاقہ میں سندھی آمیز پشتو بولی جاتی ہے ۔

دوسری زبانیں

جٹکی جو کچھی میں بولی جاتی ہے ۔ اسے جاٹ اور کچھ بلوچی قبائل بولتے ہیں ۔ کھترانی اور جگدالی جو پورے مغربی بلوچسان میں بولی جاتی ہے ۔ یہ سندھی کی ایک شاخ ہے اور جگدالی اور سندھی میں لہجہ کا فرق ہے ۔ اس طرح لاسی جو کہ لس بیلہ کے علاقہ میں بولی جاتی ہے ۔ یہ بھی سندھی ہی کی شاخ ہے اور اسے براہوئی جدگالی بھی کہا جاتا ہے ۔ دہواری فارسی کی بگڑی ہوئی ایک شکل ہے اور اس مصادر براہوئی سے بنے ہیں اور اصلاً سندھی ہے ۔ ایک دلچسپ زبان لوہریوں کی مکا ہے ۔ یہ ایک خفیہ زبان ہے اور یہ مختلف زبانوں کے الفاظوں کی الٹی شکل ہے ۔

اس علاوہ بلوچستان میں ایسے لوگ پھیلے ہوئے ہیں جن کی زبان فارسی ہے ۔ اس میں بھی دو لہجہ ہیں ۔ ایک افغانی اور دوسری ایرانی جو کہ زیادہ تر مکران کے علاقہ میں بولی جاتی ہے ۔ اس طرح بلوچستان میں دری ، تاجک ، سندھی ، پنجابی اور سرائیکی بھی بولی جاتی ہے ۔

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں