55

براہوئی کا اشتقاق

براہویوں کا کہنا ہے کہ وہ بلوچوں کے ہم نسل ہیں اور وہ بھی حلب سے آئے ہیں ۔ وہ بھی سامی النسل ہیں اور کوہ البز سے اس علاقہ میں آئے اور اس کی نسبت سے انہیں بزکوئی پکارا جاتا تھا اور یہ رفتہ رفتہ بزکوہی اور براہوئی میں بدل گیا ۔ دوسرا خیال یا تاویل ان کی یہ ہے کہ وہ حضرت ابرہیم علیہ سلام کی نسل سے ہیں اور اس نسبت سے انہیں براہمی پکارا جاتا تھا اور یہ براہمی رفتہ رفتہ براہوی میں بدل گیا ۔ جبکہ یورپیوں کا کہنا ہے کہ براہوی ڈراویوں کی باقیات ہیں ۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ سامی النسل ہیں جیسا کہ دعویٰ کرتے ہیں یا یہ سیتھی ، آریا ، یا ترک یا تورانی النسل ہیں ۔

اس سوال کا جواب آسان نہیں ہے ۔ ایک طرف تو ان کی زبان ڈراوی السنۃ سے تعلق رکھتی ہے اور جب ہم براہوی قبائل پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ قبائل کا ایسا ملغوبہ نظر آتا ہے جس میں ہ میں جاٹ ، تورانی اور مختلف نسل کے قبائل نظر آتے ہیں ۔ اس ان کے نسلی سرچشمہ کا تعین کرنا آسان نہیں ہے ۔

یہاں سوال اٹھتا ہے کہ ان زبان جو ڈاوری زمرہ السنۃ سے تعلق رکھتی ہے اور کیا براہوی بھی ڈاوی النسل ہیں ;238; اس بارے میں بلاشبہ ہم کہہ سکتے ہیں نہیں ۔ کیوں کہ ڈراوی خال خندال میں براہیوں سے مختلف ہیں ۔ ڈراوی سیاہ رنگت ، دبی ہوئی ناک ، ابھری ہوئی پیشانی اور موٹے ہونٹ رکھتے ہیں ۔ جب کے براہوی گندمی رنگ زردی مائل رنگت ، کھڑی ناک اور چوڑی پیشانی رکھتے ہیں ۔ گویا یہ ڈراویوں سے قدر مختلف ہیں ۔ اس یہ ممکن نہیں ہے کہ براہوی ڈاروی النسل ہوں ۔ تاہم بعض لوگوں کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان میں ڈراوی میل ہوا ہے ۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں براہیوں کی ابتدا ڈراویوں سے ہوئی مگر ہم انہیں ڈراوی نہیں کہہ سکتے ہیں ۔ کیوں کہ ان میں انضمام اور انتشار کا عمل ایسا ہے کہ کوئی بھی خالص النسل براہوی ڈراوی نہیں رہ سکتا ہے ۔ یہاں صرف میل نہیں ہوا بلکہ مسل اشتراک اور ٹوٹ پھوٹ کے عمل نے مختلف نسلی خصاءص کو بدل کر رکھ دیا اور ایک نئی نسل وجود میں آگئی ۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ بیشتر براہوی قبیلوں کا دعویٰ ہے کہ ان کا مورث اعلیٰ بلوچی تھا اور بہت سے قبائل بلوچی ہی بولتے ۔ جو ان کے اس دعویٰ کو تقویت اس طرح بھی ملتی ہے کہ بہت سے بلوچ اور براہیوں قبائل مشترکہ نام معمولی سے فرق کے ساتھ رکھتے ہیں ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ دونوں مشترک نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور بعد میں انہیں نے بلوچوں سے تعلق ختم کرکے براہوی وفاق میں شامل ہوگئے اور براہوی کہلائے ۔ یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کلمہ براہوی کا استقاق کیا ہے ۔ اس سوال کے جواب کے لیے ایک تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔

جمیز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ براہوئی جٹ یا جاٹ ہیں اور جاٹ قوموں کی یہ خصوصیت ہے وہ اپنا شجرہ کسی جانور سے ملاتے ہیں ۔ اس نے تاریخ بھٹی کے حوالے سے براہیوں کا ذکر کیا ہے جو کہ پجند کے قریب آباد تھے ۔ اس کا کہنا ہے براہوی براہا کا معرب ہے اور اس کے معنی ہند آریائی میں گیڈر کے ہیں ۔

ٍہم جیمز ٹاد کے اس دعوے کو رد نہیں کرتے کہ براہوی جاٹ النسل ہیں ۔ کیوں کہ براہیوں کی اکثریت جاٹ النسل ہے ۔ تاہم ہ میں اس سے اختلاف ہے کہ براہوی کا بڑاہا کا معرب ہے ۔ ہ میں یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ براہوی پہاڑی علاقہ کے رہائشی ہیں اور یقناً یہ وہاں قدیم زمانے سے آباد ہیں ۔ اگرچہ ان کا ذکر پہلے پہل پندریوں صدی عیسویں میں ملتا ہے جب انہوں نے قلات پر قبضہ کیا تھا ۔ مگر ان کی زبان ان کی قدامت کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ لوگ عام دنیا سے کٹ کر رہائش پزیر تھے ۔ اس کلمہ براہوی کا پہلا حصہ بر ہے اور دور حاضر کی فارسی میں بر بلند و بالا کو کہتے ہیں ۔ یہ کلمہ اوستا میں بروز آیا ہے اور اور پشتو میں بھی اسی معنوں میں آیا ہے ۔ عبدالحئی کا کہنا ہے کہ ژال کو سیتان کے لوگ رز ( سونا ) زنگ ( زرد ) کہتے اور فارسی اور پہلوی کی مختلف کتابوں سے معلوم ہوا ہے کہ اس کلمہ کو زال ، زوان ، زرمان ، زرہان ، زرہون اور زردان بھی کہا جاتا تھا ۔ یہ سب کلمات ایک دوسرے سے متعلق ہیں اور ان کے معنی بوڑھے اور سفید بالوں والے کے ہیں ۔ عبدالحئی کے اس استدالال سے معلوم ہوتا ہے کہ زرہون کی طرح براہوئی ایرانی ترکیب ہے اور اس کے معنی پہاڑی لوگ یا پہاڑوں پر رہنے والے کے ہیں اور یہی یقینی طور درست معلوم ہوتا ہے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں